Pakistan Aerospace & Science Administration-Official

Pakistan Aerospace & Science Administration-Official Pakistan Aerospace & science Administrator is working to reach for new heights and reveal the unknow Developing the world intelligent data analysis platform.

Pakistan Aerospace and Science Administrator is an organization working to promote science and creating the culture of innovation. First private sector organization collaborating and coordinating with companies and people around the world for the betterment of Nation. Founded by Muhammad Naeem ul Fateh and students from nationwide and International alumni and universities. The idea was originated

in UK while studying in the Royal institute of advance technologies, University of Salford, School of Aerospace adjacent with school of advanced computation. Naeem educated in Aalborg, Copenhagen, Manchester, Leeds, Leiden and Adelaide. A sentence for Naeem, ''They say that one’s ambitions are a strange thing. There are some people who, no matter what background they come from, cannot be deterred from reaching out to the stars and grasping the very ends of the cosmos.''

Current projects:

Developing world largest radioscope adjacent with observatory. Developing core application in public interest. Developing application for neighbourhood policing and so on. Forest protection
Developing application for autonomous robots and helicopters. and so on. Pakistan Aerospace & Science Administration is administrated by the National Trust of Pakistan despite being an autonomous institutions.

National Trust of Pakistan-Regd Act for Pakistan
24/04/2026

National Trust of Pakistan-Regd Act for Pakistan

21/04/2026
With Space.com – I just earned their Space Fans badge! 🎉
06/03/2026

With Space.com – I just earned their Space Fans badge! 🎉

06/03/2026

Join the IAU Commission H1: The Local Universe for its seminar on February 10, 2026 at 2:00 PM CET.

Commission H1 focuses on "near-field cosmology", i.e., studies of the Milky Way and its surrounding galaxies. A primary goal is to explore how galaxies in different environments and across a wide range of masses formed and evolved.

Speaker: Panos Patsis, Research Director, Acting Director of the Research Center for Astronomy and Applied Mathematics, Academy of Athens

Galactic bars and spirals through the lens of orbital dynamics:
Bars and spiral arms are among the most prominent features of disk galaxies, whose persistence and detailed morphology can be understood through stellar orbital dynamics. This talk will examine how the large-scale structure of bars and spirals emerges from the underlying orbital framework, highlighting the close correspondence between orbital trajectories and the observed stellar distribution.

YouTube https://www.youtube.com/

[IAU, seminar, local universe, Commission H1, Galactic bars, spirals, Milky Way]

06/03/2026

مردہ خلیوں کی بیداری، سمندر کی ٹائم ٹنل، اور خضر کا کائناتی ڈومین: سورہ الکہف کی آیات 61 تا 70 کا سائنسی، باطنی اور الہیاتی مطالعہ (سورہ کہف حصہ ہفتم) - بلال شوکت آزاد

انسانی شعور، جدید بائیولوجی (Biology) اور فزکس کے میدان میں یہ مانا جاتا ہے کہ جب کسی جاندار کے خلیے (Cells) مر جائیں، اس کا ڈی این اے (DNA) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے اور وہ ایک مردہ خوراک (Dead Food) میں تبدیل ہو جائے، تو اس میں دوبارہ زندگی لوٹ کر نہیں آ سکتی۔

یہ تھرمو ڈائنامکس کا اینٹروپی (Entropy) کا قانون ہے کہ چیزیں موت اور زوال کی طرف جاتی ہیں، واپس زندگی کی طرف نہیں آتیں۔

لیکن جب کائنات کا وہ مطلق العنان خالق، جو زندگی اور موت کے ان تمام قوانین کا مصنف ہے، کسی خاص الہیاتی مقام (مجمع البحرین) کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے، تو وہ مردہ خلیوں میں زندگی کی وہ لہر دوڑاتا ہے جو آج کی میڈیکل سائنس اور کوانٹم بیالوجی (Quantum Biology) کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰؑ کے اس کائناتی سفر کے پہلے اور سب سے پراسرار سنگِ میل کا منظر یوں پیش کرتا ہے،

فرمایا:

”فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا ۝ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا ۝“
(ترجمہ: پس جب وہ دونوں (موسیٰ اور ان کا خادم) ان دونوں سمندروں کے سنگم (مجمع البحرین) پر پہنچے، تو وہ اپنی مچھلی بھول گئے، تو اس (مچھلی) نے سمندر میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔ پھر جب وہ اس (مقام) سے آگے گزر گئے، تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا ناشتہ لاؤ، بیشک ہمیں اپنے اس سفر سے سخت تھکاوٹ پہنچ چکی ہے [الکہف: 61-62])۔

ان دو آیات میں بائیولوجیکل ریورس (Biological Reversal) اور فلوئڈ ڈائنامکس (Fluid Dynamics) کا ایک حیران کن اور کائناتی معجزہ چھپا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام اور ان کا خادم ایک بھنی ہوئی یا نمک لگی ہوئی مردہ مچھلی اپنے ناشتے (غداء) کے لیے دسترخوان میں باندھ کر لے گئے تھے۔ اللہ کی طرف سے نشانی یہ تھی کہ جہاں یہ مردہ مچھلی زندہ ہو کر پانی میں چھلانگ لگا دے، وہیں وہ مقام (مجمع البحرین) اور وہ ہستی موجود ہوگی جس کی تمہیں تلاش ہے۔

جب وہ اس مقام پر پہنچے، تو ایک ایسا کائناتی اور مقناطیسی فیلڈ (Magnetic Field) پیدا ہوا جس نے ان دونوں کے دماغوں سے مچھلی کی یادداشت کو مکمل طور پر ”ڈیلیٹ“ (Delete) کر دیا (نسیا حوتہما)۔ اور پھر وہ ہوا جو سائنس کے ہر قانون کو چیر کر رکھ دیتا ہے۔

وہ بھنی ہوئی مچھلی، جس کے ٹشوز اور سیلز ڈیڈ (Dead) ہو چکے تھے، اللہ کی براہِ راست کمانڈ سے اچانک زندہ ہوئی۔ اس نے دسترخوان سے چھلانگ لگائی اور سمندر کے پانی میں چلی گئی۔

اور یہ کوئی عام چھلانگ نہیں تھی، اللہ فرماتا ہے

”فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا“
(مچھلی نے پانی میں ایک سرنگ بنا لی)۔

پانی (فلوئڈ) کی خاصیت یہ ہے کہ وہ فوراً مل جاتا ہے، لیکن اللہ کی قدرت سے پانی اس مچھلی کے راستے میں ایک شیشے کی ٹھوس سرنگ (Solid Tunnel) کی طرح کھڑا ہو گیا اور ایک سوراخ بن گیا۔

یہ دراصل اس بات کا استعارہ تھا کہ اب موسیٰ علیہ السلام اس ظاہری اور سیال (Fluid) دنیا سے نکل کر، ایک ایسی باطنی اور ٹھوس سرنگ (Tunnel) میں داخل ہونے والے ہیں جہاں انہیں کائنات کے وہ اسرار ملیں گے جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے۔

وہ اس مقام سے آگے نکل گئے اور تب موسیٰ علیہ السلام کو بشری جبلت کے تحت شدید تھکاوٹ اور بھوک (نصبا) محسوس ہوئی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء بھی انسانی فزیالوجی (Human Physiology) کے پابند ہوتے ہیں۔

جب موسیٰ علیہ السلام نے کھانا مانگا، تو ان کے خادم (یوشع بن نون) کے دماغ میں وہ بلاک شدہ میموری (Blocked Memory) اچانک واپس آ گئی، اور اس نے اس بائیولوجیکل اور کائناتی واقعے کی رپورٹ ان الفاظ میں دی،

فرمایا:

”قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا ۝ قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا ۝“
(ترجمہ: خادم نے کہا: کیا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے اس چٹان کے پاس پناہ لی تھی، تو میں اس مچھلی کو (وہیں) بھول گیا، اور مجھے شیطان کے سوا کسی نے نہیں بھلایا کہ میں اس (واقعے) کا ذکر (آپ سے) کرتا۔ اور اس (مچھلی) نے تو سمندر میں عجیب و غریب طریقے سے اپنا راستہ بنا لیا تھا! (یہ سن کر) موسیٰ نے کہا: یہی تو وہ (مقام) تھا جسے ہم تلاش کر رہے تھے! پس وہ اپنے ہی قدموں کے نشانات ڈھونڈتے ہوئے الٹے پاؤں واپس لوٹے [الکہف: 63-64])۔

خادم کا یہ جواب ایپسٹی مولوجی (Epistemology) اور انسانی بھول (Forgetfulness) کی فزکس کو کھولتا ہے۔

اس نے کہا کہ میں مچھلی وہیں اس چٹان پر بھول آیا ہوں، اور پھر اس نے اپنی اس بھول کی ذمہ داری شیطان پر ڈالی (وما انسانیہ الا الشیطان) کہ اس نے میرے اعصابی نظام (Nervous System) میں خلل ڈال کر مجھے وہ واقعہ آپ کو بتانے سے روکے رکھا۔ اور پھر اس نے مچھلی کے اس پانی میں سرنگ بنانے والے عمل کو ”عَجَبًا“ (انتہائی حیران کن، فزکس کے خلاف اور سپر نیچرل) قرار دیا۔

جیسے ہی موسیٰ علیہ السلام نے یہ سنا، ان کی تھکاوٹ، بھوک اور پیاس ایک سیکنڈ میں غائب ہو گئی۔ وہ چلائے:

”ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ“
(ارے! یہی تو وہ سنگولیریٹی (Singularity) کا مقام تھا جس کی تلاش میں ہم سالوں سے مارے مارے پھر رہے تھے!)۔

وہ منزل جس کی انہیں تلاش تھی، وہ پیچھے رہ گئی تھی۔ وہ فوراً، بغیر ایک لمحہ ضائع کیے،

”فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا“
(اپنے ہی قدموں کے نشانات کو ٹریک (Track) کرتے ہوئے فل سپیڈ میں الٹے پاؤں واپس بھاگے)۔

یہ دراصل علم کے متلاشی کی وہ دیوانگی ہے جہاں منزل ملنے کی امید انسان کے جسم میں ایڈرینالین (Adrenaline) کا وہ طوفان کھڑا کر دیتی ہے کہ وہ تھکاوٹ بھول جاتا ہے۔

جب وہ اس چٹان کے پاس واپس پہنچے، تو تاریخِ انسانی کا وہ سب سے بڑا، سب سے پراسرار اور سب سے طاقتور انکاؤنٹر (Encounter) ہوا، جہاں علمِ شریعت (شریعتِ موسوی) کا ٹکراؤ علمِ حقیقت (باطنی کائناتی علم) سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس ہستی کا تعارف، جس کا نام روایات میں خضر علیہ السلام ہے، ان انتہائی شاندار اور الہیاتی الفاظ میں کرواتا ہے،

فرمایا:

”فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا ۝ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ۝“
(ترجمہ: پھر انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس سے خصوصی رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے اپنے پاس سے ایک خاص (باطنی) علم سکھایا تھا۔ موسیٰ نے اس سے کہا: کیا میں آپ کے پیچھے چلوں (آپ کی شاگردی اختیار کروں) اس شرط پر کہ جو بھلائی کا (باطنی) علم آپ کو سکھایا گیا ہے، آپ اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں؟ [الکہف: 65-66])۔

ان دو آیات میں جو ”ایپسٹی مولوجی آف لدنی نالج“ (Epistemology of Divine Knowledge) بیان کی گئی ہے، وہ انسان کے اس غرور کو مٹا دیتی ہے کہ وہ محض کتابیں پڑھ کر یا لیبارٹری میں تجربات کر کے کائنات کا ہر راز جان سکتا ہے۔

اللہ نے خضر کا نام نہیں لیا، بلکہ ان کا کائناتی رتبہ بیان کیا:

”عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا“
(ہمارے ان بندوں میں سے ایک بندہ جو ہمارے اسپیشل پروٹوکول میں ہیں)۔

خضر کے پاس جو علم تھا، وہ کوئی ایسا علم نہیں تھا جو مدرسوں، یونیورسٹیوں یا کتابوں سے ملتا ہے، بلکہ اللہ فرماتا ہے:

”آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا“
(ہم نے اسے اپنے پاس سے، اپنی خاص ڈائمینشن سے براہِ راست ڈاؤن لوڈ کر کے وہ ’علمِ لدنی‘ عطا کیا تھا جو اسباب، فزکس اور ظاہری شریعت سے آگے کی چیز ہے)۔

یہ وہ علم ہے جو کائنات کے ان پوشیدہ کوڈز (Hidden Codes) اور اللہ کے ان خفیہ فیصلوں پر مشتمل ہے جنہیں عام انسانی آنکھ، حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کی شرعی آنکھ بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔

اور پھر کائنات کا وہ منظر دیکھیں جو آج کے نام نہاد عالموں، دانشوروں اور متکبر اساتذہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ موسیٰ علیہ السلام، جو اولو العزم نبی ہیں، جن پر تورات جیسی کتاب نازل ہوئی، جو لاکھوں بنی اسرائیل کے لیڈر اور نجات دہندہ ہیں، وہ ایک گمنام شخص (خضر) کے سامنے ایک انتہائی عاجز، مؤدب اور مسکین طالبِ علم کی طرح کھڑے ہیں اور باقاعدہ اجازت مانگ رہے ہیں:

”هَلْ أَتَّبِعُكَ“
(کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے قدموں کے پیچھے پیچھے چلوں؟)،

تاکہ آپ مجھے وہ علمِ حقائق (رُشْدًا) سکھا دیں جو خدا نے براہِ راست آپ کے سینے میں اتارا ہے۔ یہ علم کی پیاس اور عاجزی کی وہ کائناتی معراج ہے جو بتاتی ہے کہ انسان کا علم جتنا مرضی بلند ہو جائے، اس کائنات میں سیکھنے کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا باقی رہتا ہے جو اس کی عقل کی حدود سے باہر ہو۔

خضر علیہ السلام، جن کے پاس کائنات کے ظاہری خ*ل کے پیچھے چھپی ہوئی الٹیمیٹ رئیلٹی (Ultimate Reality) کا علم تھا، انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو جو جواب دیا، وہ انسانی نفسیات (Human Psychology) اور لاجک (Logic) کا ایک ایسا بے رحم اور کڑوا سچ ہے جو بتاتا ہے کہ ظاہری شریعت اور باطنی حقیقت کا اپروچ کتنا مختلف ہے،

فرمایا:

”قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ۝ وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ۝“
(ترجمہ: اس (خضر) نے کہا: یقیناً آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ اور آپ اس بات پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جس کے راز اور حقیقت کو آپ کے علم نے (اپنے احاطے میں) نہ لیا ہو؟ [الکہف: 67-68])۔

خضر کا یہ جواب انتہائی دو ٹوک، غیر جذباتی اور سائنسی تھا۔ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے رتبے سے مرعوب ہو کر انہیں فوراً داخلہ نہیں دے دیا، بلکہ انہیں ان کی انسانی اور شرعی مجبوری (Human and Exoteric Limitations) کی فزکس سمجھائی۔

انہوں نے کہا:

”إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا“
(آپ میرے ساتھ چل کر خاموش اور صابر رہ ہی نہیں سکتے، آپ کا صبر ٹوٹ جائے گا)۔

اور پھر اس صبر کے ٹوٹنے کی جو نفسیاتی اور فلسفیانہ وجہ خضر نے بیان کی، وہ آج کے ہر انسان کے لیے ایک آئینہ ہے۔

انہوں نے کہا:

”وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا“
(اور آپ اس واقعے، اس عمل یا اس بظاہر ظلم پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کی اصل گہرائی، جس کا باطنی راز اور جس کا الٹیمیٹ انجام آپ کے علم کے ریڈار پر موجود ہی نہیں ہے؟)۔

انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ جو دیکھتا ہے، اسی کی بنیاد پر فوراً ججمنٹ (Judgment) پاس کر دیتا ہے۔ جب ایک شرعی اور انصاف پسند انسان (موسیٰ) کسی کو بظاہر ظلم کرتے دیکھے گا تو وہ کیسے خاموش رہ سکتا ہے؟

خضر کہہ رہے تھے کہ میرا علم ظاہری افعال کا نہیں، باطنی نتائج کا علم ہے۔ میں جو کچھ کروں گا، وہ آپ کے ظاہری علم کی ڈکشنری میں ”گناہ“ یا ”ظلم“ کہلائے گا، اس لیے آپ مجھ پر اعتراض کیے بغیر رہ نہیں سکیں گے۔

لیکن موسیٰ علیہ السلام کی جستجو اتنی شدید تھی کہ انہوں نے اپنی انا، اپنی نبوت اور اپنے علمِ شریعت کو ایک طرف رکھ کر، اس کائناتی استاد کے سامنے سرنڈر (Surrender) کرتے ہوئے وہ وعدہ کیا جو ایک سچے طالب علم کی نشانی ہے، اور پھر خضر نے وہ حتمی شرط اور نان ڈسکلوزر ایگریمنٹ (Non-Disclosure Agreement - NDA) ان کے سامنے رکھا جو اس باطنی سفر کی سب سے بڑی ڈیمانڈ تھی،

فرمایا:

”قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ۝ قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ۝“
(ترجمہ: موسیٰ نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، اور میں کسی بھی معاملے میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ (خضر نے) کہا: پھر اگر آپ کو میرے پیچھے چلنا ہی ہے تو (شرط یہ ہے کہ) مجھ سے کسی چیز (کے بارے میں کوئی سوال مت کیجیے گا، یہاں تک کہ میں خود ہی آپ سے اس کا ذکر کر دوں [الکہف: 69-70])۔

موسیٰ علیہ السلام نے کمالِ عاجزی سے کہا:

”سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا“۔

یہاں پھر وہی کوانٹم اصول آ گیا کہ میں اپنی طاقت پر نہیں، بلکہ اللہ کی مشیت پر بھروسہ کرتے ہوئے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کے باطنی افعال پر صبر کروں گا اور آپ سے بحث (Argue) یا نافرمانی نہیں کروں گا۔

اس پر خضر نے وہ کائناتی اور الہیاتی کنٹریکٹ (Theological Contract) سائن کیا جو تصوف، روحانیت اور علمِ لدنی کی بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے کہا:

”فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ“
(میرے ساتھ چلنا ہے تو اپنی منطق، اپنی عقل اور اپنی شریعت کے پیمانوں کو پیچھے چھوڑ آؤ۔ جب تک تم میرے ساتھ ہو، تم ایک گونگے، بہرے اور بلائنڈ فالور (Blind Follower) کی طرح رہو گے۔ چاہے میں بظاہر کوئی کتنا ہی بڑا ظلم کروں یا غیر عقلی کام کروں، تم نے مجھ سے اس کا ”کیوں“ (Why) اور ”کیسے“ (How) نہیں پوچھنا، جب تک کہ اس سفر کے اختتام پر میں خود تمہارے سامنے اس کی کائناتی ڈی کوڈنگ (Decoding) نہ کر دوں)۔

خضر علیہ السلام دراصل موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انسانیت کو یہ سکھا رہے تھے کہ اس کائنات میں ہونے والے بہت سے واقعات، طوفان، بیماریاں، اموات اور حادثات جو بظاہر ہمیں سراسر ظلم اور خدا کی ناانصافی نظر آتے ہیں، وہ دراصل اس بڑی تصویر (Big Picture) کا ایک چھوٹا سا پکسل (Pixel) ہوتے ہیں جو ہماری محدود عقل کی سکرین پر سمجھ نہیں آ سکتے۔

(جاری ہے... حصہ ہشتم میں ہم اس کائناتی سفر کا آغاز، ان دونوں ہستیوں کا سمندر میں اترنا، کشتی کے تختے اکھاڑنے کا وہ بظاہر ظالمانہ فزیکل عمل اور ایک معصوم بچے کے قتل کی وہ واردات دیکھیں گے جو انسان کے رونگٹے کھڑے کر دے گی اور اس کی نام نہاد اخلاقیات کے پرخچے اڑا دے گا۔

19/01/2026

Staff at the Panguana biological research station have received death threats

19/01/2026
19/01/2026

You are officially invited to the University of North Dakota Welcome Ceremony on January 26! 💫

Join veteran NASA Astronaut Karen Nyberg as we celebrate the newest Astronaut Scholarship Foundation partner university, University of North Dakota. RSVP via the link below and we'll see you there!

🗓️ January 26, 2026

⏰ 4:00 PM - Reception to Follow

📍 John D. Odegard School of Aerospace Sciences Atmospherium | 3980 Campus Rd #9007, Grand Forks, ND 58202

🔗 https://ow.ly/W1r050XYSBZ

19/01/2026
19/01/2026

Address

PO Box 6060
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 11:45
Tuesday 08:00 - 13:15
Wednesday 08:00 - 13:30
Thursday 08:00 - 13:30

Telephone

0 33 67 123 123

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Aerospace & Science Administration-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Aerospace & Science Administration-Official:

Share