06/04/2026
ہم پٹرول مالکان دل سے چاہتے ہیں کہ پیٹرول 50 روپے لیٹر ہو جائے!
السلام علیکم دوستو، سوشل میڈیا پر ہماری ہڑتال کی کال کے حوالے سے میں نے بہت سے بھائیوں کے کمنٹس پڑھے ہیں جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید پیٹرول سستا ہونے پر ہم ہڑتال کر رہے ہیں یا پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے پمپ مالکان کو بہت زیادہ منافع ہوتا ہے۔ میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں کہ مہنگائی کے اس مشکل دور میں ہر انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہے، لیکن بطور ایک پمپ مالک میں آج بڑے ہی دردمندانہ اور شائستہ انداز میں آپ کے سامنے کچھ تلخ معاشی حقائق رکھنا چاہتا ہوں تاکہ یہ غلط فہمی ہمیشہ کے لیے دور ہو سکے۔
سب سے پہلی اور بنیادی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ ہمارا منافع پیٹرول کی کل قیمت کے فیصد کے حساب سے نہیں ہوتا بلکہ فی لیٹر کے حساب سے ایک مقررہ رقم (فکسڈ مارجن) ہوتی ہے۔ یہاں میں ایک بات بالکل واضح کر دوں، خدا کی قسم ہم پمپ مالکان تو دل سے چاہتے ہیں کہ پیٹرول 50 روپے لیٹر ہو جائے! جی ہاں، آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا۔ اگر پیٹرول 50 روپے کا ہوگا تب بھی ہمیں فی لیٹر وہی مقررہ کمیشن ملنا ہے جو آج مل رہا ہے، لیکن اس سے ہمارا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عوام خوشحال ہوگی، گاڑیاں زیادہ چلیں گی اور ہماری روزانہ کی لیٹرز کی سیل (Sales Volume) کئی گنا بڑھ جائے گی۔ کم قیمت کا مطلب ہے کہ ایک گاڑی منگوانے کے لیے ہماری کم رقم پھنسے گی اور کاروبار تیزی سے چلے گا۔
جب پیٹرول یا ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ہمیں فی لیٹر کوئی اضافی بچت نہیں ہوتی، بلکہ الٹا ہماری مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ قیمت بڑھنے پر ہمیں اگلی گاڑی (نیا اسٹاک) منگوانے کے لیے کروڑوں روپے کا مزید سرمایہ اپنی جیب سے یا ادھار پکڑ کر لگانا پڑتا ہے کیونکہ آئل کمپنیوں کو ایڈوانس پیمنٹ کرنی پڑتی ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ ایک عام آدمی جو پہلے دس لیٹر پیٹرول ڈلواتا تھا، وہ اب بمشکل دو یا تین لیٹر ڈلواتا ہے۔ اس کا براہ راست نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہماری روزانہ کی سیل انتہائی کم ہو جاتی ہے اور ہمارا منافع سکڑ جاتا ہے۔
اس کے برعکس، جب حکومت کی طرف سے راتوں رات پیٹرول کی قیمت اچانک کم کی جاتی ہے، تو ہمارے ٹینکوں میں موجود ہزاروں لیٹر پرانے اور مہنگے ریٹ پر خریدے گئے اسٹاک پر ہمیں فی لیٹر کے حساب سے لاکھوں روپے کا سیدھا اور فوری نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کا ازالہ نہ تو حکومت کرتی ہے اور نہ کوئی اور ادارہ۔
اس کے علاوہ ذرا ہماری زمینی مشکلات، بھاری انویسٹمنٹ اور حکومتی سختیوں کا بھی اندازہ لگائیں۔ ایک پیٹرول پمپ چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ قانون کے مطابق ہمیں اپنا پمپ 24 گھنٹے کھلا رکھنا پڑتا ہے۔ چاہے دن ہو، رات کی تاریکی ہو یا حالات خراب ہوں، ہمیں تین شفٹوں میں عملہ اور کیش کی سیکیورٹی یقینی بنانی ہوتی ہے۔ جب لائٹ جاتی ہے تو گھنٹوں کمرشل جنریٹرز چلانے پڑتے ہیں جن کا اپنا ایندھن کا خرچہ لاکھوں میں ہے۔ لاکھوں روپے کے کمرشل بجلی کے بل، درجنوں ملازمین کی تنخواہیں، اوگرا (OGRA) کی سخت ترین شرائط، سیفٹی آلات کی مینٹیننس اور آئے روز کے نئے حکومتی ٹیکسز نے ہمارا کاروبار کرنا محال کر دیا ہے۔ ہم کروڑوں روپے کی انویسٹمنٹ زمین کے نیچے دبا کر روزانہ کی بنیاد پر ذہنی اذیت اور ٹینشن کا شکار رہتے ہیں۔ ہم بھی گوشت پوست کے انسان ہیں اور ہم پر بھی مہنگائی کا بالکل ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے کسی بھی دوسرے عام شہری پر ہوتا ہے۔ اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں لیکن اس ہوشربا مہنگائی کے تناسب سے ہمارا مارجن نہیں بڑھایا جاتا۔
ہمارا احتجاج پیٹرول سستا ہونے کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ ہماری یہ ہڑتال دراصل ان ظالمانہ حکومتی پالیسیوں، بھاری ٹیکسز، غیر منصفانہ مارجن اور اس فرسودہ نظام کے خلاف ہے جس کی وجہ سے آج ایک غریب کے لیے سفر کرنا اور ہمارے لیے اپنا کاروبار چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
مجھے پوری امید ہے کہ اس کھلی اور سچی بات کے بعد آپ صورتحال کی اصل نزاکت کو سمجھیں گے اور یہ جان جائیں گے کہ اس مہنگائی کی چکی میں عوام اور پمپ مالکان دونوں برابر پس رہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہمیں ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے حکومت سے جوابدہی مانگنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے