30/01/2026
وزیرآباد میں ایک جواں سالہ لڑکی کا رشتہ دیکھنے آئے لوگوں کو لڑکی پسند آگئی اور لڑکی والوں کو لڑکا بھی پسند آگیا۔ دونوں خاندان بہت خوش تھے اور مستقبل کی منصوبہ بندی لڑکے میں مصروف تھے۔ یہ محفل لڑکی کے گھر میں جمی ہوئی تھی اور لڑکی اپنے ہونے والے سسرالی مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے میں مصروف تھی۔ لڑکے والی فیملی اپنی ہونے والی بہو کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے اور اس سے باتیں کررہے تھے۔
اچانک منظر ایسا بدلا کہ اس نے ساری کہانی ہی بدل دی۔ جہاں لڑکی اپنے ہونے والے سسرالیوں کی خدمت کرنے میں مصروف تھی اچانک وہاں ایک تین سالہ بچی "ماما" " ماما" پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور اس وہ لڑکی سے چمٹ گئی۔۔۔ لڑکے والے اس منظر کو دیکھ کر ایک دم اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں جھوٹ بولنے،لڑکی کے پہلے شادی شدہ ہونے اور ایک بچی کو چھپانے کے طعنے دیتے ہوئے گھر سے نکل گئے۔ لڑکی کی والدہ نے انہیں روکنے کی بھرپور کوشش کی کہ یہ بچی ہماری بیٹی کی بھتیجی ہے اور اس کی ماں کو ہمارے بیٹے بے طلاق دے دی ہوئی ہے اس وجہ سے یہ ہمارے پاس ہے اور اپنی پھپھو کو ماما کہتی یے لیکن لڑکے والوں سے کچھ بھی سننے سے انکار کردیا۔۔۔۔
اچانک دو تین روز کے بعد وہ تین سالہ چھوٹی بچی گم گئی اور بہت ڈھونڈنے کے بعد کہیں سے نا ملی تو اس کی دادی سے صدر تھانہ وزیرآباد میں اپنی پوتی کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروادی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد اس تین سالہ چھوٹی بچی کی ن ع ش گھر کی عقبی گلی سے برآمد ہوگئی۔۔۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق تین سالہ چھوٹی بچی کو گلہ گھونٹ کر م ا ر ا گیا تھا۔ لیکن اس کا سراغ لگانا پولیس کے لیے بہت مشکل ہوچکا تھا۔۔۔ پولیس نے ہر طرح سے جائزہ لینے کے بعد اس بچی کی پھپھو کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا۔ دوران حراست اس نے اعتراف کرلیا کہ اسی نے اپنی بھتیجی کو م ا ر ا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس کا رشتہ نہیں ہوپارہا تھا۔ ملزمہ کے بیان کے مطابق اس کے بھائی نے تین شادیاں کیں۔ پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا، اس بچی کی ماں کو طلاق دے دی جبکہ تیسری بیوی گھر کی بالائی منزل پر رہتی ہے جبکہ اس کا بھائی قطر میں مقیم ہے۔ تین سالہ چھوٹی بچی کو اس کی پھپھو نے پالا اور وہ اپنی دادی اور پھپھو کے ساتھ رہتی تھی جس وجہ سے اپنی پھپھو کو ماما کہتی تھی۔۔۔۔