Eng. Abdu Samad Khan

  • Home
  • Eng. Abdu Samad Khan

Eng. Abdu Samad Khan Civil Engineer | Sharing Science, Technology & Engineering Knowledge in Pashto & English

08/08/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریباً ایک ہزار سال پہلے ایک مسلم سائنسدان نے زمین کی پیمائش کر لی تھی؟ 🌍
ابو ریحان البیرونی نے موجودہ پاکستان کے قلعہ نندنہ کے قریب ایک پہاڑ پر کھڑے ہو کر زمین کا حجم معلوم کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس زمانے میں نہ سیٹلائٹ تھے، نہ GPS اور نہ ہی کمپیوٹر۔ انہوں نے صرف ریاضی، مشاہدات اور سائنسی آلات کی مدد سے یہ عظیم کارنامہ انجام دیا۔ ان کی پیمائش جدید سائنسی پیمائش کے انتہائی قریب تھی، جو ان کی غیر معمولی ذہانت کا ثبوت ہے۔ البیرونی کا یہ کارنامہ آج بھی سائنس کی تاریخ کے عظیم ترین تجربات میں شمار ہوتا ہے۔ ✨📚



04/08/2026

زمین پر شمالی اور جنوبی قطب ایسے حیرت انگیز علاقے ہیں جہاں دن اور رات چند گھنٹوں کے نہیں بلکہ کئی کئی مہینوں کے ہوتے ہیں۔ زمین کے محور کے جھکاؤ کی وجہ سے ایک وقت ایسا آتا ہے جب سورج مسلسل چھ ماہ تک ایک قطب پر چمکتا رہتا ہے، جبکہ دوسرا قطب تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے۔ پھر چھ ماہ بعد یہ منظر الٹ جاتا ہے اور روشنی و تاریکی اپنی جگہیں بدل لیتی ہیں۔ ان علاقوں میں بعض اوقات سورج آدھی رات کو بھی آسمان پر دکھائی دیتا ہے، جو قدرت کا ایک دلکش اور انوکھا نظارہ ہے۔ یہی نظام زمین پر موسموں کی تبدیلی کا بھی سبب بنتا ہے۔ قطبین کا یہ حیران کن راز ہماری زمین کو کائنات کے منفرد ترین سیاروں میں شامل کرتا ہے۔ واقعی، یہ قدرت کا ایسا شاہکار ہے جو ہر انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔



03/08/2026

پروجیکٹ پیجن دوسری جنگِ عظیم کا ایک حیرت انگیز سائنسی منصوبہ تھا جس میں کبوتروں کو میزائل کی رہنمائی کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ کبوتر اپنی غیر معمولی بصری صلاحیت کی بدولت دشمن کے ہدف کو درست طریقے سے پہچان سکتے ہیں۔ میزائل کے اندر موجود کبوتر اسکرین پر نظر آنے والے ہدف پر چونچ مارتے تھے، جس سے میزائل کی سمت درست رہتی تھی۔ حیران کن طور پر یہ تجربہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔ بعد میں جدید الیکٹرانک اور ریڈار گائیڈنس سسٹمز آنے کے باعث اس منصوبے کو بند کر دیا گیا۔ آج بھی پروجیکٹ پیجن کو تاریخ کے سب سے منفرد اور دلچسپ فوجی تجربات میں شمار کیا جاتا ہے۔


01/08/2026

پاناما کینال دنیا کے عظیم ترین انجینئرنگ شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے، جس نے عالمی تجارت کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ بحرِ اوقیانوس اور بحرِ الکاہل کو ملانے والی یہ نہر جہازوں کے ہزاروں کلومیٹر طویل سفر کو مختصر کر دیتی ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران 25 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانوں کی قربانی دی، جس سے اس منصوبے کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔ پاناما کینال کی بدولت دنیا بھر میں سامان کی ترسیل تیز، سستی اور زیادہ مؤثر ہو گئی ہے۔ ہر سال ہزاروں بڑے تجارتی جہاز اس نہر سے گزرتے ہیں اور اربوں ڈالر کی تجارت کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ نہر نہ صرف انجینئرنگ کا عجوبہ ہے بلکہ عالمی معیشت کی ایک اہم شہ رگ بھی سمجھی جاتی ہے۔ آج بھی پاناما کینال انسانی عزم، قربانی اور جدید انجینئرنگ کی ایک شاندار مثال ہے۔


30/07/2026

کیا آپ نے کبھی انجیر کا پھول دیکھا ہے؟ 🤔🌿
صدیوں سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ جو شخص انجیر کا پھول دیکھ لے وہ جنت میں جائے گا، لیکن اس کے پیچھے ایک حیران کن سائنسی راز چھپا ہے۔ انجیر کا پھول عام پھولوں کی طرح باہر نہیں کھلتا بلکہ اس کے اندر ہی پروان چڑھتا ہے۔ ایک انجیر کے اندر سینکڑوں ننھے ننھے پھول موجود ہوتے ہیں جو بعد میں بیجوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ قدرت نے ان پوشیدہ پھولوں کی پولینیشن کے لیے ایک خاص ننھے کیڑے کا انتظام کیا ہے جو انجیر کے اندر داخل ہو کر یہ عمل مکمل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی پوری زندگی میں انجیر کا پھول کبھی نہیں دیکھ پاتے۔ حقیقت میں جو انجیر ہم کھاتے ہیں وہ صرف ایک پھل نہیں بلکہ قدرت کے ایک حیرت انگیز اور پوشیدہ باغ کا نمونہ ہے۔ 🍃✨

28/07/2026

کامن سوئفٹ (Common Swift) دنیا کے حیرت انگیز ترین پرندوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ننھا سا پرندہ 10 ماہ تک مسلسل فضا میں رہ سکتا ہے اور زمین پر نہیں اترتا۔ یہ ہوا میں ہی کھاتا، پیتا اور آرام کرتا ہے۔ ہر سال یہ یورپ سے افریقہ تک ہزاروں کلومیٹر کا طویل سفر طے کرتا ہے۔ اس کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ آسمان میں گزارتا ہے۔ قدرت کا یہ شاہکار واقعی آسمان کا مستقل مسافر ہے۔ 🐦✨


26/07/2026

زمین کے اندر 12 کلومیٹر نیچے آخر کیا چھپا تھا؟
روس میں موجود کولا سپر ڈیپ بورہول دنیا کا سب سے گہرا انسان ساختہ سوراخ ہے، جو 12,262 میٹر (40,230 فٹ) گہرائی تک پہنچا۔ سائنسدان زمین کے راز جاننے نکلے تھے، مگر انہیں وہاں ایسی چیزیں ملیں جنہوں نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ اتنی گہرائی میں 2 ارب سال پرانے فوسلز، چٹانوں میں قید پانی اور ہائیڈروجن گیس دریافت ہوئی۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ درجہ حرارت 180 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس نے مزید کھدائی تقریباً ناممکن بنا دی۔ آج بھی یہ سوراخ زمین کی گہرائیوں کے بارے میں سائنس کے سب سے بڑے رازوں میں شمار ہوتا ہے۔


19/07/2026

✈️🦅 برڈ اسٹرائیک ہوا بازی کی دنیا کے سب سے خطرناک اور غیر متوقع خطرات میں سے ایک ہے۔
ہر سال ہزاروں طیارے پرندوں سے ٹکراتے ہیں، لیکن بعض اوقات ایک ہی پرندہ جیٹ انجن کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
جب پرندہ تیز رفتار سے انجن میں داخل ہوتا ہے تو انجن کے بلیڈ متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے انجن کی طاقت کم یا مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
تاریخ میں کئی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں برڈ اسٹرائیک نے بڑے فضائی حادثات کو جنم دیا۔
اسی خطرے کے باعث جدید طیاروں کے انجنوں کو خصوصی برڈ اسٹرائیک ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے تاکہ مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ چند کلو وزنی ایک پرندہ بھی کروڑوں ڈالر مالیت کے طیارے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برڈ اسٹرائیک آج بھی دنیا بھر کی ایئرلائنز کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ✈️🔥🦅



16/07/2026

چین کا تھری گورجز ڈیم دنیا کے عظیم ترین انجینئرنگ شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ دیو ہیکل ڈیم دریائے یانگسی پر تعمیر کیا گیا ہے اور لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔
اس میں ذخیرہ ہونے والا اربوں ٹن پانی اتنا زیادہ ہے کہ سائنس دانوں کے مطابق اس نے زمین کی گردش پر بھی معمولی اثر ڈالا ہے۔
یہ ڈیم نہ صرف بجلی پیدا کرتا ہے بلکہ سیلابوں کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کی جسامت اور طاقت اسے دنیا کے سب سے مشہور ڈیموں میں شامل کرتی ہے۔
تھری گورجز ڈیم انسانی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ مہارت کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔
یہ وہ ڈیم ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور ایک ناقابلِ یقین سائنسی حقیقت کو جنم دیا۔


15/07/2026

🌱❄️ دنیا کی آخری امید ایک برفیلے پہاڑ میں چھپی ہے!
ناروے کے جزیرے سوالبارڈ میں واقع یہ منفرد سیڈ والٹ دنیا بھر کی اہم فصلوں کے لاکھوں بیج محفوظ رکھتا ہے۔ یہ خزانہ زمین کے اندر 120 میٹر گہرائی میں بنایا گیا ہے تاکہ جنگ، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رہے۔ یہاں گندم، چاول، مکئی اور ہزاروں دیگر پودوں کے بیج انتہائی سرد درجہ حرارت پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔ شام کی جنگ کے دوران یہی والٹ متاثرہ زرعی ذخائر کی بحالی کے لیے استعمال ہوا تھا۔ اس وقت یہاں 14 لاکھ سے زائد بیجوں کے نمونے موجود ہیں، جبکہ اس کی گنجائش 45 لاکھ نمونوں تک ہے۔ یہ صرف بیجوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی خوراک اور انسانیت کے مستقبل کی حفاظت کا ایک عظیم منصوبہ ہے۔ 🌍🌾



Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eng. Abdu Samad Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Eng. Abdu Samad Khan:

Shortcuts

  • Want your business to be the top-listed Engineering Company?

Share