Bhatti Gola Molding & Media Walls Design

Bhatti Gola Molding & Media Walls Design Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bhatti Gola Molding & Media Walls Design, Lahore.

17/04/2026
17/04/2026

پوری آبادی کا ڈی این اے ریکارڈ نادرا میں، کیا یہ ممکن ہے؟
عبد السلام
۱۶ اپریل ۲۰۲۶
کسی نے سوال پوچھا ہے کہ کیا ہر انسان کے الگ الگ ڈی این اے کو محفوظ کرکے اس کے نادرہ ریکارڈ یعنی شناختی کارڈ میں اندراج نہیں کیا جاسکتا؟ کیونکہ اس سے تمام جرائم اور مسائل کا فی الفور پتہ لگے گا اور انسان جرائم کے قریب جائے گا بھی نہیں اور جرائم سے پیدا ہونے والے مسائل کاخاتمہ ہوگا۔ تو پھر ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟
جرائم کی روک تھام کے لیے بظاہر یہ ایک بہت اچھا آئیڈیا ہے، لیکن اس کی راہ میں کئی ناقابل عبور رکاوٹیں ہیں۔ اس کی راہ میں چند بڑی معاشی، تیکنیکی، قانونی اور سماجی رکاوٹیں حائل ہیں، جن کی وجہ سے آج تک کسی بھی ترقی یافتہ ملک نے ایسا نہیں کیا۔
کسی بھی ملک کی پوری آبادی کا ڈی این اے حاصل کرنا، اس کی لیبارٹری میں جانچ کرنا اور پھر اس کے ڈیجیٹل ریکارڈ کو محفوظ رکھنا اربوں ڈالرز کا متقاضی ہے۔ یہ انتہائی مہنگا اور وسائل طلب پروجیکٹ ہے جو عام معیشتوں کے بس کی بات نہیں۔
ڈی این اے میچ کرنا فنگر پرنٹ میچ کرنے جتنا آسان بھی نہیں ہوتا۔ کرائم سین سے ملنے والے کسی ایک مشکوک ڈی این اے کو کروڑوں لوگوں کے ریکارڈ سے میچ کروانے کے لیے بے پناہ کمپیوٹر پروسیسنگ پاور لگتا ہے۔ اس کے لئے بھی انتہائی مہنگے وسائل کی ضرورت ہوگی اور ممکنہ طور پر کئی سوپر کمپیوٹر لگیں گے۔
ڈی این اے صرف ایک شناختی علامت نہیں، بلکہ یہ انسان کا سب سے نجی ریکارڈ ہے۔ اس میں انسان کی نسل، اس کی جینیاتی بیماریوں، اور خصلتوں کے بہت سارے راز چھپے ہوتے ہیں۔ پوری آبادی کا یہ ڈیٹا بیس بنانا انسانی حقوق اور پرائیویسی کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے موجودہ قانون کے مطابق ریپ جیسے سنگین جرائم کے لئے بھی مشتبہ شخص کا ڈی این اے ٹسٹ کرنے کے لئے عدالتی اجازت کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ ہیکرز، حکومتی ادارے یا ان کے ملازمین بلیک میلنگ کے لیے اس حساس ڈیٹا کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈی این اے سے انسان کے خونی رشتوں اور حسب و نسب کا سو فیصد درست پتہ چل جاتا ہے۔ اگر پوری آبادی کا ڈیٹا بیس بنا، تو بہت سے گھرانوں میں حسب و نسب کے حوالے سے چھپے ہوئے تلخ حقائق اور راز کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ اس سے معاشرے میں ایسا خاندانی اور سماجی بحران پیدا ہوگا جس کے نقصانات جرائم سے بھی زیادہ اندوہناک ہوں گے۔ ایسے ماحول میں جہاں پر حسب و نسب کا فرق اور تفاخر معاشرتی ڈھانچے کا اہم حصہ ہو، اس کے اثرات کا تصور کرنا بھی مشکل ہوگا۔ یہ شاید اس عمل کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔
اگر ہم یہ تصور کریں کہ ڈی این اے ریکارڈ سخت حفاظتی انتظامات میں رکھا جائے گا اور اس کا استعمال کسی بھی غیر قانونی کام کے لیے نہیں کیا جائے گا تو ایسی صورت میں عوام کا سرکاری اداروں پر سو فیصد اعتماد ہونا ضروری ہے۔ دنیا کے جدید ترین اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی عوام سرکار پر اپنی ذاتیات کے معاملے میں اتنا بھروسہ نہیں کرتی۔ تو ایسے ملک میں جہاں پر چند سو دے کر آپ کسی بھی فرد کا فون کال ریکارڈ نکال سکتے ہیں، کس طرح سرکاری اداروں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟ یہاں پر معاملہ صرف حکومت کی دیانت داری کا نہیں ہوتا بلکہ سرکاری اداروں میں تہہ در تہہ ذمہ داریوں اور جوابدہی کی تقسیم ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر خود حکمرانوں کے لئے بھی ممکن نہیں ہوتا کہ وہ تمام معاملات کو کنٹرول کر سکیں۔
ان سب وجوہات کی بنا پر جدید دنیا میں ڈی این اے کا استعمال صرف ان مخصوص افراد کے لیے کیا جاتا ہے جو کسی سنگین جرم میں مشکوک ہوں یا پہلے سے سزا یافتہ مجرم ہوں۔ پوری آبادی کا ڈی این اے ریکارڈ رکھنا عملی اور اخلاقی طور پر قابلِ قبول نہیں ہے۔

12/04/2026

4 مارچ 2026 کو خطے میں امریکہ اور اس-رائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیڈرو سانچیز نے مونكلوا پیلس (Moncloa Palace) سے ایک باقاعدہ سرکاری بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا: "ہسپانوی حکومت کے مؤقف کا خلاصہ صرف چار الفاظ میں کیا جا سکتا ہے: 'جنگ کو ناں' (No to war)۔ دنیا، یورپ اور سپین پہلے بھی ان حالات سے گزر چکے ہیں۔ تئیس سال پہلے ایک اور امریکی انتظامیہ نے ہمیں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ سپین بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے ساتھ کھڑا ہے۔

آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے، حال نہیں۔ صحت وہ دولت ہے جو کھو جائے تو بادشاہ بھی فقیر نظر آتا ہے۔`اپنے ٹھیک ہونے کا دکھاوا ک...
11/04/2026

آئینہ صرف چہرہ دکھاتا ہے، حال نہیں۔
صحت وہ دولت ہے جو کھو جائے تو بادشاہ بھی فقیر نظر آتا ہے۔
`اپنے ٹھیک ہونے کا دکھاوا کریں،`
"زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نا ہو،"
چھپانا دوسروں کے ترس کھانے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہے....!!!
~🤎🍂
اپنی زندگی اور اپنی صحت کی قدر کیجئے،
کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے دی گئی ایک قیمتی امانت ہے۔ 🤲
خوشیاں بانٹیں اور خود کو بھی وقت دیں۔

10/04/2026

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق اب امریکہ چین روس اور اب ایران--- کرہ عرض کی چار بڑی عالمی قوتیں۔

08/04/2026

BREAKING NEWS:

Iran has cut off all diplomatic and indirect communication channels with the United States following a threat from Donald Trump.

All message exchanges between the two countries have been suspended, and ongoing diplomatic efforts are now reportedly frozen.

This decision comes immediately after Trump's warning just a few minutes ago, in which he said, "a whole civilization WILL DIE tonight, never to be brought back again."

Address

Lahore
53101

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhatti Gola Molding & Media Walls Design posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bhatti Gola Molding & Media Walls Design:

Share