19/10/2024
روایت میں آیا ہے کہ "ذوالقرنین" اپنی ماں کے اکلوتے بیٹے تھے، اور جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، انہوں نے زمین کے مشرق و مغرب کا سفر کیا، فتوحات حاصل کیں اور لوگوں کو دعوت دی۔
جب وہ بابل پہنچے تو انہیں سخت بیماری نے آ لیا، اور انہیں اپنی زندگی کے خاتمے کا احساس ہوا۔ اُس لمحے ان کے ذہن میں صرف یہ خیال آیا کہ ان کی موت پر ان کی ماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ماں کو ایک بڑا مینڈھا اور ایک خط بھیجا، جس میں لکھا:
"ماں، یہ دنیا فانی ہے، اور ہر ایک کے لیے ایک مدت مقرر ہے، اور ایک خاص عمر کا وقت معین ہے۔ اگر آپ کو میرے انتقال کی خبر ملے تو اس بھیڑ کو ذبح کر کے اس کا گوشت پکائیں، اور اس سے کھانا بنائیں۔ پھر لوگوں کو دعوت دیں کہ وہ آئیں، مگر وہ شخص نہ آئے جس نے کسی عزیز کو کھویا ہو۔"
جب ان کی ماں کو ان کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے ان کی وصیت کے مطابق مینڈھے کو ذبح کیا، اس کا کھانا تیار کیا اور لوگوں کو دعوت دی، جیسا کہ ان کے بیٹے نے کہا تھا۔ لیکن انہیں حیرت ہوئی کہ کوئی بھی کھانے کے لیے نہ آیا۔
تب انہیں سمجھ آیا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے کسی عزیز کو نہ کھویا ہو۔
انہوں نے اپنے بیٹے کا مطلب سمجھا اور کہا:
"اللہ تم پر رحمت کرے، میرے بیٹے! تم نے اپنی موت میں بھی مجھے اتنا ہی سبق دیا جتنا تم نے اپنی زندگی میں دیا تھا۔"
مصیبتیں ہمیشہ آتی ہیں، کیونکہ یہ دنیا ملاقات کی جگہ نہیں، بلکہ جدائی کی جگہ ہے۔ یہ دنیا مستقل رہنے کی جگہ نہیں، بلکہ ایک عبوری مقام ہے۔ اور موت زندگی کی ضد نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے۔
ہم غمگین ہوتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، ہم جلتے ہیں کیونکہ ہم محبت کرتے ہیں، ہم ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ ہم انسان ہیں، اور ہم کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم اپنے پیاروں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اللہ کے فیصلے پر ادب کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ غصہ اور ناراضگی تقدیر کو نہیں بدلتے، مگر صبر اور رضا ثواب میں اضافہ کرتے ہیں۔