Water and Power Development Authority

Call Directions Contact the business

Water and Power Development Authority It was established through an Act of Parliament in 1958. It is an autonomous body under the administrative control of the Federal Government.

The Authority consists of a Chairman and three Members Pakistan Water and Power Development Authority (WAPDA) was established through an Act of Parliament in 1958. It is an autonomous and statutory body under the administrative control of the Federal Government. The Authority consists of a Chairman and three Members (Water, Power and Finance). Wapda was unbundled in the year 2007 whereby the functions of its Power wing were redefined as Hydel Power Generation and Operation & Maintenance (O&M) of power houses. Following unbundling of its power wing, WAPDA’s mandate is now development of water and hydropower resources in an efficient manner. In order to meet the requirements of the country in both water and hydropower sectors with an ultimate object to put Pakistan on the track of development, WAPDA has planned to construct five multi-dimensional water storage dams during the next 3-12 years. The building of these dams will not only help address acute water challenge but also produce cheap and clean hydroelectricity. These projects will not only be beneficial at the national level but will also be instrumental for development of remote and less developed regions of the country where they are located. In line with its mandate, WAPDA is working hard to harness water and hydropower resources in the country. The idea is to generate affordable, clean electricity, which will provide relief to the consumers by bringing down the power tariff. The building of water storages will meet the water requirements besides playing their role for mitigation of flood hazards.

📢 تمام صوبوں اور وفاق کے سرکاری ملازمین کے لیے اہم اپڈیٹ!💰 نئے "پوائنٹ ٹو پوائنٹ" بنیادی پے اسکیل 2026 نافذ کر دیے گئے ہ...
06/07/2026

📢 تمام صوبوں اور وفاق کے سرکاری ملازمین کے لیے اہم اپڈیٹ!

💰 نئے "پوائنٹ ٹو پوائنٹ" بنیادی پے اسکیل 2026 نافذ کر دیے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یکم جولائی 2026 سے نئے بنیادی پے اسکیلز کا اطلاق کر دیا گیا ہے، جن میں:

✅ 15% ایڈہاک الاؤنس 2022
✅ 10% ایڈہاک الاؤنس 2023

کو مستقل طور پر بنیادی تنخواہ میں ضم (Merge) کر دیا گیا ہے، یعنی مجموعی طور پر 25% انضمام۔

📌 حساب کا فارمولا:
2022 بنیادی تنخواہ + 15% ایڈہاک الاؤنس + 10% ایڈہاک الاؤنس = 2026 نئی بنیادی تنخواہ

🔹 یہ نیا پے اسٹرکچر تمام صوبوں اور وفاق کے سرکاری ملازمین پر لاگو ہوگا۔
🔹 BPS-01 سے BPS-22 تک ہر اسکیل کے Minimum، Annual Increment اور Maximum Basic Pay کو پوائنٹ ٹو پوائنٹ بنیادوں پر ترتیب دیا گیا ہے۔

📊 اس پوسٹ کے ساتھ موجود چارٹس میں 2022 اور 2026 کے بنیادی پے اسکیلز کا مکمل تقابلی جائزہ دیا گیا ہے تاکہ آپ آسانی سے اپنے اسکیل کی نئی بنیادی تنخواہ معلوم کر سکیں۔

📢 یہ اہم معلومات اپنے تمام سرکاری ملازمین دوستوں تک ضرور پہنچائیں۔

Tweet by Defence & Aviation Minister of Pakistan.
06/07/2026

Tweet by Defence & Aviation Minister of Pakistan.

لبیک یا حسین       ゚          ゚
25/06/2026

لبیک یا حسین

゚ ゚

یہ محض ایک تصویر نہیں، بلکہ فرض کی راہ میں دی جانے والی اس عظیم قربانی کی داستان ہے جس سے ہماری بستیاں روشن اور دل شاد ر...
25/05/2026

یہ محض ایک تصویر نہیں، بلکہ فرض کی راہ میں دی جانے والی اس عظیم قربانی کی داستان ہے جس سے ہماری بستیاں روشن اور دل شاد رہتے ہیں۔ اس ہولناک کالی رات میں، جب طوفان اور گرج چمک کا راج تھا، یہ لائن مین اپنے گھر کا سکون اور زندگی کا تحفظ پسِ پشت ڈال کر تاریک ستون پر چڑھ گیا۔ وہ وہاں کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ان ہزاروں گھروں میں اجالا واپس لانے گیا تھا جو اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لیکن موت کی بے رحم لہر نے ایک ہی جھٹکے میں اس کی سانسوں کی ڈور کاٹ دی، اور وہ روشنی بانٹنے والا خود ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
اس تصویر کا سب سے دردناک اور جذباتی پہلو وہ منظر ہے جہاں اس کا جاں نثار ساتھی اسے گرنے سے بچانے کے لیے اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ وہ مرجانے والے جسم میں زندگی تلاش کرنے کی ناممکن کوشش کر رہا ہے۔ اس کی گرفت میں وہ تڑپ، وہ بے بسی اور وہ گہرا صدمہ صاف دکھائی دے رہا ہے جو لفظوں میں بیاں نہیں ہو سکتا۔ ایک دوست، ایک بھائی، اس لکڑی کے بے جان ستون پر زندگی ہار چکا ہے اور دوسرا اسے الوداع کہنے کی ہمت نہیں پا رہا۔
یہ تصویر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جب ہم اپنے گھروں میں بیٹھے آرام سے بجلی کا بٹن دباتے ہیں، تو اس ایک لمحے کے اجالے کے پیچھے کتنے ہی لیمپ مینوں کا خون اور پسینہ شامل ہوتا ہے۔ یہ وہ گمنام ہیرو ہیں جو روز موت کے منہ میں اترتے ہیں تاکہ ہمارے بچے اندھیرے سے نہ ڈریں۔ فرض شناسی کی اس سے بڑی اور دل دہلا دینے والی مثال بھلا اور کیا ہوگی؟ اس عظیم لائن مین کی قربانی اور اس کے ساتھی کے اس آخری لمس کو دیکھ کر آنکھیں نم اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔

゚

24/05/2026

روشنیوں کے گمنام شہید: ایک لمحہ فکریہ!
جب بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے یا اچانک اندھیرا چھا جاتا ہے، تو ہمارا پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔ ہم فوراً موبائل اٹھاتے ہیں، فیس بک اور ٹویٹر پر تنقید کے تیر چلاتے ہیں اور واپڈا کو کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ شدید غصے میں ہمارے منہ سے نکلنے والے الفاظ یہ بھول جاتے ہیں کہ اندھیرا صرف ہمارے کمرے میں ہوا ہے، کسی کی زندگی میں نہیں۔
لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے ٹھنڈے یا گرم کمروں کے آرام دہ ماحول سے نکل کر، ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہے؟
جس وقت ہم بجلی جانے پر بلبلا رہے ہوتے ہیں، ٹھیک اسی وقت واپڈا کا ایک لائن مین ہڈیوں کو جما دینے والی سردی، جسم کو جھلسا دینے والی گرمی، یا طوفانی اندھیری رات کے گھپ اندھیرے میں اپنی **جان ہتھیلی پر رکھ کر** موت کے کنویں میں اتر رہا ہوتا ہے۔
> **ذرا تصور کیجیے!**
> زمین سے سینکڑوں فٹ اوپر، لوہے کے ایک ننگے پول پر، جہاں ذرا سی لغزش کا مطلب صرف موت ہے... وہاں ہائی وولٹیج کی لہراتی ہوئی موت (تاروں) کے بیچ کھڑا وہ لائن مین کسی کا بیٹا ہے، کسی کا شوہر ہے، اور کسی معصوم بچے کا باپ ہے۔ وہ اپنی نیند، اپنا آرام، اور اپنی زندگی داؤ پر لگا کر صرف اس لیے موت سے کھیلتا ہے تاکہ ہمارے گھروں کے پنکھے چل سکیں اور ہماری روشنیاں بحال ہو سکیں۔
>
کتنے ہی ایسے دلخراش واقعات ہیں جب یہ لائن مین ڈیوٹی کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے پول پر ہی جھلس کر راکھ ہو گئے، اور ان کے پیچھے ان کے بوڑھے ماں باپ اور یتیم بچے بلکتے رہ گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ان کی اس جان لیوا محنت، فرض شناسی اور ان کے پسماندگان کے اس عظیم ایثار کو سراہنے کے بجائے، صرف اپنی چند منٹوں کی تکلیف کو دیکھتے ہیں اور تنقید کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ ہمیں ان کا جلا ہوا جسم نظر نہیں آتا، صرف اپنا بند پنکھا نظر آتا ہے۔
**آئیے! اپنے رویوں کو بدلیں۔**
اب صرف شکایتیں نہ کریں، بلکہ ہر موسم اور ہر مشکل گھڑی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان گمنام مجاہدوں کی قربانیوں کو تسلیم کریں۔ اگلی بار جب بجلی جائے، تو بددعا دینے کے بجائے ان کی حفاظت کے لیے ہاتھ اٹھائیں۔ ان محنت کشوں کی عظمت کو دل سے تسلیم کریں اور انہیں خراجِ تحسین پیش کریں، کیونکہ ہماری روشنیاں ان کے خون پسینے کی مرہونِ منت ہیں۔

23/05/2026

فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور ایک عام شہری فلک شیر کے درمیان چھڑنے والی یہ قانونی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب کمپنی نے فلک شیر کے بجلی کے کنکشن پر 1,83,305 روپے کا بھاری بھرکم ڈیٹیکشن بل تھما دیا۔
فیسکو کا دعویٰ تھا کہ صارف "ناجائز ذرائع" سے بجلی چوری کر رہا ہے، فلک شیر نے اس بل کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور من گھڑت قرار دیا، جس پر سول کورٹ اور پھر اپیلٹ کورٹ چنیوٹ نے فیسکو کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے صارف کے حق میں ڈگری جاری کر دی۔ فیسکو نے اس ڈگری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی، یہ پٹیشن جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی کی عدالت میں سماعت کے لئیے لگی۔
عدالتی کارروائی کے دوران فیسکو اپنے ہی بیانات کے جال میں الجھتی چلی گئی۔ کمپنی نے تحریری جواب میں کہا کہ یہ بل دسمبر 2014 سے مارچ 2015 کے عرصے کا ہے، لیکن جب گواہ کٹہرے میں آیا تو اس نے بیان دیا کہ یہ رقم مئی 2010 سے جولائی 2010 کی ہے، جبکہ محکمے کے اپنے پیش کردہ دستاویزات مئی 2011 سے جولائی 2011 کا دورانیہ دکھا رہے تھے۔
تضادات کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا؛ فیسکو نے پہلے "ناجائز ذرائع" کا مبہم الزام لگایا، پھر گواہی کے دوران اسے "براہ راست سپلائی" قرار دیا اور آخر میں ریکارڈ میں میٹر کے "جلنے" کا انکشاف سامنے آیا۔
عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ اگر میٹر جلا ہوا تھا یا بجلی چوری ہو رہی تھی تو نہ کوئی ٹیکنیکل رپورٹ تیار ہوئی، اور نہ ہی موقع پر موجود کسی انسپکشن آفیسر کی گواہی پیش کی جا سکی۔
فیسکو کے وکیل نے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا سہارا لیتے ہوئے یہ قانونی نکتہ اٹھایا کہ بجلی چوری کے معاملات میں سول کورٹ کو مداخلت کا اختیار ہی نہیں ہے۔
مگر جسٹس سیٹھی نے اس منطق کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب ایک سرکاری ادارہ اپنے ہی طے شدہ قواعد و ضوابط (Consumer Service Manual) کی دھجیاں اڑا دے اور کسی شہری کو صفائی کا موقع دیے بغیر بھاری جرمانہ عائد کر دے، تو سول کورٹ خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ فیسکو یہ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہی کہ اس نے بل بھیجنے سے پہلے کوئی شوکاز نوٹس دیا یا کسی ٹیکنیکل ماہر سے معائنہ کروایا۔ دو ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلوں اور فیسکو کی جانب سے ٹھوس شواہد کے بجائے محض سنی سنائی باتوں پر انحصار کرنے کی بنا پر، لاہور ہائی کورٹ نے فیسکو کی درخواست خارج کر دی اور فلک شیر کے حق میں ہونے والے فیصلے کو برقرار رکھا۔
ویسے بھی واپڈا کے لئیے كسى بھی صارف کے بل میں Detection بل
ڈالنے سے پہلے ضروری ہے کہ بجلی سپلائ کمپنی صارف کو بذریعہ نوٹس آگاہ کرے۔
(3і A(C) POLICY AND PROCEDURES ON Detection Bill)

جب کوئ ادارہ قانون کے طے شدہ طریقہ کار اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ہے، تو سول عدالتیں خاموش تماشائی نہیں بن سکتیں۔ اس فیصلے سے یہ پیغام واضح ہوا کہ اختیارات کا استعمال قانونی ضوابط کے بغیر ممکن نہ ہو۔

23/03/2026

*"ایڈوانس تنخواہ لینے والے تمام ملازمین کو عیدالفطر کے بعد اب 'مہینے بھر کی فکر' بہت بہت مبارک ہو!* 💸

22/03/2026

ایک گاؤں میں نئی نئی بجلی لگی تو جیسے پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر گھر کے باہر بلب لگ گئے، بچوں نے تالیاں بجائیں، بوڑھوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے اور عورتوں نے سوچا اب رات کے کام آسان ہو جائیں گے۔ گاؤں کے لوگ سادہ دل تھے، مگر خوشی سے بھرپور۔
مہینہ گزرا تو بجلی کا پہلا بل آیا۔ بجلی کمپنی کے دفتر میں جب پورے گاؤں کا ریکارڈ نکالا گیا تو سب حیران رہ گئے۔ پورے گاؤں میں ایک یونٹ بھی بجلی استعمال نہیں ہوئی تھی! افسران کو یقین نہ آیا، انہوں نے سمجھا شاید میٹر خراب ہیں یا کوئی تکنیکی خرابی ہے۔
کمپنی نے فوراً ایک نمائندہ گاؤں بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ حقیقت معلوم کی جا سکے۔
اگلے دن ایک پڑھا لکھا نوجوان نمائندہ گاؤں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ واقعی ہر گھر کے باہر بلب لگے ہوئے ہیں، تاریں کھینچی گئی ہیں اور میٹر بھی لگے ہوئے ہیں۔ اسے تو سب کچھ ٹھیک نظر آیا، مگر مسئلہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
وہ گاؤں کے چوہدری کے پاس گیا، جو ایک معزز اور سمجھدار آدمی مانا جاتا تھا۔
نمائندے نے ادب سے کہا،
“چوہدری صاحب، ہمیں شکایت ہے کہ آپ کے گاؤں میں بجلی استعمال ہی نہیں ہو رہی، جبکہ سب کچھ لگا ہوا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟”
چوہدری مسکرایا اور بولا،
“نہیں جی، ہم تو بجلی استعمال کرتے ہیں، خوب کرتے ہیں!”
نمائندہ حیران ہو گیا،
“اگر استعمال کرتے ہیں تو پھر بل صفر کیوں آیا؟”
چوہدری نے اپنے انداز میں کہا،
“آؤ، میں تمہیں دکھاتا ہوں ہم کیسے استعمال کرتے ہیں۔”
وہ نمائندے کو ساتھ لے کر ایک گھر میں گیا۔ وہاں ایک بلب چھت پر لگا ہوا تھا، مگر بند تھا۔ نمائندے نے پوچھا،
“یہ کیوں بند ہے؟”
گھر والے نے کہا،
“جب ہمیں رات کو روشنی چاہیے ہوتی ہے تو ہم بلب جلا لیتے ہیں، اور جب سو جاتے ہیں تو بند کر دیتے ہیں تاکہ بجلی ضائع نہ ہو!”
نمائندہ کچھ الجھا، مگر بولا،
“ٹھیک ہے، مگر پھر بھی تھوڑی بہت بجلی تو خرچ ہونی چاہیے تھی۔”
چوہدری ہنسا اور بولا،
“اصل بات ابھی باقی ہے۔”
پھر وہ اسے ایک اور گھر لے گیا۔ وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ ایک آدمی چارپائی پر بیٹھا تھا اور اس کے پاس ایک لالٹین رکھی تھی۔ نمائندے نے پوچھا،
“یہ لالٹین کیوں جل رہی ہے جب بجلی موجود ہے؟”
آدمی نے بڑے فخر سے جواب دیا،
“دیکھو جی، ہم بجلی کو صرف ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہیں۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو بلب جلا لیتے ہیں، باقی وقت لالٹین استعمال کرتے ہیں تاکہ بجلی بچائی جا سکے!”
نمائندہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
پھر چوہدری اسے گاؤں کے چوک میں لے گیا اور بولا،
“اصل راز یہاں ہے۔”
چوک میں ایک بڑا سا بلب لگا ہوا تھا۔ چوہدری نے بتایا،
“رات کو جب پورا گاؤں جمع ہوتا ہے تو ہم یہ ایک بلب جلا لیتے ہیں، سب لوگ اس کی روشنی میں بیٹھ جاتے ہیں، گپ شپ کرتے ہیں، کام بھی کر لیتے ہیں۔ پھر جب سب اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو بلب بند کر دیتے ہیں۔”
نمائندے کی سمجھ میں اب کچھ کچھ آنے لگا تھا، مگر وہ اب بھی حیران تھا کہ ایک یونٹ بھی کیوں نہیں آیا۔
اس نے پوچھا،
“لیکن آپ کے گھروں کے میٹر تو لگے ہوئے ہیں، وہ کچھ تو ریکارڈ کرتے ہوں گے؟”
چوہدری نے ہلکی سی کھانسی کی اور آہستہ سے کہا،
“اصل میں… ہم نے ایک طریقہ نکالا ہے۔”
نمائندہ چونک گیا،
“کیا طریقہ؟”
چوہدری نے مسکراتے ہوئے بتایا،
“ہم جب بلب جلاتے ہیں تو پہلے میٹر کا مین سوئچ بند کر دیتے ہیں، پھر بلب جلا لیتے ہیں۔ جب کام ختم ہو جاتا ہے تو بلب بند کر کے میٹر کا سوئچ دوبارہ آن کر دیتے ہیں۔ اس طرح بجلی بھی استعمال ہو جاتی ہے اور یونٹ بھی نہیں بنتے!”
یہ سن کر نمائندہ ایک لمحے کے لیے بالکل خاموش ہو گیا، پھر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا،
“یہ تو… یہ تو سیدھی سیدھی چوری ہے!”
چوہدری نے بڑی معصومیت سے کہا،
“چوری؟ نہیں جی! ہم تو صرف احتیاط کر رہے ہیں۔ بجلی مہنگی ہے نا!”
نمائندہ اب ہنسے یا روئے، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ لوگ واقعی سادہ ہیں یا بہت چالاک۔
پھر اس نے پورے گاؤں کا جائزہ لیا۔ ہر گھر میں یہی طریقہ تھا۔ کہیں لوگ پنکھا چلاتے وقت میٹر بند کر دیتے، کہیں بچے پڑھائی کے وقت بلب جلاتے اور ساتھ ہی سوئچ آف کر دیتے۔ سب کو یہی یقین تھا کہ وہ بجلی بچا رہے ہیں۔
نمائندہ واپس کمپنی کے دفتر پہنچا اور ساری رپورٹ پیش کی۔ افسران پہلے تو حیران ہوئے، پھر ہنسنے لگے۔
ایک بزرگ افسر نے کہا،
“یہ گاؤں والے بے وقوف نہیں ہیں، بلکہ اپنی سمجھ کے مطابق ہوشیار ہیں۔ مگر انہیں صحیح علم نہیں ہے۔”
چنانچہ کمپنی نے فیصلہ کیا کہ گاؤں میں ایک آگاہی مہم چلائی جائے۔
چند دن بعد وہی نمائندہ دوبارہ گاؤں گیا، مگر اس بار وہ صرف تحقیق کے لیے نہیں بلکہ سمجھانے کے لیے آیا تھا۔
اس نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا اور بڑے پیار سے سمجھایا،
“دیکھو بھائیو، جب تم میٹر بند کر کے بجلی استعمال کرتے ہو تو یہ قانون کے خلاف ہے۔ اس سے نہ صرف کمپنی کو نقصان ہوتا ہے بلکہ تمہارے لیے بھی خطرہ ہے۔”
پہلے تو گاؤں والے گھبرا گئے، مگر جب نمائندے نے نرمی سے بات کی تو سب نے توجہ سے سنا۔
چوہدری نے سر جھکا کر کہا،
“ہمیں واقعی علم نہیں تھا، ہم تو سمجھتے تھے ہم بجلی بچا رہے ہیں۔”
نمائندے نے مسکرا کر کہا،
“بجلی بچانا اچھی بات ہے، مگر صحیح طریقے سے۔ جیسے غیر ضروری بلب بند رکھنا، کم استعمال کرنا، مگر چوری نہیں کرنا۔”
گاؤں والوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔
اگلے مہینے جب بل آیا تو اس میں کچھ یونٹس درج تھے۔ اس بار کمپنی والے حیران نہیں ہوئے، بلکہ خوش ہوئے کہ گاؤں والوں نے صحیح طریقہ اپنا لیا ہے۔
گاؤں میں بھی ایک نئی سمجھ پیدا ہو گئی تھی۔ اب وہ واقعی بجلی بچاتے تھے، مگر ایمانداری کے ساتھ۔
اور چوہدری اکثر ہنستے ہوئے کہتا،
“پہلے ہم بجلی بھی چلاتے تھے اور عقل بھی بند رکھتے تھے… اب دونوں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں!”

03/02/2026
03/02/2026

Calculation of Electricity Bill 😂😂😂😂
゚viralvideo ゚

Address

Queens Road, Lahore
Lahore
54000

Telephone

+924299202211

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Water and Power Development Authority posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Water and Power Development Authority:

Shortcuts

Share