Razzaq & Rehman Builders and Estate Agents

Razzaq & Rehman Builders and Estate Agents we build Home for our customers not Houses

پاکستان ریلویز میں ٹرین ڈرائیورز کا واش روم استعمال. کرنا تھوڑا مختلف ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔*ٹرین ڈر...
14/06/2026

پاکستان ریلویز میں ٹرین ڈرائیورز کا واش روم استعمال.
کرنا تھوڑا مختلف ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔

*ٹرین ڈرائیور واش روم کیسے استعمال کرتے ہیں:*

1. *شیڈول اسٹاپس پر*: بڑے اسٹیشنز جہاں ٹرین کا سٹاپ 5-10 منٹ یا اس سے زیادہ کا ہو، ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور وہاں اتر کر اسٹیشن کا واش روم استعمال کر لیتے ہیں۔ یہی سب سے عام طریقہ ہے۔

2. *انجن میں واش روم نہیں ہوتا*: زیادہ تر پرانے ڈیزل انجنز جیسے HBU-20, AGE-30 میں ڈرائیور کیبن میں واش روم کی سہولت نہیں ہوتی۔ نئے چینی انجنز ZCU-30 اور GEU-40 میں بعض اوقات ایک چھوٹا سا یورینل لگا ہوتا ہے، مگر مکمل واش روم نہیں۔

3. *ایمرجنسی میں*: اگر راستے میں بہت ضرورت پڑ جائے اور کوئی اسٹاپ قریب نہ ہو تو ڈرائیور ٹرین کنٹرول کو اطلاع دے کر کسی چھوٹے اسٹیشن یا سگنل پر 2-3 منٹ کا غیر شیڈول اسٹاپ لے سکتا ہے۔ یہ صرف مجبوری میں کیا جاتا ہے۔

4. *دو ڈرائیورز کی ڈیوٹی*: لمبے روٹ پر ہمیشہ ایک ڈرائیور اور ایک اسسٹنٹ ڈرائیور ہوتا ہے۔ ایک شخص ٹرین کنٹرول کرتا ہے، دوسرا ضرورت پڑنے پر اتر سکتا ہے۔ ٹرین کبھی بھی بغیر ڈرائیور کے نہیں چھوڑی جاتی۔

*نوٹ*: ڈرائیورز عام طور پر ڈیوٹی سے پہلے پانی اور کھانے کا خیال رکھتے ہیں تاکہ راستے میں کم سے کم ضرورت پڑے۔ 6-8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد عملہ تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہ معلومات پاکستان ریلویز کے ڈرائیورز کے عام پریکٹس پر مبنی ہیں۔
پاکستان ریلویز کے اگر کوئی سینئر ڈرائیور صاحب یا اسسٹنٹ ڈرائیور صاحب اگر اس پوسٹ کو پڑھیں تو اگر مناسب سمجھیں تو اس حوالے سے ہمارے علم میں ضرور اضافہ کریں ۔
شکریہ ۔

14/06/2026

Razzaq & Rehman Builders and Estate Agents

Mushtaq Ahmad

03004976608
03239997300

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے بھکاری کو دیکھا ہے، جو صبح سے شام تک بھیک مانگنے کے بعد اپنے بچوں کے لئے روٹی خریدتا ہو۔ اور اپ...
14/06/2026

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے بھکاری کو دیکھا ہے، جو صبح سے شام تک بھیک مانگنے کے بعد اپنے بچوں کے لئے روٹی خریدتا ہو۔ اور اپنے پیسے سے بچوں کا تن ڈھانکنے کا سامان بھی کرتا ہو۔ ؟

یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ کیوں کہ ہمارے ہاں بھکاری اپنی مجبوری اور ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بھیک نہیں مانگتے بلکہ انھیں مانگنے کی عادت پڑچکی ہوتی ہے۔ یہ لوگ روزانہ اچھی خاصی بھیک اکٹھی کرنے کے باوجود کھاتے بھی مانگ کر ہیں اور پہنتے بھی مانگے ہوئے کپڑے ہی ہیں۔ یہ اپنے اوپر پیسہ خرچ نہیں کرتے، یوں ان کو دیا گیا پیسہ نہ ان کے بچوں کے کام آتا ہے نہ خرچ ہو کر معیشت کا حصہ بن پاتا ہے۔

پاکستان میں آج کل دو قسم کے بھکاری پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جو بھکاری مافیا کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور خاص خاص علاقوں، سگنلز اور بازاروں میں ڈیرہ جماتے ہیں۔ یہ خاص جگہ بھیک مانگنے کے عوض اپنے ٹھیکیدار کو بھیک کا بڑا حصہ ادا کرتے ہیں۔ ٹھیکیدار بھی ٹھیکہ حاصل کرنے کے عوض اوپر والوں کی مٹھی پہلے ہی گرم کرچکا ہوتا ہے۔ بھکاریوں کی دوسری قسم کام چور اور لالچی افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ پیدل گلیوں گھومتے ہیں، مسجدوں اور دکانوں کے باہر بیٹھ جاتے ہیں۔ بھکاریوں کی ان دونوں اقسام کا مقصد صرف مانگنا ہوتا ہے۔ یہ پیسہ اپنی حالت بہتر بنانے پر خرچ نہیں کرتے۔

چند سال قبل راول پنڈی میں ایک بھکاری کا انتقال ہوا، مرنے کے بعد اس کی کٹیا سے نوٹوں سے بھرے کئی تھیلے ملے۔ جن میں آج کل استعمال ہورہے نوٹوں سے لے کر چالیس، پچاس سال قدیم نوٹ تک موجود تھے۔ بالکل ایسا ہی واقعہ کراچی میں بھی پیش آیا، جہاں ایک بھکارن کے مرنے کے بعد اس کی کٹیا سے نوٹوں سے بھرے تکیے اور بوریاں برآمد ہوئی تھیں۔ بالکل اسی قسم کے ایک واقعے کی خبر کچھ عرصہ پہلے بھارت سے بھی آئی تھی۔

بھیک مانگنے والے یہ پیشہ ورلوگ اپنے کام کے ماہر ہوچکے ہیں۔ آپ کو ترس کھانے پر مجبور کس طرح کرنا ہے، یہ انھیں بہت اچھی طرح آتا ہے۔ اسی طرح یہ چھوٹے بچوں کو بھی ساتھ اسی لئے ساتھ رکھتے ہیں۔ کہ بچے کو برے حال میں دیکھ کر رحم کھا کر لوگ بھیک دینے پر مجبور ہوجائیں۔ ساتھ ہی بچوں کی شکل میں یہ بھکاریوں کی نئی نسل بھی تیار کررہے ہوتے ہیں۔

ایک سفید پوش بھکاری کا انٹرویو کیا گیا، تو پتا چلا وہ کراچی کے ضلع وسطی کے ایک علاقے میں پکے مکان میں رہتا ہے۔ اس کے بچے جاب اور کاروبار کرتے ہیں، وہ بچے اپنے باپ کو بھیک مانگنے سے روکتے بھی ہیں۔ لیکن بھکاری باپ ضعیف العمری میں بھی بھیک مانگنے سے باز نہیں آرہا۔ کیونکہ اسے عادت پڑچکی ہے۔ اس بھکاری نےانٹرویو میں مزید بتایا کہ وہ خاندانی بھکاری نہیں ہے۔ غربت کی وجہ سے لوگوں کی جانب سے مدد ملنے پراسے کام چوری کی عادت پڑگئی۔ اورپھروہ بھکاری ہی بن گیا۔ بھکاریوں کی ایک ذیلی قسم یہ بھی ہوتی ہے۔

یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں گداگری اب ایک منظم پیشہ بن چکا ہے۔ لیکن لوگ یہ جانتے بوجھتے بھی انھیں بھیک دے کر ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کو دیے ہوئے صدقات اور خیرات بھی کسی کے کوئی کام نہیں آرہے ہوتے، ایسے میں خدشہ یہ ہے کہ جانتے بوجھتے ایسے لوگوں کو پیسے دینے سے شاید نیکی بھی حاصل نہ ہوسکے۔

دوستو: یہ بھکاری مسلسل پیسہ جمع کیے جاتے ہیں، لیکن خرچ نہیں کرتے۔ اس طرح وہ پیسہ معیشت کے گھومتے پہیے کا حصہ نہیں بن پاتا۔ اور کہیں دفن ہوکر رہ جاتا ہے۔ اس طرح سے یہ ملک کی اقتصادیات کے لئے بھی نقصان کا باعث ہوتا ہے۔

انسان کو کسی بھی معاملے میں عقل کا استعمال نہیں چھوڑنا چاہیے، جذبات ہمیشہ انسان کو بند گلی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صدقات اور خیرات ضرور نکالئے۔ انسانیت کی مدد ضرور کیجئے۔ کوشش کریں کہ مالی مدد ان محنت کشوں کی، کریں جنھیں آپ جانتے ہوں۔ مثال کے طور پرآپ کے گھر کے ملازم اور ملازمائیں، گلی کے چوکیدار، قرب و جوار میں چھوٹے موٹے اسٹال یا ٹھیلے لگانے والے، صفائی والے، کچرا اٹھانے والے، آپ کے دفتر کے پیون اور سیکورٹی گارڈز وغیرہ۔

جان پہچان والے ان غربا کی مدد سے آپ اپنے قرب و جوار میں لوگوں کی حالت سدھارنے میں حصہ دار بن رہےہوں گے، یوں سب لوگ جب اپنے اپنے قرب و جوار میں اس طرح کریں گے تو پورے شہر بلکہ ملک میں حقیقی ضرورت مندوں کی مدد ہونے لگے گی۔ اور پیشہ ور بھکاریوں اور بھکاری مافیا کی شدید حوصلہ شکنی ہو گی۔ مدد اس کی کریں جس سے آپ واقف ہوں۔ یا کم از کم آپ کا کوئی واقف کار اس سے واقف ہو۔

یہاں ایک خاص مافیا کا ذکر کرنا بھی ضروری ہوگا، جو لوگوں کو بے وقوف بنا کر مال بٹورنے نکلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو غیر معروف این جی اوز والے ہیں جو گھر گھر دستک دے کر اپنے پیپرز دکھاتے ہیں کہ وہ فلاحی کام کررہے ہیں، ان کی تنظیم کی مدد کی جائے، اسی طرح کچھ لوگ غیر معروف تنظیموں کی ایمبولینس لے کر گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور میگافون پرعطیات کی اپیل کررہے ہوتے ہیں۔ یہ سب کاغزی تنظیمیں ہیں، یہ لوگ مال جمع کرکے اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ لہذا ان کو نہ صرف عطیات دینے سے گریز کیا جائے، بلکہ جب یہ گلی میں آئیں تو ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔

میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی بھکاری کو ایک روٹی بھی بھی خریدتے نہیں دیکھا، حالانکہ اس کی جیب نوٹوں سے بھری ہوتی ہے۔ جب کہ کوئی محنت کش آج کل جب اپنے خاندان کے لئے ایک وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے تو اس کی ایک دن کی کمائی کام میں آچکی ہوتی ہے۔ دوستو: تو بس سمجھ لیں کہ آپ کی مدد کی اصل ضرورت کسے ہے۔

جزاک اللہ۔

یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اگر اپنی گاڑی پر پاکستان سے حج یا عمرے کا سفر کیا جائے تو اس سفر کے لئے کتنا وقت اور خرچ د...
14/06/2026

یونہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اگر اپنی گاڑی پر پاکستان سے حج یا عمرے کا سفر کیا جائے تو اس سفر کے لئے کتنا وقت اور خرچ درکار ہوگا۔
چچا گوگل کا کہنا ہے کہ لاہور سے مکہ مکرمہ تک ایک طرف کا کل فاصلہ 5300 کلومیٹر ہے، اس اعتبار سے دوطرفہ فاصلہ لگ بھگ گیارہ ہزار کلومیٹر ہوا، مدینہ طیبہ اس سفر میں راستے میں ہی آتا ہے۔
اچھی اور آرام دہ کار عام طور پر کم از کم بھی دس کلومیٹر کی ایوریج دیتی ہے، بعض کاریں بارہ پندرہ اٹھارہ کی ایوریج دیتی ہیں، اگر دس کلومیٹر فی لٹر کی ایوریج کا حساب لگایا جائے تو سفر میں کل 1100 لیٹر پیٹرول درکار ہوگا۔
پیٹرول اس وقت پاکستان میں 373 روپیہ لیٹر چل رہا ہے، اس حساب سے 1100 لٹر پیٹرول ہوا 410300 روپے کا، یہ ریٹ پاکستان کے حساب سے لگایا گیا ہے جبکہ ایران اور عرب ممالک میں جاکر پیٹرول سستا ہوجاتا ہے، اس حساب سے پیٹرول کا خرچ یقیناً اور کم آئے گا۔
باقی رہی بات وقت کی، تو چچا گوگل ہی کے کہنے کے مطابق اس سفر میں ایک طرف کے لیے تقریباً 65 گھنٹے کا وقت درکار ہے، یعنی اگر مسافر روز صرف 12 گھنٹے بھی سفر کریں، باقی وقت آرام کریں تو بھی پانچ دن میں آرام و سکون سے حرم شریف کے دروازے پر پہنچ سکتے ہیں۔
ٹول ٹیکس، کھانا، رہائش، آئل چینج وغیرہ وغیرہ کی مد میں ہم آنے جانے کا دو لاکھ ستر ہزار روپیہ ڈال لیتے ہیں تو اس حساب سے پانچ لاکھ روپے میں کم از کم چار افراد حج کا "سفر" کر سکتے ہیں یعنی قریب قریب سوا لاکھ روپیہ فی کس میں۔ اگر گاڑی میں پانچ افراد بیٹھیں یا سیون سیٹر گاڑی لے کر جائیں تو خرچ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے یہ زمینی راستے کھول دیں میں تو بائیک پر ہی چلا جاؤں گا۔

جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔  دنیا کا پہلا ارب پتی۔  25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئ...
14/06/2026

جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔
50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا.

لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔

جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت میں سے کچھ بھی اپنے ساتھ اگلے جہان میں لے جانے کے قابل نہیں ہے۔ وہ آدمی جو کاروباری دنیا کو کنٹرول کر سکتا تھا، اچانک احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ اس کے پاس ایک انتخاب رہ گیا تھا۔

🌹اس نے اپنے اٹارنی، اکاؤنٹنٹ، اور مینیجرز کو بلایا اور اعلان کیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو ہسپتالوں، تحقیق اور خیراتی کاموں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
جان ڈی راک فیلر نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کی۔ یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔

🌹لیکن شاید راکفیلر کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ جس لمحے اس نے اپنی کمائی ہوئی تمام چیزوں کا ایک حصہ واپس دینا شروع کیا، اس کےجسم کی کیمسٹری میں اس قدر نمایاں تبدیلی آتی چلی گئی کہ وہ بہتر سے بہتر ہوتا چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ ایسا لگتا تھا وہ 53 سال کی عمر میں ہی مر جائے گا۔ لیکن وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ مال خیرات کرنے سے وہ تندرست ہو گیا۔ گویا یہ خیرات نام کی چیز بھی ایک طریق علاج ہے۔ اسے بھی آزما کر دیکھ لیجئے .

اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا،
*"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔* _
میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔
میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_
_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔"_

ہم سب کے لیے ایک اچھا پیغام!

14/06/2026

‏میں سجدہ ریز بھی ہوں اور اشک بار بھی ہوں
کہ جانتا ہے وہ ___ ہیں اُس سے حاجتیں کیسی

14/06/2026

محبت اللہ سے ہو
تو آنکھوں کے نیچے
سیاہ ہلکے نہیں پڑتے

لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ھیں مگر یقین کریں کہ عثمانی دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت...
14/06/2026

لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ھیں مگر یقین کریں کہ عثمانی دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت اور عقیدت کی معراج ھے، زرا پڑھیے اور اپنے دلوں کو عشق نبی ﷺ سے منور کریں ۔
ترکوں نے جب مسجد نبوی کی تعمیر کاارادہ کیا تو انہوں نے اپنی وسیع عریض ریاست میں اعلان کیا کہ انھیں عمارت سازی سے متعلق فنون کے ماہرین درکار ھیں، اعلان کرنے کی دیر تھی کہ ھر علم کے مانے ھوۓ لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں، سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہربسایا گیا جس میں اطراف عالم سے آنے والے ان ماہرین کو الگ الگ محلوں میں بسایا گیا، اس کے بعد عقیدت اور حیرت کا ایسا باب شروع ھوا جس کی نظیر مشکل ھے، خلیفۂ وقت جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا ، شہر میں آیا اور ھر شعبے کے ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذھین ترین بچے کو اپنا فن اس طرح سکھاۓ کہ اسے یکتا و بیمثال کر دے، اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور شہسوار بناۓ گی، دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب و غریب منصوبہ کئی سال جاری رھا ، 25 سال بعد نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار ھویٔ جو نہ صرف اپنے شعبے میں یکتا ۓ روزگار تھے بلکہ ہر شخص حافظ قرآن اور با عمل مسلمان بھی تھا، یہ لگ بھگ 500 لوگ تھے، اسی دوران ترکوں نے پتھروں کی نئی کانیں دریافت کیں، جنگلوں سے لکڑیاں کٹوایٔیں، تختے حاصل کئے گئے اور شیشے کا سامان بہم پہنچایا گیا،یہ سارا سامان نبی کریم ﷺ کے شہر پہنچایا گیا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لیۓ مدینہ سے دور ایک بستی بسایٔ گیٔ تا کہ شور سے مدینہ کا ماحول خراب نہ ھو، نبی ﷺ کے ادب کی وجہ سے اگر کی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس اسی بستی بھیجا جاتا، ماھرین کو حکم تھا کہ ھر شخص کام کے دوران با وضو رھے اور درود شریف اور تلاوت قرآن میں مشغول رھے، ھجرہ مبارک کی جالیوں کو کپڑے سے لپیٹ دیا گیا کہ گرد غبار اندر روضہ پاک میں نہ جاۓ، ستون لگاۓ گئے کہ ریاض الجنت اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے ، یہ کام پندرہ سال تک چلتا رھا اور تاریخ عالم گواہ ھے ایسی محبت ایسی عقیدت سے کویٔ تعمیر نہ کبھی پہلے ھویٔ اور نہ کبھی بعد میں ھوگی.

Address

G Block Sabzazar Lahore
Lahore
54500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Razzaq & Rehman Builders and Estate Agents posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Razzaq & Rehman Builders and Estate Agents:

Share