Synergy.com

Synergy.com WE ARE POVIDING ENERGY SOLUTION ALL OVER THE PAKISTAN

24/05/2026
24/11/2025

A senior government official has said that next year, for the first time, solar power generation from rooftop solar panels in Pakistan will exceed daytime electricity demand on the national grid in some major industrial areas.

The development reflects a record pace of solar panel installation in the country in recent years, which has reduced carbon emissions and reduced electricity bills for some, but has also affected the finances of debt-ridden energy companies due to a prolonged decline in demand for electricity on the national grid.

Are you a talented freelancer in digital marketing, content writing, blogging, SEO, graphic design, web development, or ...
23/10/2024

Are you a talented freelancer in digital marketing, content writing, blogging, SEO, graphic design, web development, or ads management? We want YOU to be part of our dynamic team! 🤝

We're looking for passionate individuals ready to collaborate on exciting projects and grow together in a supportive and creative environment. Whether you’re a seasoned pro or just starting out, we’d love to connect with you!

What We Offer: ✨ Opportunities to work on diverse projects
✨ A collaborative and innovative team culture
✨ Flexible working hours to fit your lifestyle
✨ Resources and support to help you thrive

If you're interested in joining us, drop a comment below or send me a direct message with your portfolio! Let’s create amazing things together! 💡

16/07/2023

سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا تو ایتھنز کے حکمرانوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اُن کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا جہنم رسید ہوا،
یونان کی اشرافیہ جیت گئی،
سقراط کی دانش ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔

اسکاٹ لینڈ کی جنگ آزادی لڑنے والے دلاور ولیم والس کو جب انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اوّل نے گرفتار کیا تو اُس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا،
اسے برہنہ کرکے گھوڑوں کے سموں کے ساتھ باندھ کر لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر ناقابل بیان تشدد کے بعد اُسے پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔
اُس وقت کا بادشاہ جیت گیا،
ولیم والس ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔

گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی، چرچ نے گلیلیو پر کفر کا فتویٰ لگایا اور اسے غیرمعینہ مدت تک کے لئے قید کی سزا سنا دی،
یہ سزا 1633میں سنائی گئی، گلیلیو اپنے گھر میں ہی قید رہا اور 1642میں وہیں اُس کی وفات ہوئی،
پادری جیت گئے
سائنس ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔

جیو رڈانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا،
برونو نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس کی تحقیق عیسائیت کے عقیدہ خدا اور اُس کی تخلیق سے متصادم نہیں
مگر اُس کی بات نہیں سنی گئی اور اسے اپنے نظریات سے مکمل طور پر تائب ہونے کے لئے کہا گیا،
برونو نے انکار کر دیا، پوپ نے برونو کو کافر قرار دے دیا، 8فروری1600کو جب اسے فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا
تو برونو نے تاریخی جملہ کہا
’’میں یہ فیصلہ سنتے ہوئے اتنا خوفزدہ نہیں ہوں
جتنا تم یہ فیصلہ سناتے ہوئے خوفزدہ ہو۔‘‘
برونو کی زبان کاٹ دی گئی اور اسے زندہ جلا دیا گیا۔
پوپ جیت گیا،
برونو ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔

حجاج بن یوسف جب خانہ کعبہ پر آگ کے گولے پھینک رہا تھا تو اُس وقت ابن زبیرؓ نے جوانمردی کی تاریخ رقم کی، انہیں مسلسل ہتھیار پھینکنے کے پیغامات موصول ہوئے
مگر آپ ؓ نے انکار کر دیا،
اپنی والدہ حضرت اسماؓ سے مشورہ کیا،
انہوں نے کہا کہ اہل حق اس بات کی فکر نہیں کیا کرتے کہ ان کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں، جاؤ تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی ذہن میں نہ لانا،
ابن زبیر ؓ نے سفاک حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور شہادت نوش فرمائی،

حجاج نے آپؓ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبدالمالک کو بھجوا دیا اور لاش لٹکا دی،
خود حضرت اسماؓ کے پاس پہنچا اور کہا تم نے بیٹے کا انجام دیکھ لیا،
آپؓ نے جواب دیا ہاں تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اُس نے تیری عقبیٰ بگاڑ دی۔
حجاج جیت گیا،
ابن زبیر ؓ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔

ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابو حنیفہ ؒکو قاضی القضاۃ بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا، ایک موقع پر دونوں کے درمیان تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ منصور کھلم کھلا ظلم کرنے پر اتر آیا،
اُس نے انہیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹیں گننے پر مامور کر دیا، مقصد اُن کی ہتک کرنا تھا،

بعد ازاں منصور نے امام ابوحنیفہ کو کوڑے مارے اور اذیت ناک قید میں رکھا،
بالآخر قید میں ہی انہیں زہر دے کر مروا دیا گیا،
سجدے کی حالت میں آپ کا انتقال ہوا،
نماز جنازہ میں مجمع کا حال یہ تھا کہ پچاس ہزار لوگ امڈ آئے، چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
منصور جیت گیا،
امام ابو حنیفہ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔

تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا،

یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی
مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔

ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہئے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں،
تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔

گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والے چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکے ہے،
رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اُس وقت کے پادری غلط تھے ۔

برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔

تاریخ میں حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کی گردن پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون ہے

جبکہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں، حجاج کو شکست ہو چکی ہے ابن زبیرؓ فاتح ہیں۔

جس ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر مروایا
اس کے مرنے کے بعد ایک جیسی سو قبریں کھودی گئیں اور کسی ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کس قبر میں دفن ہے،
یہ اہتمام اس خوف کی وجہ سے کیا گیا کہ کہیں لوگ اُس کی قبر کی بےحرمتی نہ کریں،

گویا تاریخ کا فیصلہ بہت جلد آ گیا۔

آج سے ایک سو سال بعد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا،
تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے گی ،
آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے،
کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے،
کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے،
کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان،

کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔

ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے
مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے،

کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہئے

لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔

آج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا،

مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بےرحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔

سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بےرحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا،

کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم حجاج کی طرح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،

کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،

کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے.....

کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔

وقت تو گزر ہی جاتا ہے،

دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کس باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا.... ؟

22/02/2022

The US-primarily based totally company named Solar Stick is making plans to spend money on Pakistan’s sun strength quarter via a joint mission with a neighborhood Pakistani company known as Net Power Company. Solar Stick has additionally delivered a cell sun era in Pakistan which may be used for civil and navy functions and might assist in decreasing the round debt on Pakistan. The declaration approximately the era became made through the United States Embassy Commercial Officer in Pakistan Mark Russel and US enterprise Solar Stick’s Pakistani companion Muslim Lakhani on Tuesday, all through a rite held in Islamabad. The US diplomat said that Washington became making plans to decorate its members of the family with Islamabad and the United States agencies expressed their hobby in making a funding in Pakistan. The agencies have been involved to make investments with inside the sun strength quarter of Pakistan because it has quite a few ability in regions in which energy couldn't be produced without difficulty. The diplomat similarly delivered, “We are making a funding in Pakistan via a joint mission with Net Power Company. Solar strength guarantees great blessings to far-flung areas of Pakistan”. Mr. Lakhani additionally spoke all through the event, he stated that there are numerous locations in Pakistan such as the agricultural regions of Sindh, Balochistan, and Khyber-Pakhtunkhwa (K-P) which might be nevertheless disadvantaged of energy. He shared that Pakistan desires a complete of 26,000 megawatts of energy and is going through a shortfall of 7,000 megawatts which we will without difficulty triumph over via sun strength. Moreover, he delivered that Net Power Pakistan has the capability to supply energy at the same time as sun strength ought to assist lessen the value of production. He stated that Solar Stick had formerly established sun structures in Afghanistan 10 years in the past which might be nevertheless operating well and that it have been operating withinside the sun strength quarter everywhere in the world.

20/02/2022

How to choose solar panel

we are coming in few days...kya ap bhi life time k liay sasta aur achi quality ka solar lagwana chahty hain
05/09/2020

we are coming in few days...
kya ap bhi life time k liay sasta aur achi quality ka solar lagwana chahty hain



Are you planing to get install Solar panels? you are at Right platform...Synergy.comcoming Soon...
31/08/2020

Are you planing to get install Solar panels?
you are at Right platform...
Synergy.com
coming Soon...

27/08/2020




Address

Bismillah Housing Scheme
Lahore
54000

Telephone

+923056289596

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Synergy.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share