27/06/2026
Bilal Oil Tradersnug
*وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ*
جب دنیا کے سارے دروازے بند نظر آنے لگیں، جب قریبی رشتے اور مخلص دوست بھی آپ کی تکلیف کو سمجھنے سے قاصر ہو جائیں، اور جب آپ خود کو بالکل اکیلا اور بے بس محسوس کریں—تو مایوس ہونے کے بجائے ذرا رکیں، اور اس آیت پر غور کریں:
"وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ"
(اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا سچا دوست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار۔)
کبھی کبھی ہم اپنے مسائل کا حل دنیا کے اثر و رسوخ، پیسے یا سفارش میں ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل "نصیر" (مددگار) صرف اللہ ہے۔ اگر وہ آپ کی مدد پر آ جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نیچا نہیں دکھا سکتی۔ اور اگر وہ راستہ روک دے، تو کائنات کی کوئی قوت آپ کو کامیابی نہیں دلا سکتی۔
ہم اکثر لوگوں سے وہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو صرف اللہ کی ذات پوری کر سکتی ہے۔ انسان فانی ہے، اس کی محبتیں اور اس کی طاقتیں محدود ہیں۔ جب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ اب آپ کو اپنے اصل "ولی" (سچے دوست) کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ آپ کو اکیلا اس لیے چھوڑتا ہے تاکہ آپ کو یہ احساس ہو کہ آپ کو اس کے سوا کسی اور کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
جب آپ کا یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ آپ کا اصل دوست اور مددگار عرش والا ہے، تو آپ کے دل سے خوف اور غم ہمیشہ کے لیے نکل جاتے ہیں۔
آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، آپ کا کارساز سب دیکھ رہا ہے اور وہ آپ کے لیے بہترین فیصلہ کرے گا۔
اپنے دل کو دنیا کے سہاروں سے آزاد کر لیں۔
لوگوں کی بے رخی پر دل چھوٹا مت کریں۔ سر سجدے میں جھکائیں اور اپنے اس "حقیقی دوست" سے اپنے دل کا حال کہیں جو آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ جس کا کوئی نہیں ہوتا، اس کا اللہ ہوتا ہے—اور جس کا اللہ ہو جائے، اسے پھر کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی۔
fans دانشگاہ