معلومات پلس

معلومات پلس Informazioni di contatto, mappa e indicazioni stradali, modulo di contatto, orari di apertura, servizi, valutazioni, foto, video e annunci di معلومات پلس, Science, Technology & Engineering, Y-Block Peoples Colony, Bolzano.
(1)

"معلومات پلس" صرف ایک پیج نہیں، بلکہ علم، آگہی اور حوصلہ افزائی کا ایک زبردست پلیٹ فارم ہے۔ یہاں آپ کو نہ صرف دلچسپ اور مستند معلوماتی مواد ملے گا، بلکہ زندگی کو نیا رُخ دینے والی موٹیویشنل کہانیاں بھی پڑھنے کو ملیں گی۔ تو اس پیج کو ابھی فالو کرلیں۔

20/06/2026

امریکہ میں سڑک بن رہی تھی تو بورڈ پر لکھا تھا: "آپ کا ٹیکس کا پیسہ کام کر رہا ہے۔"

میں نے سوچا، کاش یہ سڑک پاکستان میں بن رہی ہوتی! تب سین کچھ ایسا ہوتا:
بورڈ پر کسی لیڈر کی اتنی بڑی تصویر ہوتی کہ سڑک بیچاری پیچھے چھپ جاتی! اور نیچے بڑے بڑے سنہری حروف میں لکھا ہوتا:

"شکریہ ادا کریں کہ ہم آپ کو سڑک دے رہے ہیں، ورنہ آپ تو آج بھی کچے راستوں پر دھول اڑا رہے ہوتے۔ یہ سڑک نہیں، ہمارا احسان ہے!"

سڑک بنے نہ بنے، لیڈر کی "برانڈنگ" پوری ہو جاتی!

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس: اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینے کا رجحان غلط ہےامریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اسرائی...
20/06/2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس: اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینے کا رجحان غلط ہے

امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اسرائیل کی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی کے ساتھ جوڑنے کے رجحان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ملک کی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرنا ایک جمہوری حق اور سیاسی عمل کا حصہ ہے، جسے مذہب یا نسل سے نفرت کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ جے ڈی وانس کا ماننا ہے کہ جب ہر قسم کی سیاسی تنقید کو یہود دشمنی کا نام دے دیا جاتا ہے تو اس سے اصل اور حقیقی مسائل کی سنگینی اور اہمیت کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں نفرت انگیزی کے خلاف لڑنے کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ "دوسری غلطی ہمیشہ کسی خاص حکومت کی پالیسی پر تنقید کو یہود دشمنی کے ساتھ خلط ملط کرنا ہے، کیونکہ اگر ہر چیز یہود دشمنی بن جائے تو پھر کچھ بھی یہود دشمنی نہیں رہتا۔" نائب صدر کے اس مؤقف کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سیاسی بحث اور حقیقی نفرت انگیز رویوں کے درمیان ایک واضح حد ہونی چاہیے تاکہ تعمیری گفتگو کی گنجائش برقرار رہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے اور اکثر سیاسی اختلاف کو غلط رنگ دے کر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جے ڈی وانس کے اس استدلال سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاست کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کی آزادی کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جائز تنقید کو مذہبی منافرت کا نام دینا بحث کے معیار کو گرا دیتا ہے۔

زہران ممدانی کا AIPAC پر سخت حملہ: امریکی سیاست میں بڑھتا ہوا تناؤنیویارک کے میئر زہران ممدانی کی جانب سے امریکن اسرائیل...
20/06/2026

زہران ممدانی کا AIPAC پر سخت حملہ: امریکی سیاست میں بڑھتا ہوا تناؤ

نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی جانب سے امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) کو دی جانے والی تنقید محض ایک جذباتی بیان نہیں ہے، بلکہ یہ اس بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاسی کرتی ہے جو امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کی پالیسیوں اور فلسطین کے حوالے سے پیدا ہو چکی ہے۔ ممدانی نے اپنی تقریر میں یہ واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف ایک لابی گروپ کی مخالفت نہیں، بلکہ اس سیاسی نظام کی اصلاح کرنا ہے جہاں پیسہ پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ AIPAC جیسے ادارے اپنی بھاری مالی امداد کے ذریعے ایسے امیدواروں کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں جو انسانی حقوق اور جنگ بندی کی بات کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ممدانی کا یہ بیان اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ ایک بڑے شہر کے میئر کے طور پر اپنی پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے قومی سطح کی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کو اخلاقی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے نہ کہ لابی گروپس کے مفادات کے تابع۔ دوسری جانب، AIPAC نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور اپنی سرگرمیوں کو قانونی اور جمہوری حقوق کا حصہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ وہ اپنے حامیوں کے ذریعے مضبوط امریکی-اسرائیلی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس تصادم کے اثرات آنے والے انتخابات میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ممدانی کی یہ حکمت عملی جہاں ان کے ترقی پسند حلقوں میں مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہے، وہیں یہ پارٹی کے اعتدال پسند دھڑوں کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے جو اسرائیل کے ساتھ روایتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ یہ سیاسی کشمکش آنے والے وقتوں میں نیویارک سمیت پورے امریکہ میں انتخابی مہمات کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، کیونکہ ووٹرز اب خارجہ پالیسی اور امداد کے معاملات پر زیادہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ اب صرف ایک بین الاقوامی تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ اندرونی سیاست کا ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔

گرمیوں میں اے سی کی کولنگ کم؟ اب گھر بیٹھے کریں خود سروس!گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی گھروں میں اے سی کا استعمال بڑھ جاتا ہ...
12/06/2026

گرمیوں میں اے سی کی کولنگ کم؟ اب گھر بیٹھے کریں خود سروس!
گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی گھروں میں اے سی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ شدید گرمی میں جب ہم اے سی چلاتے ہیں، تو وہ حسبِ منشا کولنگ نہیں کر رہا ہوتا۔ اس کی بڑی وجہ اے سی کا گرد و غبار سے بھر جانا ہوتا ہے، جس کے لیے سروس ناگزیر ہو جاتی ہے۔

شدید گرمی میں سروس کرنے والے ٹیکنیشن کی تلاش اور پھر ان کے آنے کا طویل انتظار کسی آزمائش سے کم نہیں۔ تو کیوں نہ یہ کام خود کر لیا جائے؟ آپ بھی چند آسان اقدامات کے ذریعے بغیر کسی انتظار کے، گھر بیٹھے اپنے اے سی کی بہترین سروس کر سکتے ہیں۔

گھر پر اے سی سروس کرنے کا طریقہ:
احتیاطی تدبیر: سب سے پہلے اے سی بند کریں اور اس کا پلگ مین پاور ساکٹ سے نکال دیں۔

کور کھولنا: اے سی کے اوپر والے کور کو کھولیں۔ یہ عام طور پر سائیڈز سے لاک ہوتا ہے؛ اسے آرام سے اوپر کی طرف اٹھائیں۔

فلٹر نکالنا: کور کھولتے ہی سامنے آپ کو دو ائیر فلٹرز (جالیاں) نظر آئیں گی۔ انہیں احتیاط سے ایک ایک کر کے باہر نکال لیں۔

جالیوں کی صفائی: ان جالیوں کو سادہ پانی سے دھو لیں۔ اگر گرد و غبار زیادہ ہے تو نرم برش کا استعمال کریں۔ دھونے کے بعد انہیں کسی خشک کپڑے سے اچھی طرح صاف کر کے سکھا لیں۔

اندرونی صفائی: جہاں سے جالیاں نکالی ہیں، اس حصے کو صاف کریں۔ اگر گھر میں 'بلوئر' (Blower) موجود ہے تو اس کی ہوا سے اندر موجود گرد و غبار کو اڑا دیں۔ اگر بلوئر نہیں ہے تو نرم ٹوتھ برش سے اندرونی حصے کو صاف کریں اور پھر گیلے کپڑے سے پونچھ لیں۔

فائنل ٹچ: اب صاف شدہ جالیوں کو واپس اپنی جگہ پر لگا دیں اور اے سی کا کور بند کر دیں۔ اے سی کے بیرونی حصے کو بھی کسی نم کپڑے سے صاف کر لیں۔

آؤٹر یونٹ کی صفائی: اے سی کے آؤٹر یونٹ (جو باہر لگا ہوتا ہے) پر بھی بلوئر کا استعمال کریں تاکہ پریشر سے ساری مٹی باہر نکل جائے۔

لیجئے! آپ کے اے سی کی زبردست سروس گھر میں ہی مکمل ہو گئی۔ اب آپ ٹھنڈی ہوا کا لطف اٹھائیں!

بادشاہِ وقت کا الوداعی ڈرامہایک دیوانہ کسی اونچی عمارت کی چھت پر جا چڑھا اور زور زور سے چلانے لگا: "لوگو! میں اب بس چھلا...
12/06/2026

بادشاہِ وقت کا الوداعی ڈرامہ
ایک دیوانہ کسی اونچی عمارت کی چھت پر جا چڑھا اور زور زور سے چلانے لگا: "لوگو! میں اب بس چھلانگ لگانے لگا ہوں، کسی میں ہمت ہے تو روک لے!"

نیچے مجمع لگ گیا، پولیس، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس پہنچ گئی۔ پولیس آفیسر نے میگا فون اٹھایا اور منت سماجت شروع کی: "بھائی صاحب! نیچے آ جائیں، زندگی بہت قیمتی ہے، آپ گر جائیں گے!"

پاگل نے اوپر سے غصے میں جواب دیا: "اوئے! میں یہاں کوئی آم یا تربوز بیچنے نہیں آیا ہوں جو نیچے آ جاؤں، میں کودنے کے لیے آیا ہوں، پیچھے ہٹ جاؤ ورنہ میں ابھی کام تمام کر دوں گا!"

پولیس والے نے سوچا کہ اب جذباتی بلیک میلنگ کرنی پڑے گی۔ اس نے پوچھا: "آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟"
پاگل نے دھمکی دی: "مجھے اسی وقت اپنا بادشاہ بناؤ، ورنہ میں ابھی اڑان بھرنے والا ہوں!"

پولیس والے نے پبلک کو آنکھ ماری اور اعلان کیا: "ٹھیک ہے بادشاہ سلامت! آپ کی شرط منظور ہے۔ نیچے تشریف لائیں، رعایا آپ کے استقبال کے لیے بے تاب ہے!"

لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا: "ہمارا بادشاہ زندہ باد!"

پاگل دوبارہ چلایا: "نہیں! میں نیچے نہیں آ سکتا، میں کودنے لگا ہوں!"
پولیس والا پریشان ہو گیا: "ارے حضور! اب تو آپ بادشاہ بن گئے، اب کیا مسئلہ ہے؟"

پاگل نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا: " جس قوم نے ایک پاگل کو بادشاہ بنا لیا ہو، میں ایسی قوم کے ساتھ مزید ایک سیکنڈ بھی نہیں رہ سکتا! تم لوگ پیچھے ہٹ جاؤ، یہ چھلانگ اب مجھ پر فرض ہو چکی ہے!"
غیر سیاسی پوسٹ

خوشخبری! غربت اب صرف ایک "سوچ" کا نام ہے: حکومت کا انقلابی فارمولاحکومتِ وقت نے قوم کو ایک ایسی خوشخبری سنائی ہے کہ سن ک...
12/06/2026

خوشخبری! غربت اب صرف ایک "سوچ" کا نام ہے: حکومت کا انقلابی فارمولا
حکومتِ وقت نے قوم کو ایک ایسی خوشخبری سنائی ہے کہ سن کر یقین نہیں آتا، بلکہ اسے سن کر تو جی چاہتا ہے کہ غربت کے مارے لوگ خوشی سے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ حکومت نے غربت ختم کرنے کا وہ قدیم، فرسودہ اور "تکلیف دہ" طریقہ ترک کر دیا ہے جس میں انسان کو پیٹ بھر کر کھانے اور تن ڈھانپنے کی فکر کرنی پڑتی تھی۔ اب نیا اور جدید طریقۂ کار متعارف کرا دیا گیا ہے: "صرف 8,483 روپے!"
جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا۔ اگر آپ کی ماہانہ آمدنی 8,483 روپے اور ایک پیسہ بھی ہے، تو مبارک ہو! آپ سرکاری ریکارڈ میں "غریب" نہیں رہے۔ آپ تو اشرافیہ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اب اگر آپ کے پاس گاڑی نہیں، گھر کا کرایہ نہیں، بچوں کی فیس نہیں اور ہانڈی میں گوشت تو دور کی بات، دال بھی مشکل سے پکتی ہے، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ حکومت کے جدید کمپیوٹرز میں آپ کی "غربت" کا سافٹ ویئر ڈیلیٹ ہو چکا ہے۔
ماہرینِ معاشیات سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ یہ فارمولا نکالا کیسے گیا؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے غربت کا پیمانہ ناپنے کے لیے انچی ٹیپ (measuring tape) کے بجائے کوئی جادوئی چھڑی استعمال کی ہے۔
اس نئے معیار کے تحت اب ملک کی صرف 28.9 فیصد آبادی غریب ہے۔ مطلب یہ کہ باقی کے لوگ یا تو سونے کے چمچ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یا پھر وہ حکومت کی اس "ریاضیاتی کرشمہ سازی" سے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنی غربت کو شرم کے مارے کہیں چھپا دیا ہے۔
اس نئے نظام کے بعد ملک میں غربت کا خاتمہ محض چند کلکس کی دوری پر ہے۔ اب آپ کو غربت مٹانے کے لیے معیشت ٹھیک کرنے، مہنگائی کم کرنے یا روزگار پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس دفتر میں بیٹھیں، پیمانہ تبدیل کریں، اور لیجئے! ایک رات میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آ گئے۔
کاش کہ یہ فارمولا پیٹ کے لیے بھی کارآمد ہوتا۔ اگر حکومت یہ بھی حکم دے دیتی کہ "جس نے 8,483 روپے سے زیادہ کما لیے، اسے بھوک نہیں لگے گی"، تو کتنا اچھا ہوتا!
ماہرین کی بے بسی اور حکومتی "جدت"
ماہرین کہہ رہے ہیں کہ غربت تو معیار بدلنے سے بدل جاتی ہے، لیکن پیٹ کی آگ؟ اس کا کیا ہوگا؟ لیکن حکومت نے ان ماہرین کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ: "بھائی، ہمیں زمینی حقائق سے کیا لینا دینا؟ ہمیں تو بس کاغذوں میں اعداد و شمار کو خوبصورت بنانا ہے۔"
ہم حکومت کی اس تخلیقی صلاحیت کو داد دیتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے غربت کی تعریف کو "غیر روایتی" انداز میں تبدیل کیا ہے، امید ہے کہ جلد ہی وہ مہنگائی کو بھی اسی طرح ختم کریں گے کہ "جو چیز آپ خرید نہیں سکتے، وہ دراصل مہنگی ہے ہی نہیں!"
تو جناب، خوش ہو جائیے! اب اگر آپ کی جیب میں 8,484 روپے ہیں، تو آپ غریب نہیں، بلکہ "امیروں کی فہرست میں شامل ہونے والے خواہشمند افراد" کے کالم میں فٹ بیٹھتے ہیں۔ مبارک ہو!
آپ کا اس "انقلابی" غربت کم کرنے کے فارمولے کے بارے میں کیا خیال ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی؟

بوئنگ 747، جسے اس کے شاندار حجم اور منفرد ڈیزائن کی وجہ سے "کوئین آف دی اسکائیز" (Queen of the Skies) اور "جمبو جیٹ" کے ...
05/06/2026

بوئنگ 747، جسے اس کے شاندار حجم اور منفرد ڈیزائن کی وجہ سے "کوئین آف دی اسکائیز" (Queen of the Skies) اور "جمبو جیٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے، ہوا بازی کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگ میل ہے۔ چار انجنوں پر مشتمل یہ دیو ہیکل طیارہ اپنی طاقت اور صلاحیت کی بدولت دہائیوں تک بین البراعظمی سفر کا معیار رہا ہے۔
اس کے ایندھن (Fuel) کے استعمال کی تفصیلات کو مزید گہرائی اور فنی تناظر میں درج ذیل سمجھا جا سکتا ہے:
ایک بوئنگ 747 کا ایندھن کا استعمال مکمل طور پر مستقل نہیں ہوتا؛ یہ طیارے کے وزن، اونچائی، رفتار اور موسم کے حالات کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ تاہم، اوسط اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

اڑان کے دوران، ایک 747 کا انجن تقریباً 4 لیٹر (تقریباً 1 گیلن) ایندھن فی سیکنڈ جلاتا ہے۔
یہ ایندھن طیارے کے چاروں انجنوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ٹیک آف (Take-off) کے دوران، جب انجن اپنی پوری طاقت پر ہوتے ہیں، یہ شرح عام پرواز کی نسبت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔
ایک عام کروزنگ فلائٹ (جب طیارہ اپنی مطلوبہ اونچائی پر مستحکم ہو) کے دوران:
• ایندھن کی مقدار: تقریباً 10,000 سے 11,000 لیٹر (2,600 سے 2,900 گیلن) فی گھنٹہ۔
• وزن کے لحاظ سے: یہ تقریباً 8,000 سے 9,000 کلوگرام جیٹ فیول کے برابر ہے۔
• نوٹ: طیارہ جتنا زیادہ ایندھن جلاتا ہے، اتنا ہی ہلکا ہوتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ اس کی ایندھن کی کھپت میں قدرے کمی آتی ہے۔
بین الاقوامی پروازوں میں ایندھن کا تخمینہ لگانا کافی دلچسپ ہے:
• 10 گھنٹے کی فلائٹ: ایک اوسط 10 گھنٹے کے سفر کے لیے، 747 کو تقریباً 100,000 سے 110,000 لیٹر ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔
• ٹینک کی گنجائش: بوئنگ 747-8 کا فیول سسٹم تقریباً 238,604 لیٹر ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بے پناہ گنجائش اسے بغیر رکے 14,000 سے 15,000 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کے قابل بناتی ہے۔
• ایندھن کہاں ہوتا ہے؟ بوئنگ 747 کا زیادہ تر ایندھن اس کے بڑے پروں (Wings) کے اندر موجود ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے۔ یہ ڈیزائن نہ صرف جگہ بچاتا ہے، بلکہ پروں کے وزن کو متوازن رکھ کر جہاز کی ساخت (Structure) پر پڑنے والے تناؤ کو بھی کم کرتا ہے۔
• ایندھن کا تناسب: بوئنگ 747 کا ایندھن ایک عام گاڑی کی طرح نہیں ہوتا؛ یہ Jet A-1 نامی مٹی کے تیل پر مبنی مخصوص ایندھن ہے جو انتہائی سرد ماحول (بلندی پر منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ) میں بھی جمتا نہیں ہے۔
• کارکردگی کا موازنہ: اگرچہ یہ بہت زیادہ ایندھن استعمال کرتا ہے، لیکن فی مسافر فی کلومیٹر کے حساب سے یہ طیارہ حیرت انگیز طور پر کفایت شعار ہے، کیونکہ یہ ایک ساتھ 400 سے 600 مسافروں کو ہزاروں میل دور پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

04/06/2026

Good Message please share

اشرافیہ کا سستا ایندھن اور عام آدمی کا مہنگا سفرپاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین اکثر معاشی بحثوں کا مرکز رہتا ہے، ل...
01/06/2026

اشرافیہ کا سستا ایندھن اور عام آدمی کا مہنگا سفر

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین اکثر معاشی بحثوں کا مرکز رہتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمار نے عوام میں شدید غم و غصے اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔ یہ خبر کہ اشرافیہ اور سرکاری حکام کے زیر استعمال جیٹ ایندھن (JP-8) کی قیمت عام آدمی کی موٹر سائیکل میں ڈلنے والے پیٹرول سے نمایاں طور پر کم ہے، ایک ایسے معاشرتی تضاد کو عیاں کرتی ہے جہاں بوجھ کا نچوڑ صرف ایک طبقے پر ہے۔

اگر ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں، تو یہ تفریق انتہائی واضح ہو جاتی ہے:

اشرافیہ کا ایندھن (جیٹ فیول): اطلاعات کے مطابق ایوی ایشن کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن تقریباً 283 روپے فی لیٹر کے آس پاس ہے۔

اس کے برعکس، ایک عام شہری اپنی موٹر سائیکل میں جو پیٹرول ڈلوانے پر مجبور ہے، اس کی قیمت 381 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

یہ 98 روپے فی لیٹر کا واضح فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری معاشی ترجیحات اور ٹیکس کا نظام کس قدر غیر منصفانہ بنیادوں پر قائم ہے۔

یہ تضاد صرف ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے سیاسی اور سماجی نظام کی گہرائیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

جب ملک کا غریب طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہو اور روزگار کے لیے دفتر یا کام پر جانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہ رکھتا ہو، تب ایلیٹ کلاس کا سستے ایندھن پر سفر کرنا اخلاقی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

عام آدمی پیٹرول پر بھاری ٹیکس اور لیویز ادا کرتا ہے، جو درحقیقت حکومت کے اخراجات کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ دوسری جانب، طاقتور طبقے کو مراعات اور سبسڈی کی صورت میں رعایتیں دی جاتی ہیں۔

جب عام آدمی یہ دیکھتا ہے کہ اس کی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نکل جاتا ہے، تو اس کا ریاست پر اعتماد کمزور پڑتا ہے۔ یہ احساس کہ "قانون اور سہولتیں صرف اشرافیہ کے لیے ہیں" معاشرے میں مایوسی پھیلاتا ہے۔

پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران میں یہ ضروری ہے کہ پالیسی ساز ادارے "سادگی اور انصاف" کے اصول کو اپنائیں۔ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، تو ایندھن کی قیمتوں میں یہ امتیازی سلوک ختم کرنا ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی شاہانہ اخراجات میں کٹوتی کرے اور اشرافیہ کی مراعات پر نظرثانی کرے۔ جب تک عام آدمی کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ حکمران طبقہ بھی اسی مشکل کا حصہ ہے جس کا وہ خود شکار ہے، تب تک معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اشرافیہ کی مراعات ختم کر کے عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی کرنی چاہیے؟

سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر تبصرہآصف عزیز (جو کہ 'عزیز فاؤنڈیشن' کے بانی اور برطانیہ کے ایک معروف مسلم کاروباری شخصیت ہیں)...
16/05/2026

سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر تبصرہ

آصف عزیز (جو کہ 'عزیز فاؤنڈیشن' کے بانی اور برطانیہ کے ایک معروف مسلم کاروباری شخصیت ہیں) نے لندن کے مشہور تفریحی مرکز لندن ٹروکاڈیرو (London Trocadero) کا کچھ حصہ مسجد اور اسلامک سینٹر میں تبدیل کرنے کی منظوری حاصل کی ہے۔

تاہم، سوشل میڈیا کے دعووں کے برعکس، انہوں نے یہ عمارت نماز کی اجازت نہ ملنے کے غصے یا ردعمل میں نہیں خریدی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی کمپنی 'کریٹیرین کیپیٹل' (Criterion Capital) نے یہ عمارت بہت پہلے، یعنی 2005ء میں خریدی تھی اور اسے ایک ہوٹل (Zedwell Hotel) کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔

منظوری کب ملی؟ مئی 2023ء میں ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے اس عمارت کے ایک حصے (جو کہ خالی پڑا تھا) کو مسجد میں تبدیل کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی اجازت دی۔

یہ مسجد لندن کے مرکز (Piccadilly Circus) میں واقع ہے، جہاں تقریباً 390 نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش بنائی گئی ہے۔ اسے "پیکاڈیلی کمیونٹی سینٹر" کا نام دیا گیا ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کے لیے بھی مختلف معلوماتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

آصف عزیز نے 2020ء میں یہاں 1,000 نمازیوں کی گنجائش والی ایک بڑی مسجد بنانے کی درخواست دی تھی، جسے مقامی رہائشیوں اور کونسل کے اعتراضات کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ بعد میں، انہوں نے کم گنجائش کے ساتھ دوبارہ درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔

Indirizzo

Y-Block Peoples Colony
Bolzano
52260

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando معلومات پلس pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Condividi