05/09/2024
آئی پی پیز ڈیموں کی تعمیر میں رکاوٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔۔ #کاپي
Sep 05, 2024
epaper
پاکستان میں ہر سال 30 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اگر ہائیڈرو جنریشن کا اہتمام ہو جائے تو یہ قیمتی پانی نہ صرف زراعت میں آبپاشی کا اہم ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے بلکہ اس سے اضافی بجلی بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دریا کے بہاؤ (Run of the river) پر بھی جنریشن پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں۔1450میگاواٹ کا غازی بروتھاڈیم پہلے سے اس ضمن میں ایک شاہکار مثال کے طور موجود ہے۔
واپڈا کا محکمہ دریائے سندھ کے مختلف مقامات بشمول سکردو، بھنجی، دیامیر بھاشا اور چکوٹھی کے مقامات پر ڈیم بنانے کا منصوبہ رکھتاہے۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں سندھ بیراج کا منصوبہ بھی واپڈا کے ایسے ہی منصوبوں میں شامل ہے جس کا مقصد سمندر میں گر کر ضائع ہونے والے پانی کو استعمال میں لانا ہے۔ مگر حکومت ایک جانب تو مالی وسائل کی عدم دستیابی کے سبب ان پراجیکٹس کو شروع نہیں کر پا رہی تو دوسری جانب آئی پی پیز یعنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو ہر سال بند کپیسٹیوں کے عوض کھربوں روپے ادا کئے جا رہی ہے۔ اگر ان آئی پی پیز کو یہ مفت کے کپیسٹی چارجز نہ دینے ہوں تو ملک میں نئے ڈیم بن سکتے ہیں اور عوام اور انڈسٹری کو سستی بجلی مل سکتی ہے۔
ملک کو درپیش صورت حال کا اندازہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم پر لاگت کا ابتدائی تخمینہ 1.4 کھرب روپے ہے جبکہ رواں سال حکومت آئی پی پیز کو ان کے بند کارخانوں پر 2.1 کھرب روپے کپیسٹی چارجز ادا کر رہی ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ حکومت 1.4 کھرب روپے سے دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کر لیتی، 2.1 کھرب روپے بند کپیسٹی چارجز کی مد میں آئی پی پیز کو دے گی۔ اگلے برس یہ ادائیگی 2.8 کھرب روپے ہو جائے گی اور یہ سلسلہ 2030 تک چلے گا۔
مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیرمیں باربار تاخیر ہوچکی ہے۔ اس دوران ڈیم کی جگہ پر مقیم آبادیوں کو تین مرتبہ معاوضہ یعنی compensation ادا ہو چکا ہے کیونکہ حکومت کے پاس پراجیکٹ بنانے کے لئے پیسوں کا بندوبست نہیں ہو پایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی بھی واپڈا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈنگ ڈھونڈ رہا ہے۔ شنید ہے کہ اب واپڈا نے ارادہ کیا ہے کہ پہلے پانی کا ریزروائر بنایا جائے گا اور بعد میں پاور پلانٹ لگانے کے لئے آئی پی پیز کو انگیج کیا جائے گا۔
#کاپی