22/10/2025
تم اس شخص کی تھکن کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس نے پوری زندگی ایک ایسے راستے پر چل دی جو اسے منزل تک لے جانے والا لگا مگر آخر میں جا کر پتا چلا کہ وہ راستہ ہی غلط تھا یہ احساس جسمانی تھکن سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ جسم کی تھکن نیند سے دور ہو جاتی ہے مگر روح کی تھکن احساس کی موت سے بھی گہری ہوتی ہے انسان جب کسی مقصد پر یقین کر کے برسوں جدوجہد کرتا ہے اور پھر ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ساری محنت ایک غلط سمت میں تھی تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے وہ نہ واپس جا سکتا ہے نہ آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ راستہ بدلنے کے لیے ہمت چاہیے اور ٹوٹی ہوئی روح کے پاس ہمت نہیں رہتی دنیا میں سب سے بڑا زخم وہ نہیں جو جسم کو لگے بلکہ وہ ہے جو امید کے دھوکے سے دل میں لگے اور ایسے شخص کے اندر جو خاموشی جنم لیتی ہے وہ سب چیخوں سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے کیونکہ اب وہ کسی بات پر یقین نہیں کرتا نہ منزل پر نہ رہنما پر نہ خود پر اس نے چلنا تو سیکھا مگر بھروسہ کھو دیا اور جب انسان کا بھروسہ ٹوٹ جائے تو وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی خالی ہو جاتا ہے ہم اکثر دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہمت نہ ہارو مگر کسی غلط راستے پر چلنے والے کی ہمت نہیں بلکہ سمت برباد ہوتی ہے زندگی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ چلنے سے پہلے سمت کی سچائی پر غور کرو کیونکہ غلط سمت میں ہزاروں میل چلنا بھی تمہیں منزل کے قریب نہیں لے جاتا بلکہ تمہیں اس سے اور دور پھینک دیتا ہے کبھی کبھی انسان کو دیر سے سمجھ آتا ہے کہ کامیابی صرف رفتار میں نہیں بلکہ صحیح راستے کے انتخاب میں ہے اور جو یہ بات وقت پر سمجھ جائے وہ کم تھکتا ہے کیونکہ اسے علم ہوتا ہے کہ وہ کہاں جا رہا ہے مگر جو اندھی یقین میں چلتا ہے وہ منزل سے پہلے ہی تھک جاتا ہے کیونکہ وہ دل میں جان چکا ہوتا ہے کہ شاید یہ سب بیکار ہے اصل تھکن یہی احساس ہے کہ تم نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسی غلط مقصد کے لیے قربان کر دیا اور اب واپس جانا ممکن نہیں رہا۔
Khuram butt