Heaven view builders

Heaven view builders Aoa. We deal in all type of comstruction in rawalpindi and islamabad

یاراں نال بہاراں۔
12/12/2025

یاراں نال بہاراں۔

07/12/2025

*“پنجاب کا خوفناک ویک اینڈ:

ایک وائرلیس میسج نے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ایک ہی رات میں ‘مجرم’ بنا دیا”*

*لاہور* — پنجاب میں پولیس کے ایک واحد وائرلیس پیغام نے ایسا طوفان برپا کیا جس کی مثال صوبائی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک مقتدرانہ حکم نے پورے صوبے میں کریک ڈاؤن کرایا، ہزاروں شہری گرفتار ہوئے، تھانے بھر گئے، اور معمولی ٹریفک خلاف ورزیوں کو مجرمانہ ریکارڈ میں تبدیل کر دیا گیا۔

وائرلیس پیغام مختصر مگر ظالمانہ تھا:

“زیرو برداشت۔ فوری ایف آئی آر۔ فوری گرفتاری۔”

پیغام نشر ہوتے ہی پنجاب پولیس نے آگ برسانے والی کارروائی شروع کر دی۔

شام تک صوبے بھر کے لاک اپس جرائم پیشہ عناصر سے نہیں بلکہ بے گناہ شہریوں سے بھر چکے تھے —
نہ چور، نہ بھتہ خور، نہ ٹیکس چور، نہ منشیات فروش، نہ قبضہ مافیا —
بلکہ مزدور، دکاندار، طلبہ، کلرک، ڈلیوری رائیڈر اور عام تنخواہ دار جو صرف ہیلمٹ نہ پہننے یا معمولی ٹریفک خلاف ورزی کے مرتکب تھے، جو پہلے صرف 100–200 روپے جرمانے سے نمٹ جاتی تھی۔

دوہری سزا: جرمانہ بھی… جیل بھی

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ایک قابلِ ضمانت، معمولی ٹریفک خلاف ورزی پر دوہری سزائیں دی گئیں:

2000 روپے جرمانہ

فوجداری ایف آئی آر، گرفتاری، اور سرد فرش والے لاک اپ میں پوری ہفتہ وار تعطیل گزارنے کی اذیت

پیر کی صبح بھی رحمت نہ بنی۔
اہلخانہ:

وکیلوں کی فیسیں

کلرکوں کے “پراسسنگ چارجز”

کورٹ اسٹاف کی “ریفر یشمنٹ”

اور سپرداری کیلئے محرر صاحب کی مرضی

ان سب کے درمیان ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ کئی گھرانوں نے بیان دیا:
“سپرداری وقت پر ہونا تو معجزے کے برابر تھا۔”

بھوک، سردی اور بے عزتی — لاک اپ کا عذاب

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کم عمر لڑکوں کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں:

“ہم نے کل سے کچھ نہیں کھایا…”
“کھانا اندر لانے کی اجازت نہیں تھی…”
“صرف وہی کھانا اندر گیا جو رشوت کے ‘سسٹم’ سے گزرا…”

گرفتار ہونے والوں میں ایسے نوجوان شامل تھے:

جو اپنے بوڑھے والدین کے واحد کفیل تھے

جو بیمار ماں باپ کے لیے دوا لینے نکلے تھے

جو دفتر یا ٹیوشن سے واپس آرہے تھے

جن گھروں میں 3000 روپے کے بجلی بل سے دل دہل جاتا ہے، وہ ہزاروں روپے ضمانت، موٹر سائیکل چھڑوانے، اور دلالوں کے خرچوں پر لٹاتے رہے۔

وہ خواتین جو کبھی تھانے کے دروازے تک نہ گئیں، وہ اسی رات تھانوں کے لان میں دلالوں اور اہلکاروں سے اپنے بچوں کی رہائی کی بھیک مانگتی رہیں۔

دلال مافیا پوری طاقت سے متحرک

کریک ڈاؤن کے فوراً بعد صوبہ بھر کے دلال سرگرم ہو گئے۔
پولیس اسٹیشنوں اور عدالتوں کے باہر “ون ونڈو کیسز ڈیسک” قائم کر دیے گئے، جہاں:

ایف آئی آر کی کاپیاں

ضمانت کے کاغذات

سپرداری کے فارم

اہلکاروں سے رابطے

سب چیزیں بھاری رقم کے بدلے دستیاب تھیں۔

وکلا، دلال، کلرک - سب کے “کاروبار” نے نئی جان پکڑ لی۔
عوام کا درد ان کے معاشی عروج کی وجہ بن گیا۔

تاریخ دہرا دی گئی: شہباز شریف کے پہلے دور کی یاد تازہ

یہ کریک ڈاؤن شہباز شریف کے پہلے دور کی اُس بدنام زمانہ ڈبل سواری پابندی کی یاد دلاتا ہے جب شہریوں کو ایک ایسے جرم میں بند کیا جاتا تھا جس کا انہیں علم تک نہ تھا۔

اس دور میں:

لاک اپ ہفتوں بھرے رہے

عدالتیں اوور فلو

وکلا و دلالوں نے ‘سنہری’ دور دیکھا

سوشل میڈیا نہ تھا، آواز دب جاتی تھی

اخبارات حکومتی اشتہارات کے محتاج تھے، لہٰذا خاموش

صرف ایک وکیل — مرحوم ایڈووکیٹ ایم ڈی طاہر نے لاہور ہائیکورٹ جا کر حکم نامہ چیلنج کیا، اور اکیلے اس جنگ میں سرخرو ہوئے۔

آج بھی کوئی بار ایسوسی ایشن، کوئی وکلا گروہ عوام کیلئے کھڑا نہیں ہوا۔

سیاسی وارث کا پرانا طرزِ حکمرانی دوبارہ فعال

تین دہائیوں بعد، اس سیاسی وراثت کے وارث نے دوبارہ وہی طریقۂ حکمرانی زندہ کر دیا —

ہزاروں خاندان ایک نوٹیفکیشن سے بے روزگار

اسی خوفناک ویک اینڈ میں ایک اور تباہ کن حکم جاری کیا گیا:

چنگچی رکشوں پر مکمل پابندی

موٹر سائیکل لوڈرز (پھٹّے) پر مکمل پابندی

ایک نوٹیفکیشن نے:

ہزاروں خاندانوں کو روزگار سے محروم کر دیا

لاکھوں شہریوں کو سستی سواری سے محروم کر دیا

مزدور، طالبعلم، دکاندار - سب کو شدید بحران میں دھکیل دیا

حکومت نے ان پابندیوں کا کوئی متبادل تک نہ دیا۔

معاشی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں:

تباہ حال معیشت میں حکومت نے دلال مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا اور آٹو لابی کو کیوں طاقتور بنایا؟ عوام کی جیب پر کیوں وار کیا-

آخری وار: بے گناہ لڑکے بھی ‘کریمنل ڈیٹا بیس’ میں شامل

ضمانت کے بعد بھی نوجوانوں کو سی آر او (Criminal Record Office) لے جایا گیا، جہاں:

فنگر پرنٹس لیے گئے

تصاویر بنائی گئیں

اور تمام ریکارڈ مستقل طور پر اسی ڈیٹا بیس میں چڑھایا گیا جس میں ڈاکو، منشیات فروش اور پیشہ ور مجرم موجود ہیں

نوٹ بُک پلٹنے والے نرم ہاتھ اب دائمی طور پر اسی فائل میں قید کر دیے گئے جسے جرم کی تاریخ کہا جاتا ہے۔

گھر لوٹتے لڑکے لرزتی آواز میں پوچھتے رہے:

“کیا اب آپ بھی ہمیں مجرم سمجھتے ہیں؟”

ان کی پہلی ایف آئی آر اب ان کی پہلی زندگی بھر کی کمزوری بن چکی ہے — جو ملازمتوں، سفری اجازت ناموں، قانونی جانچ پڑتال، ہر قدم پر ان کے سامنے آئے گی۔

ریاست کی طاقت آشکار — عوام کا درد دفن

پنجاب نے اس ہفتے ایک بھیانک پیغام دیکھا:

“طاقت ہماری ہے۔ تکلیف تمہاری ذمہ داری ہے۔”بس یہی کہنا بنتا ہے شکرج

از قلم✍️✍️۔

پاکستان کی بے بس عوام

04/12/2025
بھٹو زندہ ہے۔لاوارث کراچی۔لاوارث سندھ۔ابراہیم کے قاتل ایک معصوم جو شاید آہ بھی نہ کر سکا ہوگا ۔اس ماں کو آواز بھی نہ دے ...
02/12/2025

بھٹو زندہ ہے۔
لاوارث کراچی۔
لاوارث سندھ۔

ابراہیم کے قاتل

ایک معصوم جو شاید آہ بھی نہ کر سکا ہوگا ۔اس ماں کو آواز بھی نہ دے سکا ہوگا جس کا ہاتھ شرارت میں چھڑایا تھا۔وہ تو بابا بابا بھی نہ چلا سکا ہو گا کہ محض تین سال کا ہی تو تھا ۔
لیکن ہاں!وہ گٹر جس کے منہ پر ڈھکن نہ تھا وہ بھی اتنا ہی بے آسرا ہے جتنے کراچی کے عوام گو کہ پورے ملک کی ہی حالت دگرگوں ہے لیکن کراچی تو اس یتیم کی طرح ہے جس کا سارا مال غاصب رشتے دار کھا گئے اور اسے تن تنہا چھوڑ دیا۔
کاش!وہ ڈھکن جو گٹر پر نہ تھا وہ مرتضیٰ وہاب کے منہ پر لگ جائے جسے یہ کہتے شرم نہ آئی کہ بچے کے والدین کو اتنا دکھ نہیں ہو گا جتنا سیاست کرنے والے شور مچا رہے ہیں اور دکھ ہو بھی کیوں؟
غریب کے بچے نے کتنا پڑھ لینا تھا ؟
کتنا کامیاب ہو جانا تھا؟

لیکن جس ماں کو فرق پڑا ہے اس کی آہ خالی نہ جائے گی آپکے حساب کی گھڑی قریب ہے پھر سوال بھی ہوگا اور یوم حساب بھی ہوگا۔

02/12/2025

Address

Rawalpindi

Telephone

03446498109

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Heaven view builders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share