19/12/2025
کاروباری رقوم کی لین دین کے بارے بھی قانون سازی ہونی چاہئے۔۔۔
اس وقت پاکستان میں کاروباری لین دین کے تنازعے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔مثلا" آپ کسی کو ادھار مال دے دیتے ہیں تو رقم کی واپسی کا قانون موجود نہیں ہے۔اب اگلے کی مرضی دے یا نا دے۔
کاروبار میں ادھار دئے اور لئے بغیر کاروبار کرنا ممکن نہیں لیکن بہت سے کاروباری حضرات ادھار مال دے کر پھنس جاتے ہیں اور رقم واپس نا ملنے پر کاروبار تباہ ہو جاتا ہے۔
اس سلسلے میں پہلے اس طرح کے معاملات میں 406 کی ایف آئی آر دی جا رہی تھی جو کہ امانت میں خیانت کی ہوتی ہے تو سپریم کورٹ نے اب اس پر بھی پابندی لگا دی ہے کہ لین دین میں 406 کی ایف آئی آر اب نہیں ہو سکتی کیونکہ امانت میں خیانت کا مطلب ہے کہ جو چیز جیسی دی ویسی ہی واپس لی جائے اور بطور امانت رکھوائی جائے۔۔۔تو یہ سلسلہ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔
اب صرف چیک ہو گا تو ہی کارروائی ہو سکتی ہے۔اور چیک دینے میں پارٹیاں سب مطمئن نہیں ہوتیں۔۔
اس وجہ سے کاروبار جو پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہیں مزید تباہ ہو رہے ہیں۔
اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے تا کہ کاروباری افراد اور سرمایہ کار کو اپنے سرمائے کا تحفظ ملے۔۔۔
محترمہ مریم نواز صاحبہ نے جس طرح پیرا فورس بنائی ہے اور وہ قبضوں وغیرہ کے فیصلے جلد از جلد کر رہی ہے۔
تو میری درخواست ہے کہ پیرا فورس کو ہی یہ کام سونپ دیا جائے کہ کاروباری لین دین میں مداخلت کر کے تفتیش کر کے معاملہ حل کروائے۔۔۔یا مزید کوئی ایسا طریقہ کار بنایا جائے جس میں بہتری ہو سکے کاروباری افراد کی۔
پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ پارٹیاں ادھار مال لے کر پیسے روک لیتی ہیں کچھ سرے سے ہی انکاری ہو جاتی ہیں۔تو مینوفیکچررز اور کاروباری حضرات کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے۔۔۔
جہاں پنجاب حکومت دیگر اچھے کام کر رہی ہے اس طرف بھی اشد توجہ کی ضرورت ہے۔
فی الحال آپ عدالت میں دعویٰ دائر کر سکتے ہیں اور وہ اتنا لمبا پراسس ہے کہ تب تک کاروبار مکمل تباہ ہو چکا ہوتا ہے۔