Tehqeeq

Tehqeeq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tehqeeq, Science, Technology & Engineering, Lahore.

ایلون مسک اب تمام فعال سیٹلائٹس کے دو تہائی سے زیادہ پر قابض: کیا خلائی کمپنیوں کی نجی ملکیت کی جانب پیش قدمی ایک اچھی ب...
03/12/2024

ایلون مسک اب تمام فعال سیٹلائٹس کے دو تہائی سے زیادہ پر قابض: کیا خلائی کمپنیوں کی نجی ملکیت کی جانب پیش قدمی ایک اچھی بات ہے؟

اس ہفتے، مسک نے 7,000 واں اسٹار لنک سیٹلائٹ مدار میں بھیجا، جس سے زمین کے گرد اس کا دائرہ کار ڈرامائی طور پر بڑھ گیا۔

سیلس ٹریک کے ڈیٹا کے مطابق، اس وقت اسپیس ایکس کے پاس 6,370 فعال اسٹار لنک سیٹلائٹس مدار میں موجود ہیں، جو دنیا بھر کے تمام فعال سیٹلائٹس کا 62 فیصد سے زیادہ ہیں۔ مزید برآں، کئی سو سیٹلائٹس مزید مدار میں موجود ہیں جو غیر فعال ہیں۔

بالآخر، اس کے سیٹلائٹس کا نیٹ ورک تقریباً روزانہ تین سیٹلائٹس کے حساب سے بڑھ رہا ہے اور یہ رجحان جاری ہے۔

اسٹار لنک کی تیز رفتار توسیع کے واضح فوائد ہیں، خاص طور پر عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کے حوالے سے۔ لیکن اس پیش رفت کے کچھ قابل ذکر نقصانات بھی ہیں۔

دور دراز علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرکے، اسٹار لنک ان علاقوں میں ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو روایتی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر سے کم خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

یہ سیٹلائٹ نیٹ ورک اس وقت 102 ممالک میں کام کر رہا ہے اور تین ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کر رہا ہے، جبکہ درجنوں مزید ممالک میں توسیع کے منصوبے بھی ہیں۔

تاہم، اسپیس ایکس کی بڑھتی ہوئی بالادستی نے اس حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے کہ بہت زیادہ طاقت ایک فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو رہی ہے۔ چونکہ مسک نہ صرف اسپیس ایکس اور اسٹار لنک بلکہ ٹیسلا اور ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں، کچھ لوگوں کو یہ فکر ہے کہ عالمی مواصلات، معاشی ڈیٹا، اور معلومات تک رسائی پر ان کا اثر بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، اسپیس ایکس کے ذریعے لانچ کیے جانے والے سیٹلائٹس کی بڑی تعداد نے نچلے مدار زمین میں بھیڑ کے خدشات کو جنم دیا ہے، جس سے تصادم اور ملبے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو مستقبل کی خلائی کارروائیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

لہٰذا، یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ صورتحال انسانیت کے لیے مجموعی طور پر مثبت ثابت ہوگی یا منفی۔

Source: Hashem Al-Ghaili
Translated by: ChatGPT

03/02/2024

کل بات کی تھی کہ کس طرح جنریشن زی کا attention Span سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے دور میں کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور تیس سیکنڈز کی Reels بھی اب انکو بھاری لگنے لگی ہیں اب اس جنریشن زی کو ایک گھنٹے یا دو گھنٹے کے لۓ کلاس میں کیسے بٹھایا جاۓ جہاں انکی توجہ مسلسل سیکھنے کے عمل میں ہو کیونکہ سیئکالوجی کے مطابق بیس منٹ کے بعد عام طور کسی انسان کا attention پوائنٹ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے اور دماغ کہیں اور نکل جاتا ہے. میرا خیال ہے اگر سکول، کالج یا یونیورسٹی لیول پر کوئ بچہ کلاس کے دوراں موبائل استعمال کر رہا ہے تو اسے روکنے اور ٹوکنے کی بجاۓ پروفیسرز کو یہ ضرور سوچنا چائیے کہ اس کے لیکچر سے دلچسپ چیز طالب-علم کو مہیہ ہے تو وہ کیوں لیکچر سنے؟ کیا پروفیسر صاحب اپنی اداؤں پر بھی غور کریں گے یا بچے کو ڈانٹ ڈپٹ یا اپنے کروفر سے موبائل نہ استعمال کرنے کی دھمکی لگائیں گے.ہو سکتا ہے وہ آپ سے کئ گنا بہتر لیکچر یوٹیوب پر سن رہا ہو یا رہی ہو؟؟؟ اور یہ بات ذہہن نشین کر لیں کہ اب علم کے وسیع ذرائع ایک کلک پر موجود ہیں
And teacher is not the 'Only' source of knowledge. We are now breathing in the ever transforming world of Character AI, Chat Gpts, YouTube, Tinders etc
لیکچر کو دلچسپ بنانا کٹھن کام ہے جب کے 'علم کے زور' پر کلاس کھینچ لینا ایک بالکل مختلف چیز ہے. میں طالب-علم ہوں کوئ ماہر تعلیم نہیں لیکن ایجوکیشن اور pedagogy پر چار پانچ کتابیں پڑھ کر یہ اندازہ ہوا ہے کہ ہمیں واپس ایتھنز اور یونان جانا پڑے گا جہاں سقراط اور sophists گلیوں میں گھوم کر لوگوں سے سوال کرتے اور مزے مزے کے مکالمے میں انکو engage کرتے اور ان لوگوں پر ان کے عقائد کی کمزوریاں اور خرابیاں واضح کرتے. Socratic Method کیا تھا، جواب کی بجاۓ سوالات اٹھاۓ جائیں اور سامنے والے کو سنا جاۓ پھر اسی کے جوابات سے مزید سوالات نکالیں جائیں اور اس پر اسکی علمی کمزوری کو آشکارہ کیا جاۓ. اب اس دور میں کالسز کو جب تک student centric نہیں کیا جاۓ گا، جب تک ایک گھنٹے میں سے چالیس منٹ انہیں نہیں سنا جاۓ تب تک وہ علمی معیار نہ حاصل ہو گا اور نہ آپ کو وہ اپنی توجہ اپنی مرضی سے دے پائیں گے...
Our lessons should thoroughly be planned to the idea of two way communication where students participation should be at optimum and teacher mere functions as a facilitator .
دوسرا انسان کہانی نویس ہے یہ کہانیاں اچھی گھڑتا ہے. اسکے جینز میں کہانیاں شامل ہیں. گریک Mythology اور غاروں کی دنیا سے آج تک کہانیوں نے ہمیں جکڑا ہوا ہے.ہمارے اردگرد سماجی، معاشی اور مزہہبی کہانیوں کا انبار ہے. اس لۓ جدید کہانیوں اور روزمرہ کی مثالوں سے ہم طلباء کی توجہ مسلسل کلاس میں رکھ سکتے ہیں. وہ مثالیں جو آج کے دور سے ریلیونٹ ہوں جو آج کی سائنس اور سماج پر فٹ آتی ہوں.
میں اکثر کلاس میں بچوں سے پوچھتا ہوں 'کہ آج تم لوگوں میں سے کون یہ سوچ کر کالج آیا تھا کہ کلاس میں جائیں گے کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا، مزہ آۓ گا' اور کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ 'ہاں' سر میں نے سوچا تھا. اسکا مطلب سادہ سا ہے کہ تعلیم، سکول یہ محض بچوں پر بوجھ ہیں جو وہ اٹھانا نہیں چاہہتے مگر حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے مجبور ہیں. دوسرا کچھ نیا سیکھنے کو مل ہی نہیں رہا، پروفیسر صاحب دس دس ، بیس بیس اور بعض اوقات تیس تیس سالوں سے ایک ہی مضمون سے چپکے ہوۓ ہیں ہر سال وہ ' Boring Lectures' اور تقاریر دہراتے ہیں تو خاک کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا؟ مختصراً اپڈیٹ رہیں. اپنے مضمون میں ہونے والی latest ریسرچ کا آپکو پتہ ہو تا کہ آپ طلباء کو ریلیونٹ لگیں.... آخری بات کالج اور یونیورسٹی لائف میں کلاس یا لیکچر لینا least Important ہے یہاں پر Emotional intelligence پر ککھ فرق نہیں پڑتا، بہترین زندگی جذباتی طور پر مضبوط لوگ گزارتے ہیں پڑھاکو اور Book worms نہیں. اگر کلاس اور لیکچر teacher centric اور demagougery سے بھرپور ہوں تو محض خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے. کلاس سے باہر ایک بھرپور جہاں اور بھی ہے جہاں اعتماد، جذباتی ذہانت، فکر کے نۓ دریچے اور مسلسل سیکھانا بچے کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں ................
) to be continued)
ایم. وی. اے

Address

Lahore
042

Telephone

+923034969407

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tehqeeq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tehqeeq:

Share