GSO PESCO KP

GSO PESCO KP This page is created for information to public about (G/S)and (HV T/L).

22/01/2026

132KV GSS Parachinar right now

08/10/2025
ھائیڈرو یونین کے مرکزی قائدین کی ھدایت پر ملک بھر کی طرح پشاور میں نجکاری، عدم بھتی ،عدم تحفظ کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے ...
08/10/2025

ھائیڈرو یونین کے مرکزی قائدین کی ھدایت پر ملک بھر کی طرح پشاور میں نجکاری، عدم بھتی ،عدم تحفظ کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے ھائیڈرو یونین کے صوبائی قائدین خطاب کر رھے ھیں

Feeder name and info pasted on panels today at 132kv grid station Peshawar fort
08/10/2025

Feeder name and info pasted on panels today at 132kv grid station Peshawar fort

Power cable fault today at Peshawar Fort Gss Hard working maintenance staff work successfully in short time .           ...
08/10/2025

Power cable fault today at Peshawar Fort Gss Hard working maintenance staff work successfully in short time
.
.

08/10/2025

STOP PRIVATIZATION AGAINST DISCO'S
Government of Pakistan

شہید کی قیمت صرف چالیس لاکھ
12/07/2025

شہید کی قیمت صرف چالیس لاکھ

12/07/2025

Fire Extinguishers .........
🛟 Safety 🛟🛟🛟 .. . .

. .

05/09/2024

آئی پی پیز ڈیموں کی تعمیر میں رکاوٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔۔ #کاپي
Sep 05, 2024
epaper
پاکستان میں ہر سال 30 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اگر ہائیڈرو جنریشن کا اہتمام ہو جائے تو یہ قیمتی پانی نہ صرف زراعت میں آبپاشی کا اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے بلکہ اس سے اضافی بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دریا کے بہاؤ (Run of the river) پر بھی جنریشن پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں۔1450میگاواٹ کا غازی بروتھاڈیم پہلے سے اس ضمن میں ایک شاہکار مثال کے طور موجود ہے۔

واپڈا کا محکمہ دریائے سندھ کے مختلف مقامات بشمول سکردو، بھنجی، دیامیر بھاشا اور چکوٹھی کے مقامات پر ڈیم بنانے کا منصوبہ رکھتاہے۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں سندھ بیراج کا منصوبہ بھی واپڈا کے ایسے ہی منصوبوں میں شامل ہے جس کا مقصد سمندر میں گر کر ضائع ہونے والے پانی کو استعمال میں لانا ہے۔ مگر حکومت ایک جانب تو مالی وسائل کی عدم دستیابی کے سبب ان پراجیکٹس کو شروع نہیں کر پا رہی تو دوسری جانب آئی پی پیز یعنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو ہر سال بند کپیسٹیوں کے عوض کھربوں روپے ادا کئے جا رہی ہے۔ اگر ان آئی پی پیز کو یہ مفت کے کپیسٹی چارجز نہ دینے ہوں تو ملک میں نئے ڈیم بن سکتے ہیں اور عوام اور انڈسٹری کو سستی بجلی مل سکتی ہے۔

ملک کو درپیش صورت حال کا اندازہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ 1.4 کھرب روپے ہے جبکہ رواں سال حکومت آئی پی پیز کو ان کے بند کارخانوں پر 2.1 کھرب روپے کپیسٹی چارجز ادا کر رہی ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ حکومت 1.4 کھرب روپے سے دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کر لیتی، 2.1 کھرب روپے بند کپیسٹی چارجز کی مد میں آئی پی پیز کو دے گی۔ اگلے برس یہ ادائیگی 2.8 کھرب روپے ہو جائے گی اور یہ سلسلہ 2030 تک چلے گا۔

مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیرمیں باربار تاخیر ہوچکی ہے۔ اس دوران ڈیم کی جگہ پر مقیم آبادیوں کو تین مرتبہ معاوضہ یعنی compensation ادا ہو چکا ہے کیونکہ حکومت کے پاس پراجیکٹ بنانے کے لئے پیسوں کا بندوبست نہیں ہو پایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی بھی واپڈا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈنگ ڈھونڈ رہا ہے۔ شنید ہے کہ اب واپڈا نے ارادہ کیا ہے کہ پہلے پانی کا ریزروائر بنایا جائے گا اور بعد میں پاور پلانٹ لگانے کے لئے آئی پی پیز کو انگیج کیا جائے گا۔
#کاپی

    This uniform is essential for grid station operators.Peshawar Electric Supply Company
05/09/2024


This uniform is essential for grid station operators.
Peshawar Electric Supply Company

05/09/2024


05/09/2024

This page is created for GRID SYSTEM OPERATION(GSO CIRCLE) for information.

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GSO PESCO KP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category