11/02/2026
عام صارف گرین میٹر لگوانے کے لیے واپڈا میں رشوت اور ذلالت اس لیے برداشت کرتا تھا کہ نیٹ میٹرنگ کے بعد اسے بجلی کے بل کے معاملے میں مالی فائدہ ملتا تھا حالانکہ گرین میٹر کا لگوانا اب لاکھوں کا کام بن چکاتھا-
نیٹ میٹرنگ کی پالیسی ختم ہونے کے بعد اب گرین میٹر کی کوئی اہمیت نہیں رہی، نہ ہی لگوانا چاہئیے-
اب یہ پالیسی بہتر رہے گی کہ واپڈا کا میٹر گھر میں لگا رہے، نہ تو نٹ میٹرنگ کروائی جائے، نہ ہی لگے ہوئے میٹر کو استعمال کیا جائے بلکہ اپنے استعمال کے لیے دن کے وقت سولر اور رات کے وقت لیتھیم بیٹری کا سہارا لیا جائے-
اب ایسی بڑی بیٹریز دستیاب ہیں جو رات کے وقت اے سی بھی چلا سکتی ہیں- جو بھی یونٹ دن کے وقت واپڈا کو ایکسپورٹ کرنے تھے وہ اپنی لیتھیم بیٹریوں کو چارج کرنے میں صرف کریں- لیتھیم بیٹری مہنگی ضرور ہیں لیکن دس سال کے لئے ایک دفعہ کا خرچہ ہے-