Nalter Power Complex

Nalter Power Complex Conserve Electricty

05/12/2025
30/08/2025

The 14 MW HEP Station Nalter will remain shut down from 9:30 PM to 4:00am due to a leakage detected in the high-pressure anti-jet control valve (3.7 MPa). The shutdown is necessary to carry out essential repair and maintenance work to ensure the safe and reliable operation of the power station. We sincerely apologize for the inconvenience.

23/08/2025

Alert 🚨
Heavy rain 🌧 has started in Nalter Nallah, accompanied by continuous thunder ⚡ and flashes of lightning, creating a severe weather situation and posing potential risks of flooding.

18/08/2025

📢 نوٹس

نلتر نالہ میں سیلاب کے باعث 18 میگاواٹ پاور کمپلیکس کے عارضی ہیڈورکس بہہ گئے ہیں جس کے نتیجے میں مکمل شٹ ڈاؤن ہو گیا ہے۔ ایکسکیویٹر کی رسائی بھی متاثر ہو گئی ہے۔

بحالی کا کام صبح کے وقت سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے اور رسائی بحال ہونے پر شروع کیا جائے گا۔

انتظامیہ
18 میگاواٹ نلتر پاور کمپلیکس

📢 نوٹسشام سے جاری شدید بارش کے باعث 18 میگاواٹ نلتر پاور اسٹیشن کے انٹیک سے پانی کا اخراج احتیاطی طور پر نالے کی طرف موڑ...
18/08/2025

📢 نوٹس

شام سے جاری شدید بارش کے باعث 18 میگاواٹ نلتر پاور اسٹیشن کے انٹیک سے پانی کا اخراج احتیاطی طور پر نالے کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

آپریشن ٹیم ہیڈورکس پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور حالات بہتر ہوتے ہی پانی کا بہاؤ دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔

1انتظامیہ8
نلتر پاور اسٹیشن

محکمہ برقیات گلگت بلتستان - چیلنجز، قربانیاں اور عوامی رویےمحکمہ برقیات گلگت بلتستان Water & Power Department GB) ایک ای...
18/08/2025

محکمہ برقیات گلگت بلتستان - چیلنجز، قربانیاں اور عوامی رویے

محکمہ برقیات گلگت بلتستان Water & Power Department GB) ایک ایسا ادارہ ہے جو پہاڑوں کی دشوار گزار وادیوں میں زندگی کی روشنی پھیلانے کے مقدس مشن پر گامزن ہے۔ اس ادارے کے ہر فرد، چاہے وہ فیلڈ کا ایک معمولی ملازم ہو یا اعلیٰ عہدے پر فائز انجینئر، دن رات ایک کر کے یہ کوشش کرتا ہے کہ ہر گھر میں بجلی کی شمع روشن رہے۔ لیکن افسوس، اس راستے میں جہاں بے پناہ محنت اور قربانیاں ہیں، وہیں عوامی ناشکری اور ناروا رویے کا ایک المیہ بھی موجود ہے۔

**۱۔ قربانیوں کا سمندر اور ناشکرا رویے:**
* **جانوں کی قربانی:** بجلی کی فراہمی صرف بٹن دبانے کا نام نہیں۔ یہ کٹھور پہاڑوں، برفانی طوفانوں اور خطرناک راستوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرنے والے بہادر ملازمین کی دین ہے۔ کتنے ہی ورکرز تاروں کی مرمت کرتے، ٹاور چڑھتے یا دور دراز علاقوں میں سامان پہنچاتے ہوئے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے بچے یتیم ہوئے، اور کئی مستقل معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
* **جان جوکھم کا کام:** ہر طوفان، ہر برفباری، ہر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بجلی بحال کرنے کے لیے ملازمین برفانی چوٹیوں، گہری کھائیوں اور خطرناک پہاڑی راستوں پر نکلتے ہیں۔ یہ محض نوکری نہیں، ایک جہاد ہے۔
* **عوامی ردعمل کی تلخ حقیقت:** المیہ یہ ہے کہ ان تمام قربانیوں کے باوجود، بجلی میں معمولی خلل (جیسے موسمی فالٹ، لائن کٹنا، یا ضروری مینٹیننس) کی صورت میں جب چند گھنٹے یا دن کے لیے بجلی چلی جاتی ہے تو عوام کا ردعمل نہایت شرمناک ہوتا ہے۔ محکمہ کے ملازمین، جو اس وقت بھی مشکل حالات میں کام کر رہے ہوتے ہیں، کو گالیاں، بددعائیں اور ذاتی توہین کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی محنت، جانوں کے خطرے اور المناک قربانیوں کا کوئی اعتراف نہیں کیا جاتا۔ کسی "ضمیر والے بندے" کی زبان پر ان ہیروز کے لیے ایک شکر گزار یا ہمدردانہ جملہ بھی نہیں آتا۔

**۲۔ پاور ہاؤسز کی تعمیر: حقائق اور مالیاتی پابندیاں:**
* **"ندی نالوں میں کیوں؟ دریائی پاور ہاؤس کیوں نہیں؟"** یہ سوال اکثر سنا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ:
* **خطیر فنڈز کا مسئلہ:** دریائی پاور ہاؤسز (ڈیم بیسڈ یا بڑے رن آف ریور) تعمیر کرنے کے لیے انتہائی خطیر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت سے ملنے والے فنڈز محدود ہیں جو بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہیں۔
* **ادائی قلیل رقم کا بہتر استعمال:** محکمہ کے ماہر انجینئرز اسی محدود بجٹ کو سوچ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔ چھوٹے ندی نالوں پر مائیکرو/منی ہائیڈل پاور پراجیکٹس (Run-of-the-River کا ہی ایک پہلو) ہی وہ عملی حل ہیں جو نسبتاً کم لاگت، کم تعمیراتی وقت اور ماحول دوست ہونے کے ساتھ دور دراز دیہات کو بھی روشنی فراہم کر سکتے ہیں۔
* **وفاقی انحصار:** بڑے دریائی منصوبوں کے لیے درکار کروڑوں اربوں روپے صرف وفاقی حکومت ہی فراہم کر سکتی ہے۔

**۳۔ سیاسی نظام: وعدے، مفادات اور بجلی کی فراموشی:**
* **الیکشن کا کھیل:** سیاسی جماعتیں اور امیدوار الیکشن کے دوران بجلی سمیت ہر مسئلے کے حل کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔
* **ذاتی مفادات کی ترجیح:** جیتنے کے بعد اکثر MNA/MPAs اپنی ذاتی سیاسی بقا، پارٹی مفادات، رشتہ داری یا مقامی دباؤ میں پاور پراجیکٹس جیسے طویل مدتی اور کٹھن منصوبوں کو ترجیح دینے کے بجائے فوری نظر آنے والے چھوٹے کاموں یا اپنے حامیوں کی فرمائشوں میں الجھ جاتے ہیں۔
* **وقت اور توجہ کی قلت:** ان کی مصروفیات اور سیاسی دباؤ اس قدر ہوتے ہیں کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور وفاق سے فنڈز کے لیے مؤثر وکالت کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ "فرمائشیں پوری کرنا" ہی ان کے لیے چیلنج بن جاتا ہے، بڑے پاور پراجیکٹس خواب ہی رہ جاتے ہیں۔
* **عوامی غصہ اور بے حسی کا چکر:** پھر جب سردی کی شدید راتوں میں ہیٹر بند ہو یا گرمی میں پنکھا رک جائے تو عوام کا سارا غصہ براہ راست محکمہ برقیات کے بے چارے ملازمین پر نکلتا ہے، جو درحقیقت اس سیاسی بے حسی اور فنڈز کی کمی کے مجبور قیدی ہیں۔

**نتیجہ اور اپیل:**

یہ صورت حال انتہائی تشویشناک اور قابل افسوس ہے۔ ایک طرف محکمہ برقیات کے ہزاروں ملازمین اپنی جان خطرے میں ڈال کر، شدید موسم اور نامساعد حالات میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی قیمتی جانیں اور صحتیں قربان کرتے ہیں۔ دوسری طرف عوام کی ایک بڑی تعداد ان کی قربانیوں، محنت اور مسلسل جدوجہد کو یکسر نظر انداز کر کے معمولی خلل پر بدتمیزی اور گالی گلوچ پر اتر آتی ہے۔ تیسری طرف سیاسی قیادت بنیادی مسئلے (فنڈز کی فراہمی بڑے منصوبوں کے لیے) کو حل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

**ضرورت اس امر کی ہے کہ:**

1. **عوام میں شعور بیدار کیا جائے:** لوگوں کو محکمہ برقیات کے ملازمین کی قربانیوں، محنت اور کام کی نوعیت سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ معمولی خلل پر گالی دینے کے بجائے صبر، حوصلہ اور تعاون کا رویہ اپنانا چاہیے۔
2. **ملازمین کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے:** ان ہیروز کی قربانیوں کے لیے معاشرے کا شکرگزار اور احترام آمیز رویہ انتہائی ضروری ہے۔
3. **سیاسی قیادت کو اپنا فرض یاد دلایا جائے:** عوام اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے (خصوصاً بڑے دریائی پاور پراجیکٹس) کے حصول کے لیے وفاقی سطح پر سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے کام کریں، نہ کہ صرف قلیل المدتی سیاسی مفادات کے پیچھے بھاگیں۔
4. **متعاون رویہ:** بجلی کا نظام ایک پیچیدہ انفراسٹرکچر ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ غیرقانونی کنکشن لینے، بلوں کی ادائیگی میں ٹال مٹول اور محکمہ کے ورکرز کے ساتھ بدسلوکی کرنے جیسے رویوں سے گریز کریں۔

**حرف آخر:**
گلگت بلتستان کی پہاڑی رتوں میں روشنی پھیلانے والا محکمہ برقیات اور اس کا ہر ملازم قابل احترام اور قابل ستائش ہے۔ ان کی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کو نظر انداز کرنا، انہیں گالیاں دینا نہ صرف ناشکری ہے بلکہ انسانی حساسیت کے منافی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام اپنے رویے پر نظرثانی کریں، سیاسی قیادت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اور محکمہ برقیات کے جری ملازمین کو وہ عزت، تعاون اور احترام دیا جائے جو ان کی بے مثال خدمات کا حق ہے۔ صرف اس مشترکہ شعور، صبر اور تعاون سے ہی گلگت بلتستان کے ہر گھر میں پائیدار روشنی کی امید کی جا سکتی ہے۔

والسلام

“Restoration work on the flood damages at Nalter Complex is underway with zeal and zest.”However Temporary measures are ...
16/08/2025

“Restoration work on the flood damages at Nalter Complex is underway with zeal and zest.”However Temporary measures are being taken to restore power supply, and electricity will be available soon

Address

Gilgit

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nalter Power Complex posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category