International Sadat Organization

International Sadat Organization Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from International Sadat Organization, Lahore.

دنیا بھر کے تمام سادات کرام سے گزارش ہے کہ بین الاقوامی تنظیم السادات کو جوائن کریں اور سادات کرام کی وحدت خدمت حرمت تربیت اور حقوق کے لئے ہماری آواز بنیں، ہمارا وعدہ ہے کہ کوئی بھی سید کہیں تنہا نہیں رہے گا
ان شاءاللہ
انتظامیہ
انٹرنیشنل سادات آرگنائزیشن

🌙✨ عیدالاضحٰی کے دوسرے دن کی دلی مبارکباد ✨🌙تمام عالمِ اسلام کوانٹرنیشنل سادات آرگنائزیشن (ISO) کے🌹 مخدوم پیر سید محمد ص...
28/05/2026

🌙✨ عیدالاضحٰی کے دوسرے دن کی دلی مبارکباد ✨🌙
تمام عالمِ اسلام کوانٹرنیشنل سادات آرگنائزیشن (ISO) کے
🌹 مخدوم پیر سید محمد صفدر نواز نقوی ترمذی شبنمی شاہ صاحب مرکزی صدر
اور
🌹 مخدوم پیر سید نذیر مختار نقوی البخاری شاہ صاحب مرکزی چیئرمین / چیف آرگنائزر
کی جانب سے عیدالاضحٰی کے دوسرے دن کی پُرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اللہ ربّ العزت اس بابرکت موقع پر امتِ مسلمہ کو اتحاد، محبت، بھائی چارے، امن، خوشحالی اور باہمی اخوت کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے، اور ہم سب کی عبادات، قربانیوں اور دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
🤲 تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال 🤲

🌺 عید مبارک 🌺
سید محمد عامر نقوی البخاری چیئرمین آئی ٹی سپورٹ کونسل
سید ارشاد شاہ چیف کوآرڈینیٹر آئی ٹی سپورٹ کونسل اینڈ
شعبہ نشر و اشاعت
انٹرنیشنل سادات آرگنائزیشن(ISO)

28/05/2026
28/05/2026

آلِ نبی اولادِ علی السید الشیخ پیر سید افضال حیات شاہ صاحب گیلانی الحسنی والحسینی
(مرکزی سجادہ نشین دربارِ عالیہ چراغیہ امدادیہ والٹن لاہور).
ضلعی سرپرستِ اعلیٰ
انٹرنیشنل سادات ارگنایزیشن
ضلح ٹوبہ ٹیک سنگھ۔

سلسلہ معرفت آل محمد (اللہم صل علی محمد و آل محمد)✨ حضرت سید گل محمد غازی بھاکری الحسینی رحمۃ اللہ علیہ اور خانوادہ بھاکر...
27/05/2026

سلسلہ معرفت آل محمد
(اللہم صل علی محمد و آل محمد)
✨ حضرت سید گل محمد غازی بھاکری الحسینی رحمۃ اللہ علیہ اور خانوادہ بھاکری سادات کا تاریخی و روحانی پس منظر

اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی اولاد ہونا ایک عظیم نسبت ہے۔ بھاکری سادات کا تعلق اس عظیم خانوادے سے ہے
جن کی اصل نسبت براہِ راست
حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی لاڈلی شہزادی خاتونِ جنت، سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے ہے۔ یہ سلسلہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ائمہ اہل بیت کے ذریعے حضرت امام علی نقی علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ یہی ہمارے خانوادے کی اصل اور سب سے بڑی شناخت ہے جس پر ہم اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں۔
برصغیر میں سب سے پہلے اس خاندان کے جلیل القدر بزرگ حضرت سید محمد الحسینی بھاکری المعروف محمد المکی شیر سوار قدس سرہ اللہ سندھ کے علاقے قلعہ بکھر، روہڑی میں تشریف لائے۔ آپ کی وجہ سے یہ خاندان "بھاکری سادات" کے نام سے مشہور ہوا۔

حضرت سید گل محمد غازی بھاکری رحمۃ اللہ علیہ انہی بزرگوں کے چشم و چراغ تھے۔ آپ سید ابو اسحاق نہرا پیر (مدفن: سرائے خربوزہ اسلام آباد) کے پوتے اور خلیفہ مجاز تھے۔ اسی نسبت سے بعض شجروں میں آپ کے نام کے ساتھ "نہرا پیر" بھی درج ہے۔ آپ کے والد سید محمود غازی
شاہ مقصود کے قریب آباد تھے اور انہی کے مزار کے ساتھ واقع خضری مسجد کے قبرستان میں حضرت سید گل محمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار مبارک آج بھی زیارت گاہ ہے۔

علمی و روحانی مقام

سید گل محمد غازی رحمۃ اللہ علیہ ایک صوفی بزرگ، مردِ حق پرست اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ آپ اپنے آبائی سلسلہ "حسینیہ رضویہ بھاکریہ" میں بھی مجاز و کامل تھے۔ آپ کی زندگی دعوت و اصلاح، روحانی فیوض و برکات، اور دین اسلام کی سربلندی کے لیے وقف تھی۔

جوگی قوم کے خلاف جہاد

انیسویں صدی کے سرکاری ریکارڈ (1872ء) کے مطابق "میرا توت" کے علاقے میں جوگی قوم آباد تھی جنہوں نے ہزارہ کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ یہ قوم جادو اور طلسمی طاقتوں میں مشہور تھی۔ ان کا خاص لباس سرخ رنگ کا ہوتا تھا، کانوں میں بڑی بالیاں پہنتے اور پہاڑوں و غاروں میں رہتے تھے۔ ان کا مرکز ضلع جہلم کا مشہور مقام "ٹیلہ جوگیاں" تھا جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ سادہ لوح مسلمان ان کے جادو اور رسومات کے دھوکے میں آ کر شرک اور بدعات میں مبتلا ہوتے رہتے تھے۔

ایسے وقت میں حضرت سید گل محمد غازی بھاکری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد اور مرشد حضرت ابو اسحاق نہرا پیر کے حکم پر اس علاقے کی طرف ہجرت فرمائی۔ آپ نے نہ صرف مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائی بلکہ جوگیوں کے تسلط کو اپنی روحانی قوت سے ختم کیا۔ بہت سے غیر مسلم آپ کے دستِ حق پرست پر اسلام میں داخل ہوئے۔

جب جوگیوں نے آپ کی تبلیغ اور روحانی اثرات کو اپنی شکست جانا تو متحد ہو کر آپ کے خلاف میدان میں آئے۔ ایسے میں آپ نے جہاد بالسیف کا اعلان فرمایا۔ ایک سخت معرکہ ہوا جس میں جوگی قوم کو شکستِ فاش ہوئی۔ بہت سے جوگی قتل ہوئے، کچھ قیدی بنے اور بعد ازاں آپ کی صحبت میں رہ کر مسلمان ہو گئے۔ یوں یہ علاقہ دوبارہ سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آباد ہوا۔

اولاد و بعد کی نسلیں

حضرت سید گل محمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آپ کی اولاد نے علاقے کو آباد رکھا۔ ان میں سید شاہ محمد رضا بھاکری، سید گوہر شاہ المعروف گپور شاہ، اور سید بلند شاہ بھاکری کے نام نمایاں ہیں۔ آپ کی چار پشتیں شاہ مقصود اور میرا توت میں آباد رہیں۔ بعد ازاں سکھوں کے دور میں سردار ہری سنگھ نے ان کی زمینیں ضبط کر کے تقسیم کر دیں لیکن بھاکری سادات نے صبر اور استقامت سے دوبارہ آبادیاں قائم کیں۔

آپ کی اولاد مختلف علاقوں جیسے کشمیر، مانسہرہ، باجگراں اور بگڑہ میں پھیل گئی۔ بگڑہ میں سید احمد شاہ بھاکری (مصنف کے جد اعلیٰ) کی اولاد نے رہائش اختیار کی جبکہ سید کرم شاہ اور سید بدل شاہ کی اولاد آگے جا کر موضع کروالہ میں آباد ہوئی۔ انہی میں سے سید امیر شاہ بھاکری اپنے دور کے صاحبِ کرامت فقیر بزرگ تھے آپ کے بیٹے سید فقیر شاہ بھاکری بھی بزرگ ہستی تھے جن کا مزار کروالہ میں ہے۔

اسی خانوادے میں سید مسکین شاہ بھاکری مشہور ہوئے جو سخت مزاج ہونے کے باوجود غریبوں کے لیے نہایت سخی اور مہربان تھے۔ ان کی اولاد میں مولانا سید معظم شاہ صاحب اور مولانا قاری سید نعمت شاہ صاحب جیسے علما اور دینی خادم پیدا ہوئے جنہوں نے کروالہ میں دین کی خدمت کو زندہ رکھا۔

تحقیق و تصدیق

خاندان کے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روایات کے بعد تحقیق کے طور پر 1872ء اور 1904ء کے سرکاری ریکارڈ سے شجرہ نسب کی تصدیق ہوئی۔ مزید براں "ادارہ تحقیقات انساب سادات بھاکری" کے بانیان سید حسنین رضا الحسینی نقوی بھاکری (یوکے)، سید نوید الرحمن الحسینی بھاکری (اٹک) اور سید زبیر حسین شاہ نقوی بھاکری (ٹھپرہ سیداں) نے بھی اپنی تصدیق فراہم کی۔

نتیجہ و دعا

حضرت سید گل محمد غازی بھاکری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی جہاد، تبلیغ، صبر، قربانی اور خدمتِ اسلام کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی اولاد آج بھی مختلف علاقوں میں آباد ہے اور دین و روحانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔

آخر میں یہی دعا ہے:

> "اللہ رب العزت خانوادہ اہل بیت خصوصاً بھاکری سادات کو اتحاد، استقامت اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ"

---

✍️ تحریر:
حافظ سید شاہد شاہ حیدری بھاکری
(اولاد سید گل محمد غازی بھاکری الحسینی)

27/05/2026

حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ ایک ابدی اعلانِ حق۔
﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾
ترجمہ: “اور فرما دیجیے! حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے ہی والا تھا۔”
(سورۃ بنی اسرائیل: 81)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
✍️ راقم الحروف و السطور:
سید سجاد بخآری المعروف ایس ایس بخآری
چیئرمین، مرکزی میڈیا سپورٹ کونسل
انٹرنیشنل سادات آرگنائزیشن (ISO)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
یہ آیتِ مبارکہ صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا آفاقی، انقلابی اور ابدی اعلان ہے جس نے ہر دور میں اہلِ حق کے دلوں کو حوصلہ، جرأت اور استقامت عطا کی۔ قرآنِ مجید کا یہ فرمان اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ حق ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جبکہ باطل کی حقیقت محض ایک عارضی سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔
تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے اپنے جاہ و جلال، طاقت، ظلم، فریب اور سازشوں کے ذریعے حق کو دبانے کی کوشش کی، تب تب قدرتِ الٰہی نے حق کو سربلند فرمایا اور باطل کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ فرعون اپنے محلات، لشکروں اور اقتدار کے باوجود غرق ہوگیا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ نمرود اپنی خدائی کے دعوؤں سمیت مٹ گیا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحید آج بھی دلوں کو روشن کر رہی ہے۔
اسی طرح میدانِ کربلا میں بظاہر باطل کے لشکر کے پاس قوت، حکومت اور تعداد تھی، مگر حق کی طاقت حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے کردار، صبر اور قربانی میں تھی۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ یزیدی قوتیں مٹ گئیں لیکن حسینیت آج بھی زندہ ہے، اور قیامت تک زندہ رہے گی۔ یہی قرآن کے اس اعلان کی عملی تفسیر ہے کہ “باطل کو مٹنا ہی تھا”۔
آج کے دور میں بھی حق و باطل کی جنگ مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ کہیں جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، کہیں ظلم کو انصاف کا نام دیا جا رہا ہے، کہیں دین اور شعائرِ اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور کہیں اخلاق و اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق کا ساتھ دیں، سچ بولیں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنے قلم، کردار اور عمل سے حق کی نمائندگی کریں۔
اہلِ قلم، اہلِ علم، ساداتِ کرام اور دینی و سماجی قیادت پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ معاشرے میں حق، صداقت، اتحاد، اخوت اور شعور کو فروغ دیں۔ کیونکہ خاموشی بعض اوقات باطل کو تقویت دیتی ہے جبکہ حق کے لیے بلند ہونے والی ایک آواز بھی تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔
حق کا راستہ اگرچہ آزمائشوں، مشکلات اور قربانیوں سے بھرا ہوتا ہے، مگر اس کا انجام ہمیشہ کامیابی، عزت اور سربلندی ہوتا ہے۔ جبکہ باطل وقتی طور پر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اس کی بنیاد کھوکھلی ہوتی ہے اور ایک نہ ایک دن اسے مٹ جانا ہوتا ہے۔ یہی سنتِ الٰہی ہے اور یہی قرآن کا فیصلہ۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حق، دیانت، انصاف، سچائی اور اخلاقِ محمدی ﷺ کو اپنائیں، اور باطل، فریب، نفرت، ظلم اور انتشار سے خود کو دور رکھیں۔ اگر ہم قرآن کے اس پیغام کو حقیقی معنوں میں سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگیاں سنور سکتی ہیں بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت اور عدل کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر چلنے، اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Address

Lahore

Telephone

+923032880555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when International Sadat Organization posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to International Sadat Organization:

Share