PAK ARMY

PAK ARMY Pak Army Fanz

یوکرین میں بچوں سے زیادتی کے جرم پر نیا قانون --- مجرم کو جیل میں انجکشن لگا کر جنسی طور پر ناکارہ کردیا جائے گا --- یہ ...
28/01/2020

یوکرین میں بچوں سے زیادتی کے جرم پر نیا قانون --- مجرم کو جیل میں انجکشن لگا کر جنسی طور پر ناکارہ کردیا جائے گا --- یہ قانون 18 سے 65 سال کے مجرموں پر لاگو ہوگا جن قوموں نے ایکشن لینا ہوتا ہے وہ ایسے ہی لیتی ہیں,, یہاں معصوم بیٹیاں لٹتی رہتی ہیں اور ریاست بھنگ پی کر سوتی رہتی ہے,,زینب کیس کے بعد پارلیمنٹ کو 4 سال لگے قانون سازی کرنے میں,, اس سے پہلے قصور سکینڈل بھی ہو چکا تھا, چونیاں والا سکینڈل بھی آ گیا,,, ہم کو سیاست کی پڑی رہتی ہے,,, اور اپنے بیٹیاں اور بیٹے درندگی کا شکار ہو رہے ہیں

یہ قانون پاکستان میں بھی ہونا چاہیئے نا۔۔۔۔؟؟؟

حورین☔

04/01/2020

سیاچن اور کارگل جنگ کی اصل حقیقت

سیاچن میں معمول تھا کہ دونوں ممالک کی افواج سخت سردیوں میں گلیشیر سے نیچے اتر آتی تھیں۔ ایک طرح کا غیراعلانیہ معاہدہ کہہ لیں۔
لیکن 84ء میں انڈین افواج بظاہر گلیشیر سے اترنے کے بعد نہایت خاموشی سے دوبارہ واپس چلی گئیں اور ان چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو پاک فوج نے خالی کی تھیں۔

یہی انڈیا کی سیاچن فتح تھی۔

پاک فوج نے چوٹیوں کا قبضہ واپس لینے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ چوٹیوں پر دوبارہ قبضے کے لیے ایک بڑی اور باقاعدہ جنگ کی ضرورت تھی جس میں ائر فورس کی بھرپور معاؤنت درکار تھی۔ پاک فوج کے پاس سیاچن کی سردی کا مقابلہ کرنے والے لباس بھی نہیں تھے۔

اس وقت جنرل ضیاء الحق روس کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی پراکسی جنگ لڑ رہے تھے جس میں روس شکست کے دھانے پر تھا۔ جنرل ضیاء کو اندیشہ تھا کہ انڈیا کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ کی صورت میں روس پاکستان کی پشت پر حملہ کر سکتا ہے اور پاکستان بیک وقت دونوں بڑی طاقتوں سے نہیں لڑ سکے گا نیز پاکستان افغانستان میں جیتی ہوئی جنگ ہار جائیگا۔

خالصتان تحریک اس وقت جڑ پکڑ چکی تھی اور ضیاءالحق کو امید تھی کہ سکھ آزادی حاصل کرلینگے جس کے بعد کشمیر خود بخود انڈیا سے کٹ جائیگا۔

لیکن اس کے باؤجود سیاچن کا بدلہ لینے کی خفیہ منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کارگل کا ابتدائی خاکہ تیار کیا گیا۔

اس وقت جنرل ضیاء نے کچھ ایسے بیان بھی جاری کیے جس سے انڈیا کو لگا کہ درحقیقت اسکو سیاچن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں۔

87ء میں برگیڈیر پرویز مشرف نے ایس ایس جی کمانڈوز کی مدد سے" قائد " نامی اہم ترین پوسٹ واپس حاصل کر لی جس میں وہاں موجود پوری کی پوری انڈین برگیڈ ماری گئی جنکی تعداد 300 بتائی جاتی ہے۔

88/89ء میں پہلی بار پرویز مشرف نے بطور برگیڈئیر بے نظیر بھٹو کے سامنے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے کارگل جنگ کا منصوبہ پیش کیا لیکن بے نظیر نے منصوبے کو مسترد کر دیا۔ مشرف کا موقف تھا کہ انڈیا کے سیاچن پر دھوکے سے قبضے نے ہمیں جواز فراہم کر دیا ہے۔

کارگل میں بھی سیاچن کی طرح سخت سردیوں میں دونوں ممالک کی افواج نیچے اتر آتی تھیں۔ مئی 99ء میں پاک فوج نیچے اترنے کے بعد دوبارہ واپس گئی اور انڈیا کی خالی کی گئی تمام چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔

اس قبضے کے نتیجے میں سیاچن اور لداخ میں موجود انڈیا کی کئی لاکھ فوج محصور ہوگئی اور ان کے لیے جانے والی اکلوتی سپلائی لائن پاکستان کے نشانے پر آگئی۔ اس سپلائی لائن کا 8 کلومیٹر حصہ تو ایسا تھا کہ وہاں کسی چیونٹی کے لیے بھی حرکت کرنا ممکن نہ رہا۔

انڈیا نے قبضہ واپس حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت استعمال کی۔ اس جنگ میں انڈیا نے سٹیٹ آف دی آرٹ بوفرز توپوں سمیت اپنی ائر فورس کی پوری قوت بھی جھونک دی۔ لیکن ناکامی ہوئی۔

پاکستان نے 6 اہم ترین چوٹیوں پر قبضہ کیا تھا جن میں سے صرف ایک پر جنگ جاری تھی۔ باقی پانچ انڈیا کو نظر ہی نہیں آرہی تھیں۔

کل قبضہ کی گئی پوسٹوں کی تعداد 130 تھی جن میں سے صرف تین یا چار ہی انڈیا واپس لے سکا تھا۔

اسی دوران پاک فوج نے انڈیا کے تین جہاز مار گرائے جس کے بعد انڈین ائر فورس نے اپنے حملے بند کر دئیے۔ انڈیا کو ناقابل برداشت جانی اور مالی نقصان ہو رہا تھا۔

جنگ کا منظر نامہ کیا تھا اس کی کچھ جھلکیان انڈینز کی زبانی۔

" پاک فوج کے 10 سپاہی انڈیا کے 1000 سپاہیوں پر بھاری پڑ رہے ہیں" بحوالہ انڈیا ٹی وی

" دن میں تو حرکت کرنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ کھانا بنکروں میں بنتا تھا۔ لیٹرین بھی ہم ڈبوں میں کر کے بنکروں سے باہر پھینکتے تھے۔ دشمن کے مسلسل فائر سے ہمارا بہت زیادہ نقصان ہوا تھا "

" پاکستانیوں نے ہمیں اچھی طرح مارلگانے کے بعد چڑانے کے لیے اپنے ینکروں سے نکل کر بھنگڑا کیا۔ کہ اگر ماں کا دودھ پیا ہے تو مار لو اور ہمارے جوان اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ کسی نے فائر تک نہیں کیا ہماری بہت بے عرتی ہوئی تھی" میجرجنرل جی ڈی بخشی

" کارگل جنگ حقیقت میں بھارت نے نہیں جیتی" ۔۔بھارتی فوج کے سابق جنرل کشن پال کا اعتراف

دوران جنگ ہی انڈیا نے ایل او سی کراس کر کے پاک فوج کی کارگل کے لیے رسد کاٹنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش کرنے والے انڈین فوجی نہ صرف پاک فوج کے ہاتھوں مارے گئے بلکہ کئی زندہ بھی گرفتار ہوئے۔

اس وقت پرویز مشرف نے بیان دیا کہ اگر انڈیا نے جنگ بڑھائی تو پاکستان آخری حد تک جائیگا۔ جس کے بعد انڈیا جنگ صرف کارگل تک ہی رکھنے پر مجبور ہوگیا۔ یہ بیان انڈیا کی ہی بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری سے لیا گیا ہے۔

انڈیا کو یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر جنگ چند ماہ اور جاری رہی تو کشمیر میں محصور کئی لاکھ انڈین فوج رسد ختم ہوجانے کی وجہ سے ہتھیار ڈال دیگی۔

انڈیا اقوام متحدہ اور امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مجبور کرتا رہا۔ بالاآخر 4 جولائی 1999 کو نواز شریف نے صدر کلنٹن سے ملاقات کے بعد پاک فوج کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد دوران پسپائی پاک فوج کو پشت پر کیے گئے حملوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

انڈیا اور ویکیپیڈیا کا دعوی ہے کہ انڈیا دوران جنگ ہی تقریباً 80 فیصد کارگل واپس لے چکا تھا۔
یہاں میرا ایک سادہ سا سوال ہے۔
اگر انڈیا 80 فیصد کارگل واپس لے چکا تھا تو جنگ بندی کے بعد چوٹیوں سے واپسی کرنے والی 4000 پاک فوج کہاں بیٹھی رہی؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔ ہوا میں؟؟؟

پاکستان کے مطابق انڈیا کے 2000 کے قریب فوجی مارے گئے جبکہ انڈیا اپنی 700 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرتا ہے۔
انڈیا کے مطابق پاکستان کے 700 فوجی مارے گئے جبکہ پاکستان اپنی 400 فوجیوں کی شہادت تسلیم کرتا ہے۔
لیکن نواز شریف کا دعوی ہے کہ انڈیا نے پاکستان کے 4000 فوجی مارے 🙂
اب اس الو کے پٹھے سے کوئی پوچھےکہ وہاں ہماری کل فوج ہی 4000 تھی۔ اگر سب ماری گئی تو واپس کون آئے تھے؟

خیال رہے کہ پاکستان کے 400 میں سے تقریباً 300 کے قریب فوجی دوران پسپائی چوکیوں سے نکلنے کے بعد اور پشت پر کیے گئے حملوں میں شہید ہوئے۔

کیپٹن کرنل شیر خان ان چند جوانوں میں سے تھے جنہوں نے پوسٹیں خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے محض 27 ساتھیوں کے ساتھ انڈیا کی دو بٹالین فوج ( 1000 سے 1500) کا تا شہادت مقابلہ کیا۔

نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد پرویز مشرف اور نواز شریف میں کارگل کے معاملے پر محاذ آرائی شروع ہوئی اور دونوں ایک دوسرے کو نقصان کا ذمہ دار ٹھراتے رہے۔
میڈیا اور اخبارات خاص کر جنگ گروپ نے اس آپریشن پر زبردست تنقید کی اور ملک بھر میں کارگل آپریشن کے خلاف مہم چلائی۔ پرویز مشرف کو کچھ ایسے آرمی کے سینئر آفیسرز کی بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جو پرویز مشرف کو اپنا حریف سمجھتے تھے۔ ان میں چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل فصیح بخاری جو چیف آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی بننا چاہتے تھے اور لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان شامل تھے جس کو بائی پاس کر کے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا تھا۔

نواز شریف نے اعلان کیا کہ اس کو اس جنگ سے لاعلم رکھا گیا تھا حالانکہ اسکی ویڈیوز آج بھی یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں جس میں اس نے دوران جنگ محاذ کا دورہ کر کے پاک فوج کو شاباش دی تھی۔

یوٹرن تب لیا جب امریکی دباؤ آیا۔ جس کے بعد نواز شریف نے ڈی سی سی میٹنگ کے دوران پرویز مشرف پر الزام لگایا کہ " تم نے مجھے لاعلم رکھا" ۔۔ جواباً پرویز مشرف نے اپنی جیب سے نوٹ بک نکالی اور جنوری سے لیے کرجون تک وہ تمام تاریخیں اور بریفنگز گنوا دیں جو وہ اس معاملے میں وہ نواز شریف کو دے چکے تھے ۔ انکی تعداد سات تھی۔

پاک فوج نے کارگل میں بلکل وہی آپریشن کیا جو انڈیا نے سیاچن میں کیا تھا۔ لیکن نواز شریف نے انڈیا میں بیٹھ کر اس کو "انڈیا کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے" سے تشبیہ دی۔

کارگل جنگ میں بظاہر پسپائی اختیار کرنے کے باؤجود پاک فوج نے پوائنٹ 5353 پر قبضہ برقرار رکھا۔ یہی کارگل کی سب سے بلند چوٹی ہے۔ پاک فوج جب چاہے بھارتی سپلائی لداخ اور سیاچین گلیشر کے لیے بند کر سکتی ھے۔ یہیں سے ٹائیگر ہل اور ارد گرد کا علاقہ پاکستانی توپ خانے کی زد میں ھے۔
پاک فوج یہاں پکے بنکر بنا چکی ہے اور سپلائی کے لیے سڑک بھی تعمیر کر لی گئی ھے۔

سچائی یہ ہے کہ انڈین فوج کو شکست دینے والی پاک فوج کارگل میں اپنے ہی وزیراعظم سے شکست کھا گئی تھی۔

تحریر شاہدخان

18/12/2019

‏پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے.

کچھ دانشوارو نے جنگ جنگ لگا رکھی ہے ۔کے جنگ کب ہوگی جنگ کب ہوگی ۔پاکستان نے کشمیر کو بیچ دیا وغیرہ وغیرہ ۔ان سب کے لئے م...
15/12/2019

کچھ دانشوارو نے جنگ جنگ لگا رکھی ہے ۔
کے جنگ کب ہوگی جنگ کب ہوگی ۔
پاکستان نے کشمیر کو بیچ دیا وغیرہ وغیرہ ۔
ان سب کے لئے میں یہ تحریر لکھ رہا ہو ۔
پاکستان کے بننے سے لیکر اب تک کشمیر سے نہ پاکستان ہٹا ہے اور نہ ہی کبھی ہٹے گا ۔
آپ لوگو کو کیا لگتا ہے کے جنگ نہیں ہو رہی ۔
کبھی کشمیر میں ہندوستانی فوجیو پر حملہ ہو رہا ہے کبھی 500 سی 600 فوجی گم ہو جاتے ہے ۔
کبھی ان کے اپنی فوجی ایک دوسرے کو مار دیتے ہے ۔
کبھی مجاھدین ان پر حملہ کر کے 15،20 فوجی مردار کر دیتے ہے ۔
کبھی ان کا سیکریٹ ڈاٹا چوری کر لیتے ہے ۔
کبھی ہمارے جوان سرحد پر ان کے لاشو کے ڈھیر بنا دیتے ہے اور آخر میں ان کو سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔
کبھی ان کے افسر گمشدہ ہو جاتے ہیں ۔
کبھی کیا کبھی کیا ۔
حملہ کرنے سے پہلے سب کچھ جانچنہ پڑتا ہے ۔
کے دشمن کی چال کیا ہے دشمن جنگ کیوں چاہ رہا ہے ۔
دشمن کی پلاننگ کیا ہے ۔
ہزارو رپورٹس ایجنسیز کی دیکھنی پڑتی ہے ۔
آخر 9 لاکھ فوج کشمیر میں بھارت کیوں لیکے آیا ہے دیکھنا پڑتا ہے دشمن کا کیا ٹارگٹ ہے ۔
اور آپ کی گمنام شہزادو کو وو سب کچھ معلوم ہے بھارت کا کیا پلان ہے اس کو کس طرح جواب دینا ہے ۔
چلو حملہ کر دیتے ہیں پتا ہے پھر کیا ہوگا جن کے لئے ہم حملہ کرے گے ان کو بھارت حملے کر کے ان کو اڑا دیگا اور نام پاکستان پر لگا دیگا اس وقت یہ ثابت کرنے کا وقت نہیں ہوگا کے یہ بھارت نے خود کروایا ہے ۔
کیا لگتا ہے آپ کو کے کشمیر ایک دن میں ہی فتح ہو جائیگا اور ہمارے نام نہاد مسلمان ممالک کس کا ساتھ دیگے پڑوس سے کونسی پلاننگ ہوگی (افغانستان) کس کا ساتھ دیگا ہماری سیاسی جماعتے کس کا ساتھ دیگی کون کون ملک ہمارے ساتھ ہوگا کس طرح اندرونی دشمن ایکٹو کیے جائیگے ۔
کیا معلوم ہماری سیاسی جماعتے کس کے ساتھ ہوگی۔
9 لاکھ فوج بھارت کشمیر لے آیا ہے ظاہر ہے اس کی کچھ پلاننگ ہوگی۔
ہم سے بہتر جانتے ہے مارخور اور پاک فوج کے کس طرح فتح کرنا ہے ۔
اور کچھ بھائی یہ کہتے ہیں کے اٹم بم دیکھنے کے لئے رکھے ہے کیا ؟
چلو اٹم بم بھی چلاتے ہیں پھر کیا ہوگا معلوم ہے ۔
جب ہم چلائیگے ظاہر ہے بھارت بھی چلائیگا پھر یوں دونو ملک راکھ کا ڈھیر بن جائیگے اور نہ ہم رہے گے اور نہ بھارت ۔
پھر یہ جنگ کونسی ہوئی جس کے لئے ہم نے اٹم بم چلائی وہی نہ رہے تو جنگ کیسے ہوئی یہ ۔
لہذا دشمن کے پروپیگنڈا میں مت آؤ ۔
اور انشاءلله کشمیر تو چھوٹی بات ہے ہم پورا ہندوستان لیکے رہے گے ۔
اور کچھ کہتے ہیں کے ہمارے پاس تو غزوہ ھند کی بشارت ہے ۔
اوہ میرے بھائیو غزوہ ھند تو شروع ہو چکا ہے ۔
جیسا کے نعمتاللہ‎ شاہ ولی اللہ کی پیشنگوئی بھی ہے
کے غزوہ ھند چھوٹی عید اور بڑی عید کے درمیان ہوگی ۔
اور یہ 370 ہٹایا چھوٹی عید اور بڑی عید کے درمیان ۔
غزوہ ھند شروع ہو چکا ہے ۔
اور جیسا کے آپ سب کو بھی پتا ہے کے اس وقت بھارت میں شدید حالات ہو چکے ہے اور مسلمانو کی شہریت ختم کر کے ہر جگہ سے مزہارے اور حملہ شروع ہو چکے ہیں ۔
انشاءلله بھارت ٹوٹنے جا رہا ہے ۔
اور مارخور اپنی گیم کھیل رہا ہے اور انشاءلله بھارت نیست و نابوت ہوگا ۔
اور پاکستان کے اندر بھی دشمن
جنگ شروع کر چکے ہے اور اس کو ہمے ناکام کرنا ہے مارخور اور پاک فوج اپنا اپنا کام کر رہے ہے ہمے بھی اپنا اپنا کام کرنا ہے ۔
کبھی کوئی پروپیگنڈا کبھی کوئی پروپیگنڈا کیا جا رہا ۔
کبھی سرخے آ جاتے ہے کبھی وکلا تو کبھی پی ٹی ایم تو کبھی ٹی ٹی پی کبھی سندھو دیش کی باتے کی جاتی ہے تو کبھی پختونو کا الگ ملک بنائی گے کہا جاتا ہے ۔
کبھی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے پاکستان نے کشمیر کا نام بدل کر ہندوستان کے ساتھ ملا لیا ہے ۔
ہالاکے حقیقت کچھ اور ہوتی ہے پاکستان نے نہیں بلکے آزاد کشمیر نے خود یہ نام تبدیل کیا ہے ۔
لیکن توڑ مروڑ کر کسی اور طرح پیش کیا جاتا ہے اور ہمارے دانشور اس پروپیگنڈا کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
اور لڑنا بھی بہت آسان ہے۔۔ لیکن پھر بھی 100 میں سے صرف 2 بندے سنجیدگی سے لڑ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا وار، پروپیگنڈہ وار۔ ڈس انفارمیشن وار۔
گرم بستر میں بیٹھ کر لڑ سکتے ہیں ہم۔ لیکن پھر بھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لڑ رہا کوئی کلہاڑے یا بیلچے تو چلانے نہیں صرف کاپی پیسٹ شئیر محبت کا پیغام، پروپیگنڈہ ایکسپوز کرنا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
دشمن ہیٹر رومز میں بیٹھ کر صبح شام ہمارے خلاف لڑ رہا ہے۔ ہمیں لڑوا رہا ہے۔ اور ہم ہاتھ باندھے تماشا دیکھ رہے۔
ہمت کرو اٹھو اور سوشل میڈیا کے ذرے گرم بسترو اور اپنے گھر میں بیٹھ کر لڑو یہ تو بوہت آسان ہے ۔
اپنے اکاؤنٹ کو اپنا مورچہ سمجھ کر لڑو ۔
اور ان مورچو پر دشمن بھی حملہ کرتا ہے جس کو آپ بھرپور جوابی کارروائی کرنی ہے ۔
دشمن آپ کے اکاؤنٹ اڑانے کی کوشش کرے گا ۔
لیکن آپ کو رکنا نہیں ایک اکاؤنٹ گیا تو دوسرا بناؤ دوسرا گیا تو تیسرا بناؤ دشمن کو گھسیٹ گھسیٹ کر مارو ۔
اور کچھ کہتے ہیں کے سوشل میڈیا پر یہ جنگ ننھی اوہ میرے بھائیو جنگ نھی تو دشمن اکاؤنٹ کیوں اڑاتا ہے کیوں پروپیگنڈا کرتا ہے ۔

تحریر :مجاھد مارخور ۔
پاکستان زندہ آباد 🇵🇰
آئی ایس آئی زندہ آباد 🇵🇰
پاک فوج زندہ آباد 🇵🇰
کشمیر بنے گا پاکستان 🇵🇰
ہندوستان ٹوٹ کے رہے گا کشمیر بن کے رہے گا پاکستان 🇵🇰

04/12/2019

Listen 👂

30/11/2019

طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک آج کل پھر زوروں پر ہے۔ پاکستان میں سٹوڈنٹ یونین پر جنرل ضیا نے 1984 میں پابندی عائد کی تھی اور اسکی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں سیاست اور تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے۔

پھر بینظیر 1988 میں جب وزیراعظم بنی تو اس نے طلبہ تنظیموں پر پابندی ہٹانے کا اعلان کردیا۔ وفاقی حکومت کے اس اعلان پر پبجاب میں عملدرامد نہیں ہونے دیا گیا۔ عدالتوں میں بھی طلبہ یونین بحالی کا مقدمہ لڑا گیا اور غالباً 1993 میں سپریم کورٹ نے طالبعلموں کی ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرکے طلبہ یونین کی بحالی کا راستہ بند کردیا۔

طلبہ یونین کے حق میں یہ دلائل دیئے جاتے ہیں کہ اس سے طالبعلموں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مدد ملتی ہے، طابعلموں کی آواز تعلیمی اداروں کے سربراہان تک پہنچانا آسان ہوتی ہے، طلبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کرنے میں مدد ملتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف مخالفت میں سب سے بڑی دلیل یہی دی جاتی ہے کہ طلبہ تنظیموں کے نام پر سیاست اور بدمعاشی کو فروغ ملے گا اور پہلے سے خراب تعلیمی اداے مزید تباہ ہوتے جائیں گے۔

طلبہ یونین کے حق میں جتنے بھی دلائل ہیں، تقریباً ویسے ہی دلائل جمہوریت اور پارلیمانی نظام کے حق میں بھی دیئے جاتے رہے ہیں۔ تحریروں اور تقریروں کی حد تک یہ بہت دلکش تصور ہے کہ طلبہ ہر سال الیکشن میں اپنا نمائیندہ منتخب کریں، پھر یہ نمائیندہ طلبہ کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے اپنا تن من دھن ایک کردے۔ تقریباً ایسا ہی خواب پارلیمانی جمہوریت کے ساتھ بھی وابستہ کیا جاتا ہے اور حقیقت سب جانتے ہیں۔

جس طرح عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے سب سے پہلے اپنی مراعات، اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرتے ہیں، اپنے کاروباری اور خاندانی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، اسی طرح طلبہ تنظیمیں بھی یہی کچھ کریں گی۔

آج اگر طلبہ تنظیمیں بحال ہوتی ہیں تو سیاسی جماعتوں کی ہی ذیلی تنظیمیں بنیں گی ۔ ۔ ۔ آئی ایس ایف تحریک انصاف کی، ایم ایس ایف ن لیگ، پی ایس ایف پی پی، جمعیت طلبہ جماعت اسلامی، اے ٹی آئی جے یو پی کی، اے پی ایم ایس او ایم کیو ایم کی، الغرض ہر طلبہ تنظیم کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی چھتری تلے آپریٹ کرے گی اور لازمی طور پر سیاست کو ادارے میں لے آئے گی۔

طلبہ تنظیمیں ہوں یا پارلیمانی جمہوری نظام، ان کے ثمرات ہمیشہ پڑھے لکھے معاشروں میں ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں، پاکستان جیسے جہالت سے پُر معاشرے میں یہ نظام مزید تباہی لے کر آتے ہیں کیونکہ عوام کا ویلیو سسٹم ہی ٹھیک نہیں جس کی بنیاد پر وہ فیصلے کرتے ہیں۔

اگر عوام کا ویلیو سسٹم ٹھیک ہوتا تو کبھی بھی کوئی چور ڈاکو بدمعاش قبضہ گروپ منتخب نہ ہوپاتا۔ لیکن عوام ہمیشہ قیمے والے نان، برادری یا امیدوار کی بدمعاشی کی وجہ سے اسے منتخب کرآتے ہیں اور یہی کچھ طلبہ تنظیموں میں بھی ہوگا۔

عام طالبعلم کو کون آگے آنے دے گا؟ جب بھی الیکشن ہوں گے، ہمیشہ کوئی نہ کوئی کن ٹٹا بدمعاش طالبعلم ہی یونین کا سربراہ بنے گا، پھر محکمہ تعلیم یا اپنے تعلیمی ادارے سے سٹوڈنٹ ویلفئیر کے نام کثیر امدادی رقم خود ہڑپ کرے گا اور عام طالبعلم ہمیشہ کی طرح ہر قسم کے تحفظ سے محروم ہی رہے گا۔

پاکستان جیسے معاشرے میں طلبہ تنظیمیں کسی ناسور سے کم نہیں۔ یہاں جمعیت، ایم ایس ایف، پی ایس ایف اور اے ٹی آئی، اے پی ایم ایس او جیسی حرامزادی تنظیمیں اپنی بدمعاشی کو آئینی تحفظ دے کر اپنی بارگیننگ پاور میں اضافہ کریں گی اور تعلیمی ادارے مزید تباہ ہوتے جائیں گے۔

طلبہ تنظیموں کی بحالی محض ایک شرارت، ڈھکوسلے اور تباہی کے کچھ نہیں!!!

‏میرا جسم میری مرضی اسلام آباد سے اٹھنے والا تعفن میرا جسم میری مرضی اب پنجاب یونیورسٹی لاہور سے براہ راست نشر ہونے لگا ...
26/11/2019

‏میرا جسم میری مرضی

اسلام آباد سے اٹھنے والا تعفن میرا جسم میری مرضی اب پنجاب یونیورسٹی لاہور سے براہ راست نشر ہونے لگا ہے کچھ ہی دن قبل کی بات ہے لاہور میں فیض فیسٹول تھا جہاں سے کچھ طلبا کی ویڈیو وائرل ہوئی پہلے تو لگا کچھ منچلے ہیں وقت گزاری کر رہے ہیں مگر‏جب وہاں ریاست مخالف عناصر کو ان کے ساتھ ملتے ہوئے دیکھا تو میرے کان کھڑے ہو گئے ۔۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ریاست مخالف کی آنکھوں کا تارا حامد میر وہاں موجود پایا گیا میرے شبے کو تقویت ملی سوچا تھوڑی چھان بین ہی کر لوں سو اسی کام میں جت گیا آخر یہ لوگ ایک دم سے کہاں سے آگئے ہیں‏ حالانکہ ابھی برسات ختم ہو چکی مگر برساتی مینڈک کہاں سے نکلے ۔ تحقیق کی تو پتا چلا یہ پی ٹی ایم پرو لوگوں کا ٹولہ ہے اس سے قبل غدار ابن غدار محسن داوڑ پنجاب یونیورسٹی کے دورے پر آیا اور قارئین عروج اورنگزیب پنجاب یونیورسٹی میں ہی پڑھتی ہے چلو خیر پڑھنے سے کیا ہوتا ہے 😎‏پڑھنے کو تو بہت سے کھوتے بھی وہاں پڑھتے ہیں لیکن جب اس کو محسن داوڑ کی بغل سے نکلتے دیکھا تو شک کو یقین بدلنے میں ایک لمحہ نہ لگا مجھے ۔ ہو نہ ہو یہ کوئی کچھڑی پکا رہے ہیں اسی کو جاننے کے لیے میں نے سوچا سموگ کے اندھر جھانکا جائے سو میں نے پیلا چشمہ خریدا اور سموگ کے اندر گھس گیا‏سموگ کے اندر جا کر معلوم ہوا کہ یہاں تو پوری ہانڈی تیارہو رہی ہے جو بیچ چوراہے پر بس پھوٹنے ہی والی ہے جس کو روکا نہیں جا سکے گا لیکن بھائی جان مجھے ایسے ہی تو نہیں کہتے پھر ۔۔۔ سو میں ان میں شامل ہوا کچھ نعرے لگائے کچھ ٹھرک جھاڑی 😬 لیکن ہانڈی میں نمک کی جگہ میٹھا سوڈا ضرور ڈالا‏عروج کے دوسرے ساتھیوں کا تعلق جی سی یونیورسٹی سے ہے ۔ یہ ایک منظم گروہ ہے جس کی باقاعدہ فنڈنگ کی گئی ہے فی الحال مجھے اسکے ثبوت نہ مل سکے لیکن ایک سورس ہاتھ لگ گیا مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان کا رابطہ سرل المیڈا سے بھی ہے وہی سرل المیڈا جو ڈان لیکس میں ملوث تھا ۔ اور قارئین جب‏ گلالئی اسماعیل کے ساتھ انکی گپ شپ دیکھی تو یقین ہو گیا پیسہ کہاں سے آرہا ہے ۔ ابھی میری تحقیق ان پر جاری ہے مگر چند سوال جو مجھے کرنے ہیں ان بچوں سے وہ یہ ہیں کہ

تم کہتے ہو سرمایہ دار نظام نہیں چلے گا ایشیا سرخ ہو گا انقلاب آئے گا
عمران نہیں چاہیے نواز نہیں چاہیے‏تو پھر یہ سب کیوں کر رہے ہو ؟ لگے ہاتھ یہ بھی بتا دو کہ بی بی سی میں تمھارے لیے کالم لکھنے والے پی ٹی ایم کے دلے نے یہ کیوں کہا کہ یہ طبقہ آمرانہ نظام کے خلاف ہے ؟ جبکہ پاکستان میں اس وقت جمہوری دور ہے ۔ آمرانہ نظام تو اس وقت فاٹا میں کام کر رہا ہے نہ 😎 اور سنیے‏منظور پشتین کے ساتھ یہ لوگ ویڈیو لنک کے زریعے ہدایت لیتے ہوئے پائے گئے ہیں ۔ زرا یہ بھی جان لیں کہ پیپلز پارٹی کا میڈیا انکی پشت پناہی کر رہا ہے ۔ اب وہ کیوں کر رہے ہیں اسکا جواب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایک لبرل جماعت ہے کچھ بعید نہیں آنے والے دنوں میں یہ پاکستانی میڈیا پر نظر آئیں‏ اور حامد میر جیسے لوگ ان کو سہولت دے رہے ہوں ۔ میرے پاکستانیوں یہ وقت ہے جب آپ انکے خلاف میدان میں آجائیں جس طرح آپ نے میرا جسم میری مرضی کو ناکام بنایا اسی طرح طلبہ اتحاد کو ناکام بنائیں یہ لوگ ون وے ایجنڈے پر قائم ہیں ۔ یہ آزادی چاہتے ہیں ۔ یہ بوتھے انقلابی نہیں انکے سپورٹ کرنے والے حسین حقانی اینڈ کمپنی یہ بھول گئی ہے کہ یہاں اصل سرفروش بھی پائے جاتے ہیں ۔ میں ان کی منجھی مزید ٹھوکونگا ابھی کے لیے اتنا ہی والسلام ☝

جب انڈین طیاروں نے بھاگتے بھاگتے پے لوڈ گرایا تو وہ درحقیقت اسرئیلی ساختہ بم تھے جو تین چار کلومیٹر کا علاقہ تباہ کر لیت...
21/11/2019

جب انڈین طیاروں نے بھاگتے بھاگتے پے لوڈ گرایا تو وہ درحقیقت اسرئیلی ساختہ بم تھے جو تین چار کلومیٹر کا علاقہ تباہ کر لیتے ہیں۔
ان کی پاکستان کو ضرورت بھی تھی۔ سالم ہی مل گئے الحمداللہ۔
اب ان کو کاپی کر لیا گیا ہے ۔
جب انڈین پے لوڈ گرایا اس کے بعد امریکہ نے کچھ ایسی تصاویر یا ثبوت بھی حاصل کیے جس سے پتہ چلا کہ جواباً پاکستان انڈیا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی نشانے پر لینا چاہتا ہے۔
امریکہ نے اپنا جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم " تھاڈ" اسرائیل میں نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ پاکستان کے ممکنہ حملے سے اسرائیل کو بچایا جا سکے۔
نیتھن یاہو نے فوری طور پر انڈین صحافی کو بیان دیا کہ ہماری انڈیا سے دوستی کی بنیاد قطعاً پاکستان دشمنی نہیں ہے 🤪

پاکستان پر میزائل حملے کے لیے انڈیا اور اسرائیل کو امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی اور جنگ کی صورت میں افغان نیشنل آرمی کا فاٹا اور بلوچستان کی سرحدوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ تھا

جہاں وہ میٹنگ ہوئی تھی اس مرکز کو کچھ " را " اہلکاروں سمیت ۔۔۔شھزادوں نے 💨💨💨کر رکھ دیا ہے۔

انڈیا کی کوشش تھی کہ پاکستان کا " بلف " ٹسٹ کرے کہ وہ حملے کا جواب دیتا ہے یا نہیں۔ الحمد اللہ اس کی تو کیا پوری دنیا کی تسلی کرا دی گئی۔

امریکہ نے پاکستان کے لیے ویزے مزید سخت کر دیے لیکن زبان میں شہد بھر لیا۔

کئی سال کی اعصابی جنگ اور کشمکش میں پاکستان اور پاک فوج غالب رہی۔
الحمداللہ

یہ تو ہوگیا ایک پہلو اس منظر نامے کا۔

ایک اور پہلو بھی ہے۔
ان چند دنوں میں یا تو پاکستان بہت زیادہ خوش قسمت رہا یا واقعی کوئی غیبی مدد تھی۔

انڈین جہازوں کی عجیب و غریب انداز میں مسلسل تباہی،
ان کے پے لوڈ کا نہ پھٹنا،
خاص قسم کا پائلٹ ہاتھ لگنا،
ان کا آبدوز ٹریس ہونا،
انڈین عوام واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہونا اور اپنی ہی افواج اور حکومت کو حملہ آور اور غاصب قراردینا۔
سکھ سوال اٹھا رہے ہیں کہ انڈین فوج میں سب سے زیادہ سکھ ہی کیوں مرتے ہیں؟
او آئی سی کا انڈیا مخالف اعلامیہ
وغیرہ وغیرہ

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PAK ARMY posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share