Al-MARJAN Solar & Invertors

Al-MARJAN Solar & Invertors We made UPS nd local sine wave invertors 3kv 5kv 7kv 10kv for all perpuse

22/05/2026

پاکستان کا پاور سیکٹر اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دو دہائیوں پرانا IPP ماڈل آہستہ آہستہ ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سولر انرجی ایک خاموش انقلاب کی طرح پورے نظام کو بدل رہی ہے۔ وہی حکومت جو کبھی مہنگے پاور پلانٹس اور Capacity Payments کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی، آج انہی IPPs کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کر رہی ہے، معاہدے تبدیل کروا رہی ہے اور کئی منصوبوں کو مرحلہ وار سسٹم سے باہر نکالنے کی تیاری میں ہے۔ لیکن اس پوری جنگ کا سب سے حساس اور اہم محاذ چینی IPPs ہیں، کیونکہ وہ صرف پاور پلانٹس نہیں بلکہ سی پیک اور پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

اصل مسئلہ 2002 اور بعد ازاں 2012 کی انرجی پالیسیوں سے شروع ہوا، جب پاکستان نے بجلی کی قلت ختم کرنے کے لیے نجی پاور کمپنیوں کو انتہائی پرکشش معاہدے دیے۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت نے IPPs کو Capacity Payments کی مکمل ضمانت دی۔ یعنی بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے، حکومت کو ادائیگی ہر صورت کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ڈالر انڈیکسڈ ریٹس، بلند Return on Equity اور منافع کی مکمل بیرون ملک منتقلی نے ان منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی کان بنا دیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی ماڈل پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا مالیاتی بوجھ بن گیا۔

سی پیک کے بعد 2016 سے چینی IPPs کی بڑی تعداد پاکستان میں داخل ہوئی۔ ان منصوبوں نے لوڈشیڈنگ کم کرنے میں اہم کردار ضرور ادا کیا، مگر ان کے معاہدے بھی Capacity Payments اور ڈالر انڈیکسڈ فارمولوں پر مبنی تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے اوپر صرف چینی پاور کمپنیوں سمیت مختلف IPPs کے تقریباً 500 ارب روپے واجبات کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب بیجنگ کے ساتھ مل کر ان معاہدوں پر نظرثانی کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی حکومت چاہتی ہے کہ چینی IPPs بھی دیگر پاور کمپنیوں کی طرح اپنے نرخ نرم کریں، Capacity Payments کم کریں اور ادائیگیوں کے نئے شیڈول پر آمادہ ہوں۔ بعض رپورٹس کے مطابق کئی چینی کمپنیوں کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ کچھ منصوبوں میں Return on Equity اور آپریشنل اخراجات پر نظرثانی بھی زیر غور ہے۔ تاہم چین اس معاملے کو صرف کاروباری نہیں بلکہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے تناظر میں دیکھتا ہے، اسی لیے مذاکرات انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔

ادھر حکومت نے متعدد پرانے IPPs کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت بھی حاصل کی ہے۔ کئی فرنس آئل پاور پلانٹس نے کم نرخ قبول کیے، کچھ نے اپنے آپریشن محدود کیے، جبکہ بعض منصوبے Early Settlement کے ذریعے مرحلہ وار سسٹم سے باہر نکلنے پر آمادہ ہوئے۔ اندازوں کے مطابق ایک درجن سے زائد پرانے IPPs اب نظرثانی شدہ نرخوں پر بجلی فروخت کر رہے ہیں، جبکہ کئی مہنگے منصوبے عملی طور پر اپنی اہمیت کھوتے جا رہے ہیں۔

لیکن اصل دھچکا IPP ماڈل کو “سولر انقلاب” نے دیا ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان مکمل طور پر قومی گرڈ اور IPPs پر انحصار کرتا تھا، مگر اب لاکھوں گھروں، فیکٹریوں، مارکیٹوں اور زرعی ٹیوب ویلز نے سولر سسٹمز لگا لیے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کم ہونا شروع ہو گئی، جبکہ حکومت اب بھی IPPs کو Capacity Payments دینے پر مجبور ہے۔ یعنی عوام کم بجلی خرید رہے ہیں مگر حکومت کو پاور پلانٹس کو ادائیگی پھر بھی کرنا پڑ رہی ہے۔

یہی وہ مقام تھا جہاں حکومت کو اندازہ ہوا کہ اگر سولر کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں روایتی IPP ماڈل غیر متعلق ہوتا جائے گا۔ اسی لیے اب نئی سولر پالیسی، Net Metering قوانین اور IPPs کے معاہدوں پر بیک وقت کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت ایک طرف مہنگے Capacity Payment والے پلانٹس سے جان چھڑانا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف سولر کو مکمل طور پر اتنا آزاد بھی نہیں چھوڑنا چاہتی کہ قومی گرڈ مالی طور پر بیٹھ جائے۔

فی الحال عوام کے لیے 9 روپے فی یونٹ بجلی فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ بجلی کے بل میں صرف پیداواری لاگت نہیں بلکہ ٹیکسز، لائن لاسز، گردشی قرضہ اور ترسیلی اخراجات بھی شامل ہیں۔ لیکن اگر حکومت چینی IPPs سمیت بڑے منصوبوں کے معاہدوں میں کامیاب نظرثانی کر لیتی ہے، سولر اور ہائیڈرو کا حصہ بڑھتا ہے، اور مہنگے فرنس آئل پلانٹس مرحلہ وار ختم ہوتے ہیں تو آنے والے برسوں میں بجلی کی قیمت میں واضح کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

یوں پاکستان کا توانائی نظام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک طرف دو دہائیوں پرانا IPP ماڈل آہستہ آہستہ کمزور ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سورج کی روشنی پہلی بار ریاست، گرڈ اور پاور کمپنیوں کے روایتی نظام کو چیلنج کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

منقول

سبز کائی سے پھوٹتی روشنی اور کھرب پتی کمپنیوں کا ایک تاریک راز!لکھت سرائیکی حکیم ہمیں مسلسل یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ تو...
05/05/2026

سبز کائی سے پھوٹتی روشنی اور کھرب پتی کمپنیوں کا ایک تاریک راز!
لکھت سرائیکی حکیم
ہمیں مسلسل یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ توانائی کا بحران اور تاریکی ہماری نسلوں کا اٹل مقدر ہیں۔ ہم نجات کی امید میں ان دیوہیکل اور مہنگے سولر پینلز یا زہریلی لیتھیم بیٹریوں کی طرف دیکھتے ہیں، جو بڑی کمپنیوں کی فیکٹریوں سے نکلتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ روشنی صرف وہیں سے مل سکتی ہے جس کی ہم بھاری قیمت چکائیں۔ مگر کیا ہو اگر ہمیں یہ معلوم پڑے کہ اس کرہِ ارض کا سب سے سستا اور حیران کن حل ہمارے گھر کی نم دیواروں پر اگی ہوئی بظاہر ایک معمولی کائی میں چھپا ہے؟ کیمبرج یونیورسٹی کی خاموش لیبارٹریوں میں ایک ایسی حیاتیاتی بغاوت جنم لے چکی ہے جس نے سائنسدانوں کو تو دم بخود کیا ہی ہے، مگر ساتھ ہی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ لیکن اس عظیم الشان دریافت کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہم سے اور آپ سے دور رکھا جا رہا ہے۔ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک ننھے اور بے جان نظر آنے والے جاندار نے ایسا کیا کر دیا جس نے دنیا کے سب سے طاقتور انرجی مافیا کو لرزا کر رکھ دیا؟
سال 2022 میں، محققین نے ایک ڈبل اے (AA) بیٹری جتنے چھوٹے سے کنٹینر میں ایک خرد بینی جاندار کو قید کیا۔ اس تجربے میں کوئی تار نہیں بچھائی گئی، کوئی کیمیائی مادہ شامل نہیں کیا گیا، بس تھوڑا سا پانی اور عام سی روشنی فراہم کی گئی۔ اور پھر ایک ایسا سائنسی معجزہ رونما ہوا جس نے طبعیات کے تمام مروجہ اصول توڑ دیے۔ اس جاندار نے بجلی پیدا کرنا شروع کر دی۔ یہ کوئی لمحاتی چمک نہیں تھی، بلکہ اس کائی نے مسلسل چھ ماہ تک ایک مائیکرو پروسیسر کو کامیابی سے چلایا، یہ وہی پروسیسر ہے جو آج ہماری اربوں سمارٹ ڈیوائسز کا دماغ بنا ہوا ہے۔ سب سے چونکا دینے والی بات تو یہ تھی کہ جب کمرے میں گھپ اندھیرا کر دیا جاتا، تب بھی یہ ننھا جاندار اپنے اندر جمع شدہ خوراک کے ذریعے بلا تعطل بجلی بناتا رہتا۔ یہ ایک ایسی دریافت تھی جسے دنیا کے ہر اخبار کی شہ سرخی اور ہر خبرنامے کی پہلی خبر ہونا چاہیے تھا، مگر ہر طرف ایک گہری اور پراسرار خاموشی چھائی رہی۔ ذرا سوچیے، وہ کیا تلخ اور کڑوی سچائی تھی جس نے عالمی میڈیا کے ہونٹوں پر بھی تالے ڈال دیے؟
یہ کرشمہ دراصل 'سائنو بیکٹیریا' (Cyanobacteria) اور اسی عام سبز کائی کا تھا جسے ہم گندگی اور غلاظت سمجھ کر اپنے صحن سے کھرچ کر پھینک دیتے ہیں۔ روایتی سولر پینلز خطرناک زہریلے مادوں سے بنتے ہیں اور بیٹریاں ایک وقت کے بعد زنگ آلود ہو کر کوڑے کا حصہ بن جاتی ہیں، مگر یہ کائی ایک زندہ، سانس لیتا اور خود کو ازسرِ نو ٹھیک کرنے والا ایک مکمل نظام ہے۔ مٹی کے بیکٹیریا اور کائی مل کر ایک ایسا انوکھا ایکو سسٹم بناتے ہیں جہاں کائی اپنی خوراک بناتی ہے اور بیکٹیریا الیکٹران خارج کرتے ہیں، جو سیدھے بجلی کی رو میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2014 میں اسی کائی سے ایک ایف ایم ریڈیو اور موسم کا حال بتانے والا ڈیجیٹل سٹیشن بغیر کسی بیرونی طاقت کے ایک ہفتے تک کامیابی سے چلایا جا چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ عظیم تحقیق آج بھی فنڈز اور سرپرستی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ اور اس مجرمانہ بے حسی کے پیچھے ایک ایسا ننگا سچ چھپا ہے جو ہمارے موجودہ معاشی نظام کی سفاکی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دے گا۔
وہ کڑوا سچ یہ ہے کہ عالمی توانائی اور بیٹریوں کا بازار ایک کھرب ڈالر سے بھی بڑا ہے۔ ان تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پورا وجود اور منافع اس بات پر قائم ہے کہ وہ ہمیں ایسی چیزیں بیچیں جو جلد خراب ہوں، جنہیں بار بار تبدیل کرنا پڑے، اور جن کا بل ہم ہر ماہ غلاموں کی طرح ادا کرتے رہیں۔ آپ قدرت میں مفت اگنے والی کائی پر کوئی ماہانہ سبسکرپشن ماڈل کھڑا نہیں کر سکتے! کوئی بھی کھرب پتی سرمایہ دار ایسی فیکٹری پر سرمایہ نہیں لگائے گا جس کی پروڈکٹ خود بخود پیدا ہوتی ہو، نشوونما پاتی ہو اور ٹوٹنے پر خود کو ریپیئر کر لیتی ہو۔ آج یہ ٹیکنالوجی کائی سے پیدا ہونے والے صرف 0.1 فیصد الیکٹرانز کو ہی استعمال کر پاتی ہے، پھر بھی یہ اتنی طاقتور اور موثر ہے۔ اگر مزید تحقیق کے ذریعے یہ صلاحیت ذرا سی بھی بڑھ گئی، تو یہ کھربوں ڈالر کی منافع بخش انڈسٹری ریت کے محل کی طرح ڈھے جائے گی۔ اسی خوف کے مارے اسے دبا کر رکھا گیا ہے تاکہ ہم ہمیشہ اندھیروں کے خوف سے ان کے محتاج رہیں۔ مگر اب ہم سب کے سامنے ایک ایسا کٹھن سوال کھڑا ہے جو ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔
توانائی کا روشن مستقبل اب شاید کوئلے کی گہری کانوں یا دھواں اڑاتی فیکٹریوں کے پاس نہیں، بلکہ ہمارے قدموں کے نیچے موجود اس نرم، ہری اور نم مٹی میں دھڑک رہا ہے۔ آج یہ قدرتی ٹیکنالوجی اسی کمزور مقام پر کھڑی ہے جہاں 1954 میں دنیا کا پہلا اور کمزور ترین سولر پینل کھڑا تھا، مگر کل یہی کائی پوری دنیا کو جگمگا سکتی ہے۔ تو کیا ہم اپنی غفلت اور لاعلمی کی چادر اوڑھے اس مفت اور قدرتی روشنی کو یونیورسٹی کی لیبارٹریوں کی بند فائلوں میں ہی دفن ہونے دیں گے، یا اس سرمایہ دارانہ نظام کے چہرے سے نقاب نوچ کر قدرت کے اس انمول تحفے پر اپنا پیدائشی حق مانگیں گے؟ آپ کا ضمیر اس خاموش محتاجی کا انتخاب کرے گا یا اس سبز روشنی کا؟

منقول

04/05/2026

دنیا کی بیٹری انڈسٹری میں بھونچال آنے والا ہے۔ لیتھیم کی بادشاہت ختم ہونے کو ہے۔ سمندر کے نمک سے بنی سستی بیٹری نے میدان میں قدم رکھ دیا ہے اور بڑی بڑی کمپنیوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

اس کا نام ہے سوڈیم بیٹری۔ یہ وہی بیٹری ہے جو تمہارے موبائل اور گاڑی والی لیتھیم بیٹری کی جگہ لے گی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لیتھیم زمین سے نکلتی ہے، بہت مہنگی ہے اور چند ملکوں کے پاس ہے۔ سوڈیم یعنی نمک سمندر میں بےحساب ہے، سستا ہے اور ہر ملک کے پاس ہے۔

اس کا آئیڈیا کوئی نیا نہیں۔ اسی کی دہائی میں ہی سائنسدانوں نے اس پر کام کیا تھا۔ لیکن اس وقت لیتھیم بیٹری جیت گئی تو سوڈیم کو سائیڈ پر رکھ دیا گیا۔ اب جب لیتھیم کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی تو دو ہزار دس کے بعد چین اور یورپ نے دوبارہ اس کو جگا دیا۔

آج اس ریس میں چین سب سے آگے دوڑ رہا ہے۔ CATL اور BYD جیسی بڑی کمپنیاں اس کو بنا رہی ہیں۔ CATL نے دو ہزار تئیس سے اس کو مارکیٹ میں بیچنا شروع کر دیا۔ BYD نے تو اپنی سب سے سستی الیکٹرک گاڑی Seagull میں بھی سوڈیم بیٹری ڈال دی ہے۔ یورپ میں Northvolt اور امریکہ میں Natron کمپنی کام کر رہی ہے۔ انڈیا کی Reliance بھی دو ہزار چھبیس تک اس کو بنانا شروع کر دے گی۔

یہ بیٹری آ چکی ہے لیکن ابھی شروعات ہے۔ چین میں E-bike، E-rickshaw اور سولر کے ساتھ گھروں میں لگنا شروع ہو گئی ہے۔ بجلی کے بڑے سٹور میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں اسے آنے میں دو سے تین سال لگیں گے۔ پہلے سولر والی بیٹری کے طور پر آئے گی کیونکہ وہ سستی ہو گی۔

ابھی اس پر کام چل رہا ہے۔ بیچنے کے قابل تو بن گئی ہے لیکن سائنسدان اس کو اور طاقتور بنا رہے ہیں۔ ابھی اس میں لیتھیم کے مقابلے میں طاقت کم سٹور ہوتی ہے۔ کمپنیوں کا دعوی ہے کہ دو ہزار ستائیس تک ہم اسے لیتھیم کے برابر لے آئیں گے۔

اس کے فائدے بہت بڑے ہیں۔ پہلا فائدہ قیمت ہے۔ یہ لیتھیم سے تقریبا تیس سے چالیس فیصد سستی پڑے گی۔ دوسرا فائدہ یہ کہ اس کو آگ نہیں لگتی۔ لیتھیم بیٹری گرم ہو کر پھٹ جاتی ہے، یہ بالکل محفوظ ہے۔ تیسرا فائدہ سردی کا ہے۔ مائنس بیس ڈگری میں بھی یہ صحیح کام کرتی ہے جبکہ لیتھیم بیٹری سردی میں آدھی رہ جاتی ہے۔ چوتھا فائدہ یہ کہ اس میں کو بالٹ نہیں ڈلتا۔ لیتھیم والی بیٹری کا کو بالٹ کانگو سے نکلتا ہے جہاں بہت برے حالات ہیں۔

اس کے نقصان بھی سچ بتانے ضروری ہیں۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں طاقت کم سٹور ہوتی ہے۔ اگر ایک ہی وزن کی لیتھیم بیٹری گاڑی کو سو کلومیٹر لے جائے تو سوڈیم والی ستر کلومیٹر لے جائے گی۔ اسی وجہ سے لمبی رینج والی گاڑیوں میں ابھی نہیں لگے گی۔ دوسرا اس کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ تیسرا یہ نئی ہے، پانچ دس سال بعد پتا چلے گا کہ کتنی دیر چلتی ہے۔

ایک کمال کی بات یہ بھی ہے کہ اس کو زیرو چارج پر چھوڑ دو تو بھی خراب نہیں ہوتی۔ لیتھیم بیٹری زیرو پر ڈیڈ ہو جاتی ہے۔ اس کو ری سائیکل کرنا بھی بہت آسان ہے۔

چارجنگ کی بات کریں تو یہ لیتھیم سے تھوڑی تیز چارج ہوتی ہے۔ لیکن ابھی تین منٹ میں اسی فیصد والا دعوی سچ نہیں ہے۔ لیب میں کام ہو رہا ہے، شاید آگے جا کر ہو جائے۔

سیدھی بات یہ ہے کہ جہاں سستی بیٹری چاہیے اور وزن سے فرق نہیں پڑتا، جیسے سولر سسٹم، E-rickshaw، گھر کا بیک اپ، وہاں آنے والے وقت میں سوڈیم بیٹری سب سے بہتر ہو گی۔ اور جہاں ہلکی بیٹری اور لمبی رینج چاہیے، جیسے بڑی الیکٹرک گاڑیاں، وہاں ابھی چار پانچ سال تک لیتھیم کا ہی راج رہے گا۔

گیم شروع ہو چکی ہے۔ دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے۔

ویسے تمہارا کیا خیال ہے، دو سال بعد تم اپنے سولر کے ساتھ لیتھیم لگاؤ گے یا سوڈیم کا انتظار کرو گے؟
کمنٹ میں بتاؤ، اگر تمہارے پاس E-bike ہو تو کیا تم سوڈیم بیٹری والی لوگے جس کی رینج تھوڑی کم ہو لیکن قیمت آدھی ہو؟
اور یہ بھی بتاؤ، کیا لگتا ہے لیتھیم کمپنیاں سوڈیم کو آنے دیں گی یا کوئی نیا کھیل کریں گی؟

04/05/2026

*گرمیوں میں سولر پینل کا کرنٹ کم کیوں ہو جاتا ہے؟*
گرمیوں میں دھوپ زیادہ ہوتی ہے تو لگتا ہے پینل زیادہ بجلی دے گا، مگر اصل میں گرمی خود سولر پینل کی دشمن ہے۔ اس کی 3 بڑی وجوہات ہیں:

*1. درجہ حرارت بڑھنے سے وولٹیج گر جاتا ہے*
سولر سیل سلیکون کا بنا ہوتا ہے۔ سلیکون کی خاصیت ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، اس کا وولٹیج کم ہوتا جاتا ہے۔ اسے Temperature Coefficient کہتے ہیں۔

زیادہ تر پینلز پر لکھا ہوتا ہے: `-0.35%/°C` سے `-0.45%/°C`
مطلب ہر 1°C درجہ حرارت بڑھنے پر وولٹیج ∼0.4% کم ہو جاتا ہے۔

پینل کی ٹیسٹنگ 25°C پر ہوتی ہے۔ گرمیوں میں پینل کی سطح کا درجہ حرارت 65°C سے 75°C تک چلا جاتا ہے۔
حساب لگائیں: 75°C - 25°C = 50°C زیادہ
50 × 0.4% = 20% وولٹیج کا نقصان

وولٹیج کم = پاور P = V × I بھی کم۔ اس لیے کرنٹ بھی کم لگتا ہے، کیونکہ MPPT کنٹرولر کم وولٹیج پر سسٹم چلاتا ہے۔

*2. گرد، دھول اور دھندلا پن*
گرمیوں میں ہوا خشک ہوتی ہے، گرد و غبار زیادہ اڑتا ہے۔ پینل پر مٹی کی تہہ جم جائے تو 15% سے 25% تک پیداوار فوراً گر جاتی ہے۔ دھوپ تیز ہے مگر سیل تک پہنچ ہی نہیں رہی۔ ہفتے میں 1 بار پانی سے دھونا ضروری ہے۔

*3. انورٹر کی Efficiency گرنا*
انورٹر بھی گرمی سے متاثر ہوتا ہے۔ جب انورٹر کا اندرونی درجہ حرارت 45°C سے اوپر جائے تو وہ خود کو بچانے کے لیے “derating” شروع کر دیتا ہے یعنی پاور کم کر دیتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے پینل کرنٹ نہیں دے رہا، حالانکہ انورٹر لوڈ نہیں اٹھا رہا۔

*تو گرمیوں میں پیداوار بڑھانی کیسے ہے؟*
1. *Ventilation رکھیں*: پینل اور چھت کے درمیان 4-6 انچ کا فاصلہ ہو تاکہ ہوا گزرے اور پینل ٹھنڈا رہے۔
2. *صفائی*: ہر 10-15 دن بعد صبح یا شام کو سادہ پانی سے دھوئیں۔ سرف استعمال نہ کریں۔
3. *Tilt angle*: گرمیوں میں سورج سر پر ہوتا ہے، پینل کا زاویہ 10°-15° رکھیں۔
4. *اچھی کوالٹی پینل*: Mono PERC یا N-Type TOPCon پینلز کا Temperature Coefficient کم ہوتا ہے، یعنی گرمی میں کم گرتے ہیں۔

*نوٹ*: گرمیوں میں دن لمبے ہونے کی وجہ سے کل یونٹ “kWh” سردیوں سے زیادہ بنتے ہیں، لیکن دوپہر کے وقت پیک کرنٹ “A” اور پیک واٹ کم ملتے ہیں۔ یہ نارمل ہے۔

اگر آپ کے پینل کا کرنٹ 30% سے زیادہ کم ہو گیا ہے تو وائرنگ، MC4 کنیکٹر یا ڈائیوڈ چیک کروائیں، صرف گرمی کا قصور نہیں ہوگا

28/04/2026

"لیتھیم بمقابلہ لیڈ ایسڈ بیٹری"
ہائبرڈ سولر پاور سسٹم لگوانے والے اکثریت حضرات بیٹری کے انتخاب میں الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ کس بیٹری کا انتخاب کیا جائے۔۔۔۔۔
لیتھیئم بیٹری اور لیڈ ایسڈ بیٹری کے درمیان کارکردگی اور قیمت کے حوالے سے نمایاں فرق ھوتا ھے۔

چند اہم پوائنٹس بیان کر دیتا ھوں۔
فرض کریں کہ 12 وولٹ کی لیتھیم اور لیڈ ایسڈ دونوں بیٹریوں کی کپیسٹی ایک جیسی یعنی 100 ایمپیر آوور ھے۔
تو ان بیٹریوں کی وی اے (VA) کپیسٹی 1200 ھوئی۔

تو صورت حال کچھ یوں ھوگی۔

۔ لیڈ ایسڈ بیٹری کو ہم اسکی سیف ڈسچارج لیمٹ 50 سے 60 فیصد سے زیادہ ڈسچارج نہیں کر سکتے ہیں۔ اس سے اسکی زندگی شدید متاثر ہوتی ھے۔یعنی 600 سے 700 وی اے ہی قابلِ استعمال پاور ھوگی۔
جبکہ لیتھیم بیٹری کو ہم 90 فیصد تک سیف ڈسچارج کر سکتے ہیں۔ تو اس سے ہم سے 1ہزار وی اے سے اوپر پاور لے سکتے ہیں۔
۔ لیتھیئم بیٹری کے چارج ڈسچارج سائیکل لیڈ ایسڈ کے مقابلے میں 5 سے 8 گنا زیادہ ھوتے ہیں۔
عمومی طور پر ۔۔۔ لیڈ ایسڈ بیٹری کی زندگی 300 سے 400 چارج و ڈسچارج سائیکل ہوتی ھے جبکہ لیتھیم بیٹری کی زندگی 1500 سے 2000 سائیکل ھے۔
۔ ایک ہی پاور کپیسٹی / سائز میں لیتھیئم بیٹری وزن میں ہلکی اور لیڈ ایسڈ بیٹری دوگنا بھاری ھوتی ھے۔

۔ لیتھیم اور لیڈ ایسڈ بیٹریوں کے چارجنگ اور ڈسچارجنگ سسٹم اور طریقہ کار بارے جانکاری بہت ضروری ھے۔

✓ لیتھیم بیٹری چارجر اور لیڈ ایسڈ بیٹری چارجر کے چارجنگ کے طریقے مختلف ہیں۔ لیتھیم آئن بیٹری کو مستقل کرنٹ اور مستقل وولٹیج سے چارج کیا جاتا ہے، اور لیڈ ایسڈ کو تین مراحل (3 سٹیپ) میں چارج کیا جاتا ہے۔
✓ ایک جیسی چارجنگ کپیسٹی کیلئے ۔۔۔ لیڈ ایسڈ بیٹری 8-10 گھنٹے لیتی ھے اور لیتھیئم آئن بیٹری تقریباً 2-3 گھنٹے۔
✓ لیڈ ایسڈ بیٹری کو اس کی کرنٹ ریٹنگ (AH) کے دس فیصد سے زیادہ پر چارج کرنا نقصان دہ ہوتا ھے۔
یعنی اگر 200 ایمپیر آوور کی بیٹری ہو تو اسے 20 ایمپیر سے زیادہ پر چارج نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح یہ بیٹری 10 گھنٹے میں فل چارج ہو گی۔ اور کم وقت/ 10 فیصد سے زیادہ ایمپیر پر چارج کرنے سے اسکی لائف کم ہو جائے گی۔
دوسری طرف لیتیھم بیٹری( NMC، LFP ) کو ان کی ایمپیر آوور ریٹنگ کے 40 فیصد کرنٹ تک چارج کیا جا سکتا ھے۔
یعنی 200 ایمپیر آوور کی لیتھیم بیٹری کو ہم 80 ایمپیر تک چارجنگ کرنٹ دے سکتے ہیں۔
✓ لیڈ ایسڈ بیٹری کی مقررہ پاور ریٹنگ/ ایمپیر آوور ریٹنگ سے صحیح فائیدہ اٹھانے کیلئے اسکو کو 20 گھنٹے میں ڈسچارج کرنا چاہیے، یعنی 200 AH کی بیٹری سے 10 ایمپیر ڈی سی فی گھنٹہ سے زیادہ کرنٹ نہیں لے سکتے۔ زیادہ کرنٹ پر ڈسچارجنگ سے بیٹری کی کارکردگی اور عمر کم ھو جاتی ھے۔
جبکہ لیتھیم آئن بیٹری (LFP ، NMC) کو اسکی ریٹنگ کے 40 فیصد فی گھنٹہ تک ڈسچارج کیا جا سکتا ھے۔
✓ لیڈ ایسڈ بیٹری ڈسچارج ہوتے وقت اپنی وولٹیج تیزی سے گراتی ھے جبکہ لیتھیم بیٹریاں(NMC اور LFP) کے وولٹیج 70-80 فیصد ڈسچارج تک بھی بہت زیادہ کم نہیں ہوتے ہیں۔
✓ لیڈ ایسڈ بیٹری میں کوئی الیکٹرونک component نہیں ھوتا ھے، لیکن لیتھیم بیٹری(NMC اور LFP) میں ایک الیکٹرونک کارڈ ہوتا ہیے جسے BMS کہتے ہیں یعنی battery management system۔ اس کے بغیر بیٹری کو سسٹم سے منسلک اور آپریٹ کرنے پر اس کے سیل بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔
✓ لیتھیم بیٹری کے لیے درجہ حرارت بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ھے۔ اس لئے لیتھیم بیٹری کو ٹھنڈی اور ہوا دار جگہ/ کنٹرولڈ انوائرمنٹ میں لگانا چاھئے۔
لیتھیم بیٹری کی سب سے بڑی خرابی یہ ہی ھے کہ اگر وہ گرم ہو جائے تو بری طرح سے پھٹ کر آگ لگا سکتی ھے/ حادثے کا باعث بن سکتی ھے۔
لیتھیئم بیٹری میں جو BMS ہوتا ہے اس کے کام میں سے ایک سیلز کا درجہ حرارت دیکھنا بھی ہے اور ایک خاص درجہ حرارت سے اوپر جا کر وہ بیٹری کو shut down mode میں لے جاتا ھے۔

اگر NMC بیٹری ہیے تو اس کے سیل کا درجہ حرارت 40 ڈگری C سے اپر نہیں جانا چاہئے۔
اگر LFP بیٹری ہیے تو 60 ڈگری C تک بھی برداشت کر سکتا ہے۔

✓ باقی۔۔۔ ظاہر ھے لیتھیم بیٹری اپنی بہترین خصوصیات باعث لیڈ ایسڈ بیٹری سے تقریباً 2-3 گنا مہنگی ھے۔مگر اسکی زندگی لیڈ ایسڈ سے 4 سے 5 گنا زیادہ ہوتی ہیے اس لیے اس کی قیمت لیڈ ایسڈ سے 2ـ3 گنا ہونے کے باوجود یہ long run میں سستی ہی پڑتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپر جہاں بھی لیتھیم بیٹری کا ذکر کیا ھے وہاں بریکٹ میں NMC اور LFP کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ یہ دراصل لیتھیم بیٹریوں کی اقسام ہیں۔
انکی وضاحت مندرجہ ذیل ھے۔

لیتھیم بیٹری کی 6 مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
1) Lithium nickel manganese cobalt or NMC battery
1۔ لیتھیم نکل مینگنیز کوبالٹ بیٹری
2) Lithium Iron Phosphate battery or LiFePhO4 or simply LFP battery
2۔ لیتھیم فاسفیٹ بیٹری

3) Lithium cobalt oxide or LCO battery
3۔ لیتھیم کوبالٹ آکسائیڈ بیٹری

4) Lithium nickel cobalt Aluminium oxide or NCA battery
4۔ لیتھیم نکل کوبالٹ ایلومینیئم آکسائیڈ بیٹری

5) Lithium manganese oxide or LMO battery
5۔ لیتھیم میگنیز آکسائیڈ بیٹری

6) Lithium titanium oxide or LTO battery
6۔ لیتھیم ٹائٹینیم آکسائیڈ بیٹری۔

اوپر بیان کی گئی لیتھیم بیٹریوں کی اقسام میں سے اب 2 اقسام کی بیٹریاں ہی زیادہ مستعمل اور مقبول ہیں۔
1۔ لیتھیم نکل مینگنیز کوبالٹ بیٹری یعنی NMC
2۔ لیتھیم فاسفیٹ بیٹری یعنی LFP

اچھا جی۔۔۔۔ ان دونوں لیتھیم بیٹریوں میں بھی پھر آگے پھر 2 اقسام کی بیٹریاں ہیں۔
1۔۔ ایسی بیٹریاں جن میں pouch cells یعنی تھیلا نما سیل ہوتے ہیں۔ یہ بیٹریاں سستی ہوتی ہیں اور زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔
2۔۔ دوسری قسم prismatic کہلاتی ہیں۔ یہ ٹھوس سیل سے بنی ہوتی ہیں۔

۔ ہائیبرڈ گاڑیوں میں بیٹریوں کا استعمال:
پرانی hybrid کاروں میں NiMH یعنی Nickel metal hydride بیٹری استعمال ہوتی تھی جیسے کہ Toyota Aqua وغیرہ میں۔ مگر اب ماڈرن کاروں میں NMC بیٹری ہی استعمال ہوتی ھے۔

قسط نمبر 9​سولر پینلز سے بھرپور بجلی حاصل کرنے کا طریقہ: سمت اور زاویے کی اہمیت​اگر بہترین کوالٹی کے پینلز، ٹاپ انورٹر ا...
27/04/2026

قسط نمبر 9
​سولر پینلز سے بھرپور بجلی حاصل کرنے کا طریقہ: سمت اور زاویے کی اہمیت
​اگر بہترین کوالٹی کے پینلز، ٹاپ انورٹر اور معیاری وائرنگ کے باوجود آپ کا سولر سسٹم پوری بجلی پیدا نہیں کر رہا، تو اس کی بنیادی وجہ پینلز کی غلط سمت یا جھکاؤ کا زاویہ (Tilt Angle) ہو سکتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ غلط تنصیب کی وجہ سے سسٹم کی کارکردگی 40 فیصد تک گر سکتی ہے۔
​درست سمت (Direction)
​پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن (Northern Hemisphere) کے لحاظ سے سولر پینلز کی بہترین کارکردگی کے لیے:
​پینلز کا رخ مکمل طور پر جنوب (South) کی طرف ہونا چاہیے۔
​جنوب کی سمت میں پینلز دن کے وسط میں سورج کی براہِ راست شعاعیں زیادہ سے زیادہ جذب کرتے ہیں۔
​اگر مجبوری ہو تو جنوب-مشرق یا جنوب-مغرب کا رخ رکھا جا سکتا ہے، مگر اس سے پیداوار میں معمولی کمی آتی ہے۔
​جھکاؤ کا زاویہ (Tilt Angle)
​پینل کو کس حد تک ترچھا رکھنا ہے، اس کا تعین آپ کے شہر کے عرض بلد (Latitude) سے ہوتا ہے۔
​سال بھر کے لیے مستقل سیٹنگ:
اگر آپ پینلز کو ایک ہی جگہ فکس رکھنا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین زاویہ آپ کے شہر کے عرض بلد کے برابر ہونا چاہیے۔
​کراچی: تقریباً 25 ڈگری
​لاہور: تقریباً 32 ڈگری
​اسلام آباد: تقریباً 34 ڈگری
​موسمی تبدیلیوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ:
اگر سٹرکچر ایڈجسٹ ہونے والا ہو، تو سال میں دو بار زاویہ تبدیل کرنا زیادہ فائدہ مند رہتا ہے:
​موسمِ گرما (اپریل تا ستمبر): سورج بلندی پر ہوتا ہے، اس لیے جھکاؤ کم رکھیں۔
​(فارمولا: عرض بلد - 15 ڈگری)
​موسمِ سرما (اکتوبر تا مارچ): سورج نیچا ہوتا ہے، اس لیے جھکاؤ زیادہ رکھیں۔
​(فارمولا: عرض بلد + 15 ڈگری)
​عرض بلد (Latitude) کیسے معلوم کریں؟
​آپ گوگل میپس یا کسی بھی موسمیاتی ویب سائٹ پر اپنے شہر کا نام لکھ کر اس کا عرض بلد آسانی سے معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک ذمہ دار انسٹالر ہمیشہ ان پیمائشوں کو مدنظر رکھ کر ہی سسٹم نصب کرتا ہے تاکہ صارف کو انویسٹمنٹ کا بھرپور فائدہ ملے۔

سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہت...
19/04/2026

سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہترین کارکردگی بڑھانے کے حوالے سے چند ایسی زبردست باتیں بتائی جائیں گی جو عام طور پر سولر سسٹم انسٹال کرنے والے بھی نہیں بتاتے:
1: پینلز کی دھلائی کا بہترین وقت:
سولر پینلز کو کبھی بھی تپتی دھوپ میں ٹھنڈے پانی سے نہ دھوئیں، اس سے پینلز کے شیشوں میں مائیکرو کریکس آ سکتے ہیں جو وقتی طور پر تو نظر نہیں آتے پر جلدی ہی پینلز کی کارکردگی کو متاثر کر دیتے ہیں۔ صفائی کا بہترین وقت صبح سویرے یا سورج ڈھلنے کے بعد ہے جب پینلز مکمل ٹھنڈے ہوں۔
2: ڈش واشنگ مائع (Dish Soap) کا استعمال:
صرف پانی سے پینلز کی چکنائی اور جمی ہوئی مٹی صاف نہیں ہوتی۔ پانی میں تھوڑا سا برتن دھونے والا صابن ملائیں، اس سے پینل کا شیشہ بالکل شفاف ہو جائے گا اور بجلی کی پیداوار 10% سے 15% تک بڑھ جائے گی۔
3: بیٹری واٹر لیول اور ٹرمینلز:
اگر آپ بیٹری استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ٹرمینلز پر پٹرولیم جیلی یا تبت کریم لگا کر رکھیں تاکہ کاربن نہ جمے۔ کاربن بجلی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور بیٹری جلدی چارج نہیں ہوتی اور ہم سولر سے مکمل فائدہ نہیں حاصل کر پاتے۔
4: ارتھنگ (Earthing) کا جادو:
اپنے سولر اسٹینڈ اور انورٹر کو پراپر ارتھ کروائیں۔ یہ نہ صرف آسمانی بجلی سے بچاتا ہے بلکہ سسٹم میں موجود اسٹیٹک چارج کو ختم کر کے انورٹر کی لائف اور کارکردگی بڑھاتا ہے۔ جو کہ بہترین کارکردگی اور سولر لائف کیلئے اہم ہوتا اسے آج ہی کروائیں۔
5: شیڈو آڈٹ (Shadow Audit):
دن کے کسی بھی حصے میں اگر پینل کے ایک کونے پر بھی کسی چھوٹی سی تار یا انٹینا کا سایہ پڑ رہا ہے، تو وہ پورے پینل کی کارکردگی آدھی کر دیتا ہے۔ یقینی بنائیں کہ صبح 9 سے شام 4 بجے تک پینلز پر زیرو شیڈو ہو۔ کسی چیز کا ہلکا سا بھی سایہ نہ ہو۔ یہ بہت بڑی بات ہے اسے ذہن نشین کرلیں۔
6: ہیوی لوڈ کا ٹائم ٹیبل:
سولر سسٹم پر استری، موٹر یا اے سی چلانے کا بہترین وقت وہ ہے جب سورج سوا نیزے پر ہو یعنی صبح 11 سے دوپہر 3 بجے۔ اس وقت بجلی براہِ راست پینل سے استعمال ہوتی ہے اور بیٹری پر بوجھ نہیں پڑتا۔ اور بیٹریاں زیادہ لمبا عرصہ چلتی ہیں۔
7: انورٹر سیٹنگز (Load Management):
اپنے انورٹر کی سیٹنگز میں Battery Cut-off وولٹیج کو تھوڑا اوپر رکھیں۔ بیٹری کو کبھی بھی 100% خالی نہ ہونے دیں، اس سے بیٹری کی زندگی دوگنی ہو جاتی ہے اور وہ بجلی زیادہ تیزی سے اسٹور کرتی ہے۔ یہ بہت بڑی سیٹنگ ہے اس لازمی اپلائی کریں۔
8: تاروں کی لمبائی اور موٹائی:
سولر پینلز سے انورٹر تک کی تار جتنی لمبی ہوگی، اتنی بجلی ضائع (Voltage Drop) ہوگی۔ ہمیشہ کم سے کم فاصلہ رکھیں اور تار کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کریں، ہمیشہ Pure Copper کی تار استعمال کریں۔
9: انورٹر کی جگہ کا انتخاب:
اکثر لوگ انورٹر کو دھوپ میں یا بند الماری میں لگا دیتے ہیں۔ انورٹر جتنا ٹھنڈا رہے گا، اتنی بہتر کارکردگی دے گا۔ اسے ہمیشہ ہوادار اور سایہ دار جگہ پر لگائیں۔ اگر انورٹر بہت گرم ہو رہا ہے تو اس کے پاس ایک چھوٹا سا ایگزاسٹ فین لگا دیں۔
پرو ٹپ: اگر آپ کے پینلز کے نیچے بہت زیادہ گرمی جمع ہوتی ہے، تو اسٹینڈ کی اونچائی تھوڑی بڑھا دیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔ پینلز جتنے ٹھنڈے رہیں گے، اتنے زیادہ وولٹیج پیدا کریں گے۔
اگر آپ سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں تو ان باتوں کو لازمی فالو کریں انشاءاللہ دگنا فائدہ ہوگا سسٹم سے!
اس معلومات کو آگے ضرور شئیر کریں تاکہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ کسی کا فائدہ کرنا صدقہ جاریہ ہوتا۔

‏ماضی قریب میں بہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے گھروں پر سولر سسٹم لگائیں ہیں۔ جن میں سے 90فیصد لوگوں نے اپنے استعمال کی بقدر...
17/04/2026

‏ماضی قریب میں بہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے گھروں پر سولر سسٹم لگائیں ہیں۔ جن میں سے 90فیصد لوگوں نے اپنے استعمال کی بقدر جتنا ہی سسٹم لگوایا ہوا ہے ، جس کا وہ فائدہ مکمل چاہتے ہیں۔ ایسے میں بہت سارے لوگوں کی شکایات یہ ہیکہ بیٹری کا بیک اپ نہیں ہے ۔ یہ بلکل چھوٹے سسٹم 1.2 /1.5 /2.5 کلو سسٹم کی بات کررہا ہوں۔

بیٹری بیک اپ کیوں نہیں دے رہی ..؟ یا آپکو بیٹری سے فائدہ اٹھانا نہیں آیا

آئیے پہلے اس تناظر میں مختلف غلطیوں کی نشاندہی کرلیتے ہیں۔

کچھ لوگ 12وولٹ سسٹم ( کچھ جاہل 12واٹ پڑھتے سمجھتے ہیں) پر لگی سنگل بیٹری کا ریپ کردیتے ہیں ، یعنی سنگل بیٹری جو کہ ایک خاص ایمپئیر کے تحت ڈسچارج ہوتی ہے۔ اس پر بے جا لوڈ ڈال کر اس بیٹری کا گریویٹی لیول خراب کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بیٹری بیک اپ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
مثلا سنگل بیٹری کو کہ 185/200/230ایمپئیر کی ہو اس پر لوڈ میکسیمم 300واٹ ڈالنا چاہئے ، اس طرح بیٹری سے حاصل شدہ بیک اپ تین گھنٹے 30منٹ تک ضرور ہوگا ...
لیکن لوگ اس میں احتیاط نہیں کرتے

دوسرے نمبر پر کی جانے والی غلطی ، بیٹری کو زیادہ ایمپئیر سے چارج کرنا ، ( یاد رہے بیٹری ڈی سی ایمپئیر سے چارج ہوتی ہے۔
اگر نارمل بیٹری ہو تو 20 ایمپئیر بہت ہیں ، اگر ٹال ٹیوبلر بیٹری ہو تو 30ایمپئیر بہت ہیں۔ پر میں 25ایمپئیر سے چارج کرتا ہوں یا پسند کرتا ہوں....
زیادہ ایمپئیر سے چارج کرنے پر بھی بیٹری ہیلتھ پر کافی فرق پڑتا ہے۔

اس پیرا گراف کو اچھی طرح پڑھیں اور سمجھیں 👇

انورٹر میں چارجنگ کے حوالے سے یکے بعد دیگرے تین آپشنز آتے ہیں۔
نمبر ایک انورٹر آپکی بیٹری سے لوڈ لینا کب بند کردے ...؟ اسے آپ 11وولٹ پر سیٹ کریں ۔ ( خدارا 😭 یوٹیوب کی ویڈیوز دیکھ کر غلط معلومات پر عمل مت کیا کریں )
دیگر آپشنز میں 11.8 / 11.5 / 11.3 / 10.0 وولٹ بھی ہوتا ہے۔
جب بیٹری کا گریویٹی لیول 11وولٹ پر آئے گا تب آپکا لوڈ بند ہوجائے گا ، اس سے بیٹری لائف لونگ لاسٹنگ چلتی ہے۔

نمبر 2 آپکا انورٹر کب بیٹری کو چارج کرنا دوبارہ سے شروع کردے ، یعنی کہ جب بیٹری ایک مخصوص وولٹ پر آتی ہے تب انورٹر اسے سولر سے حاسل شدہ کرنٹ ، یا کے الیکٹرک کی سپلائی کر کرنٹ سے دوبارہ بیٹری چارج کرنا شروع کردیتا ہے۔
اسے آپ 12.8وولٹ پر سیٹ کریں۔
دیگر آپشنز میں 12.5 / 12.3 / 12.0 / 11.8 / 11.5 / 11.0 ہوتا ہے۔
دن کے وقت جب سولر سے انورٹر چارجنگ کررہا ہوتا ہے تو سورج کا دوسرا پہر اس سیٹنگ میں غلطی کئے جانے پر ، ضائع جاتا ہے ،
سورج کا پہلا پہر صبح 9بجے سے دوپہر ایک بجے تک کا وقت بیٹری کو مکمل چارج کردیتا ہے ، کیونکہ عموماً بیٹری تین سے چار گھنٹے میں مکمل چارج ہوجاتی ہے۔ دوپہر ایک بجے سے انورٹر بیٹری بیک اپ موڈ پر آگے لوڈ سپلائی جاری رکھتا ہے ، اسی وجہ اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہیکہ انکا سسٹم رات کو بیک اپ نہیں دیتا ، دیگا بھی کیسے ..؟ اسکا بیک اپ موڈ 1بجے سے چل رہا ہوتا ہے ، جب کہ سورج شام 5بجے تک کچھ نہ کچھ تپش رکھتا ہے اپنے اندر ، لیکن غلط سیٹنگ کی وجہ سے چارج نہیں کرتا انورٹر

نمبر 3 ، انورٹر آپکی بیٹری کو کتنا چارج کرے کہ دوبارہ وہ بیک اپ موڈ پر چلنا شروع ہوجائے ،
اگر لیڈ ایسڈ بیٹری ہو تو وہ 14.0 وولٹ پر مکمل چارج ہوجاتی ہے ، جب کہ ٹیوبلر 14.5 ( FULL) مکمل چارج ہوجاتی ہے۔
یاد رہے یہ چارج فلوٹنگ وولٹ کہلاتے ہیں ۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ اب بیٹری چونکہ 14.5 پر آچکی اب اسی حساب سے نیچے آئے گی ، انکے دماغ کے مطابق 14.4 آئے گا ، پھر 14.3 ایسا نہیں ہوتا ، جب انورٹر چارجنگ فلوٹ موڈ سے ہٹتا ہے تو سیدھا 12.8وولٹ پر آکر رکتا ہے۔
پھر یہاں سے ایک گھنٹے ( یا لوڈ کے حساب سے ) بعد ایک ایک پوائینٹ کم ہونا شروع ہوتے ہیں۔ مثلا پہلے 12.8 / 12.7 / 12.6 /12.5 یہاں تک کہ یہ 11.0 وولٹ تک گرتے ہیں۔
12.8سے لیکر 11.0 وولٹ تک آپکی بیٹری ٹائمنگ شمار ہوتی ہے۔ اب جتنی چھوٹی بیٹری ہوگی ، اتنے تیزی سے نمبر کم ہونا شروع ہونگے ، جتنی بڑی بیٹری ہوگی اتنی دیر سے میٹر پر نمبرات کم ہونا شروع ہونگے ،
میرا لوڈ چونکہ 100/150واٹ کے درمیان چل رہا ہوتا ہے ، اور بیٹری 230ایمپئیر کی ہے ، جبھی ایک گھنٹے میں ایک پوائنٹ یا زیادہ سے زیادہ 2 پوائنٹ گرتے ہیں۔

اس طرح سولر موجود ہونے کی صورت میں آپکا سیٹپ صبح 8بجے سے لیکر رات 1بجے تک چلے گا ( لوڈ پر منحصر ہے)
اگر آپکا سسٹم ، یا آپکے سسٹم میں لگی بیٹری آپکو فائدہ نہیں دے رہی تو لازما اس چیز کو چیک کریں۔ شکریہ

پوسٹ اگر آپکو مکمل سمجھ آگئی ہو تو اسے اپنے دوستوں یاروں جاننے والو کیساتھ ضرور شئیرکریں

Address

Main Bazar Shahpur City
Sargodha
40610

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:01
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-MARJAN Solar & Invertors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category