16/07/2025
" فری انرجی / مفت توانائی" نام کی کسی شے کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ھے۔
توانائی کو ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ھے۔
بجلی کی بات کی جائے تو۔۔۔ اس کیلئے حرکی ، پوٹینشل ، فوٹون اور حرارتی توانائی وغیرہ کو استعمال کر کے بجلی/ برقی توانائی میں بدلا جاتا ھے اور پھر سے اس برقی توانائی کو مختلف آلات کے ذریعے مفید کام لینے کیلئے حرکی، حرارتی اور فوٹون انرجی کی شکل میں بدل لیتے ہیں۔
بجلی بنانے کے کچھ ذرائع ۔۔۔ جیسے ہائیڈل ، ونڈ ، سولر وغیرہ ری نیوبل سورس ہوتے ہیں جو قدرتی طور پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں، لیکن انہیں برقی توانائی میں ڈھالنے کیلئے بھی بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ھوتی ھے اور انکے آپریشنل اخراجات بھی ہوتے ہیں۔
اس لئے " مفت توانائی" بس ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔
اور جو ڈائنمو ، فلائی ویل، پلی پر وزن اور دیگر کئی جگاڑوں کی بات کی جائے تو وہ "پرپیچوئل موشن مشینز" (Perpetual Motion Machines) کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ بس تصور کی حد تک ہی محدود ہیں کہ یہ وہ مشینیں ہیں جو ایک بار چلانے کے بعد ہمیشہ چلتی رہیں اور بغیر کسی اضافی توانائی کے لگاتار کام کرتی رہیں۔
فزکس کے قوانین، خاص طور پر توانائی کے تحفظ کا قانون اور تھرموڈائنامکس کا دوسرا قانون، ایسی مشینوں کے وجود کو ناممکن قرار دیتے ہیں۔