10/06/2024
کمزور معاشرہ اللّٰہ کا ہی آسرا!!!
کچھ دن پہلے ایک بھائی کی شارجہ سے پوسٹ دیکھی کہ اُسکو ۵۰۰ درہم کا جُرمانہ محض اس لئے ہوا کہ اُس نے اپنی گاڑی پر ماشاء اللّٰہ کا سٹیکر بغیر اپروول کے چسپاں کر لیا تھا۔ بہت برا لگا کہ یار اچھا مسلمان ملک ہے، مگر جب تھوڑی سٹڈی کی تو معلوم ہوا کہ لاء کہتا ہے کہ گاڑی پر کچھ بھی لکھنا کمرشل ایکٹیویٹی ہے جس کی اپروول لازمی ہے مطلب پیسے دو اور لگاؤ۔ تو بھائی پھر گاڑی کا خیال کون رکھے گا، نظر سے کون بچائے گا، حادثات اور چوری سے بچانے کے لئے تو ہم لگاتے ہیں تو اگر ایسا ہو گیا تو؟ ہم تو آپریشن تھیٹرز کے باہر بھی آیت الکرسی آویزاں کرتے ہیں زیرِ تعمیر عمارت کے اوپر ماشاء اللّٰہ لگاتے ہیں اس ڈر سے کہ کہیں گر ہی نا جائے بسوں اور ٹرانسپورٹ میں ہر وقت دُعا سفر ریکارڈ کر کے چلاتے ہیں مگر پھر بھی ایکسیڈنٹ میں مرتے ہیں اور حرام کی کمائی کی کوٹھیوں کے اوپر ھذا مِن فضلِ ربی فخریہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ تو کیا یو اے ای جیسے ملک میں جو دیگر ترقی یافتہ ممالک جتنا ڈیویلپ بھی نہیں وہاں سب کیسے اللّٰہ کی مدد کے بغیر زندگی گزارتے ہیں؟ تو سوچنے کی بات ہے کہ مددِ اللّٰہ کیا نام جپنے سے آتی ہے یا عدل و انصاف اور قانون کی بالا دستی سے؟ جس معاشرے میں پولیس اس بات پر مالک کی سرزنش کرے کہ بھائی گارڈ تو رکھا نہیں تو چوری تو ہو گی نا وہاں پوری توپ بھی رکھ لیں تو وہ بھی چوری کروا بیٹھیں گے۔ ہم خود قابل نہیں، نکمے ہیں، کچھ محنت نہیں کرتے اور اینڈ پر اللّٰہ تیرا ہی آسرا۔ واہ رے منافقت ترا ہی بول بالا۔۔۔۔۔۔