اردو افسانے Urdu Afsanay

اردو افسانے Urdu Afsanay Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اردو افسانے Urdu Afsanay, 99, Bedford.

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ای...
30/01/2025

امریکی شخص ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ”آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں“ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا‘ ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ”ہیلو ہنری آر یو اوکے“ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا‘ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ”یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے“ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ” یہ شخص کیاکرتا ہے؟“ فورڈ نے جواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے“ ۔
صحافی نے پوچھا ”آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں“ فورڈ نے جواب دیا ”کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے“ فورڈ کا کہنا تھا ”میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے۔
میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں“ ہنری فورڈ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے“ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔
آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔
بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں‘ یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائین میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے۔
ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا، چنانچہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔

کوین دارو کو طلاق ہو گئی ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپ...
28/01/2025

کوین دارو کو طلاق ہو گئی

ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپٹے
کے بغیر بنائی ہو ! اپنے شوہر اور دو معصوم بچوں کیساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھی
مگر غیر مردوں کے سامنے لائیو آنے کا چسکے نے اسکے بچےکچھے کردار کو بھی مسل دیا مادیت پرستی دولت کی ہوس شیروں کے لالچ نے اسکی خوشگوار ازدواجی زندگی میں زیر گھول دیا اور یوں وہ اپنے محبوب شوھر کو چھوڑ چھاڑ کر ایک گفٹر کی گود میں جا بیٹھی۔۔ اور بلآخر اس گفٹر نے بھی طلاق دے دی
ہنستی بستی مسکراتی زندگی برباد ہوگئی ۔۔ تعلیم یافتہ عورتوں میں شرح طلاق زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔۔۔ کہ وہ ڈگری ہولڈر تو ہوتی ہیں مگر تربیت میں دیمک
زدہ لکڑی کی طرح اور آفاقی تعلیمات سے بالکل نابلد ، کیونکہ جس لڑکی کا ایمان مضبوط دل میں خوف خدا اور حيا شرم پردے کا حقیقی تصور موجود ہوتا ہے ۔ وہ ویلکم پارٹیوں میں نہ ہوٹنگ کرتی ہیں نہ یونیورسٹیز میں ہونے
والے مجروں میں رنگ برنگے عبایا پہن کر اچھل اچھل کر داد دیتی ہیں اور نہ غیر محرم لڑکوں سے یار یار کرتی ہیں آج دارو کوئین کی لائف ان لڑکیوں کے لئے ایک سبق ہے جو

اپنے شوھر کے چند کڑوے کسیلے جملوں سے تنگ آکر یہ سمجھتی ہیں کہ باھر کے مرد بہت با اخلاق اور ریسپکیٹ ایبل ہیں لیکن انہیں نہیں پتہ کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے
ہیں جب نزدیک جائیں تو ڈھم ڈھم ہی ہے

بختی رحمان کے پشتوں کے سلینگ الفاظ ایک شاعر نے بہترین  انداز میں ایک غزل کے اندر محفوظ کئے ہیں غزل کچھ یو ہے ششنېدلے, در...
28/01/2025

بختی رحمان کے پشتوں کے سلینگ الفاظ ایک شاعر نے بہترین انداز میں ایک غزل کے اندر محفوظ کئے ہیں

غزل کچھ یو ہے

ششنېدلے, درنجېدلے ژوند ﺯمونږه
اړته پړته غم ځپلے ژوند ﺯمونږه

پېنسي کړے مو په برخه باندې نه وو
بې اصوله وو، نيمګړے ژوند ﺯمونږه

په يو غم پسې به بل غم رابتي کړي
د ککړې ترور مغوړے، ژوند ﺯمونږه

په دې ښار کښې ښه بلها باﺯار ګرمي وه
پکښې سم ؤ د ګور مړے, ژوند ﺯمونږه

درمبړان او خانانګوټکي راچاپېر دي
ربه چاته دې سپارلے، ژوند ﺯمونږه

د غمو د پَرو پېټي مو په سر شول
خپلو مينو شوړه کړے, ژوند ﺯمونږه

لوو کوي مو د جذبو، love نه کوي
معشوقو دے سکنجه کړے ژوند ﺯمونږه

مخامخ د لَوَړپوکې ځامن نه شول
پټ پناه ئې ﺯورولے ژوند ﺯمونږه

ﺯېنه مه ورکوه غرنګ دې ﺯندګۍ له
سېنډل بوټ لاندې راغلے, ژوند ﺯمونږه

27/01/2025

امام ابو حنیفہؒ، جن کا اصل نام نعمان بن ثابت تھا، اپنی غیر معمولی ذکاوت، فہم، اور مسائل کے حل کیلئے فوری اور عمدہ جواب دینے کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور تھے۔ ان کی ذہانت کے بے شمار قصے تاریخ میں درج ہیں، جو ان کی علمی برتری اور فکری بصیرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں چند مشہور واقعات بیان کیے گئے ہیں:

1. عورت کا انوکھا سوال:

ایک عورت امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئی اور پوچھا، “اگر ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تک تم آسمان پر نہ چڑھو، تم مجھ پر طلاق ہے، تو کیا حکم ہوگا؟”
امام ابو حنیفہؒ نے فوری جواب دیا، “عورت سیڑھی پر چڑھ جائے اور اتنی بلندی تک جائے کہ اس کی چھت کے نیچے آسمان نظر آنا شروع ہو جائے۔ اس پر قسم پوری ہو جائے گی اور طلاق واقع نہیں ہوگی۔”
یہ جواب نہ صرف فقہی علم بلکہ ان کی عقل اور مسائل کو آسانی سے حل کرنے کی مہارت کا مظہر ہے۔

2. پڑوسی کی چوری کا مسئلہ:

ایک دفعہ ایک آدمی نے امام ابو حنیفہؒ سے آ کر کہا کہ میرے پڑوسی کے گھر سے ہر رات کوئی چیز غائب ہو جاتی ہے، لیکن چور پکڑا نہیں جا رہا۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا، “رات کو گلی میں پانی بکھیر دو اور صبح دیکھو کہ کس کے جوتے گیلے ہیں۔ وہی چور ہوگا۔”
جب ایسا کیا گیا تو چور پکڑا گیا۔ یہ ان کی ذہانت اور عملی فہم کی بہترین مثال ہے۔

3. قاضی کا امتحان:

کہا جاتا ہے کہ ایک قاضی نے امام ابو حنیفہؒ کا امتحان لینے کیلئے سوال کیا، “ایک کنویں میں کوئی چیز گر گئی ہو اور پانی ناپاک ہو جائے، تو اسے کیسے پاک کیا جائے؟”
امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا، “کنویں کا ناپاک پانی نکالتے جاؤ جب تک کہ نیا پانی اپنی اصلی حالت میں نہ آ جائے۔”
قاضی ان کے علم اور عقل سے متاثر ہوا اور ان کی مدح کرنے لگا۔

4. قرض اور دعویٰ کا واقعہ:

ایک شخص نے امام ابو حنیفہؒ کے پاس آ کر کہا کہ کسی نے اس پر قرض کا دعویٰ کیا ہے، لیکن وہ قرض دینا نہیں چاہتا کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے پوچھا، “کیا کوئی گواہ ہے؟”
اس شخص نے کہا، “جی ہاں، گواہ ہیں۔”
امام ابو حنیفہؒ نے مشورہ دیا، “عدالت میں جاؤ اور گواہوں سے پہلے اپنی قسم دے دو، یہ گواہوں کی شہادت کو غیر مؤثر بنا دے گی۔”
ایسا کرنے پر مدعی اپنا کیس ہار گیا۔ یہ ان کی قانونی مہارت کی علامت ہے۔

5. امام کی حاضر جوابی:

ایک دفعہ کسی نے امام ابو حنیفہؒ سے پوچھا، “اللہ کہاں ہے؟”
انہوں نے جواب دیا، “اگر تم مجھے یہ بتا دو کہ روشنی کہاں ہے جب چراغ بجھا دیا جائے، تو میں تمہیں بتا دوں گا کہ اللہ کہاں ہے۔”
ان کا یہ جواب سن کر سوال کرنے والا حیران رہ گیا اور خاموش ہو گیا۔

امام ابو حنیفہؒ کی ذکاوت اور ان کے فیصلے آج بھی اسلامی فقہ کے اصولوں کی بنیاد ہیں۔ ان کے یہ قصے نہ صرف ان کی ذہانت کا ثبوت ہیں بلکہ ہمیں مسائل کو حکمت اور دانش مندی سے حل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

26/01/2025

مولانا رومی اور شمس تبریزی کی ملاقات

علامہ اقبالؒ نے اپنی پہلی منظوم فارسی مشنوی ’’اسرار خودی‘‘میں مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریزی کی ملاقات کا ذکر بڑے دلنشیں پیرائے میں کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ مولانا جلال الدین رومیؒ بڑے پائے کے عالم تھے اور ان کے شاگردوں کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔جب وہ درس کا سلسلہ شروع کرتے تو ان کے اردگرد کتابوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہوتے جن میں محفوظ اسرار ورموز کی تشریح وہ ایسے دلکش انداز اور خوبصورتی سے کرتے کہ سامعین دم بخود ہوکر اس سے مستفید ہوتے ایک دن شمس تبریز جب اپنے مرشد حضرت شیخ کمال الدین رحمۃ اللّٰہ علیہ کے فرمان کے مطابق مولانا کے مکتب کا پتہ پوچھتے آپ کے درس کی محفل میں آئے تو دیکھا کہ مولانا حسب معمول پانی کے ایک بڑے حوض کے کنارے درس وتدریس میں مصروف ہیں۔آپ نے از راہ مذاق انجان بن کر مولانا سے پوچھا آپ کیا درس دے رہے ہیں اور یہ قیل وقیاس وہم اور استدل لال کیا ہے؟مولانا فرمانے لگے
’’قال ما از فہم تو بالا تراست‘‘
یعنی میری گفتگو آپ کی سمجھ میں آنے کی نہیں۔گویا یہ عقل مندوں کی بڑی بڑی باتیں ہیں۔ان پر ہنسنے کی بجائے آپ یہاں سے چلے جائیں کیوکہ یہاں آپ جیسے کم علموں کا کوئی کام نہیں۔کہتے ہیں اس پر شمس تبریز ؒنے بے دھیانی میں چند بڑی کتابیں اٹھا کر پانی کے حوض میں پھینکنی شروع کردیں مولانا بڑے ناراض ہوئے اور سخت غصے میں شمس تبریزے سے کہا اے بے خبر۔تمہیں کیا معلوم ان کتابوں میں علم ومعرفت کے کتنے خزینے پوشیدہ تھے جنہیں تو نے ضائع کر دیا شمس تبریزی تھوڑی دیر مولانا کی جلی کٹی سنتے رہے مگر پھر آہستہ آہستہ ان کتابوں کو پانی کے حوض سے نکالنا شروع کر دیا۔ جب مولانا جلال الدین رومی نے دیکھا کہ کتابوں پر پانی کا ذرہ برابر بھی اثرنہیں اور وہ ویسے کی ویسی خشک اور اپنی اصلی حالت میں ہیں تو حیرت اور ندامت کے ملے جلے جذبات سے پوچھا کہ اے درویش یہ کیا ہے؟ شمس تبریزؒ نے کہا
’’حال مااز فہم تو بالا تراست‘‘
یعنی وہ تمہارا ’’قال‘‘ (گفتگو) تھی جو بقول تمہارے میری عقل سے بالا تھی اور یہ میرا ’’حال‘‘ (روحانی قوت) ہے جو تمہاری سمجھ سے ماوراء ہے
بظاہر اس وقت تک مولانا روم ’’قال‘‘ کے تو بڑے ماہر تھے مگر ’’حال‘‘ کے عشق کی سوختہ سامانیوں اور روحانی عشق کے مضراب کے نغموںکی سرشاری سے بے خبر تھے جونہی شاہ شمس تبریزی کی نگاہ آتش افروز سے سامنا ہوا ان کے حلقہ ارادت میں اس طرح بندھے چلے آئے کہ خود فرماتے ہیں
مولوی ہرگز نشد مولائے روم
تا غلامے شمس تبریزی نشد
یعنی روم کا یہ مولوی اس وقت تک صحیح عالم نہیں بن سکا جب تک کہ وہ شمس تبریز کے حلقہ ادارت میں نہیں آیا۔

26/01/2025

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں

میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں

کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں
کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں

صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

25/01/2025

حکمت کی جیت

ایک دن افلاطون اپنے استاد سقراط کے ساتھ ایتھنز کی گلیوں میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ دونوں کے درمیان گفتگو ہمیشہ گہرے موضوعات پر ہوتی تھی، جو دنیا، انسانیت اور اخلاقیات کو سمجھنے کی نئی راہیں کھولتی تھی۔ اس دن بھی، افلاطون نے ایک سوال اٹھایا جو اسے کئی دنوں سے پریشان کر رہا تھا۔

“استاد، کیا دنیا کے تمام انسان اپنے عمل میں اچھائی کے خواہاں ہوتے ہیں؟ کیا ہر عمل کا مقصد بھلائی ہی ہوتا ہے؟”

سقراط مسکرایا اور افلاطون کو ایک میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “میرے عزیز شاگرد، اس سوال کا جواب میں تمہیں ایک تجربے سے دوں گا۔ آؤ، کچھ دیر یہاں بیٹھتے ہیں۔”

وہ دونوں میدان کے کنارے بیٹھ گئے جہاں مختلف لوگ اپنی روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ کچھ لوگ خرید و فروخت کر رہے تھے، کچھ بحث و مباحثے میں لگے تھے، اور کچھ سکون کے ساتھ بیٹھے تھے۔

اچانک، سقراط نے افلاطون سے کہا، “دیکھو، وہاں ایک شخص اپنے گدھے کو مار رہا ہے۔ جاؤ، اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔”

افلاطون اس آدمی کے پاس گیا اور اس سے پوچھا، “تم اپنے گدھے کو کیوں مار رہے ہو؟”

آدمی غصے سے بولا، “یہ کام نہیں کر رہا، اور میرے پاس وقت نہیں کہ اس کی ضد برداشت کروں۔ اسے مارنا ضروری ہے تاکہ یہ کام کرے۔”

افلاطون نے واپس آ کر سقراط کو بتایا۔ سقراط نے مسکراتے ہوئے کہا، “دیکھو، یہ آدمی اپنے فائدے کیلئے گدھے کو مار رہا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا عمل صحیح ہے۔ اب، ایک اور جگہ دیکھو۔”

پھر انہوں نے ایک دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا، جو ایک غریب بچے کو کھانا دے رہا تھا۔ سقراط نے کہا، “اس سے جا کر پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔”

افلاطون نے اس آدمی سے پوچھا، اور اس نے جواب دیا، “یہ بچہ بھوکا تھا، اور مجھے لگا کہ اس کی مدد کرنا میرا فرض ہے۔”

جب افلاطون واپس آیا تو سقراط نے کہا، “دیکھو، دونوں کے اعمال مختلف تھے، لیکن دونوں سمجھتے تھے کہ وہ جو کر رہے ہیں، وہ صحیح اور بھلا ہے۔ ہر انسان اپنے اعمال میں کسی نہ کسی شکل میں بھلائی یا فائدے کی تلاش کرتا ہے، چاہے وہ عمل غلط ہو یا صحیح۔”

افلاطون نے سوچتے ہوئے کہا، “تو استاد، اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کی ‘بھلائی’ کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے؟”

سقراط نے گہری نظر سے اپنے شاگرد کو دیکھا اور کہا، “بالکل، میرے عزیز۔ اصل دانشمندی یہ ہے کہ ہم یہ سیکھیں کہ حقیقی بھلائی کیا ہے۔ یہ صرف ہمارے فائدے تک محدود نہیں ہونی چاہئے، بلکہ یہ دوسروں کیلئے بھی فائدہ مند ہو۔ یہی وہ علم ہے جو انسان کو دانشمند بناتا ہے۔”

سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے، لیکن حقیقی حکمت یہ ہے کہ ہم اپنی بھلائی کو دوسروں کی بھلائی کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ سقراط کی تعلیم یہ تھی کہ خود کو اور اپنی نیتوں کو پرکھنا ہی اصل دانشمندی کا راستہ ہے۔

25/01/2025

مرزا غالب اور ایک رات کا راز

انیسویں صدی کا دہلی، جس کی گلیاں ادب، شاعری اور موسیقی کے رس سے بھرپور تھیں، ان ہی گلیوں میں ایک شخصیت تھی جو اپنے کمالات اور عادتوں کے باعث مشہور تھی—مرزا اسد اللہ خان غالب۔ غالب کی زندگی کا ہر پہلو اپنی کہانی آپ تھا، لیکن ان کی زندگی کے کئی واقعات ایسے بھی ہیں جو زمانے کی نظروں سے اوجھل رہے۔ یہ کہانی ان ہی میں سے ایک ہے۔

ایک رات مرزا غالب اپنی مشہور محفل سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں لوٹے۔ رات کا وقت تھا، آسمان پر ہلکی چاندنی پھیلی ہوئی تھی، لیکن غالب کا دل بے چین تھا۔ شراب کا جام بھی سکون نہ دے سکا۔ وہ اپنے شعر و سخن کی دنیا سے ہٹ کر کسی گہرے خیال میں ڈوبے ہوئے تھے۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ غالب چونک اٹھے۔ اس وقت کون آ سکتا تھا؟ انہوں نے دروازہ کھولا تو ایک نوجوان لڑکی کو دیکھا، جو خوفزدہ اور تھکی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔ اس کے کپڑے معمولی تھے، اور آنکھوں میں کوئی گہری کہانی چھپی تھی۔

“بابو جی، میں ایک مسافر ہوں۔ دہلی کی گلیوں میں اکیلی ہوں، اور رات کے سائے میرے لیے خطرناک ہیں۔ کیا آپ مجھے پناہ دے سکتے ہیں؟” لڑکی نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

غالب نے چند لمحے سوچا، پھر اسے اندر بلا لیا۔ وہ جانتے تھے کہ زمانہ ان پر انگلی اٹھانے میں دیر نہیں کرے گا، لیکن ان کی انسانیت غالب آ گئی۔

لڑکی کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ غالب نے اسے پانی دیا اور آرام سے بیٹھنے کو کہا۔ پھر اس سے پوچھا، “بیٹی، تمہاری کہانی کیا ہے؟”

لڑکی نے آہ بھرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے گاؤں سے دہلی کسی کام کے سلسلے میں آئی تھی، لیکن راستے میں کچھ غنڈوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اپنی جان بچانے کے لیے وہ بھاگتی ہوئی یہاں تک پہنچ گئی۔

غالب نے اسے تسلی دی اور کہا، “یہ دنیا ظالم ضرور ہے، لیکن خدا کے بندے بھی کم نہیں۔ جب تک صبح نہ ہو جائے، تم یہاں محفوظ ہو۔”

رات بھر غالب نے اپنے کلام میں لڑکی کو سکون دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی شاعری سے اسے بتایا کہ زندگی کی مشکلات بھی ایک شاعر کی طرح گہری اور پراثر ہوتی ہیں، لیکن ہر رات کے بعد ایک نیا سویرا آتا ہے۔

صبح ہوتے ہی غالب نے اپنے ایک قریبی شاگرد کو بلایا اور اس لڑکی کو اس کے گاؤں تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ لڑکی جاتے وقت غالب کے قدموں میں گر کر رو دی اور کہا، “بابو جی، آپ نے آج مجھے وہ تحفظ دیا جو شاید میرے باپ بھی نہ دے پاتے۔”

غالب مسکرا کر بولے، “بیٹی، یہ دنیا ایک شطرنج کا کھیل ہے۔ ہم سب اپنی چالیں چل رہے ہیں، لیکن اصل کھیل اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ جاؤ، اور ہمیشہ اپنی عزت کو اپنا سرمایہ سمجھو۔”

یہ رات اور یہ واقعہ غالب کے دل پر بھی ایک نقش چھوڑ گیا، اور ان کی شاعری میں انسانیت کا ایک نیا پہلو پیدا ہوا۔

سبق:
مرزا غالب کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسانیت اور رحم دلی کسی بھی زمانے کے سب سے بڑے زیور ہیں۔ وقت اور حالات کچھ بھی ہوں، دوسروں کی مدد کرنا ہی اصل عظمت ہے۔

20/10/2024

Address

99
Bedford
MK24AX

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اردو افسانے Urdu Afsanay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to اردو افسانے Urdu Afsanay:

Share