20/06/2025
عورت کے جسم میں بریسٹ ایک قدرتی اور اہم عضو ہے اس کا سائز ہر عورت میں مختلف ہوتا ہے یہ فرق جینیاتی نظام غذائی عادات اور ہارمونز کی وجہ سے ہوتا ہے
بریسٹ سائز کا براہ راست تعلق ہمبستری کی لذت یا جنسی احساسات سے نہیں ہوتا احساسات کا تعلق دماغی کیفیت جذباتی ربط اور جسمانی لمس سے ہوتا ہے نہ کہ سائز سے
کچھ عورتوں کے بریسٹ چھوٹے ہوتے ہیں مگر وہ جنسی تعلق میں زیادہ حساس ہوتی ہیں جبکہ کچھ کا سائز بڑا ہوتا ہے مگر وہ احساس میں مختلف ہو سکتی ہیں اس کی وجہ سائز نہیں بلکہ انفرادی جسمانی حساسیت اور دماغی حالت ہوتی ہے
نپلز اور اردگرد کے حصے میں اعصاب ہوتے ہیں جن سے لمس کا اثر محسوس ہوتا ہے مگر اس میں سائز کا کردار معمولی ہوتا ہے اصل چیز یہ ہے کہ شوہر بیوی کے ساتھ نرمی محبت اور توجہ سے پیش آئے تاکہ ذہنی سکون پیدا ہو
بعض لوگ بڑے سائز کو پسند کرتے ہیں مگر یہ صرف ذاتی پسند ہوتی ہے جس کا تعلق جنسی فطرت یا اخلاق سے نہیں بلکہ ایک ذوقی معاملہ ہوتا ہے دین اسلام میں بھی حسن کو پسند کیا گیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ تعلق محبت احترام اور حلال دائرے میں ہو
خوشگوار ازدواجی تعلق کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھیں خود کو قبول کریں اور جسمانی تعلق کو صرف ضرورت نہیں بلکہ ایک محبت بھرا تعلق سمجھیں
اس لیے عورت یا مرد کا جسمانی سائز بڑا یا چھوٹا ہونا اہم نہیں اصل چیز ایک دوسرے کو سمجھنا احترام دینا اور پاکیزہ انداز سے رشتہ نبھانا ہے
یہ تحریر صرف ازدواجی شعور اور سیکھنے کے لیے ہے بے ادبی یا فحاشی سے اس کا کوئی تعلق نہیں جو لوگ اس موضوع کو غیر سنجیدہ بناتے ہیں وہ علم سے دوری اور معاشرتی بے خبری میں مبتلا ہوتے ہیں