28/07/2026
جذباتی نعرے، تاریخی ہیرا پھیری اور قوموں کا واقعی استحکام
ہماری تاریخ اور عوامی بیا نیے میں ٹیپو سلطان کو بہادری، غیرت اور شجاعت کے ایک ایسے ناقابلِ فراموش کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا ہر لفظ ہماری جذباتی تربیت کا حصہ رہا۔ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے" کا نعرہ سن کر نہ جانے کتنی نسلیں پروان چڑھیں اور ہم سب نے زندگی بھر محض ایک دن کی جذباتی شجاعت کی خاطر طویل الميعاد تدبیر اور پائیدار حکمتِ عملی کو پسِ پشت ڈال دیا۔ لیکن اگر تعصب اور جذباتی لگاؤ سے ہٹ کر تاریخ کا گہرا اور ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دشمن ہمیشہ براہِ راست جنگ کے ساتھ ساتھ حریف کو نفسیاتی جال میں الجھانے کی کاوشیں بھی کرتا ہے۔ سر کیمپبل اور جان کیناوے جیسے بیرونی چالاک کارندے اور ان کے اندرونی ہم نوا مسلسل حریف کو بہادری کا پٹ پڑھاتے رہے تاکہ وہ جذباتی ہو کر تنہا میدان میں کود پڑے اور اپنے دفاعی تدبر اور طویل الميعاد حکمتِ عملی کو بھول جائے۔ مائیسور کے حکمران نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا، لیکن حقیقت کی دنیا کا قانون انتہائی سخت اور تلخ ہے۔ تنہا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے گھیرے میں گھرا ہوا انسان، خواہ کتنا ہی بہادر کیوں نہ ہو، بلآخر شکست کا شکار ہو جاتا ہے۔ 4 مئی 1799ء کو جب وہ معرکہ ختم ہوا تو دنیا نے بہادری کی سند اور شیر کا لقب تو عطا کر دیا، مگر اس کا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی ایک سب سے طاقتور اور منظم ریاست کا وجود ہمیشہ کے لیے مٹ گیا اور غیر ملکی تسلط کا راستہ دہلی تک صاف ہو گیا۔
اگر تاریخ کو واپس موڑ کر دیکھا جائے اور جذبات کے بجائے عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر محض فرد کی بہادری کا نعرہ لگانے کے بجائے تمام تر توجہ ریاست کی داخلی بنیادوں پر دی جاتی، عسکری قوت کو جدت سے آراستہ کیا جاتا، عوام کی معاشی خوشحالی یقینی بنائی جاتی اور علاقائی یکجہتی قائم کر کے اندرونی غداروں کا سدِ باب کیا جاتا، تو کیا مٹھی بھر بیرونی طاقتیں پورے برصغیر پر قابض ہو سکتیں؟ ہرگز نہیں! لیکن جب دشمن حریف کو مسلسل "شیر" کہہ کر اس کا غرور ابھارتا رہے اور وہ خود کو شیر ثابت کرنے کی دھن میں تمام تر سیاسی اور سفارتی تدابیر کو نظر انداز کر دے، تو انجام وہی ہوتا ہے جو تاریخ نے دیکھا۔
یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ قوموں اور ملکوں کا وجود محض نعروں، نام نہاد معجزاتی تحفظ کے دعووں یا ماضی کی داستانوں سے قائم نہیں رہتا۔ قدرت کا قانون بلا امتياز ہر ایک کے لیے برابر ہے۔ حقائق کی دنیا اتنی سخت ہے کہ ماضی کی بڑی بڑی عظیم الشان سلطنتیں اور تمدن صرف اس وقت ختم ہو گئے جب انہوں نے اپنے اندرونی استحکام، عدل، معیشت اور اتحادی صلاحیتوں کو کھو دیا۔ جذباتی نعروں اور بیانیے کی آڑ میں حقیقت سے آنکھیں چرانا ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
آج بھی دنیا کی بڑی طاقتیں اور چالاک سفارت کار کمزور یا جذبات سے مغلوب قوموں کو ان کے عظیم ماضی، ناقابلِ تسخیر ہونے اور تاریخ ساز حیثیت کا فرضی یقین دلا کر انہی کے ہاتھوں ان کی تباہی کا سامان کرتی ہیں۔ انہیں ایک لایعنی جنگ یا بے سمت مہم جوئی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے تاکہ وہ معاشی اور سیاسی طور پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ ان کے تمام قدرتی وسائل، تیل، گیس اور جغرافیا پر بیرونی طاقتیں قابض ہو سکیں۔ عراق ہو، ایران ہو یا دنیا کی دیگر اقوام، جب بھی کوئی قوم حقیقت پسندی چھوڑ کر محض جذباتی نعروں اور فتح کے موہوم خوابوں پر تکیہ کرتی ہے، تو وہ ان چالاک نیولوں کا شکار بن جاتی ہے جو پسِ پردہ بیٹھ کر کھیل تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
اگر قومیں اور ریاستیں واقعی اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو انہیں "اللہ کی خاص حفاظت" کی غلط فہمی یا محض غیبی معجزوں کی امید پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کے بجائے اپنے اندرونی حالات کی اصلاح کرنا ہوگی۔ ملکی دفاع کو مضبوط بنانا، معاشی خود کفالت حاصل کرنا، اندرونی نفاق کا خاتمہ کرنا اور واقعی ایک متحد و منظم قوم بننا ہی بقا کی واحد ضمانت ہے۔ وگرنہ جب تک قومیں جذباتی بیانیوں کا شکار ہو کر اصل کام یعنی معاشی و سیاسی استحکام سے غافل رہیں گی، وہ ہمیشہ تاریخ کی ان غلطیوں کا اعادہ کرتی رہیں گی جہاں شجاعت کے داستانوی قصے تو باقی رہ جاتے ہیں مگر ریاستیں نقشے سے مٹ جاتی ہیں۔