05/07/2025
سولر پلیٹس کی صفائی کے دوران کرنٹ لگنے سے بڑھتی اموات –
کسانوں، باغبانوں اور گھریلو صارفین کے لیے مکمل رہنمائی.
سولر توانائی آج کے دور میں ایک نعمت بن چکی ہے۔ بجلی کے بل سے نجات اور لوڈشیڈنگ کا حل فراہم کرنے والا یہ نظام دیہی علاقوں، گھریلو صارفین، باغات اور کھیتوں میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ مگر اس کا ایک پہلو جس پر کم توجہ دی جاتی ہے، وہ ہے سولر سسٹم کے دوران کرنٹ لگنے کا خطرہ۔ حالیہ دنوں میں صفائی یا دیکھ بھال کے دوران کرنٹ لگنے سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
اس مضمون میں ہم سولر کرنٹ کی نوعیت، اس کے خطرات، اور بچاؤ کے تمام ممکنہ اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
سولر کرنٹ کی طاقت کو سمجھیے
1. ڈی سی کرنٹ کیا ہے؟
سولر پلیٹس سے پیدا ہونے والی بجلی "ڈائریکٹ کرنٹ (DC)" ہوتی ہے جو مسلسل اور سیدھی بہاؤ میں ہوتی ہے۔ یہ AC کرنٹ (جو گھریلو لائنوں میں ہوتا ہے) کے مقابلے میں جسم پر زیادہ دیر تک چپک سکتا ہے اور دل کی دھڑکن روکنے کا سبب بن سکتا ہے۔
2. خطرناک وولٹیج:
12V سے لے کر 600V تک سولر سسٹمز ہوتے ہیں۔ 48V سے اوپر کرنٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر جب پینلز دھوپ میں مکمل پیداوار دے رہے ہوں۔
3. کرنٹ دن کے وقت زیادہ ہوتا ہے:
چونکہ سورج کی روشنی سے سولر پلیٹس بجلی پیدا کرتی ہیں، اس لیے دن کے اوقات میں کرنٹ لگنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر صبح 8 بجے سے 6 بجے شام کے درمیان پلیٹس صاف کرتے وقت سخت کرنٹ لگنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
خطرات والے کام
1. پلیٹوں کی صفائی پانی سے کرنا
2. گیلے ہاتھوں یا برقی اشیاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ
3. کھلے تاروں کے قریب کام کرنا
4. برقی سرکٹ یا انورٹر چیک کرتے وقت احتیاط نہ برتنا
سولر کرنٹ سے بچاؤ کے مکمل اقدامات
1. صفائی کے وقت یہ احتیاطی تدابیر اپنائیں:
صفائی ہر صورت صبح سویرے یا شام ڈھلنے کے بعد کریں تاکہ پلیٹس کم یا کوئی کرنٹ پیدا نہ کر رہیں۔
سولر پلیٹس کی صفائی کے لیے بنایا گیا خصوصی ریپر استعمال کریں جس سے کرنٹ ٹرانسفر نہیں ہوتا
پلاسٹک یا ربڑ کے دستانے لازمی پہنیں۔
ربر سول والے جوتے پہن کر کام کریں تاکہ زمین سے کرنٹ کا راستہ منقطع ہو جاے۔
سولر پلیٹس پر ڈائریکٹ پائپ سے پانی نہ ڈالیں کہ کرنٹ پانی کی دھار میں آ کر شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
2. برقی نظام کی حفاظت کو یقینی بنائیں:
سولر تاروں پر موٹے انسولیٹڈ کور لگوائیں۔
تمام جوائنٹس اور کنکشن ڈبوں کو واٹر پروف کریں۔
ہر سولر سسٹم میں سرکٹ بریکر اور آرسی بی (RCD/ELCB) انسٹال کریں تاکہ کرنٹ لیک ہونے کی صورت میں بجلی فوراً بند ہو جائے۔
انورٹر اور بیٹری والے حصے کو تالے دار باکس میں رکھیں تاکہ غیر ماہر افراد چھیڑ چھاڑ نہ کر سکیں۔
3. غیر تربیت یافتہ افراد کو منع کریں
بچوں، بزرگوں اور ناواقف افراد کو سولر سسٹم سے دور رکھیں۔
اگر کسی مسئلے کی سمجھ نہ آئے تو فوراً ماہر الیکٹریشن یا سولر ٹیکنیشن کو بلائیں۔
ایمرجنسی کی صورت میں کیا کریں؟
1. اگر کسی کو کرنٹ لگ جائے:
فوراً بجلی کا مین سوئچ بند کریں۔
لکڑی یا پلاسٹک کی چھڑی سے متاثرہ فرد کو کرنٹ سے الگ کریں۔
فوری طور پر ایمبولینس یا قریبی اسپتال لے جائیں۔
CPR کی تربیت رکھنا مفید ہے – خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔
اضافی احتیاطیں کسانوں اور باغبانوں کے لیے:
کھیتوں اور باغات میں لگے سولر پینلز کے اردگرد فینسنگ یا حفاظتی بورڈز لگائیں۔
بارش کے دنوں میں پلیٹس کو ہاتھ نہ لگائیں۔
اگر پینلز چھت پر ہوں تو سیڑھی استعمال کرتے وقت ربر کے جوتے پہنیں۔
سولر توانائی ایک ماحول دوست، سستا اور مفید نظام ہے مگر اس کی دیکھ بھال میں احتیاط نہ برتنا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ، صحیح وقت پر صفائی، مناسب حفاظتی آلات، اور ماہرین سے رہنمائی لے کر ہم ان قیمتی جانوں کو بچا سکتے ہیں جو محض لاعلمی یا بےاحتیاطی کی نذر ہو جاتی ہیں۔
سولر کے علاؤہ اپنے گھر آفس و کھیتوں میں لگے بجلی کے نظام کو آج ہی الیکٹریشن بلوا کر ٹھیک کروائیں کہا سپارکنگ ہو رہی بٹن سوئچ , جوڑ وغیرہ لگنے والے فوری لگوائیں کہ کوئی زندگی ضائع کر کے پچھلے ابھی عملی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔
نہایت مناسب قیمت پر بہترین سولر سسٹم لگوانے کے لئے رابطہ کرین
ایروبک سولر سلوشن ۔ آفیس نمبر 3، سیکنڈ فلور، C-22 خیابان اتحاد لین 2، فیز 2 ایکسٹینشن ، ڈی ایچ اے ، کراچی ۔ موبائل نمبر 0337084-0336