Sunrise Solar Systems

Sunrise Solar Systems we deals in all types of solar products
like solar ongrid ,hybrid Inverters and solar VFDs for tubewell.

13/01/2026
06/06/2025

کرم دین چوکیدار اپنی سائیکل کے ہینڈل سے گوشت کی چند تھیلیاں لٹکائے تیز تیز پیڈل مارتا ہوا اپنی دھن میں چلا جا رہا تھا۔ اس کے چہرے پہ ایک انوکھی سی مسرت اور طمانیت کے آثار نظر آ رہے تھے۔ ایک انتہائی غریب سے محلے میں پہنچ کر اس نے ایک گھر کے سامنے سائیکل روکی اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کچھ دیر بعد اندر سے ایک نسوانی آواز آئی کہ جی کون؟ باجی میں ہوں کرم دین چوکیدار۔۔۔! اس کے بلند آواز سے جواب دیتے ہی دروازہ کھلا اور دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپے ایک عورت نظر آئی۔
کرم دین نے نگاہیں جھکاتے ہوئے اس خاتون کو بڑے احترام سے سلام کیا، حال احوال پوچھا، عید کی مبارک باد دی اور گوشت کی ایک تھیلی اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ لیں باجی یہ آپ کا حصہ ہے۔

اس عورت نے تھیلی لیتے ہوئے کرم دین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرم دین میں تیرا شکریہ ادا نہیں کر سکتی، بس اللہ کے سامنے اپنے بچیوں کی یتیمی پیش کر کے تیرے لئے ہمیشہ خیر مانگتی رہتی ہوں۔ یہ سن کر کرم دین کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں اس نے جلدی سے چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ بہن تجھے کتنی بار کہا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کر، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ تو میری بہنوں کی طرح ہے اور تیری بیٹیاں مجھے اپنے بیٹیوں کی طرح ہی عزیز ہیں۔ اچھا میں اب چلتا ہوں، مجھے اور گھروں میں بھی انکا حصہ پہنچانا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اس خاتون کا جواب سنے بغیر سائیکل پہ بیٹھا اور جلدی سے آگے بڑھ گیا۔

یہ حاکم علی مالی کا گھر تھا اور یہ خاتون حاکم علی کی بیوہ تھی۔ کرم دین چوکیدار اور حاکم علی مالی ایک بہت بڑے سیٹھ کے بنگلے پہ کام کرتے تھے۔ دونوں میں اگرچہ کچھ خاص تعلق نہیں تھا، بس اچھی سلام دعا تھی اور روز آتے جاتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھ لیتے تھے۔ دونوں میں غریبی کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشترک تھی کہ دونوں کی چار چار بیٹیاں ہی تھیں، بیٹا کوئی نہیں تھا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ حاکم علی کام پہ نہ آیا، یوں تو وہ پہلے بھی کئی بار چھٹی کر لیا کرتا تھا، مگر آج شاید سیٹھ صاحب کے کچھ مہمان آنے تھے اس لئے انہوں نے کرم دین کو اسکا پتا کرنے کے لئے اس کے گھر بھیج دیا۔ کرم دین وہاں پہنچا تو دیکھا کہ اس کے گھر تو گویا قیامت صغریٰ برپا تھی، حاکم علی کی بیوی اور بیٹیاں دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھیں۔ حاکم علی رات سویا تو صبح اٹھا ہی نہیں۔ وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس دنیا کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے سو چکا تھا۔
کرم دین بےچارہ خود بھی بہت غریب آدمی تھا اور بال بچے دار بھی، مگر اس دن سے ہر چھوٹی بڑی عید پہ جتنا ہو سکتا تھا، ان کے لئے کوئی نہ کوئی چیز اور گوشت پہنچا دیا کرتا تھا۔ کرم دین جب پہلی بار ان کے ہاں گوشت لے کر آیا، تو حاکم علی کی بیوی نے روتے ہوئے کہا کہ کرم دین! اللہ تیرا بھلا کرے، آج میرے بچے ڈیڑھ دو سال بعد پہلی بار گوشت کھائیں گے۔ بس یہ جملہ سننا تھا کہ اس کے دل پہ خنجر سے چل کے رہ گئے۔ بس وہ دن تھا اور آج کا دن کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ ایسے چار پانچ اور گھروں کی بھی وقتاً فوقتاً مدد کرتا رہتا تھا۔

باقی گھروں میں بھی گوشت کی تھیلیاں پہنچا کر وہ واپس پلٹا، تو کافی دیر ہو چکی تھی اس نے سائیکل موڑی اور اپنے گھر کی راہ پکڑ لی۔ جیسے جیسے اس کا گھر نزدیک آ رہا تھا اس کے چہرے پہ پریشانی کے تاثرات بڑھتے جا رہے تھے۔ رستے میں ایک جگہ ایک نلکے پہ رک کر اس نے سائیکل صاف کرنے والا کپڑا بھگو کر ہینڈل پہ لگے گوشت اور خون کے نشانات کو صاف کیا، وہ شاید یہ نشانات اپنے گھر والوں سے چھپانا چاہتا تھا اور پھر وہ دوبارہ اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
یہ اس کا ہر سال کا معمول تھا کہ وہ صبح سویرے اپنے پرانے دھلے ہوئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھنے اپنی کچی بستی سے بہت دور شہر کے سب سے بڑے محلے میں جاتا اور عید کی نماز کے بعد لوگوں کے گھروں سے گوشت جمع کرنا شروع کر دیتا۔ گو کہ وہ ذاتی طور پہ بہت خوددار انسان تھا، کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا اس کے لئے مر جانے کے برابر تھا، مگر حاکم علی کی بیوہ اور یتیم بچیوں کی خاطر وہ یہ کام بھی کر گزرتا۔ وہ دوپہر تک گوشت جمع کرتا اور دوپہر کے بعد ان گھروں میں جا کے دے آتا اور وہ لوگ یہی سمجھتے کہ شاید کرم دین کی اپنی قربانی ہوتی ہے۔
اور واقعی یہ کرم دین کی قربانی ہی تھی۔ وہ اپنی عزت نفس اور خودداری کے گلے پہ چھری پھیر کر ہی ان کے لئے لوگوں کے سامنے دامن پھیلا کر گوشت اکٹھا کیا کرتا تھا اور ظاہر ہے اس کے لئے اس سے بڑی قربانی اور کیا ہوسکتی تھی۔
سال سال بعد کرم دین کی بدولت گوشت کا منہ دیکھنے والے یہ کب جانتے تھے کہ خود کرم دین کے گھر سال کے بعد بھی گوشت نہیں پکتا۔ کئی بار کرم دین کے جی میں آیا بھی کہ وہ ایک آدھ تھیلی اپنے گھر بھی لے جائے، مگر ہر بار اس کا ضمیر اسکے آڑے آ جاتا
‏اور اپنے بچوں کو یہ گوشت چاہتے ہوئے بھی نہ کھلا پاتا۔

کرم دین کی بستی قریب آ چکی تھی اس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو لوگوں سے نظریں بچا کر صاف کیا اور اپنے درد و الم کو چہرے کے مصنوعی تاثرات سے چھپانے کی کوشش کرتا ہوا اپنی گلی میں مڑ گیا۔ اب اس کے سامنے اس کے اپنے گھر کا دروازہ موجود تھا جس کے اس پار غربت و افلاس کا لبادہ اوڑھے اس کی بیوی اور بیٹیاں اس کی منتظر تھیں۔
کرم دین نے کچھ لمحے توقف کر کے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس کی چھوٹی بیٹی نے دروازے کی درز میں سے اپنے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا۔ کرم دین سر جھکائے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گیا۔ اس نے اسی طرح اونچی آواز میں سب کو سلام کر کے سر اٹھایا تو دیکھ کے حیران رہ گیا کہ اس کے صحن کے بیچوں بیچ کھانے پکانے کے سامان کا ڈھیر لگا ہوا ہے اور ساتھ ہی ایک تھیلے میں اچھا خاصا گوشت بھی پڑا ہوا ہے۔
کرم دین نے حیرت سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی بیوی بولی کہ ایک بہت بڑی گاڑی میں کوئی بڑا آدمی آیا تھا، وہ کہہ رہا تھا کہ وہ آپ کو جانتا ہے اور ساتھ میں ایک چٹھی بھی دے کر گیا ہے۔ میں نے سامان تو اس کے اصرار پہ رکھ لیا، مگر اب آپ کے انتظار میں ہی تھی اور ساتھ ہی ایک لفافہ کرم دین کی طرف بڑھا دیا۔ کرم دین نے جلدی سے لفافہ کھولا اور اس میں موجود چٹھی پڑھنے لگ گیا
سلام دعا کے بعد لکھا تھا کہ۔۔۔
یار کرمے میں تجھے ایک عام سا بندہ سمجھتا رہا، مگر تو تو بہت بڑا آدمی نکلا، اتنا بڑا کہ تیرے سامنے مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہونے لگا ہے۔ مجھے تیرے بارے میں کچھ باتیں کہیں سے پتا چلیں تھیں۔ پھر میں نے سارا دن تیرا پیچھا کیا اور حاکم علی کے گھر تک جا پہنچا، وہاں سے مجھے تیرے بارے میں باقی سب پتا چل گیا اور جب تیرے گھر آیا تو پتا چلا کہ تیرے اپنے گھر کے حالات بھی بالکل انہی لوگوں جیسے ہیں۔
کرمے! یہ کچھ چیزیں عید کا تحفہ سمجھ کر قبول کر لے، تجھے اللہ کا واسطہ انکار نہ کرنا۔ آج سے تیرا اور باقی پانچوں گھروں کا سارا خرچ میرے ذمہ ہوا۔ باقی باتیں شام کو بنگلے پہ کرتے ہیں اور ہاں آج ڈیوٹی پہ ذرا جلدی آ جانا۔
منجانب ''تیرا سیٹھ''

کرم دین کی آنکھوں سے آنسو نکل کر چٹھی کی تحریر بگاڑ رہے تھے اور اسکی زبان پہ بے اختیار جاری تھا۔۔۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ۔“

02/05/2025

‏شدید گرمی کے موسم میں اپنے سولر سسٹم کو شارٹ سرکٹ اور فائر سے بچانے کے لیے درج ذیل باتوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ سخت ٹمپریچر میں پاور پروڈیوسنگ یونٹ میں فائر پکڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

1- سولر سسٹم لگواتے وقت انورٹر کی جگہ کا انتخاب ایسا کریں جہاں آپکی عمومی پہنچ ہو تاکہ آپکی آتے جاتے اس پر نظر رہے ۔ اکثر لوگ انورٹر ایسی جگہ لگوانے کی ضد کرتے ہیں جہاں انکا مہینوں چکر نہیں لگتا یا صرف کسی فالٹ کی صورت میں ہی جانا ہوتا ہے۔

2- انورٹر ہمیشہ ہوا دار اور کم ٹمپریچر والی جگہ پر لگاہیں ۔ اکثر لوگ انورٹر ایسی بند اور گھٹن والی جگہ لگوانے پر بضد ہوتے ہیں جہاں سانس لینا بھی محال ہوتا ہے۔

3- انورٹر والے کمرے میں کاغذ، کارپٹ، کپڑے، لکڑی یا کوئی بھی آگ پکڑنے والی چیز ہر گز نا رکھیں۔ سب سے زیادہ آگ لگنے کی یہی وجہ ہوتی ہے
3- سخت گرمی والے مہینوں میں جیسے مئی جون جولائی اور اگست میں بریکرز اور انورٹر کی تاروں کا ٹمپریچر اور ٹائٹنس ضرور چیک کرائیں۔ بضرورت سدباب کریں۔
4- کوشش کریں AC اور DC بریکرز کی ڈی بی الگ الگ لگوائیں اور ڈی بی اور بیٹری کو انورٹر کے بالکل نیچے نا لگوائیں۔
5-اچھی اور معیاری کوالٹی کے بریکرز اور چینج اور استعمال کریں۔
6- کم از کم اے سی ارتھ لازمی کرائیں۔
7- اپنی واپڈہ کی نیوٹرل لازمی چیک کریں کے وہ کلیئر ہو۔ بصورت دیگر اپنا ٹرانسفارمر ارتھ کرائیں۔
8- بیٹریز کی چارجنگ سٹینڈرڈ سے زیادہ نا رکھیں اور ٹرمنلز ہمیشہ ٹائٹ ہوں۔
9- ڈی بی کے اوپر فائر ایکسٹنکشر بال لازمی لگائیں جو کہ اتنا مہنگا نہیں ہوتا۔ مارکیٹ سے دو سے تین ہزار تک مل جاتا ہے۔ یہ بال آگ لگ جانے کی صورت میں خود پھٹ کر آگ بجھانے میں معاون ہوتا ہے۔
10- کوشش کریں وولٹرونک کے بنے ہوئے کسی برانڈ کا انوارٹر لگائیں۔

11- سرج پرٹییکشن ڈیوائس اور اوور وولٹیج/ کرنٹ ڈیوائس فائدہ مند ہوتی ہے۔
یاد رکھیں انورٹر کو کبھی پہلے آگ نہیں لگتی۔ آگ ہمیشہ ڈی بی یا بریکرز میں لگتی ہے جو بعد میں انورٹر کو جلاتی ہے۔
آپ کے تعاون کے بغیر آپکا سسٹم کسی صورت محفوظ اور ایفیکٹیو نہیں ہو سکتا
آگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے کسی کا فائدہ ہو سکتا ہے تو مفاد عامہ کے لیے شئیر کردیں
Copied

Address

Block No 5 Near City Shell Pump, Dera Ghazi Khan
Dera Ghazi Khan
32200

Telephone

923349639090

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sunrise Solar Systems posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share