Motorway Petroleum and CNG Station Bakhshali Interchange
At [Motorway Petroleum Bakhshali] we strive to provide our customers with the highest quality fuel.
23/07/2026
حکومتِ پاکستان اور پٹرولیم ایسوسی ایشن کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پٹرول پمپوں کی ملک گیر ہڑتال باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
آج سے ملک بھر میں تمام پٹرول پمپ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
اس فیصلے سے عام شہریوں، مسافروں اور تمام کمرشل و ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے نقل و حرکت اور سپلائی چین مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے۔
22/07/2026
پیارے عوام، السلام علیکم!
آج سے آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا آغاز ہوچکاہے اس موقع پر عوام سے پرخلوص تعاون کی اپیل ہے، کیونکہ اس احتجاج میں اصل فائدہ بھی عوام ہی کا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر ریٹس بڑھائے جانے سے نہ صرف پیٹرول پمپ مالکان کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، بلکہ عام آدمی کی جیب پر بھی ناقابل برداشت بوجھ پڑ رہا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف 3 دنوں میں پیٹرول 16.50 روپے اور ڈیزل 51.74 روپے مہنگا ہو چکا ہے، جبکہ مہنگائی کا یہ طوفان خاموشی سے عوام کو متاثر کر رہا ہے۔
ہمارا یہ بنیادی مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ریٹس میں روزانہ ردوبدل کی بجائے مہینے میں صرف ایک بار ترمیم کی جائے۔
چونکہ آپ حالات کی مجبوری کے تحت خود کھل کر احتجاج کا حصہ نہیں بن سکتے، اس لیے کم از کم ہماری اس ہڑتال کی حمایت کریں اور اس قدم میں ہمارا ساتھ دیں، کیونکہ اس میں بالآخر آپ ہی کا فائدہ وابستہ ہے۔
شکریہ!
21/07/2026
*تمام معزز ڈیلرز حضرات سے گزارش ہے پلیز اس سٹرایک میں بھرپور طریقہ سے شامل ہونا اور اس کو کامیاب بنانا ہے یہ آخری موقع ہے*
20/07/2026
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں شامل لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 124 روپے 73 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112 روپے 65 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
18 جولائی 2026 سے نافذ ہونے والی قیمتوں کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 191 روپے 42 پیسے ہے، تاہم حکومت نے اس کی قیمت 315 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 18 روپے 16 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 6 روپے 95 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 241 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہے، جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 112 روپے 65 پیسے لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
20/07/2026
🚨 گروپ کے تمام دوستوں کے لیے اہم ترین پیغام! 🚨
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
گروپ کے تمام دوستوں سے عاجزانہ گزارش ہے:
کل شام 5 بجے، ان شاء اللہ، ہم اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اہم اعلان کرنے جا رہے ہیں۔
Government of Pakistan
20/07/2026
Ta zamung check ka Quality bya sta da zra marzi 😘😘😘👍👍
17/07/2026
محترم،
میں آپ کی توجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر مستحکم رجحان اور خاص طور پر آج ہونے والے بڑے اضافے (ڈیزل 30 روپے اور پٹرول 5 روپے) کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ قیمتوں میں یہ اچانک اور غیر متوقع ردوبدل پٹرول پمپ مالکان کے لیے شدید معاشی بحران پیدا کر رہا ہے۔
قیمتوں کا تعین اب ایک مستقل عمل نہیں رہا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیوں نے اسے "سبزی منڈی" کے نرخوں جیسا بنا دیا ہے۔
آج کے اضافے کے بعد پمپ مالکان شدید غصے میں ہیں۔ اگر سٹاک برقرار رکھا جائے تو قیمت گرنے پر بھاری نقصان کا اندیشہ ہے، جبکہ قیمت بڑھنے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سپلائی روک دیتی ہیں، جس سے قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
سٹاک کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں روزانہ تبدیلی کے باعث پٹرول پمپوں پر مالکان اور صارفین کے درمیان تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑے معمول بن جائئینگے۔
یہ غیر مستحکم پالیسی پٹرول پمپ انڈسٹری کو دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہی ہے، جس سے اس شعبے سے منسلک ہزاروں افراد کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کی پالیسی کو شفاف، مستقل اور دیرپا بنایا جائے تاکہ پمپ مالکان کا کاروبار محفوظ ہو سکے اور عوام کو بلا تعطل ایندھن کی فراہمی ممکن رہے۔
15/07/2026
پیارے عوام اور متعلقہ انتظامیہ!
ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت پٹرول پمپس پر جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے، اس کا ذمہ دار پٹرول پمپ مالکان نہیں بلکہ تیل فراہم کرنے والی کمپنیاں (OMCs) ہیں۔
گزشتہ 3 دنوں سے کمپنیوں نے سپلائی بند کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا (KPK) کے تقریباً 70 فیصد پٹرول پمپس میں سٹاک ختم ہو چکا ہے۔ کل تک باقی ماندہ پمپس بھی مکمل طور پر خالی ہو جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ:
1. پٹرول پمپ مالکان پٹرول بیچنے کے لیے بیٹھے ہیں، لیکن کمپنیاں ہمیں سٹاک فراہم ہی نہیں کر رہیں، تو ہم عوام کو ایندھن کہاں سے دیں؟
2. ریٹ بڑھنے کے بعد کمپنیوں کا رویہ مزید غیر ذمہ دارانہ ہو گیا ہے، لیکن سارا ملبہ پٹرول پمپ مالکان پر ڈالا جا رہا ہے۔
3. انتظامیہ ہمیں تنگ کر رہی ہے اور عوام ہمیں بدنام کر رہے ہیں، حالانکہ ہم خود اس بحران کے ہاتھوں بے بس ہیں۔
ہمارا مطالبہ:
اگر کمپنیاں ہمیں پٹرول نہیں دیں گی تو ہم پٹرول کیسے بیچیں گے؟ ہم عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پٹرول نہ ملنا ہماری مرضی نہیں بلکہ کمپنیوں کی جانب سے سپلائی بندش کا نتیجہ ہے۔
ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پٹرول پمپ مالکان کو تنگ کرنے کے بجائے کمپنیوں سے پوچھ گچھ کرے کہ وہ مارکیٹ میں پٹرول کی سپلائی کیوں روک رہی ہیں؟
ہم آپ کی خدمت کے لیے تیار ہیں، لیکن ہمارے پاس سٹاک ہونا ضروری ہے۔
Be the first to know and let us send you an email when Motorway Petroleum and CNG Station Bakhshali Interchange posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
Contact The Business
Send a message to Motorway Petroleum and CNG Station Bakhshali Interchange: