14/06/2026
پاکستان ریلویز میں ٹرین ڈرائیورز کا واش روم استعمال.
کرنا تھوڑا مختلف ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔
*ٹرین ڈرائیور واش روم کیسے استعمال کرتے ہیں:*
1. *شیڈول اسٹاپس پر*: بڑے اسٹیشنز جہاں ٹرین کا سٹاپ 5-10 منٹ یا اس سے زیادہ کا ہو، ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور وہاں اتر کر اسٹیشن کا واش روم استعمال کر لیتے ہیں۔ یہی سب سے عام طریقہ ہے۔
2. *انجن میں واش روم نہیں ہوتا*: زیادہ تر پرانے ڈیزل انجنز جیسے HBU-20, AGE-30 میں ڈرائیور کیبن میں واش روم کی سہولت نہیں ہوتی۔ نئے چینی انجنز ZCU-30 اور GEU-40 میں بعض اوقات ایک چھوٹا سا یورینل لگا ہوتا ہے، مگر مکمل واش روم نہیں۔
3. *ایمرجنسی میں*: اگر راستے میں بہت ضرورت پڑ جائے اور کوئی اسٹاپ قریب نہ ہو تو ڈرائیور ٹرین کنٹرول کو اطلاع دے کر کسی چھوٹے اسٹیشن یا سگنل پر 2-3 منٹ کا غیر شیڈول اسٹاپ لے سکتا ہے۔ یہ صرف مجبوری میں کیا جاتا ہے۔
4. *دو ڈرائیورز کی ڈیوٹی*: لمبے روٹ پر ہمیشہ ایک ڈرائیور اور ایک اسسٹنٹ ڈرائیور ہوتا ہے۔ ایک شخص ٹرین کنٹرول کرتا ہے، دوسرا ضرورت پڑنے پر اتر سکتا ہے۔ ٹرین کبھی بھی بغیر ڈرائیور کے نہیں چھوڑی جاتی۔
*نوٹ*: ڈرائیورز عام طور پر ڈیوٹی سے پہلے پانی اور کھانے کا خیال رکھتے ہیں تاکہ راستے میں کم سے کم ضرورت پڑے۔ 6-8 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد عملہ تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ معلومات پاکستان ریلویز کے ڈرائیورز کے عام پریکٹس پر مبنی ہیں۔
پاکستان ریلویز کے اگر کوئی سینئر ڈرائیور صاحب یا اسسٹنٹ ڈرائیور صاحب اگر اس پوسٹ کو پڑھیں تو اگر مناسب سمجھیں تو اس حوالے سے ہمارے علم میں ضرور اضافہ کریں ۔
شکریہ ۔