24/05/2026
سورج تقریبا4ارب60کروڑسال سے مسلسل جل رہا ہے ۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آج بھی اُس کے اندر کی آگ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی۔ہرایک سیکنڈمیں سورج اتنی توانائی خارج کرتا ہے ۔کہ اگر زمین پر موجود تمام انسان پوری زندگی صرف بجلی ہی استعمال کرتے رہیں ۔تب بھی وہ اُس توانائی کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔آسان مثال سے سمجھیں۔اگر پوری زمین کے تمام ایٹمی بم ایک ہی وقت میں پھٹ جائیں تو جو توانائی پیدا ہوگی ۔سورج صرف ایک سیکنڈ میں اُس سے کھربوں گنا زیادہ طاقت پیدا کرتا ہے۔یا ایسے سمجھیں۔اگر ایک چھوٹا سا بلب آپ کے کمرے کو روشن کرتا ہے۔تو سورج ایسا دیوہیکل بلب ہے۔جو ایک ساتھ اربوں کھربوں دنیاوں کو روشن کرسکتا ہے۔لیکن سب سے خوفناک بات یہ ہے۔یہ ساری روشنی اور گرمی کسی لکڑی تیل یا گیس سے نہیں بنتی۔بلکہ سورج کے اندر ہر لمحہ خوفناک ایٹمی دھماکے ہورہے ہوتے ہیں۔جی ہاں ۔ہر سیکنڈ سورج کے اندر ایسا جہنم بھڑک رہا ہے جس کا تصور بھی انسان کے لیے مشکل ہے۔سورج کا درمیانی حصہ یعنی اُس کا کور اتنا گرم ہے کہ وہاں کا درجہ حرارت تقریباڈیڑھ کروڑڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔یہ اتنا گرمی ہے اگر زمین کا سب سے طاقتور آتش فشاں سب سے بڑی آگ اور ہزاروں ایٹمی دھماکے ایک جگہ جمع کردیے جائیں تب بھی وہ سورج کے مرکز کے سامنے کچھ نہیں۔وہاں دباؤ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہائیڈروجن کے ننھے ایٹم ایک دوسرے سے ایسے ٹکراتے ہیں جیسے دو گاڑیاں انتہائی رفتار سے آپس میں ٹکرا جائیں۔لیکن سورج کے اندر یہ ٹکراؤ صرف دو چیزوں کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ کھربوں ایٹم ہر لمحہ ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔پھر اچانک وہ آپس میں جڑ جاتے ہیں اور ایک خوفناک دھماکے کے ساتھ توانائی پیدا ہوتی ہے۔اسی عمل کو نیوکلیئر فیوژن کہتے ہیں۔یہی وہ طاقت ہے جو سورج کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔سورج ہر سیکنڈ تقریبا60کروڑٹن ہائیڈروجن استعمال کرتا ہے۔60کروڑٹن ۔یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ اگر آپ روزانہ لاکھوں ٹرک بھر کر بھی ہائیڈروجن لے جائیں تب بھی سورج کی صرف چند لمحوں کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔اور پھر اس میں سے تقریبا40لاکھ ٹن مادہ مکمل طور پر توانائی میں بدل جاتا ہے۔یہ وہی توانائی ہے جو روشنی گرمی اور زندگی بن کر خلا میں پھیلتی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں صرف آٹھ منٹ لگتے ہیں۔یعنی اگر سورج اچانک غائب ہوجائے تو ہمیں آٹھ منٹ تک پتا بھی نہیں چلے گا۔لیکن سورج کے اندر کا منظر وہ حقیقت میں کسی جہنم سے کم نہیں۔اگ کے ایسے طوفان جن میں پوری زمین ایک چھوٹے کنکر کی طرح لگے۔پلازما کی ایسی لہریں جو ہزاروں کلومیٹر اونچائی تک پھٹ پڑتی ہیں۔اور آگ کے ایسے بگولے جو پورے سیارے نگل سکتے ہیں۔سورج کی سطح مسلسل اُبلتی رہتی ہے۔ایسے جیسے چولہے پر رکھا پانی کھول رہا ہو۔فرق صرف اتنا ہے وہ پانی نہیں بلکہ آگ کا سمندر ہے۔کبھی کبھی سورج اچانک ایک خوفناک دھماکہ کرتا ہے۔اتنا بڑا دھماکہ کہ اربوں ایٹمی بم بھی اُس کے سامنے کمزور لگیں۔انہیں سولرفلیئرکہا جاتا ہے۔جب یہ دھماکے ہوتے ہیں تو سورج خلا میں آگ اور توانائی کا زبردست طوفان پھینکتا ہے۔اگر ایسا طاقتور طوفان سیدھا زمین سے ٹکرا جائے تو سیٹلائٹس جل سکتے ہیں انٹرنیٹ بند ہوسکتا ہے موبائل سگنلز ختم ہوسکتے ہیں اور پوری دنیا اندھیرے میں ڈوب سکتی ہے۔اور لوگ اسی لیے سورج کو صرف خوبصورت ستارہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک خطرناک کائناتی طاقت سمجھتے ہیں۔اور سب سے حیرت والی بات ۔جو روشنی آج آپ کے چہرے پر پڑ رہی ہے وہ سورج کے اندر لاکھوں سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔کیونکہ سورج کے اندر روشنی سیدھی باہر نہیں نکل سکتی۔وہ باربار ایٹموں سے ٹکراتی رہتی ہے جیسے کوئی انسان بہت بڑے ہجوم میں پھنس جائے۔کبھی دائیں کبھی بائیں کبھی آگے…کبھی پیچھے اور لاکھوں سال بعد کہیں جا کر وہ روشنی سورج کی سطح تک پہنچتی ہے۔پھر وہ خلا میں سفر کرتی ہے…اور صرف آٹھ منٹ میں زمین تک پہنچ کر ہماری صبح بن جاتی ہے۔لیکن سورج ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔ایک دن اُس کے اندر موجود ہائیڈروجن کم ہونے لگے گی۔پھر سورج مزید خوفناک ہوجائے گا۔وہ آہستہ آہستہ پھیلنا شروع کرے گا…جیسے آگ سے بھرا ہوا غبارہ۔وہ اتنا بڑا ہوسکتا ہے…کہ عطارد…زہرہ…اور شاید زمین کو بھی نگل جائے۔اس وقت زمین پر سمندر اُبلنے لگیں گے۔ہوا جلنے لگے گی۔پہاڑ پگھلنے لگیں گے۔اور ہماری دنیا ایک جلتا ہوا مردہ پتھر بن سکتی ہے۔یہ سب اربوں سال بعد ہوگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج آج بھی ہر سیکنڈ ایک خوفناک جنگ لڑ رہا ہے۔آگ کی جنگ دباؤ کی جنگ اور ایٹمی طاقت کی جنگ۔اور سب سے ڈراؤنی بات اگر سورج صرف ایک لمحے کے لیے بھی اپنی توانائی بنانا بند کردے تو زمین پر موجود ہر چیزاندھیرے سردی اور موت میں ڈوب سکتی ہے۔
تخریر۔۔۔عالم نامہ Aalam nama