22/05/2026
پاکستان کا پاور سیکٹر اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دو دہائیوں پرانا IPP ماڈل آہستہ آہستہ ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سولر انرجی ایک خاموش انقلاب کی طرح پورے نظام کو بدل رہی ہے۔ وہی حکومت جو کبھی مہنگے پاور پلانٹس اور Capacity Payments کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی، آج انہی IPPs کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کر رہی ہے، معاہدے تبدیل کروا رہی ہے اور کئی منصوبوں کو مرحلہ وار سسٹم سے باہر نکالنے کی تیاری میں ہے۔ لیکن اس پوری جنگ کا سب سے حساس اور اہم محاذ چینی IPPs ہیں، کیونکہ وہ صرف پاور پلانٹس نہیں بلکہ سی پیک اور پاک چین اسٹریٹجک تعلقات کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ 2002 اور بعد ازاں 2012 کی انرجی پالیسیوں سے شروع ہوا، جب پاکستان نے بجلی کی قلت ختم کرنے کے لیے نجی پاور کمپنیوں کو انتہائی پرکشش معاہدے دیے۔ ان معاہدوں کے تحت حکومت نے IPPs کو Capacity Payments کی مکمل ضمانت دی۔ یعنی بجلی خریدی جائے یا نہ خریدی جائے، حکومت کو ادائیگی ہر صورت کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ڈالر انڈیکسڈ ریٹس، بلند Return on Equity اور منافع کی مکمل بیرون ملک منتقلی نے ان منصوبوں کو سرمایہ کاروں کے لیے سونے کی کان بنا دیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی ماڈل پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا مالیاتی بوجھ بن گیا۔
سی پیک کے بعد 2016 سے چینی IPPs کی بڑی تعداد پاکستان میں داخل ہوئی۔ ان منصوبوں نے لوڈشیڈنگ کم کرنے میں اہم کردار ضرور ادا کیا، مگر ان کے معاہدے بھی Capacity Payments اور ڈالر انڈیکسڈ فارمولوں پر مبنی تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے اوپر صرف چینی پاور کمپنیوں سمیت مختلف IPPs کے تقریباً 500 ارب روپے واجبات کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اب بیجنگ کے ساتھ مل کر ان معاہدوں پر نظرثانی کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی حکومت چاہتی ہے کہ چینی IPPs بھی دیگر پاور کمپنیوں کی طرح اپنے نرخ نرم کریں، Capacity Payments کم کریں اور ادائیگیوں کے نئے شیڈول پر آمادہ ہوں۔ بعض رپورٹس کے مطابق کئی چینی کمپنیوں کے ساتھ ابتدائی سطح پر بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ کچھ منصوبوں میں Return on Equity اور آپریشنل اخراجات پر نظرثانی بھی زیر غور ہے۔ تاہم چین اس معاملے کو صرف کاروباری نہیں بلکہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے تناظر میں دیکھتا ہے، اسی لیے مذاکرات انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔
ادھر حکومت نے متعدد پرانے IPPs کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت بھی حاصل کی ہے۔ کئی فرنس آئل پاور پلانٹس نے کم نرخ قبول کیے، کچھ نے اپنے آپریشن محدود کیے، جبکہ بعض منصوبے Early Settlement کے ذریعے مرحلہ وار سسٹم سے باہر نکلنے پر آمادہ ہوئے۔ اندازوں کے مطابق ایک درجن سے زائد پرانے IPPs اب نظرثانی شدہ نرخوں پر بجلی فروخت کر رہے ہیں، جبکہ کئی مہنگے منصوبے عملی طور پر اپنی اہمیت کھوتے جا رہے ہیں۔
لیکن اصل دھچکا IPP ماڈل کو “سولر انقلاب” نے دیا ہے۔ چند برس پہلے تک پاکستان مکمل طور پر قومی گرڈ اور IPPs پر انحصار کرتا تھا، مگر اب لاکھوں گھروں، فیکٹریوں، مارکیٹوں اور زرعی ٹیوب ویلز نے سولر سسٹمز لگا لیے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دن کے اوقات میں گرڈ کی طلب کم ہونا شروع ہو گئی، جبکہ حکومت اب بھی IPPs کو Capacity Payments دینے پر مجبور ہے۔ یعنی عوام کم بجلی خرید رہے ہیں مگر حکومت کو پاور پلانٹس کو ادائیگی پھر بھی کرنا پڑ رہی ہے۔
یہی وہ مقام تھا جہاں حکومت کو اندازہ ہوا کہ اگر سولر کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں روایتی IPP ماڈل غیر متعلق ہوتا جائے گا۔ اسی لیے اب نئی سولر پالیسی، Net Metering قوانین اور IPPs کے معاہدوں پر بیک وقت کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت ایک طرف مہنگے Capacity Payment والے پلانٹس سے جان چھڑانا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف سولر کو مکمل طور پر اتنا آزاد بھی نہیں چھوڑنا چاہتی کہ قومی گرڈ مالی طور پر بیٹھ جائے۔
فی الحال عوام کے لیے 9 روپے فی یونٹ بجلی فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ بجلی کے بل میں صرف پیداواری لاگت نہیں بلکہ ٹیکسز، لائن لاسز، گردشی قرضہ اور ترسیلی اخراجات بھی شامل ہیں۔ لیکن اگر حکومت چینی IPPs سمیت بڑے منصوبوں کے معاہدوں میں کامیاب نظرثانی کر لیتی ہے، سولر اور ہائیڈرو کا حصہ بڑھتا ہے، اور مہنگے فرنس آئل پلانٹس مرحلہ وار ختم ہوتے ہیں تو آنے والے برسوں میں بجلی کی قیمت میں واضح کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
یوں پاکستان کا توانائی نظام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ایک طرف دو دہائیوں پرانا IPP ماڈل آہستہ آہستہ کمزور ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف سورج کی روشنی پہلی بار ریاست، گرڈ اور پاور کمپنیوں کے روایتی نظام کو چیلنج کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
منقول