AR STRIVOX GLOBAL

AR STRIVOX GLOBAL Sharing Pictures and Videos Specially of the Azad Kashmir & Pakistan Beauty.

02/06/2025

امریکہ دنیا میں حکومت کیسے کرتا ہے۔

With Fallow – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
01/06/2025

With Fallow – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

اڑنگ کیل وادی نیلم آزادکشمیر
06/05/2025

اڑنگ کیل وادی نیلم آزادکشمیر

ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پہ ہیں۔
06/05/2025

ہم کو معلوم ہے ہم نشانے پہ ہیں۔

03/05/2025

خوبصورت سیاحتی مقام
زندگی ایک حسین تحفہ ہے،
ہر لمحہ اِسے محبت، خوشی اور شکرگزاری سے سجا کر
ہم اِسے اور بھی خوبصورت بنا سکتے ہیں۔
مسکرائیں، محبت بانٹیں، اور جئیں ایسے جیسے یہ لمحہ آخری ہو
Fallow Travel with Zunair

03/05/2025

گنگا چوٹی — قدرت کا حسین شاہکار

گنگا چوٹی پاکستان اور آزاد کشمیر کی ایک نہایت خوبصورت اور دلکش جگہ ہے جو اپنے قدرتی حسن سے دلوں کو موہ لیتی ہے۔ یہ چوٹی گھنے سرسبز جنگلات، وسیع و عریض میڈوز (سبزہ زاروں)، اور ٹھنڈے، خوشگوار موسم کی وجہ سے سیاحوں کی جنت کہلاتی ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک روحانی سکون ہے، جہاں بادل زمین کو چھو رہے ہوتے ہیں اور ہر طرف ہریالی کا راج ہوتا ہے۔
سرسبز قالین جیسی گھاس پر چلتے ہوئے انسان فطرت کے قریب تر ہو جاتا ہے، اور ہر منظر دل کو ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔ گنگا چوٹی نہ صرف قدرتی حسن کی علامت ہے بلکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں انسان خود کو بھول کر فطرت کی آغوش میں گم ہو جاتا ہے۔
Travel with Zunair Bahria Town Fallow Ejaz Ahmed Khan

With Travel with Zunair – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
03/05/2025

With Travel with Zunair – I just got recognised as one of their top fans! 🎉

30/04/2025

امن کی دعا اور دعا کی اہمیت

امت مسلمہ خصوصاً پاکستان اور کشمیر کے مسلمانوں کی سلامتی کے لیے دعا ہمیشہ اولین فریضہ رہی ہے۔ دعا مومن کی روح کو سکون دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد کا وسیلہ بنتی ہے۔ جیسا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ..." یعنی “دعا مومن کا ہتھیار” ہے۔ اسی دعا کی بدولت ہمارے اندر امید اور ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں روزانہ پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کے لیے پرخلوص دعا کرنی چاہیے، تاکہ اللہ ہمارے قدم مضبوط کرے اور ظلم و جبر کی اندھیری رات میں ہمت دے۔

دعا کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عملی تیاری کی بھی ترغیب دی ہے۔ قرآنی فرمان ہے: "وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ" یعنی “جو طاقت ہو سکے تیار رکھو”۔ اس سے مراد یہ ہے کہ دشمن کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی طاقت اور صلاحیتیں بڑھاؤ۔ لہٰذا امن کی خواہش کے باوجود ہمیں دفاعی تیاری پر بھی زور دینا ہوگا۔ دعا اللہ سے مدد کا ذریعہ ہے، اور تیاری ہماری ذمہ داری ہے۔

دفاعی تیاری کی ضرورت

دنیا میں فطری ہے کہ کمزور کو کبھی فوقیت نہیں دی جاتی۔ اگر امن کی بقا چاہتے ہیں تو اپنی حفاظت کے لیے سخت اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جنگ کی صورت میں صرف تدبیریں نہیں چلیں گی بلکہ ہر شخص، مرد و عورت، تیاری میں شریک ہونا ہوگی۔ آرمی، ایئر فورس، نیوی کے ساتھ ساتھ عوامی قوت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ مشقیں کرنی ہوں گی، دفاعی تربیت عام کرنا ہوگی، اور اسلحہ و سازوسامان تیار رکھنا ہوگا۔ یہی اسلام نے بھی سکھایا ہے کہ انسان اپنی طاقت جمع کرے تاکہ دشمن خود سے باز رہے۔

قوم کو متحد ہو کر دفاع میں پیش پیش رہنا ہوگا۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی میں بھی یہ نکتہ زور سے آیا ہے کہ بھارت کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں اور ہندو قوم پرستی کی پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے۔ عوام کو اس ذمہ داری کا احساس دلانا ہوگا کہ ملک کی سلامتی میں ان کا بھی حصہ ہے۔ جب دشمن کو معلوم ہوگا کہ پورا ملک اپنے دفاع میں یکجا ہے، تو وہ حملے سے پہلے سوچے گا۔

سیاسی قیادت اور حکمتِ عملی

سوال یہ ہے کہ ہمارے موجودہ اور سابقہ قائدین نے قومی دفاع کے لیے کیوں واضح حکمت عملی تیار نہیں کی؟ گزشتہ کئی دہائیوں تک قومی سلامتی کے امور زیادہ تر عبوری رہے۔ خوش قسمتی سے اب ایک جامع قومی سلامتی پالیسی منظرِ عام پر آئی ہے جس نے پہلی مرتبہ قومی مفاد میں انسانیت اور سماجی استحکام کو شامل کیا ہے۔ یہ اہم قدم ہے، لیکن عوام پوچھتے ہیں کہ اتنے سالوں میں اس طرح کی بامقصد تیاری کیوں نہ کی گئی۔

عوامی شعور بھی اب جاگ رہا ہے۔ سب پاکستانی چاہتا ہے کہ ان کی ترجیحات میں دفاع اور سلامتی بھی شامل ہوں۔ قوم کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاستدان اور ذمہ دار ادارے ہمہ وقت اشتراک سے قومی دفاع کی منصوبہ بندی کریں۔ اب عوام جمہوریت کے حوالے سے یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ ان کی سلامتی کے حقوق اور قومی دفاع میں ان کا کیا کردار ہوگا۔

بھارتیہ حکومت کے خطرات

۲۰۱۴ء سے بھارت میں مودی سرکار اقتدار میں ہے جس نے کشمیریوں کے خلاف اپنی ہندو قوم پرستانہ پالیسیوں سے کشمیریوں کی آزادی اور شناخت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پانچ اگست ۲۰۱۹ء کو مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرکے بھارتی حکمرانوں نے وادی میں ظلم و بربریت تیز کر دی۔ غیور پاکستانی اس امر کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں کہ ایک ہمسایہ ملک کی حکومت ہماری سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ عالمی تجزیوں میں بھی ذکر ہے کہ ان پالیسیوں نے کشمیری مسلمانوں کی حقِ خودارادیت پر حملہ کیا ہے۔

بھارتی حکومت نے آہنی ہاتھ سے خواتین، بچوں اور معصوم شہریوں پر پابندیاں لگائی ہیں، سیاسی قیادت کو قید و بند کرنے کے علاوہ دہائیوں پر محیط کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ یہ سارا ماحول پاکستان کے لیے خطرناک ہے کیونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ اگر یہاں ظلم کے خلاف مزاحمت نہ کی گئی تو یہ ظلم قوم پر منتقل ہو سکتا ہے۔

کشمیری عوام کی دفاعی تربیت

مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کی طرح جنگی ماحول کا شکار ہیں۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ انہیں دفاعی تربیت فراہم کریں۔ طلبہ، نوجوان اور بزرگوں کو باقاعدہ دفاعی کورسز، فرسٹ ایڈ اور فائرنگ کی تربیت دی جائے، تاکہ حالات بگڑنے پر وہ خود اپنے گھروں اور نسلوں کا تحفظ کر سکیں۔

تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب مقامی لوگ اپنے علاقوں کے دفاع میں مصروف ہوتے ہیں تو دشمن کے مقابلے میں طاقت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ رابطے بڑھا کر وہاں کے نوجوانوں کو محفوظ چینلز سے تربیتی پروگرام مہیا کرے۔ اگر حالات جنگ تک پہنچیں تو ہر گھریلو پاؤڈرک بھی قیمتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے، سو ہمیں پہلے سے ہی ذمہ داری کا احساس دلانا ہوگا۔

ترقی اور قومی سلامتی

ملکی ترقیاتی منصوبے نہایت اہم ہیں، مگر ان کی بنیاد پختہ سلامتی کے بغیر کمزور ہے۔ سی پیک اور دیگر منصوبوں سے معاشی خوشحالی آئے گی، مگر دشمن کے شرپسندی کے پیشِ نظر ہمیں واضح طور پر سمجھنا ہوگا کہ پہلے اپنے قومی دفاع کو مضبوط کریں، پھر ترقی کے منصوبوں پر توجہ دیں۔ صرف انفرادی ترقیات سے قوم محفوظ نہیں رہ سکتی جب تک سرحدیں محفوظ نہیں ہوں گی۔

اسی لیے ہر بڑے اقتصادی منصوبے کے ساتھ ایک دفاعی منصوبہ ہونا چاہیے۔ نئی شاہراہوں اور منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ ملک کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دیں۔ عوام کو سمجھانا ہوگا کہ پڑوسی ریاست سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر قومی سلامتی ہی ہر ترقی کی ضمانت ہے۔ امن چاہتے ہیں تو پہلے اسے تحفظ دیں۔

کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا

پاکستان کا وجود اور کشمیر کی آزادی گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ جیسا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے بھی کہا کہ کشمیر پاکستان کی “گردن کی شریان” ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر کشمیر دشمن کے قبضے میں رہے تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گا۔ لہٰذا کشمیریوں کا مسئلہ صرف ہمارا غم نہیں بلکہ قومی بقاء کا سوال ہے۔

اسی لیے ہر پاکستانی کا ایمان ہونا چاہیے کہ کشمیر کو آزاد کرنا بقیہ وطن عزیز کی خود بقا سے منسلک ہے۔ اگر ہم متحد رہیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کشمیری بہن بھائیوں کے حق میں آواز اٹھائیں تو ان شاء اللہ اس مقدس جدوجہد میں کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔

عوامی ذمہ داریاں

ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ وطن عزیز کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرے۔

اللہ سے مدد اور رہنمائی کے لیے مستقل دعا اور نماز کیجئے۔

دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ فوجی تربیت اور پہلا طبی امداد حاصل کرکے مسلح دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔

قرآن مجید میں حکم ہے کہ جو مال و جان اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں، اللہ نے انہیں بلند مقام عطا فرمایا ہے۔ لہٰذا ہر ممکن وسائل ملک کی حفاظت پر صرف کریں۔

کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی رکھیں، ان کی مدد اور حوصلہ افزائی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

نئے نسل کو وطنِ عزیز کی حب الوطنی اور دفاع کی تربیت دیں، تاکہ مستقبل میں ہر بچہ اور بچی بھی مسلح دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو۔

ان ذمہ داریوں پر عمل ہی قوم کو مضبوط بنائے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت بنے گا۔

قربانی، اتحاد اور حوصلہ

ہمیں قربانی کا جذبہ دلوں میں بھرنا ہوگا۔ قربانی کا جذبہ صرف فوجیوں کا نہیں بلکہ ہر پاکستانی کا ایمان ہے۔ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا کہ مومن ایک جسم کی مانند ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ اس امتیازی احادیث کا تقاضا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہوں، ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑیں اور اپنی یکجہتی سے دشمنوں کی آنکھوں میں خوف لائیں۔

ماضی کے شاہین اسلاف نے ثابت کیا کہ اللہ کی راہ میں دی گئی جان بھی اپنی افادیت قائم رکھتی ہے۔ ہمیں بھی یہی عزم اختیار کرنا ہوگا کہ پاکستان کے ہر باشندے کو اپنی جان و مال قربان کرکے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اتحاد کی قوت سے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، اور یہی جذبہ قربانی ہمیں فتح کی جانب لے جائے گا۔

یقین اور امید کا پیغام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" یعنی ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اس وعدے پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہمت نہیں ہارنی۔ پاکستان قوم و فوج کا عزم اور اتحاد اس آزمائش کو آسان بنا دے گا۔

آیئے ہم سب مل کر اللہ پر توکل کریں اور دلوں کو مضبوط رکھیں کہ پاکستان اور اس کی بہادر افواج کے ساتھ مل کر کشمیریوں کو ان کا حق ضرور دلائیں گے۔ اللہ کے حکم سے کشمیر آزاد ہو گا اور ہندوستانی جارحیت کا خاکہ مٹ جائے گا۔ تب تک دعا کریں، اتحاد بنائے رکھیں، اور ثابت قدمی سے قوم کی خدمت کرتے رہیں۔ دنیا دیکھے گی کہ پاکستانی قوم و فوج کے عزم اور اللہ کے فضل سے مقبوضہ کشمیر کو آزادی ملے گی۔

Bahria Town Fallow

Address

Rawalpindi
45710

Opening Hours

Monday 10:00 - 07:00
Tuesday 10:00 - 07:00
Wednesday 10:00 - 07:00
Thursday 10:00 - 07:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 10:00 - 07:00
Sunday 10:00 - 07:00

Telephone

+92 335 1085085

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AR STRIVOX GLOBAL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share