15/05/2025
🏗️ 📢 اہم اعلان - SBCA نے متنازع ترامیم واپس لے لیں!
📜 پرانے نوٹیفکیشن کی تفصیل (13 مارچ 2025):
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے 13 مارچ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن (No. SBCA/PS to DG/2025/18) کے ذریعے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں بڑی تبدیلیاں کی تھیں۔ ان ترامیم کے تحت:
✅ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں (جیسے کیفے، فوڈ کورٹ) کو قانونی قرار دیا گیا
✅ 400 گز سے بڑے گھروں پر اسکول اور اسپتال بنانے کی اجازت دی گئی
✅ ’ایمینٹی پلاٹس‘ کی تعریف تبدیل کر دی گئی (تعلیم و صحت نکال دی گئیں)
✅ نیا زمرہ "Residential-cum-Commercial Use" متعارف کرایا گیا
❌ عوامی ردعمل:
شہریوں، سول سوسائٹی اور ماہرین نے ان ترامیم کو رہائشی علاقوں کی تباہی اور قانونی بے ضابطگی قرار دیا۔
📍 درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی کہ یہ ترامیم 1979 کے آرڈیننس اور عوامی فلاح کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
🔄 نئی پیش رفت (13 مئی 2025): ترامیم منسوخ
✅ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عوامی و قانونی دباؤ کے بعد 13 مئی کو نیا نوٹیفکیشن جاری کیا (No. SBCA/PS to DG/2025/31)، جس کے مطابق:
📌 "13 مارچ 2025 کے تمام ترامیمی نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کیے جا رہے ہیں"
🔚 اب دوبارہ 2002 کے اصل قواعد بحال ہو گئے ہیں، اور رہائشی علاقوں میں بے ہنگم کمرشل سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔
🧱 عوامی فلاح کی جیت!
کراچی کے شہریوں کی آواز نے رہائشی سکونت اور شہروں کے توازن کو بچا لیا۔