26/01/2026
fans Bilal Oil Tradersnug
1. غزہ بورڈ آف پیس کیا ہے؟
غزہ بورڈ آف پیس بظاہر تعمیرِ نو کا منصوبہ ہے،
لیکن اس کا ڈھانچہ ایسا ہے جو فلسطینیوں کو ان کی اپنی زمین پر بے اختیار کر کے اسے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک "تجارتی پراجیکٹ" میں بدل سکتا ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ اس منصوبے میں کئی خفیہ جال ہو سکتے ہیں:
گھر کی بھیدی فورس: خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کی افواج (جیسے پاکستان، ترکی، انڈونیشیا) کو اس لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ غزہ میں داخل ہو کر حماس کے خلاف وہ کام کریں جو اسرائیل خود نہیں کر سکا۔
اگر پاکستانی فوجی وہاں جاتے ہیں اور ان کا سامنا حماس سے ہوتا ہے، تو یہ ایک "برادر کشی" کی صورتحال بن سکتی ہے۔
اسرائیل کا تحفظ:
اس منصوبے کا ایک بڑا مقصد اسرائیل کو مستقبل کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہے،
نہ کہ فلسطینیوں کو آزادی دلانا۔
سرمایہ کاری کا لالچ:
پاکستان کو اس بورڈ میں شامل کرنے کے لیے معاشی امداد اور "میجر نان ناٹو الائی" (MNNA) کا درجہ بحال کرنے جیسے لالچ دیے جانے کی خبریں بھی گردش میں ہیں۔
پاکستان کی "غزہ بورڈ آف پیس" (Gaza Board of Peace) میں شمولیت ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ معاملہ بن چکا ہے۔ حالیہ رپورٹس (جنوری 2026) کے مطابق، پاکستان نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کر دیا
کیا پاکستانی فوج اور حماس آمنے سامنے ہوں گے؟
یہ اس منصوبے کا سب سے تشویشناک پہلو ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت ایک "انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس" (ISF)
،بنانے کی تجویز ہے،
جس میں پاکستان سے بھی فوجی دستے (تقریباً 3,500 فوجی) طلب کیے گئے ہیں۔
fans دانشگاہ