16/09/2025
جرم کی دنیا سے ہم کیسے نجات حاصل کر سکتے ہیں؟
گلگت بلتستان میں جرم کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ کیا سیکیورٹی اداروں کویا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سارا ملبہ ڈال کر خاموش رہنے سے معاشرہ ٹھیک ہو گا؟ اس جرم میں ہم سب شامل ہیں جتنا ایک ظالم ایک جابر ایک قاتل ہے۔
میرے خیال سے معاشرے کو ٹھیک کرنے کیلئے ہر وہ سوچ اپنانے پڑی گی جو معاشرے کو ٹھیک کرنے کی سبب بنے۔ میں سمجھتا ہوں سیکیورٹی اداروں و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادہ ہم خود زمہ دار ہیں۔ اگر میرا بیٹا, بھائی , رشتہ دار, علاقے کا بندہ, قوم کا یا مسلک کا بھی بندہ بھی ہو جو اگر ظالم ہے بدمعاش ہے یا قاتل یے تو یاد رکھو ایک انسان کا قتل پورے انسانیت کا قتل ہے ۔ میرے اسلام نےامن سلامتی اور بھائی چارہ گی کا درس دیا ہے۔ ہمیں ظالم کو چھوڑ کر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ قاتل بیٹے ہو یا بھائی قاتل کی قربانی دینی ہوگی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ
کیا یہ صلاحیت ہم میں ہے کیا یہ طاقت ہم میں ہے کیا یہ جذبہ ہم میں ہے؟جواب نہیں ۔ اس کا مطلب ہے معاشرے کا سب سے بڑا مجرم ہم خود ہیں۔ گلگت بلتستان کے جوانوں کو اپنے اندر انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں نام پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے گلگت بلتستان کی تاریخ آپ کو یاد رکھے گی نہ کہ ان جرائم میں اپنی زندگی برباد کرے۔ نجانے ایسے کتنے کاشان جیسے معصوم بچے ان درندوں کے ہاتھ چڑھے ہیں۔ ملزمان کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کی حرکت کا کوئی جرت نہ کرے۔۔
بہر حال مجھے یقین ہے اور میرا ایمان بھی۔ انشاء اللہ ہم سب کی کوششوں سے ایک دن آئے گا گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بنے گا۔ اور امن کیلئے ہر طبقے کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا وگرنہ تباہی اور بربادی ہماری مقدر بنے گی۔
رحمت اللہ, صدر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن گلگت بلتستان