Q National Enterprises

Q National Enterprises Q National Enterprises is a quality product supplier of Auto Air Conditioning parts, Refrigeration parts, Gases, Compressor Oil, Copper & Aluminium Pipes

01/12/2014

Worth listening

دھرنا-اصل ہدف کیاہے؟
02/09/2014

دھرنا-اصل ہدف کیاہے؟

23/08/2014

میاں نواز شریف صاحب ۔۔۔۔۔ زرداریوں مداریوں، عاصمہ جہانگیریوں، نجم سیٹھیوں اور الطافیوں جیسی لعنت آلودہ بیساکھیوں کے سہارے لینا چھوڑیں ۔۔۔۔۔ سامراج کے آلہ کار ننگ دین و ملت صلیبی فادری اور گستاخین قرآں و اسلام و مادر پدر آزاد مغربی تہذیب کے بتانِ دہر سونامیوں کیخلاف قدموں پر کھڑا رھنے کیلئے ایک اللہ وحدہ لا شریک کی مدد اور نبیء آخر الزماں ﷺ سے وفا و عشق کی دولت ہی کافی سے بڑھ کر کافی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتنہء عمرانیات و فتنہء فادری آپ کا کچھ بگاڑ نہ پائے گا اگر آپ ماضی سے سبق سیکھ کر دیس غدارین ِ پاکستان سیکولر مافیوں سے دور رھے ۔ پارلیمنٹ میں اتنی مظبوط و توانا اکثریت کے باوجود بھی اگر آپ کو ان سیاسی مسخروں کی ضرورت ھے تو پھر ۔۔۔۔۔۔ پاکستان اور جمہریت کا اللہ ھی حافظ ھے
چمک سورج میں کیا باقی رھے گی
اگر بیزار ھو اپنی کرن سے

22/08/2014

Few questions for all my friends, favouring the bold “ Turn Politician or ”.
1.What is the guarantee that next elections will bring ”Cricketer Turns Politician” as new PM?
2.If ”Cricketer Turns Politician” faces another defeat so who’s guarantee that we will not have endless Marches till this Cricketer seals the deal “becomes a PM”
3.Is he even loyal with his parties members? What happened to the murderers? Are murderers brought to justice? why are their marches not for their own people blood?
4.What happened to bold dialogs towards chief? Why all of a sudden, they just vanished from his tongue?
5.Why is he not dissolving government and pretending becomes National Hero by resigning from few NA Seats? (their status in NA is useless even not counting as leading Opposition party) What are his interests in government? Money? Power? To strength his party from government funds?
6.Why CM considers mandate as true elections mandate and rest as result of rigging? Is it because they were only able to lead from KPK?
7.Why "Master of U Turn" is not waging “Marches” against the MQM or government or even not bother to think about Baluchistan, and people of Tribal Areas. Seems like his Six Demands are purely for his own/party interests to wear the PM crown
8. Why not put a benchmark to evaluate his party performance in KPK? what happened to Drones Attacks March? at least 7 Drone attacks happened this year in PAK...
9. Asking for all the members of tender resignations (one of his six demands). Is he going to feed their families? without fair trial, resignations?
I hope these dances, , , will able to bring
Good Luck

06/08/2014
پسماندگی: خدا کے دشمن برسرِپیکار،سرے عام ہتهیار بند...عاشق اسکے مست ملنگ باعقیدت گهر میں ...
28/04/2014


پسماندگی:
خدا کے دشمن برسرِپیکار،سرے عام ہتهیار بند...
عاشق اسکے مست ملنگ باعقیدت گهر میں ...

قاہرہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 28اپریل 2014ء)مصرکی عدالت نے اخوان المسلمون کے رہنما محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنادی۔ان افراد پر قتل میں ملوث ہونے اور14اگست کو صوبہ منیا میں پولیس اہلکار کو قتل کرنے کا الزام ہے،عدالت کے باہر موجود اہلخانہ کے انتظار میں فیصلہ سن کر بیہوش ..

23/04/2014

-----خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبر نے فتنہ ارتداد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا------ (مولانا عبدالنعیم)
مسیلمہ کذاب جادو اور شعبدہ بازی کا فن جانتا تھا جس سے لوگ جلد اس کے جال میں پھنس جاتے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس فتنہ کے خاتمہ کیلئے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں لشکر ترتیب دیا۔ مرتدین کی سرکوبی اور قلع قمع کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے گیارہ لشکر تیار کئے تھے۔ مسیلمہ کذاب بہت طاقت پکڑ چکا تھا۔ بیس ہزار سے زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کے مارے گئے جبکہ مسلمان شہداء کی تعداد1200 کے لگ بھگ تھی۔ ان شہداء میں 700صحابہ کرامؓ قرآن کے حافظ تھے اس لڑائی میں مسیلمہ کذاب حدیقۃ الموت میں چھپ گیا۔ مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے پیچھے گئی اور اس باغ میں شدید جنگ ہوئی ۔ حضرت حمزہؓ کے قاتل حضرت وحشیؓ (جو کہ اسلام قبول کر چکے تھے) نے مسیلمہ کذاب پر حربہ پھینکا جو اس کے سینے میں اتر گیا اور پشت کی طرف سے نکل گیا۔ ایک انصاری مرد نے اسے تلوار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مسیلمہ کذاب کی بیوی سجاح جو کہ خود نبوت کی دعویدار تھی وہ بھاگ کر بصرہ میں چھپ گئی اور روپوشی کے عالم میں کچھ دنوں بعد مرگئی۔ اسی طرح مسیلمہ کذاب کے فتنے کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا۔

اسودعنسی کا خاتمہ : اسود عنسی ایک کاہن اور شعبدہ باز شخص تھا۔ جادو کے زور پر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتا تھا ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب بازان صنعانی یمن کا بادشا ہ تھا۔ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا اور حضورؐ کے حکم سے اس ملک کا حکمران تھا اس کا انتقال ہوگیا تو اسود عنسی نے خروج کر کے صنعا ء کے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرلیا اور ملک پر قابض ہوگیا۔ اس نے بازان کی بیوی پر مرزبان کو زبردستی اپنے نکاح میں لے لیا۔ اسود عنسی نے آپؐ کی حیات میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس قبضہ کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ایک مہم روانہ کی ۔ چنانچہ اسودعنسی حضرت فیروز دیلمی کے ہاتھوں جہنم واصل ہوا۔ اسی طرح اس جھوٹے مدعی نبوت کا خاتمہ ہوگیا۔

ّطلیحہ بن خویلد کی سرکوبی: طلیحہ بن خ*لد بھی مدعی نبوت تھا اس کا دعویٰ یہ تھا کہ جبرائیل میرے پاس آتے ہیں اور میرے پاس وحی لاتے ہیں۔ اس نے سجدوں کو نماز سے خالی کردیا اور پہلی چیز جو اس سے ظاہر ہو کر لوگوں کی گمراہی کا سبب بنی۔ وہ یہ ہے کہ ایک دن وہ اپنی قوم کے ساتھ سفرکر رہا تھا۔ اس کے پاس پانی ختم ہوگیا اور ان پر پیاس نے غلبہ کیا تو اس نے کہا کہ میرے گھوڑے پر سوار ہوجائو اور چند میل تک چلو تمہیں پانی مل جائے گا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں پانی مل گیا ۔ اس وجہ سے بدوی اس کے فتنہ میں مبتلاہوگئے۔جب حضرت ابوبکرصدیقؓ کو اس کی خبر ملی تو اس کی سرکوبی کیلئے ایک لشکر تیارکیا اور اس کا امیر حضرت خالد بن ولیدؓ کو بنایا اس کے خلاف جنگ ہوئی تاریخ میں لکھا ہے طلیحہ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوگیا تھا۔

مرتدین کا انسداد: حضور اقدسؐ کے وصال کے بعد بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا، بہت سے سرداران عرب مرتد ہوگئے۔ مرتدین کے ان فتنوں کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد فوری طور پر اس کی طرف توجہ کی او رمرتدین کے انسداد کے لئے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے مختلف اسلامی لشکروں کو ترتیب دیا او رحضرت ابوبکرصدیقؓ نے فتنہ ارتداد کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

18/04/2014

رہ گئی رسمِ اذان روحِ ہلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خوان ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
(علامہ اقبال رحمۃ اللہ )

خدا جانے کہ یہ قیامت کی کوئی نشانی ہے، طنز و مزاح و لطیفہ بازی کا عالمی مقابلہ یا سیاسی بڑھک بازی ۔ نا جانے اب ایران کے حکمران خود کو ایشیا کا نپولین و سکندر ثانی، نادر شاہ درانی گردان بیٹھے ہیں یا ہمارے حکمرانوں کو محمد شاہ رنگیلا سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اب ایران کی ” سپر پاور” نے بھی امریکہ بہادر کی سنتِ سامراجیہ پوری کرنے کےعزم کا بھرپوراظہار کرتے ہوئے، پاکستان کے اندرعسکری کاروائی کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ آپ شاید میرے اس موقف سے اختلاف کریں کہ ایران کی اس “طفلانہ بڑھک” کو اس کے خفیہ سرپرست امریکہ اور بلوچستان میں جاری انٹی پاکستان مشن کے دیرینہ حلیف بھارتی دوستوں کی مکمل آشیرباد ضرور حاصل ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے رنگیلے حالات یہی رہے تو کچھ بعید نہیں کہ مستقبل میں بھوٹان و نیپال جیسی ریاستیں بھی امریکی بغل بچے بن کر پاکستان کے اندر فوجی کاروائی کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیں۔ ہر ایرے غیرے کی طرف سے ایسی گیدڑ بھپکیوں کی وجہ، دراصل بحیثیت قوم، اقوام عالم میں ہماری مسلسل گرتی ہوئی ساکھ اور خود سے غیر مخلصانہ رویہ ہے۔ ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کا حق الیقین رہا ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا اقتدار میں رہنے کا اور کوئی دوسرا راستہ موجود ہی نہیں۔
دھرتی کے غدار اعظم پرویز مشرف جیسے قوم فروش کرداروں کی مدد سے امریکہ اور اس کے حلیف، آج پاکستان کے طول و عرض اور ہر ریاستی و غیر ریاستی ادارے میں اپنی خفیہ ایجنسیوں اورپوشیدہ عسکری طاقت کے فعال نیٹ ورک قائم کر چکے ہیں۔ آزادی دورنگ ایسی کہ ہرجگہ سکہ اسلام آباد کا مگر حکم واشنگٹن کا چل رہا ہے۔ نام نہاد وار اگینسٹ ٹیرر کے نام پرامریکی و مغربی مفادات کے تحفظ کی ” دسویں صلیبی جنگ ” میں خامخواہ کود ہم اپنے دوستوں کو بھی اپنا جانی دشمن بنا کر چالیس ہزار شہری اور فوجی جوان قربان چکے ہیں۔ قربان جائیے ایٹمی اسلحہ سے مسلح اس پاک قوم کی معصومیت کے کہ اسے ابھی بھی پورا یقین ہے کہ ہم صرف موم بتیاں جلا کر ہی کشمیر فتح کر لیں گے۔ سو یوم کشمیر کے آتے ہی کسی بارونق چوراہے پر شمعیں جلا کرمظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یک جہتی کا ایمان افروز طریق سے فرض ادا کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں کا خام خیال ہے کہ وہ صرف دھرنے دے کر ہی نیٹو کی قاتل سپاہ کو مسلم خطے چھوڑنے پر مجبور اور امریکہ کا بیڑا غرق دیں گے۔ کون انکار کرے گا کہ ہمارے صاحب مزاج حکمرانوں کا دوعالمین سے بے نیاز ہوش ربا کردار، اسی محمد شاہ رنگیلے جیسا ہے جو ایرانی حملہ آور نادر شاہ درانی کے شاہی محل میں داخل ہونے تک ہنوز دلی دوراست کی سدا دیتا رہا۔ صد شکر کہ ہماری پاک فوج، رنگیلے شاہ کے ان ہجڑے سپاہیوں جیسی رنگ رنگیلی نہیں، جو نادر شاہ کی فوجوں پر تالیاں بجا کر” ہائے اللہ ان کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں” اور ” اللہ ان کی تلواریں ٹوٹ جائیں” کے وار کرتے ہوئے کٹ مرے تھے۔ حقیقیت یہی ہے کہ ہم اپنی عظمت رفتہ کی تاریخ سے چشم پوشی کرتے ہوئے یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ مقبوضہ علاقہ جات موم بتیاں جلا کر یا ڈرائینگ روم میں کلاشنکوف لہرا کر نہیں بلکہ آگ کے شعلوں پرشمشیر و سنا کے مردانہ وار کھیل سے جیتے جاتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی نے مدینۃ النبوی پر حملہ آور صلیبی لشکر کیخلاف موم بتیاں جلا کر احتجاج نہیں بلکہ آتش گیر مادے سے میدان جنگ میں چاروں طرف بھیانک آگ بھڑکا کراس آتشیں ماحول میں حطین کے مقام پر تاریخ کی وہ خوف ناک جنگ جیتی تھی جس کے انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی دہشت گردوں کے کانوں سے گرما گرم دھواں نکلتا ہے۔ حطین کی فتح کے بعد موم بتیوں کے احتجاج سے نہیں سات روزہ خونریز جنگ سے اکانوے برس کے بعد بیت المقدس دوبارہ فتح ہوا تھا۔ جو مابعد سات سو باسٹھ سال تک مسلمانوں کے قبضہ میں رہا اور پھر عالم اسلام کی نااتفاقیوں، شاہانِ بدکردار اور غدارین ملت کی وجہ سے دوبارہ عالم کفر کے قبضہء ستم میں چلا گیا۔ آج حالات یہ ہیں کہ اپنے مقبوضہ علاقوں پر ماتم کرنے والی امت مسلمہ، یہود و ہنود جیسے سفاک دشمنان ملت سے احمقانہ امن کی آشا اور کشمیر و فلسطین کے مظلوم مسلم برادر سے اظہار یک جہتی کیلیے صرف شمعیں جلا کر اپنا ملی و قومی فریضہ انجام دیتی ہے۔ آج صلاح الدین ایوبی کی مثالیں دینے والوں کا نام نہاد جہاد میڈیا ٹاک شوز اور ڈرائینگ روم تصاویر کی اشاعت تک محدود ہے۔ یزیدیت کیخلاف حسینیت کے جعلی علمبردار صلیی اڈوں کینیڈا اور برطانیہ کی کافر پناہ گاہوں میں بیٹھ کر قوم و ملت کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہیں۔ اب خطبات جہد حق مصر و حطین کے میدان کارزار یا دشت کربل کے تپتے صحراؤں میں نہیں، عالیشان ولائیتی محلات سے بذریعہ ٹیلیفون یا بم پروف اے سی کنٹینروں میں بیٹھ کر دیے جاتے ہیں۔ تمنائے شہادت کی جرات مندانہ تقریریں اب میدان جنگ سے نہین بلکہ بم پروف شیشہ گھروں کے خ*ل میں محفوظ سٹیجوں سے نشر ہوتی ہیں۔ احباب دور رفتہ میں امت مسلمہ کی ذلت و رسوائی کا دوسرا بڑا سبب، صلیبی آقاؤں کی غلامی و پروردگی اور اغیار کے مفادات کے محافظ غدارین ملت شاہان مملکت ہیں۔ سعودیہ اور ایران جیسے برادر مسلم ممالک مختلف صلیبی اور مغربی لابیوں کے آلہ کار و ہمنوا بن کر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔ افسوس کہ آج پورا خطہء عرب ہی سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کے خون رنگ بادلوں تلے پرامن زندگی کو ترس رہا ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب جمہوری حکومت کو جبری انداز میں ختم کرنے اور عراق و شام میں جاری خونریز خانہ جنگی کی امریکی سازشوں میں سامراجی حلیف سعودی عرب کا قابل مذمت کردارانتہائی تکلیف دہ رہا ہے۔ دوسری طرف سعودی تاجداروں کی اولین حریف ایرانی مملکت اپنے روسی سرپرستوں کی آشیرباد سے عراق و شام میں اپنے زیر سایہ جنگجو گروپوں سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا سفاک قتل عام کروا رہی ہے۔ درحقیقت امریکی، مغربی و روسی صلیبی طاقتیں ان مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر امت مسلمہ کو کمزور سے کمزور کرنے کی اسی دیرینہ ابلیسی پالیسی پر گامزن ہیں جو صلیبی جنگوں سے لیکر آج تک فتنہ گر مغرب و سامراج کا اولین ہتھیار رہی ہے۔ آج نہ صرف مسلم برادر ممالک ایک دوسرے کے حریف ہیں بلکہ ان ممالک کی سیاسی جماعتیں اورغیر سیاسی سیکولر تنظیمیں بھی قوموں کو مسلکی اور نظریاتی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کرنے میں صلیبی طاقتوں کے زر خرید گماشتین کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ گذشتہ بیس برس سے برطانوی فتنہ گروں اور ہندوتوا کی آشیرباد سے ایک خود ساختہ جلاوطن مافیہ کے دہشت گرد کارندوں نے بھارتی اسلحہ کے زور پر لہو رنگ کراچی کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔ لسانی بنیادوں پر جناح پور کا خواب دیکھنے اور ملکی تقسیم کی دھمکیاں دینے والے دہشت گرد سیاسی گروہ کو برطانوی استعمار کی گود میں پروان چڑھنے والے اسلام دشمن غدارین کے دجالی گروہ قادیانی کلٹ کی بھرپور مدد حاصل ہے۔ کاروباری طبقہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے خوف کے سائے تلے بے یارومددگار ہے۔ روزمرہ معمول کا حصہ بن جانے والی ہولناک خونریزی میں سہمے ہوئے امن پسند عوام کی زندگی اب اجیرن ہی نہیں کلی مفلوج ہو چکی ہے۔ افسوس کہ مشرقی پاکستان میں عوام اور فوج کا قتل عام کرنے والی مکتی باہنی کی طرز پر فعال کراچی برانڈ سیاسی تنظیموں کے خلاف کوئی فیصلہ کن اور دو ٹوک پالیسی نہیں اپنائی گئی۔ عوام محو حیرت ہیں کہ اس تنظیم کا برطانوی شہریت رکھنے والا قائد کراچی کو پاکستان سے الگ کرنے اور ملک توڑنے کی کھلے عام بات کرتا ہے۔ مگر اس ماڈرن مجیب الرحمن کی ہر جرات پر حکومتی اور دفاعی ادارے خاموش اور بے بس نظر آتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی اور مشکوک ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نیٹو فورسز کے اسلحہ سے بھرے لاتعداد کنٹینرز لاپتہ ہو چکے ہیں۔ لیکن حکومتی ادارے یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ کنٹینرز اورآتشیں اسلحہ کہاں اور کن ہاتھوں میں جا چکا ہے۔ اس حوالے سے اس دہشت گرد تنظیم کے ایک بدنام زمانہ قاتل کی ابھی تک بطور گورنر سندھ تعیناتی تمام اداروں کیلیے ایک ” خوفناک ” سوالیہ نشان ہے۔ دوسری طرف بلوچستان میں بھی علیحدگی پسند ایک خالص بھارتی پروگرام کے تحت عوام الناس اور محبان وطن سے خون کی ہولی کھیل رہے ہیں ۔ لیکن گذشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ ملکی قیادت کی طرف سے بھی کسی بھی سطح پر اس مبینہ بھارتی مداخلت کیخلاف صدائے احتجاج بلند نہ کرنا قوم کیلیے حیرت کا باعث ہے۔ صد حیف کہ پاکستانی میڈیا اور پریس کا کردار بھی سامراجی و بھارتی غلام اور صلیبی و ہندوتوا ایجنٹ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ میڈیا حضرات میڈم ملالہ پر خود ساختہ حملے اور بھارت نوازی کی امن کی آشا کی رٹ تو لگاتے ہیں لیکن ڈرون حملوں کے قتل عام اور کشمیری مسلمانوں پر بھارتی مظالم کا مکمل بلیک آؤٹ کر جاتے ہیں۔
مغربی اغیار کے ایما پر اپنے ہی مسلم برادرز کا خون بہانے والے مسلمانوں کو تاریخ یاد دلاتی ہے کہ دوسری صلیبی جنگ کے دوران جرمنی کے شاہ کونراڈ سوم اور فرانس کے شاہ لوئی ہفتم کی قیادت میں دس لاکھ مقدس جنگجوؤں نے جب دمشق کا محاصرہ کیا تھا تواس وقت دمشق کی مسلم امارت ہمسایہ صلیبی ریاستوں کی حلیف اور حلب کے مجاہد زنکی حکمرانوں کی حریف تھی۔ مگر صلیبیوں کی اس جارحانہ حرکت پر دمشق اور حلب کی مسلمان ریاستوں کے مابین فرق مٹ گئے تھے۔ صلیبی یلغاردیکھ کر مسلم حکمرانوں کی رقابتیں اور رنجشیں، قربتوں اور اتحاد و اخوت میں بدل گئیں تھیں۔ اس مسلم اتحاد کی خاص وجہ اس اہم وقت تک حلب پر آج کے حاکموں جیسے کسی صلیبی ایجنٹ یا سامراجی آلہ کار کی نہیں بلکہ ایک مجاہد نور الدین زنگی کی حکومت تھی ۔ لہذا امت ملسمہ کیلئے درد رکھنے والے زنگی کی فوجیں حلب و دمشق کی مسلم حکومتوں سے اپنی دیرینہ رقابت بھلا کرشہر دمشق میں صلیبی محاصرے میں گھرے ہوئے برادر مسلم معین الدین انر کی بروقت مدد کو پہنچ گئی تھیں۔ سیف الدین زنگی اور نور الدین زنگی کی مشترکہ کاروائی سے صلیبی حملہ آور اپنے شیطانی عزائم میں کلی ناکام ٹھہرے اور جدید سامان حرب سے لیس ان کا عظیم الشان ٹڈی دل لشکر بری طرح پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا تھا۔ احباب یہ اس وقت امتحان میں عظیم الشان مسلم اتحاد ہی کا کرشمہ تھا کہ اس دور میں اہم ترین خطہء شام کے چاروں طرف صلیبی ریاستوں کی بے پناہ طاقت اور مسلم ریاستوں میں موجود ننگ ملت غداروں اور ننگ وطن ضمیر فروشی کے خطرناک جال کے باوجو پورے یورپ کا مقدس صلیبی اتحاد مسلمانوں کے ہاتھوں رسوا و نامراد ٹھہرا تھا ۔ غیرت ایمانی اور جذبہء اتحاد ملت سے سرشار مسلم افواج نے زخم خوردہ صلیبی لشکر کو یورپ کی ناپاک سرحدوں میں واپس دھکیل دیا گیا تھا۔ مگر افسوس کہ آج امت مسلمہ کی باہمی نا اتفاقیاں اور اغیار کی چاکریاں ملک در ملک، مسلم ریاستوں کو خون رنگ محشر و مقتل کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ آج کے مسلم حکمران حصول اقتدار اور طوالت اقتدار کی خاطر اپنے سامراجی اور صلیبی آقاؤں کیلئے کچھ بھی کرنے کیلیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ان سب حوادث کے نتنیجے میں مسلم شاہان مملکت ڈالروں کے انبار اکٹھے کر کے امیر سے امیر تر اور سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے مفلس و مجبور عوام غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں۔ صد افسوس کہ انتخابی نعروں میں زرداری جیسے قومی ڈاکو سے عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کے ایٹم بردار دعویدار ہھی آج اس لٹیرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بجائے تحفظ ہی نہیں سیاسی ہم آہنگی برانڈ پروٹوکول بھی دے رہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ کل اس ملک کے بدترین صلیبی آلہ کار اور روشن خیال مسخرے پرویز مشرف کو بھی موجودہ “غیرت مند حکمرانوں” سے سعودی برانڈ مک مکا کے صدقے باعزت رہائی اور پیر آف لندن شریف الطاف حسین یا فتنہء قادیانیت کے دجالی گروہ کی طرح مغرب کی گوری ممتا کی مخملی گود نصیب ہوگی۔ اور ہماری آئیندہ نسلیں تا حیات ان سب کرپشن کنگز کی لوٹ مار کے صدقے دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے والے بیرونی قرضوں کا بوجھ اتارتی سسک سسک کر مر جائیں گی۔۔۔۔یہ سوچ کر ہی دل لرز اٹھتا ہے کہ دہشت، غلامیء سامراج اور ظلمتِ عصر کے سائے تلے پروان چڑھتے نونہالوں کا مستقبل کیا ہو گا۔۔۔ لیکن ہاں تمام سیاست دانوں کی اگی نسلوں کا مستقبل بلاشبہ روشن و تابناک ہے

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Q National Enterprises posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share