09/07/2026
سی ایم لطیف (جنہیں بجا طور پر پاکستان کا ٹاٹا کہا جاتا تھا) نے 1932 میں بھارت میں 'بٹالہ انجینئرنگ کمپنی' (BECO) کی بنیاد رکھی۔ 1947 میں جب پاکستان بنا، تو یہ شخص اپنا چلتا ہوا اربوں کا کارخانہ اور سارا مال و اسباب بھارت میں چھوڑ کر، صرف پاکستان کے عشق میں خالی ہاتھ لاہور آ گیا۔
یہاں آ کر انہوں نے دن رات ایک کر کے نئے سرے سے BECO کھڑی کی۔ ان کی محنت رنگ لائی اور یہ کمپنی پاکستان کا سب سے بڑا انجینئرنگ ادارہ بن گئی، جس کی کوالٹی کی مثالیں جاپان، جرمنی اور چین جیسے ممالک دیتے تھے۔
لیکن پھر جنوری 1972 میں ظلم کی وہ رات آئی جس نے اس محبِ وطن کی کمر توڑ دی! اس وقت کی حکومت (ذوالفقار علی بھٹو) نے 'نیشنلائزیشن' کی آڑ میں ایک ہی رات میں سی ایم لطیف سے ان کی زندگی بھر کی محنت چھین لی اور فیکٹری کو سرکاری قبضے میں لے کر اس کا نام PECO رکھ دیا۔
سرکاری بابوؤں کے ہاتھ آتے ہی یہ چلتی ہوئی عظیم فیکٹری تباہ ہو گئی اور 1972 سے 1998 تک اسے 760 ارب روپے کا خوفناک نقصان ہوا!
بعد میں جب ضیاء الحق کے دور میں انہیں یہ تباہ شدہ کھنڈر واپس لوٹانے کی پیشکش کی گئی، تو دلبرداشتہ لطیف صاحب نے بوجھل دل کے ساتھ انکار کر دیا۔ جس ملک کے عشق میں انہوں نے اپنا سب کچھ لٹایا تھا، اسی کے دیے ہوئے زخم لے کر وہ جرمنی چلے گئے۔ 2004 میں 97 سال کی عمر میں وہ وہیں دیارِ غیر میں وفات پا گئے۔