15/08/2026
پیٹرول پمپ کا کاروبار تباہی کے دہانے پر، حقیقت جانیں
آل پاکستان پیٹرولیم اینڈ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن
معزز عوام،
بدقسمتی سے کچھ لوگ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پیٹرول پمپ مالکان لاکھوں روپے کما رہے ہیں اور محض لالچ کی خاطر مارجن بڑھانے کے لیے ہڑتال کرتے ہیں، اور انہیں مافیا کا نام دیا جاتا ہے۔ ہم اس تاثر کی حقیقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
ہماری گزارش ہے کہ ایسے تمام تنقید کرنے والے دوست ایک مہینے کے لیے کوئی فیول اسٹیشن کرائے پر لے کر خود چلا کر دیکھ لیں، انہیں خود پتا چل جائے گا کہ حقیقت میں منافع کمایا جا رہا ہے یا خسارہ۔ یقین جانیں، اکثریت کو نقصان ہی نظر آئے گا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم کسی بھی پیٹرول پمپ پر جا کر روزنامچہ (ڈیلی اکاؤنٹس) چیک کروا لیں، حقیقت خود بخود سامنے آ جائے گی۔
ایک فیول اسٹیشن چلانے میں کیا کیا اخراجات شامل ہوتے ہیں، اس کا اندازہ عام آدمی کو نہیں ہوتا۔ چوبیس گھنٹے بجلی جلانی پڑتی ہے کیونکہ اسٹیشن کبھی بند نہیں ہوتا۔ واٹر پمپ مسلسل چلانا پڑتا ہے، ڈسپنسر مشینیں چلتی ہیں، کولنگ واٹر سسٹم درکار ہوتا ہے۔ عملے کی تنخواہیں، مختلف قسم کے اخراجات، جرمانے اور ٹیکسز الگ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
ان تمام اخراجات کے بعد جو منافع بچتا ہے، وہ اتنا معمولی ہوتا ہے کہ آخر میں ایک سبزی کا ٹھیلا لگانے والا بھی ہم سے زیادہ کما لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا مارجن بڑھانے کا مطالبہ کوئی لالچ نہیں بلکہ ایک جائز اور معقول ضرورت ہے، تاکہ یہ کاروبار قابلِ عمل رہ سکے اور عوام کو بلاتعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ کسی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق کو سمجھیں، اور بغیر معلومات کے کسی طبقے کو مافیا کا نام دینے سے گریز کریں۔
والسلام
آل پاکستان پیٹرولیم اینڈ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن