LASANI TECHNICAL SERVICES

LASANI TECHNICAL SERVICES A Team of Experienced Professionals, Providing Services in Electrical Engineering, Execution, Operat

02/01/2025
16/09/2024

تمام اہل اسلام کو جشن عید میلاد النبی ﷺ بہت بہت مبارک

13/07/2024

آدمی عورت سے محبت کرتا ہے جبکہ عورت اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے, اس بات کی مکمل سمجھ مجھے اس رات آئی, یہ کچھ سال قبل کی موسمِ بہار کی ایک رات تھی. میری شادی ہوئے چند سال ہو گئے تھے۔ اور بڑا بیٹا قریب ایک برس کا رہا ہوگا.

* اس رات کمرے میں تین لوگ تھے, میں, میرا بیٹا اور اس کی والدہ! تین میں سے دو لوگوں کو بخار تھا, مجھے کوئی ایک سو چار درجہ اور میرے بیٹے کو ایک سو ایک درجہ. اگرچہ میری حالت میرے بیٹے سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ تاہم میں نے یہ محسوس کیا کہ جیسے کمرے میں صرف دو ہی لوگ ہیں, میرا بیٹا اور اسکی والدہ.*

بری طرح نظر انداز کیے جانے کے احساس نے میرے خیالات کو زیروزبر تو بہت کیا لیکن ادراک کے گھوڑے دوڑانے پر عقدہ یہی کھلا کہ عورت نام ہے اس ہستی کا کہ جب اسکو ممتا دیت کر دی جاتی ہے تو اس کو پھر اپنی اولادکے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا. حتیٰ کہ اپنا شوہر بھی اور خاص طورپر جب اسکی اولاد کسی مشکل میں ہو.اس نتیجہ کے ساتھ ہی ایک نتیجہ اور بھی نکالا میں نے اور وہ یہ کہ *اگر میرے بیٹے کے درد کا درمان اسکی کی والدہ کی آغوش ہے تو یقینا میرا علاج میری ماں کی آغوش ہو گی.*

*اس خیال کا آنا تھا کہ میں بستر سے اٹھا اور ماں جی کے کمرہ کی طرف چل پڑا. رات کے دو بجے تھے پر جونہی میں نے انکے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے میرا ہی انتظار کر رہی ہوں. پھر کیا تھا, بالکل ایک سال کے بچے کی طرح گود میں لے لیا۔ اور توجہ اور محبت کی اتنی ہیوی ڈوز سے میری آغوش تھراپی کی کہ میں صبح تک بالکل بھلا چنگا ہو گیا.*

*پھر تو جیسے میں نے اصول ہی بنا لیا جب کبھی کسی چھوٹے بڑے مسئلے یا بیماری کا شکار ہوتا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سیدھا مرکزی ممتا شفا خانہ برائے توجہ اور علاج میں پہنچ جاتا.* وہاں پہنچ کر مُجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بس میری شکل دیکھ کر ہی مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا جاتا. میڈیکل ایمرجنسی ڈیکلئر کر دی جاتی. مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ماں جی ) کے ہی بستر پر لٹا دیا جاتا اور انکا ہی کمبل اوڑھا دیا جاتا, کسی کو یخنی کا حکم ہوتا تو کسی کو دودھ لانے کا, خاندانی معالج کی ہنگامی طلبی ہوتی, الغرض توجہ اور محبت کی اسی ہیوی ڈوز سے آغوش تھراپی ہوتی اور میں بیماری کی نوعیت کے حساب سے کبھی چند گھنٹوں اور کبھی چند پہروں میں روبہ صحت ہو کر ڈسچارج کر دیا جاتا.
یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ قبل تک جاری رہا۔ وہ وسط نومبر کی ایک خنک شام تھی, جب میں فیکٹری سے گھر کیلئے روانہ ہونے لگا تو مجھے لگا کہ مکمل طور پر صحتمند نہیں ہوں, تبھی میں نے آغوش تھراپی کروانے کا فیصلہ کیا اور گھر جانے کی بجائے ماں جی کی خدمت میں حاضر ہو گیا, لیکن وہاں پہنچے پر اور ہی منظر دیکھنے کو ملا. ماں جی کی اپنی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی پچھلے کئی روز سے چل رہیے پھیپھڑوں کے عارضہ کے باعث بخار اور درد کا دور چل رہا تھا۔

میں خود کو بھول کر انکی تیمارداری میں جت گیا, مختلف ادویات دیں, خوراک کے معروف ٹوٹکے آزمائے. مٹھی چاپی کی, مختصر یہ کہ کوئی دو گھنٹے کی آؤ بھگت کے بعد انکی طبیعت سنبھلی اور وہ سو گئیں. میں اٹھ کر گھر چلا آیا. ابھی گھر پہنچے آدھ گھنٹہ ہی بمشکل گذرا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی, دیکھا تو چھوٹے بھائی کا نمبر تھا, سو طرح کے واہمے ایک پل میں آکر گزر گئے. جھٹ سے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی پوچھا, بھائی سب خیریت ہے نا, بھائی بولا سب خیریت ہے وہ اصل میں ماں جی پوچھ رہی ہیں کہ آپکی طبیعت ناساز تھی اب کیسی ہے……

........ اوہ میرے خدایا…

اس روزمیرے ذہن میں ماں کی تعریف مکمل ہو گئی تھی۔ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ,اپنا آپ بھی بھول جاتی ہے.

*والدین کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ ہم سے جدا ہو جائیں*

11/07/2024

شوہر کہتے ہیں: میں تین دن کے مشن پر سفر کر گیا، اور جیسے ہی میں دوسرے ملک پہنچا، میں نے اپنی بیوی اور بیٹے کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا کیونکہ میں ان سے دوری کا عادی نہیں تھا، اور وہ میری غیر موجودگی کے عادی نہیں تھے۔ میری شادی کو تین سال ہوئے تھے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے میری کال کا جواب نہیں دیا۔

تین دن گزر گئے اور میرا فون میرے ہاتھ سے نہیں ہٹا، میں بغیر مبالغہ ہر پندرہ منٹ یا آدھے گھنٹے بعد کال کرتا رہا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں پاگل ہو گیا اور میں نے اپنے بھائی اور بہن سے کہا کہ وہ میری چھوٹی فیملی کی خیریت معلوم کریں، انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ سب ٹھیک ہے، لیکن مجھے ان پر یقین نہیں آیا۔ پھر میں نے اپنی ساس کو فون کیا، انہوں نے بھی یقین دلایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ان کی کال کا انتظار کر رہا ہوں لیکن میرا انتظار طویل ہو گیا اور کسی نے فون نہیں کیا۔

تین دن تین لمبے مہینوں کی طرح گزر گئے اور میں اندر ہی اندر غصے سے بھر رہا تھا، کبھی حیرت زدہ ہوتا اور وجہ جاننے کی کوشش کرتا، اور اکثر اوقات مجھے خوفناک وسوسے گھیر لیتے۔

دن گزر گئے اور میں اپنے وطن واپس آگیا۔ جیسے ہی میرے قدم وطن کی سرزمین پر پہنچے، میں فوراً گھر پہنچا۔ خوف کے مارے کبھی دروازہ اپنے ہاتھ سے بجایا اور کبھی گھنٹی بجائی یہاں تک کہ میری بیوی نے دروازہ کھولا۔ حیرت کی شدت سے، وہ پوری طرح سے سجی سنوری تھی اور اس نے مجھے بڑے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔

اس کے پیچھے میرا بچہ تھا جس کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ وہ دوڑتا ہوا آیا اور میں وجہ نہیں جان سکا۔ جلد ہی میرا غصہ حیرت کی جگہ لینے لگا۔

میں نے اپنی بیوی سے اس نظرانداز کرنے کی وجہ پوچھی، میں تقریباً اپنا سفر منقطع کر کے واپس آنے والا تھا کیونکہ شکوک و شبہات مجھے ہر طرف لے جا رہے تھے۔
میری بیوی نے انتہائی سکون سے جواب دیا، "کیا آپ نے اپنی والدہ سے بات کی؟" میں نے جواب دیا اور کچھ سمجھ نہیں آیا، "شاید نہیں، نہیں، میں نے اپنی والدہ سے بات نہیں کی۔"

اس نے کہا، "تو آپ نے دیکھا کہ ان دنوں آپ کے دل کا احساس کیسا تھا، وہی احساس آپ کی والدہ کا ہوتا ہے جب آپ دنوں تک انہیں فون نہیں کرتے اور ان کی آواز نہیں سنتے، سوائے اس کے جب وہ خود آپ کو فون کریں۔ شوق انہیں تنگ کرتا ہے، اور یادیں انہیں گھیر لیتی ہیں، اور وسوسے انہیں آتے ہیں اگر آپ لمبے عرصے تک رابطہ نہ کریں۔ میں نے آپ کو بہت سمجھانے کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، اس لیے میں نے اس پیغام کو پہنچانے کا یہ طریقہ اختیار کیا، میرے پیارے شوہر۔"

میں نے شرم سے اپنا سر جھکا لیا اپنی بیوی کے سامنے جو عقلمند تھی عمر میں چھوٹی لیکن عقل میں بڑی، اور میں نے سبق اچھی طرح سمجھ لیا۔ اس نے مجھے میری کار کی چابی دی اور میرے کان میں سرگوشی کی، "تمہاری جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔"

میں اپنی پہلی محبت، اپنی ماں کے پاس چلا گیا، اس کے بعد کہ میری عقلمند بیوی نے مجھے ایک سبق سکھایا جو میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ میں اس کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے غفلت سے جگایا۔ میری ماں اور آپ کی مائیں، ہماری دنیا کی جنت ہیں، انہیں ایک دن کی کال سے بھی نہ بھولیں، یہ کم از کم ہے۔ ان کے دل ہمارا انتظار کرتے ہیں، ہماری دعا کرتے ہیں، اور ہر وقت ہمارے بارے میں سوچتے ہیں۔ ان کے نرم دل اور محبت انہیں بار بار ہمیں فون کرنے سے روکتی ہے تاکہ ہمیں تنگ نہ کریں۔

04/07/2024

دو عورتیں آفس میں ایک دوسرے سے بات چیت اسطرح کر رہی تھی....
"میری تو کل شام اچھی گزری"
آپ کی کیسی رہی؟ بہت بری, میرے میاں گھر آئے تین منٹ میں کھانا کھایا اور سوگے. تمہارے ساتھ کیا ہوا؟
پہلی عورت "بہت ہی زبردست! میرے میاں گھر آئے, وہ مجھے کھانے کےلیے باہر لے گئے کھانے کےبعد ہم نے لمبی واک کی جب ہم گھر آئے تو ہم نے سارے گھر کو کینڈل سے روشن کیا. یہ سب بالکل خواب سا لگ رہا تھا"

دوسری طرف ان دونوں کے شوہر آفس میں آپس میں بات کر رہے تھے,
میاں نمبر ون: دوسرے سے "آپکی شام کیسی گزری؟
میاں نمبر ٹو: " بہت اچھی, میں گھر گیا کھانا میز پر تھا کھایا اور سو گیا. آپ سناؤ؟
میاں نمبر ون: بہت مشکل تھی یار! میں گھر گیا کھانا بھی نہیں پکا تھا کیونکہ میں نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا تھا تو گھر کی بجلی کٹی ہوئی تھی پھر مجھے باہر کھانے کےلیے بیوی کو لے جانا پڑا. کھانے کا بل اتنا زیادہ بنا تھا کہ واپس گھر آنے کےلیے کرایہ ہی نہیں بچا تھا.
تو پھر ہمیں گھنٹوں چل کر آنا پڑا.
جب گھر آئے تو سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا تو روشنی کےلیے موم بتیاں جلانی پڑیں!!"

سبق:
"حقیقت چاہے کچھ بھی ہو پیش کرنے کا انداز اعلی ہونا چاہے"

01/07/2024

‏موٹیویشنل سپیکرز scam ہیں۔

ادارہ ہذا اس سارے آئیڈیا ہی کے خلاف ہے کہ آپ کسی شخص کے چند گھنٹے کے لیکچرز سن کر ایک کامیاب زندگی گزارنا شروع کردیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ اور کامیابی کے درمیان بس چند گھنٹے کی تقریروں کا خلیج ہے؟ جب آپ وہ تقاریر سن لیں گے تو پھر آپ بدل جائیں گے؟ آپ کو چودہ ، سولہ ، اٹھارہ سال کی تعلیم نہیں بدل سکی آپ کو ایک پورا معاشرہ نہیں بدل سکا تو محض چند گھنٹے کسی دانشور کو سن لینے سے سب اچھا ہوجائے گا؟

یہ ممکن نہیں ہے۔ موٹیویشنل سپیکرز بالخصوص ہمارے معاشرے کے موٹیویشنل سپیکرز فراڈ ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان تمام نام نہاد سپیکرز میں سے کوئی ایک بھی کسی بڑے بزنس وینچر کا مالک نہیں۔ کسی بھی شخص نے کسی بہت بڑی کمپنی کی بنیاد نہیں رکھی۔ کسی نے سوسائٹی کو ہزاروں نوکریاں پیدا کرکے نہیں دیں۔ ان سپیکرز کی اکثریت اپنے رزق کے لیے یوٹیوب ویڈیوز ، پاڈ کاسٹس اور کتابیں بیچنے کا سہارا لیتی ہے۔ آپ کو خواب بیچ کر اپنا گھر چلاتے ہیں۔

اس پوسٹ کو پڑھنے والوں کی اکثریت مڈل کلاس ہوگی۔ یعنی جن کے پاس ذاتی گھر یا ذاتی گاڑی کی سہولت میسر نہ ہوگی۔ اعداد وشمار کے مطابق آپ کی اکثریت کوئی ارب پتی یا کھرب پتی بھی نہیں بننے والی۔ چند ایک امیر ، امیر تر اور امیر ترین ہوجائیں گے۔ باقی یونہی زندگی گھسیٹتے رہیں گے۔ آپ زرا پڑھے لکھے لوگ ہیں جو یہاں تک آئے ہیں۔ پاکستان میں اکثریت لوئر مڈل اور غریب طبقات کی ہے۔ جن کی اکثریت تاریخ اور اعداد و شمار کے تناظر میں جس کلاس میں پیدا ہوئی اسی میں مر جائے گی۔ یعنی آپ کی زندگی اسی معاشی کلاس میں گزرنے کے امکانات زیادہ ہیں اپنے سے اگلی کلاس میں جانے کے امکانات کم۔

اب دیکھنا کیا ہے؟ کیا پچیس کروڑ میں سے بیس کروڑ کامیاب بزنس مین بن جائیں گے؟ کوئی نیا آئیڈیا بیچنا شروع کردیں گے؟ اپنی زندگیوں میں معاشی انقلاب برپا کردیں گے؟ نہیں۔ اصل موٹیویشن کی یہاں ضرورت ہے۔ کہ ان محدود وسائل کیساتھ آپ نے اپنی زندگی خوشیوں سے کیسے بھرنی ہے۔ آپ نے طے کرنا ہے کہ کیا آپ اپنی زندگی حسرتوں اور مایوسیوں سے عبارت کریں گے یا پھر انہی وسائل کے اندر اپنی ترجیحات طے کریں گے۔ فرصت میں کتاب پڑھیں گے ، فلم دیکھیں گے ، کسی سپورٹس میں دلچسپی لیں گے اپنی زندگی کو خود خوبصورت بنائیں گے۔

جو سپیکر آپ کو محدود وسائل کے اندر رہ کر زندگی کی رنگینیوں سے روشناس کروائے وہ آپ کا موٹیویشنل سپیکر ہے۔ جو زندگی کی خوبصورتیوں کی طرف توجہ دلائے وہ آپ کا موٹیویشنل سپیکر ہے۔ جو آپ کو پیسے کمانے کی دوڑ کے پیچھے لگا رہا ہے وہ آپ کو خواب بیچ کر اپنا چولہا جلا رہا ہے۔

زندگی پیسوں کی دوڑ کا نام نہیں ہے۔ زندگی بڑے گھر یا بڑی گاڑی کی دوڑ نہیں ہے۔ اگر آپ مہینے میں ایک کتاب نہیں پڑھتے ، ہفتے میں ایک فلم نہیں دیکھتے ، عمر کے جس بھی حصے میں ہیں کسی ایک کھیل میں شامل ہونے کی دلچسپی نہیں رکھتے ، مہینے میں ایک دفعہ اپنی فیملی یا اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں گھومنے نہیں جاتے ( گھومنا ضروری نہیں کہ دوبئی یا سکردو ہی جایا جائے ) اپنے گھر سے چند منٹ یا چند گھنٹے دور کسی بھی نہر ، دریا ، سمندر ، پہاڑ کنارے آپ نہیں جارہے اور موٹیویشنل سپیکرز کو سن سن کر امیر ہونا چاہتے ہیں تو یقین کیجیے آپ کی زندگی لذتوں سے محروم ہے۔

ایسے میں آپ کی زندگی کو دنیا کا کوئی سپیکر نہیں بدل سکتا۔ کیونکہ آپ خود ہی اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش نہیں کررہے۔

29/06/2024

‏اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 7 چیزیں عوام کیلئے انتہائی مہنگی ہیں۔
*(1) بجلی*
*(2) گیس*
*(3) گاڑی*
*(4) پیٹرول*
*(5) گھر*
*(6) علاج*
*(7) سفر*
اور یہی 7 چیزیں آپ کےحکمران، بیوروکریٹس، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے بالکل فری۔۔۔!!😓😓

28/06/2024

07.01.2024
طلاق کے کاغذ
رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔

لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا: پاپا انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔

ماں نے 10 دن پہلے بول دیا: تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔
ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔ بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،
بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟

اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں"

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں، کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

19/06/2024

جُون کی انتہاء کی گرمی اور عید قربان کے موقع پر مسلمانوں نے جانوروں کو انتہائی ادب و احترام سے فریج میں رکھ کر مغربی دنیا کو یہ میسج دیا کہ ہم بھی جانوروں سے کتنی محبت کرتے ہیں 😆😃

Address

Jandiala Road Link, Near Taj Mahal Marriage Hall
Sheikhupura
39450

Opening Hours

Monday 08:00 - 21:00
Tuesday 08:00 - 21:30
Wednesday 08:00 - 21:00
Thursday 08:00 - 21:00
Friday 08:00 - 21:00
Saturday 08:00 - 21:00
Sunday 10:00 - 21:00

Telephone

+923004443734

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LASANI TECHNICAL SERVICES posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to LASANI TECHNICAL SERVICES:

Share