19/12/2018
عمران خان کی مدینہ کی ریاست کے نظام کے اصولوں کا تجزیہ
کسی بھی ریاست کی پہچان اس میں قائم نظام کے زریعے ہوتی ہے نہ کہ نعروں اور تقریر کی بنیاد پر ، ہماری بے شعور عوام صرف تقریروں سے متاثر ہو جاتی ہے وہ نظام کا تجزیہ نہیں کر پاتی جس کی وجہ سے ہر بار کبھی شریعت، کبھی جمعوریت، کبھی خلافت، کرپشن کے خلاف جنگ اور کبھی مدینہ کی ریاست جسے نعروں سے دھوکہ کھا جاتی ہے اور نعرے کا مقصد صرف استحصالی نظام کی بقا ہوتی ہے.
ہمارے ملک کا المیہ ھے کہ تبدیلی کے حوالے سے ھماری زیادہ تر بحثیں شخصیت پر ہوتی ھیں چاھے وہ تکرار میڈیا پر ھو یا کسی پولیٹیکل پارٹی میں یا کسی آفس یا کسی گلی محلے میں، کبھی بھی سسٹم کے حوالے سے کوئی تجزیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ہمیں نظام کا تجزیہ سکھایا جاتا ہے. اس طرح ہمارا یہ عقیدہ بن جاتا ہنے کوئی ہیرو آ ے گا سب کچھ ٹھیک کر دے گا اور یہی چیز فلموں کے ذریعے ہمارے دماغ میں بٹھائی جاتی ہے اک ہیرو آتا ہے اور سب کچھ ٹھیک کر کے چلا جاتا ہے. بلکل اسی طرح امپورٹڈ لیڈرز پاکستان میں ھر دور میں میڈیا کے ذریعے ہیرو بنا کر پش کیے جاتے ھیں اور ھم ساری توقعات اسی سے ہی وابستہ کر لیتے ھیں .ھر لیڈر نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے لیکن حقیت میں وہ جاگیردارانہ اور سرمایادارانہ استحصالی نظام کا نمائندہ ہوتا ہے. آپ اگر کسی ظالمانہ اور استحصالی نظام میں اک ولی کو بھی اپ بٹھا دیں نتیجہ اس کا وہی استحصال ھی ھو گا کیوں کہ نظام کے اصول استحصالی ھیں جس طرح آپ گنے کی رس کی مشین پر زرداری، نواز، مولانا صاحب، عمران خان یا کسی نیک بندے کو بٹھا دیں اس سے رس ہی نکلے گا کیونکہ وہ ان اصولوں پر بنی ہے کہ رس نکالے. آیہے نظام کے اصولوں کو سمھجنے کی کوشش کرتے ھیں کہ وہ بے شعور عوام سے کیسے رس نکالتے ھیں.
کوئی بھی سوسائٹی جب بنتی ہے تو اس کا اک فکروفلسفہ ہوتا ھے یعنی جب اپ کوئی مکان بناتے ھیں تو سب سے پہلے اس کا نقشہ تیار کرتے ھیں جو اک خوبصورت مکان بنانے میں آپ کی رہنمائی کرتا ہے اور فکرو فلسفہ بھی سوسائٹی کا نقشہ ہی ہوتا ہے جو معاشرے کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی تشکیل میں رہنمائی کر رہا ہوتا ہے. اس وقت دنیا میں تین قسم کے فکرو فلسفے پر مبنی نظام پاے جاتے ھیں.
1- سرمایادارانہ نظام /فلسفہ (Capitalism)
2- اشتراکی نظام /فلسفہ (Socialism)
3- اسلام کا نظام /فلسفہ ( Islam )
ھم جس فلسفےکو مان کر اس کی پیروی کر رہے ہوتے ھیں وہ ہمارا نظریہ بن جاتا ھے. اس وقت دنیا میں دو ہی نظام غالب ھیں اک سرمایادارانہ نظام ھے جس کو امریکا سپورٹ کر رہا ھے اور اشتراکی نظام ھے جس کو روس کی سپورٹ ھے . اسلام کا نظام دنیا کے کسی ملک میں نافذ نہیں ہے اس وقت دنیا میں تقریباً 58 اسلامی ممالک ھیں لیکن تمام ممالک میں سرمایادارانہ نظام قائم ہے. یہ تینوں فلسفے تقسیم دولت ، تبادلہ دولت، صرف دولت اور پیدائش دولت اک دوسرے سے مختلف اصول دیتے ھیں اس لیے غربت کا سوسائٹی میں زیادہ ہونا اور کم ھونا یہ نظام کے قائم کردہ اصولوں پر منحصرہوتا ہے. بدقسمتی سے پاکستان میں کلاسیکل سرمایادارانہ اور جاگیردارانہ نظام قائم ہے اور اور یورب میں نیو کلاسیکل سرمایادار نظام ہے جب کہ جاگیردارانہ نظام کو 200 سال پہلے خیر آباد کہ چکے ھیں اور ھم ان کے 200 سالہ پرانے جاگیردارانہ نظام کو شعور نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا حل سمجھ بیٹھے ھیں. اگر ھم نے سرمایادارانہ نظام کو مسائل کا حل سمجھتے ھیں تو ہمارا نظریہ بھی پھر سرمایاداری ہوا نہ کے اسلام لیکن ھمارے حکمران سرمایاداری کو اسلام کے لبادہ پش کر رہے ھیں . پاکستان سرمایادارانہ فکر پر پچھلے 68سال سے کام کر رہا ہے جس کو تقویت پہچانے کے لیے انرونی اور بیرونی عناصر کارفرما رہے ھیں . یہاں پر وسائل کا چند ہاتھوں میں سمٹنا ہی موجودہ معاشی ابتری کا سبب ہےجو اس نظام کا لازمی نتیجہ ہے .یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دولت زمیں سے پیدا ہوتی ہے لیکن اس کے لیے قوت محنت کا استعمال لازمی ہے. انسانی قوت یعنی محنت استعمال نہ کی جاۓ تو دولت پیدا کرنا ممکن نہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ انساں زمیں پر محنت کر کے ہی دولت مند بن سکتا ہنے لیکن ھم دیکھتے ھیں کروڑوں کسان اور دیگر لوگ یعنی معما ر، لوہار ترکھان وغیرہ جو براہ راست خام مال اور زمیں پر محنت کرتے ھیں . تمام عمر مشقت کرنے کے باوجود غریب ہی رهتے ھیں اور بمشکل گزارا کرتے ھیں . یہ بات ھمیں حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ تمام دولت زمیں اور خام مال سے ہی پیدا ہوتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے جو لوگ دولت براہ راست زمیں سے پیدا کرتے ھیں وہی اس اکثر محروم رهتے ھیں. وہ لوگ جو زمیں سے اناج اور پھل پیدا کرتے ھیں ان کے ہی بچے ان چیزوں کو ترستے ھیں وہ لوگ جو کپڑا بنتے ھیں ان کے بچوں کو کپڑا تک نصیب نہیں ہوتا اور جو ا علی شان محل تعمیر کرتے ھیں ان کو جونپری میں گزارا کرنا پڑتا ہنے. اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مدت سے طاقتور اور ظالم انساں خود محنت سے آپنی ضروریات کا سامان پیدا کرنے کی بجایے مختلف طریقوں سے دوسروں کی کمائی حاصل کرنے کوشش کرتے رهتے ھیں اور پھر اسے طریقوں کو قانونی جامعہ پہنا دیا جاتا ہنے. موجودہ سسٹم میں اپ ایک مثال بھی ایسی پش نہیں کر سکتے جس اک اکیلا شخص آپنی محنت سے بلا شرکت غیرے امیر بن گیا ھو. جس روز سے وہ دوسروں کی محنت سے کچھ رقم حاصل کرنا شروع کرے گا اسی دن سے اس کی دولت مندی کا آغاز ھو گا اور پھر جوں جوں وہ دوسروں کی محنت سے زیادہ رقم لینا شروع کرے گا اس کی دولت میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاۓ گا اور جن کی محنت سے وہ دولت حاصل کرے گا وہ غریب ہوتے چلے جائیں گے. دولت مند لوگ جو اپ کو بظاھر محنت کرتے نظر اتے ھیں ان کی محنت قدرتی وسائل سے حاصل کرنا نہیں ہوتی بلکہ سودی چالوں کے زریعے دوسروں کی کمائی میں حصہ لینے میں صرف ہوتی ہے جو قدرتی وسائل سے دولت پیدا کرتے ھیں. موجودہ سسٹم میں دوسروں کا استحصال کیے بغیر اپ کبھی بھی دولت مند نہیں بن سکتے. اس سسٹم کی فلاسفی کی سوجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہ خیال رکھتے ھیں کہ اچھے لوگ انے کی سے ہمارا سسٹم ٹھیک ھو جاۓ گا صرف سراب علاوہ کچھ نہیں .ھر سوسائٹی کے تین بڑے ستون ہوتے ھیں جس کو وہ فلسفہ رہنمائی کر رہا ہوتا ہے جس پر نظام قائم ہوتا ہے وہ تین ستون مندرجہ ذیل ھیں.
1. معاشی نظام ( Economic system )
2. سیاسی نظام ( Political system)
3. تعلیمی نظام ( Education system)
اگر ھم پاکستان کے حوالے سے ان تین ستونوں کا جائزہ لیں تو ہمارا معاشی نظام یورپ اک معشیت دان ایڈ م سمتھ کے سود پر مبںی اصولوں پر قائم ہے اور ہمارا سیاسی نظام یورپ کے اک فلاسفر میکاولی کے اصولوں پر چل رہا ہے اسی طرح ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کی فلاسفی پر ہے. یہاں ھم پاکستان کے سیاسی نظام کا مختصر تجزیہ کرتے ھیں. ہمارے سیاسی نظام کے بھی تین بڑے ستون ھیں.
1. پارلیمنٹ ((Parliament
2. انتظامیہ ( Administration )
3. عد لیہ(Judiciary )
آپنی پارلیمنٹ کا اگر ھم جائزہ لیں تو وہاں پراپ کو % 99 سرمایادار اور جاگیردار ملیں گے اسی طرح انتظامیہ اور عدلیہ میں ان ہی کی اولادیں اعلی پوسٹوں پر نظر اہیں گی کیونکہ سرمایادارانہ کا فلسفہ کی فکر سرمایا ہے جس میں تمام چیزوں کو سرمایا کے گرد گھومایا گیا ہے اس سسٹم میں اپ کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار اسی کو ھوگا جس کے پاس سرمایا ھو گا اسی لیے اپ پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ میں صرف سرمایادار، جاگیردار اور ان کی اولادوں کو ھی دیکھ رہے ھیں.
میکاولی کے حکمران کے لیے کچھ فرموداد بھی ھیں
1- New principalities, which may be acquired by several methods, by one's own power, by the power of others, by criminal acts or extreme cruelty, or by the will of the people (civic principalities)
2- It is better to be stingy than generous.
3- It is better to be cruel than merciful.
4- It is better to break promises if keeping them would be against one's interests.
5- Princes must avoid making themselves hated and despised; the goodwill of the people is a better defense than any fortress.
6- Use the religion as a tool; put it in box when you need of it then pull out from box and when need of it is end then again put into box.
اگر اکنامک سسٹم مختصر تجزیہ کریں تو سکاٹ لینڈ سےتعلق رکھتے والے ماہر اقتصادیات آدم سمتھ جس نے سود پر مبںی استحصالی اصول اخذ کیے اور ہماری اقتصادی سرگرمیاں ان ھی اخذ کیے اصولوں پر ھوتی ھیں. اقتصادیات میں آدم سمتھ نے مارکیٹ کے دو قانون دئیے.
1- طلب کا قانون: (Law of Demand) جب اشیا کی قیمتیں کم ہوتی ھیں تو طلب بڑتی ہے اور اگر قیمتیں زیادہ ھوں تو طلب کم ھوتی ہے.
2- رسد کا قانون:Law of Supply) ( جب قیمتیں بڑتی ھیں تو رسد بھی بڑتی ہے اور جب قیمتیں کم ہوتی ھیں تورسد بھی کم ہوتی ہے.
سرمایادارانہ نظام میں اس اصول کو استمعال کرتے ہوے پوری دنیا کی مارکیٹس کو بڑے بڑ ے سرمایادار یرغمال بنا دیتے ھیں.کیونکہ طلب کو بڑھانے کے لیے اک طرف توبنیادی ضروریات کی مصنوعی قلت ذخیرہ اندوزی کے زریعے پیدا کی جاتی ہے اوردوسری وہ چیزیں جن کا تعلق بنیادی ضروریات سے نہیں ہے ان کی طلب اشتہار بازی کے زریعے لوگوں میں پیدا کی جاتی ہے اور پھر اس کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے. اب جب قیمتیں بڑہیں گی تو سرمایادار رسد کو بڑھاے گا اس طرح وہ زیادہ منافع کماے گا. لہذا مارکیٹ سسٹم قیمتیں بڑھانے پر مجبور ھو جاتا ہے مثلا روٹی کپڑا مکان کی طلب دن بدن بڑتی ہے اسی وجہ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. ایسی اشیا جن کا استعمال کم ہے ان کی قمیت پہلے مرحلے میں گرتی ہے جس طرح ہماری حکومت نے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کا سوچا تو پٹرول کی قمیت 5روپے کم جبکہ ڈیزل اور خام تیل کی قیمت 3 روپے بڑھا دی. بڑی ٹرانسپورٹ میں ڈیزل کا استعمال ہوتا ہے اور صنعتوں میں خام تیل کا. دوسری طرف پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں کم ہیں اسی وجہ سےپٹرول جس کی طلب کم ہے اس کی قیمت کو کم کر دیا گیا جبکہ ڈیزل اور خام تیل جس کی طلب زیادہ تھی اس کی قیمت میں اضافہ کیا تا کہ منافع زیادہ سے زیادہ حاصل کیا جا سکے.اسی طرح پر پٹرول، بجلی، گیس، اٹا، چینی، دال اور گھی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا دی جاتی ھیں.
منافع خوری:
سرمایا دار پیداوار پر لاگت کو کم سے کم کرنے اور آمدن کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے. مزدوروں کی اجرت اور حکومت کو ادا کردہ ٹیکس سب کچھ عوام کی جیب سے نکالا جاتا ہے.چونکہ اجرت بڑھنے کی وجہ سے مزدوروں کو زیادہ مزدوری اور زیادہ پیداوار کی وجہ سے گورمنٹ کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے. یہ کمی بھی قیمتیں بڑھا کر عوام سے ہی نکالا جاتا ہے. جبکہ بیچارے مزدور ان کے خرید نے کی قوت تنخواہ میں اضافے کے باوجود بھی نہیں بڑھتی کیوںکہ مہنگائی کا تناسب اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہوتا ہے.
مہنگائی اوربیروزگاری
نیوزلینڈ کے مشھور ماہر اقتصادیات ویلیم فلپس نے ١٩٥٨میں بروزگاری کو کم کرنے کے لیے اک قانون دیا اس کے مطابق اگر بیروزگاری کم کرنی ہے تو مہگائی کرنا ھو گی اور اگر مہگائی کرنی تو بیروزگاری کرنا ھو گی. کیونکہ بیروزگاری اس وقت کم ھو گی جب سرمایادار آپنی ملوں میں مزدور بھرتی کرے گا اور مزدوری دینا پڑے گی جو وہ عوام کی جیب سے نکالے گا. اور اس کو قیمتیں کم کرنے کہا جاۓ گا تو وہ فورا مزدوروں کو فارغ کرنے کا سوچ لیتا ہے.
کرنسی کا اتار چڑھاو
ہمارے ملک کی کرنسی روپیہ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر تجارت کے معا ملے ڈالر کی شکل میں طے پاتےہیں. اس کے علاوہ تمام سرمایادار آپنی بچت غیر ملکی بنکوں میں ڈالر کی شکل میں جمع کرواتے ھیں تا کہ ان کی دولت میں کمی کی بجایے اضافہ ہوتا رہے. اسی وجہ سے ڈالر کی طلب بڑ جاتی ہے اور روپے کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تمام ادایگییوں میں بھی اضافہ ھو جاتا ہے. قومی سطح لیے گے قرضوں کی رقم بھی بڑ جاتی ہے کیونکہ وہ ڈالر کی شکل میں وصول اور ادا کرنا ہوتا ہے. اس سے بھی اشیا کی لاگت بڑ جاتی ہنے اور مارکیٹ سے عام آدمی کو مہنگے داموں اشیا خریدنی پڑتی ھیں. یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قمتیں کم ہونے کے باوجود ہماری گورمنٹ اشیاء خردونوش اور ایند ھن میں کمی نہیں لا سکی. اشیاء کی پیداوار اور مارکیٹنگ میں زیادہ کردار ملٹی نیشنل کمپنیز کا ہے جن سے پہلے ہی گورنمنٹ قیمتیں بڑھا نے کا معا ہد ہ کر چکے ہوتی ہے. لہذا گورنمنٹ روپے کی قیمت میں بہتری کے باوجود قمتیں کم کر نہیں پاتی.
سودی بینکنگ
سودی بنیادوں پر قائم بینکنگ سسٹم کے زریعے بھی عوام کا خوب استحصال کیا جا رہا ہے. کسی بھی عنوان سے قائم کیے بنک یعنی اسلامی اور غیر اسلامی عوام کو سود پر مبںی قرضہ فراہم کرتے ھیں اس طرح سوسائٹی میں دولت کی فراوانی پیدا ھو جاتی ہے جو مہگائی کا سبب بنتی ہے. کیونکہ ایڈم سمتھ کی فلاسفی کے مطابق اگر دولت کی بہتات ھو جاۓ تو اشیا کی طلب میں اضافہ ھو جاتا ہے اور نتیجہ میں ان کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ھیں. دوسری طرف سرمایادار کی طرف سے لیے گے قرضوں کی ادائیگی نہیں ہوتی لہذا شرح سود میں اضافہ ہوتا رہتا ہے. اب ایک طرف تو سرمایادار سود کو اخراجات کی مد میں ڈال کر قیمتوں کا حصہ بنا دیا جاتا ہے اور دوسری طرف اسٹیٹ بنک روپے کی رسد بڑھاتا ہےاور مزید قرضہ جاری کرتا ہے تا کہ سرمایادار اپنا قرضہ ہلکا کر سکے اور نتیجہ میں روپے کی رسد بڑھنے کی وجہ سے اس کی قدر میں کمی واقع ھو جاتی ہے.
اگر ھم اک دوسرے زاویہ سے ایڈم سمتھ کے اکنامک کے اصولوں کا جائزہ لیں تو اس نے چار عاملین پیدائش پیش کیے ھیں جن کی بنیاد پر دولت کی تقسیم ہوتی ہے .
1- زمین
2- سرمایا
3- تنظیم
4- محنت
اگر سرمایادار انویسٹمنٹ کرتا ہے تو اس کا منافع ان چار عاملین پیدائش میں تقسیم ہوتا ہے جہاں زمین، تنظیم اور سرمایا کی مد میں % ٩٠ سرمایادار لے جاتا ہنے اور ساری محنت مزدوروں نے کی ہوتی جو صرف 5 ٹو 10% لیتے ھیں. اسی لیے اپ سوسائٹی میں دیکھ سکتے ھیں کہ اک طبقہ تو امیر سے امیر تر ہوتا جاتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے کیونکہ سرمایادار، مزدوروں کی محنت کو ہڑپ کر رہے ہوتے ہیں.
تعلیمی نظام
ہمارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کی فلاسفی پر قائم ہنے. جسکا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے کلرکس اور غلام پیدا کرنا تھا۔یہ نظام ایسے جامد اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری مشین کے پرزے تیار کرتا ہے جو کہ سرمایہ داروں کے سرمایہ میں مسلسل بڑھوتری اور ریاستی مشینری چلانے کے لئے ناگزیر ہیں۔
سرمایہ دارانہ معاشی نظام کیوجہ سے پورا معاشرہ طبقات میں تقسیم ہے۔ اس لئے تعلیمی نظام بھی طبقاتی ہے۔اور ایک حقیقی اور آزاد انسانی شعور پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ یہ نظام سوال اٹھانے والوں کو مجرم گردانتا ہے اور تنقیدی سوچ کی نفی کرتا ہے۔کیونکہ اس نظام کے آقا ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے غلام ان پر اور معاشرے میں موجود طبقات پر سوال اٹھاتے ہو ے اس نظام کو چیلنج کریں اور تبدیلی کا سوچیں۔ اس تعلیم کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہے جو حقیقت کو جامداور ناقابل تبدیلی سمجھتے ہوئے قبول کر لیں۔اسطرح وہ طبقات کی موجودگی اور جبرواستبداد کی اس صورتحال کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں گے۔ تعلیم ہمارے سماج میں ایسی صنعت کے طور پر ابھری ہے جسکا مقصد محض شرح منافع بڑھانا ہے۔انسانی ترقی اور آزادی اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سرمایہ داروں کے بچوں کے لیے عالیشان عمارتوں میں تعلیم کا انتظام ہے تو دوسری طرف پسا ہوا اور بنیادی ضروریات سے محروم طبقہ غلاظت سے پرُ اور بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے پر مجبور ہے ۔ یہاں سرکاری ، نیم سرکاری اور شاندار نجی درسگاہوں سے لیکرگلی محلوں میں کھمبیوں کی طرح اگنے والے سکول سب موجود ہیں۔ اور اپنی اپنی اوقات کے مطابق تاریکیاں اور جہالت بانٹ رہے ہیں۔ ان سب کے اپنے اپنے نصاب اور پڑھانے کے مختلف طریقہ کار ہیں۔ امتحانی طریقہ کار غیر صحت مند مقابلے کو فروغ دیتا ہے۔(نتائج کے خوف سے بعض نوجوان توخودکشی تک کر لیتے ہیں) یہ غیر صحت مند مقابلہ ظلم پرکھڑے اس نظام میں جبر اور تسلط قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے.ہمارا تعلیمی نظام واضح طور پر طبقات پر بٹا ہوا ہے اک طرف وہ تعلیمی ادارے ہیں سرمایادار اور جاگیردار کے بچے پڑھتے ھیں اور ان اداروں میں عام بندہ اپنے بچوں کے داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ طبقہ key پوزیشن پر تعینات ھو جاتا ہے اوراس نظام کے وجود کو برقرار رکھتا ہنے اور سامراج کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے. دوسری طرف وہ تعلیمی ادارے ھیں جہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر ھیں اگر کوئی آپنی محنت کے بل بوتے پر تعلیم حاصل کر بھی لےتو روزگار ملنا مشکل ہے جس کے لیے رشوت اور سفارش چاھیے جو آم آدمی کے پاس نہیں ہے. الغرض دو قسم کے لوگ تیار ہوتے ھیں اک کا کام حکمرانی کرنا ہے اور دوسرے کا کام کلرکی کرنا ہے. دینی تعلیمی اداروں کے پاس بھی دین اور دینا کی تفریق پیدا کی گئی ہے ان کا زیادہ تر زور مسلکی اختلافات پر ہوتا ہے اس طریقہ سے ان کے اندر شدت پسندی اور انتہا پسندی پیدا کی جاتی ہے جس کو نظام آسانی کا ساتھ اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے. جب مختلف اداروں سے مختلف قسم کے ذھن تیار کیے جائیں تو وہاں پر اک قوم کا وجود میں انا ممکن نہیں ہوتا. یہ تعلیمی نظام مذھبی ، لسانی، علاقائی، اختلافات پیدا کر کے لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے اور سسٹم کے شعور کے حوالے عاری کر دیتا ہے اور اس طرح انگریز کی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو کی تکمیل ہوتی ہے.
لارڈ میکالے کے کچھ اقتبات
لارڈ میکالے لکھتا ہے کہ وہ ہندوستان کے ھر مکتبہ فکر سے ملا، مذھبی طبقات، علما اور تاجر وغیرہ کوئی شخص جھوٹ نہیں بولتا تھا. کوئی مانگنے والا نہیں تھا.کوئی بد اخلاق نہیں تھا.سارے آزادی کو ضروری سمجتھے تھے اور غلامی کو لعنت سمجتھے تھے.اس نے رپورٹ میں لکھا اسی قوم کو زیادہ عرصے تک غلام نہیں بنایا جا سکتا. اس سے کہا گیا کہ حل کیا ہے.اس نے کہا ایسا نظام تعلیم لایا جاۓ جو اجتماعیت سے کاٹ کر انفرادیت پیدا کرے.بے حیائی کا تمدن فروغ پائے . جب انگریز ہندوستان میں آیا تو یہاں پر ٩٥ فی صد تعلیم تھی باقی 5 فی صد لوگ اعلی اخلاق کے مالک تھے. انگریز جب یہاں سے واپس گیا تو8 فی صد تعلیم یافتہ طبقہ تھا. . انگریز نے ظالمانہ نظام قائم کیا. ظالمانہ نظام غربت اور قحط پر مشتمل ہوتا ہے. انگریزوں نے مصنوعی غربت پیدا کی یہاں تک کہ ہندوستانی 5 روپے ماہوار پرانگریز کے ملازم ہونے پر مجبور ھو گے.
اک اور جگہ لارڈ میکالے لکھتا ہے اپنے تعلیمی نظام کے زریعے اک اسی جماعت بنانی چا ھیے جو ھم میں اور کروڑوں رعا یہ کے درمیاں مترجم ھو.جو خوں اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ھو مگر مزاج، رائے، الفاظ اور سمھج کے اعتبار سے انگریز ھو.
اک اور جگہ لارڈ میکالے لکھتا ہے زمانہ سابق میں جس طرح زوردار اور بااثر لوگوں کو افیون پلا کر کاھل، پست ہمت اور بدعقل بنا دیا جاتا تھا ہمارا نظام سلطنت بھی اسی طرح اھل ہند کو بیکار بنا دے گا.
(حکومت خوداختیاری ٨٨)
جب تک یہ ظالمانہ سسٹم قائم رہے گا غربت، فرقہ واریت، بد امنی قوم کا مقدر رہے گی. ہمارے ہاں اسی سوچ کو پروان چڑھایا گیا ہے جس میں ہیرو ازم کو ہی پوجا جاتا ہے جس کی عکا سی ہماری فلمیں اور تاریخ کرتی ہے اور ھر دور میں نظام ہمارے لیے اک نیا ہیرو تراشتی ہے اور ھم اس کو اپنا مسیحا سمجھ بیتھتے ھیں حلانکہ وہ اسی ظالمانہ سسٹم کا نمانئدہ ہوتا ہے. اگر ھم امن، خوشحالی اور ترقی چاہتے ھیں تو اس ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا ھو گا.
مولانا شوکت اللہ انصاری رح سماجی تبدیلی یا انقلاب کی تعریف کچھ یوں کرتے ھیں. لغوی معنی میں انقلاب اک بہت بری تبدیلی کو کہتے ھیں اور تاریخی اصطلاح میں انقلاب سے مراد سیاسی. اقتصادی اور معاشرتی اصولوں کی تبدیلی ہے جو مروجہ نظام تمدن کوبدل کر بلکل نیا تمدن وجود میں لاے.