10/04/2023
ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا طریقہ واردات ۔۔۔
سٹیپ 1:
✓ سب سے پہلے ویران پڑی ، چٹانی ، کھائیوں اور ٹیلوں سے بھری چند کنال زمین (جس کے مالک بھی ایک نہیں دو چار لوگ ہوں گے ) کی ایک طرف ایک "مین گیٹ" تعمیر کرواؤ ۔
✓ مین گیٹ کے دونوں اطراف بیس فٹ لمبی 4٫5 فٹ اونچی "باؤنڈری وال" تعمیر کرو ۔
✓ گیٹ کے آگے کی تین چار سو میٹر زمین پر رولر پھروا کر ایک کچا راستہ بنام "مین روڈ" بنواؤ۔
✓ اس "مین روڈ" کے دونوں طرف چند عدد سوکھے سڑے کجھور کے درخت لگوادو۔ 😝
✓ گیٹ کے اندر دس فٹ کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا کمرہ بنام " ہیڈ آفس" بنواؤ اور وہاں ایک میز ، چند کرسیاں اور چند فائلیں رکھ دو ، دیوار پے سوسائٹی کا "نقشہ " آویزاں کردو ۔
۔
سٹیپ 2:
کسی گرافک ڈیزائنر سے سوسائٹی کا خوبصورت سا ، پرکشش Logo ، چند پمفلٹ اور "پےمنٹ پلان" کے ٹیبل نکوالو ۔
✓ "مارکیٹنگ" میں جدت پیدا کرنے کے لیے ایک منفرد سا دعویٰ کردو جیسے ۔۔۔۔ " ملک کی واحد سوسائٹی جس میں ہر گھر کے آگے گرین بیلٹ ہوگا ".
یا " اس کے پلانرز فلاں جاپانی کمپنی اور بلڈرز فلاں ترکش کمپنی ہے".
✓ سوسائٹی میں تھوڑے فاصلے پر چند خراب ، متروک شدہ ، ناقابلِ استعمال ٹریکٹرز ، شاول یا ایسی تعمیراتی مشینری کھڑی کردو تاکہ وزٹرز کو ثابت کیا جاسکے کہ " تعمیراتی کام انتہائی تیزی سے جاری ہے۔" 😜
✓ اگر کوئی NOC کا پوچھے تو کہو " NOC حتمی مراحل میں ہے ایک ماہ میں منظور ہوجائے گا ".
✓ اگر کوئی بجلی ، پانی ، گیس اور دیگر سہولیات کا پوچھے تو کہو " اس کے لیے فلاں کمپنی سے ڈیل ہوچکی ہے چند دن تک ٹاور ، پائپ لائن سب کچھ لگنے کا کام شروع ہو جائے گا۔۔۔"
✓ وزٹرز سے کہو کہ " ہمارے 500 میں سے 418 پلاٹ بک چکے ہیں باقی بھی بہت تیزی کے ساتھ بکتے جارہے ہیں۔۔۔".
✓ اور یہ بھی کہو کہ اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے پلاٹس کے ریٹ میں 13٪ اضافہ ہو جائے گا اس لیے ابھی موقع سے فائدہ اٹھانے کا بہت اچھا وقت ہے". 😶
۔
سٹیپ 3:
✓ پلاٹس کے نام پر فائلز بیچو وہ بھی 40 ہزار روپیہ مرلہ والی غیر ہموار زمین کے پلاٹ 32 لاکھ مرلہ کے حساب سے ۔
✓ پچاس ساٹھ فائلیں بیچ کر دو تین سال مزے سے ہر ماہ "قسطوں" کی مد میں لاکھوں روپیہ پکا کرو۔
✓ اگر اس دوران کو شخص دوبارہ وزٹ کرلے اور ترقیاتی کام سے متعلق پوچھے تو کسی قانونی پیچیدگی کا رونا رو کر، حکومت کو دس بارہ گا•لیا•ں دے کر کہو کہ "معاملات اب طے پا چکے ہیں بس اگلے ہفتے سے کام شروع ۔۔۔".
✓ تین سال تک لوگوں کو خوب جی بھر کے ، اکاؤنٹس بھر کے لو•ٹو اور پھر ایک دن اچانک کروڑوں روپیہ سمیت "لا•پتہ" ہو جاؤ۔
✓ قسمت کے مارے لوگ جب سوسائٹی کے بند گیٹ ، اور خالی آفس کو دیکھ کر گھبرائیں اور اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کے پتا چلائیں تو علم ہو کہ " اس ساری زمین میں فلاں صاحب کی ملیکت تو ٹوٹل 8 کنال تھی باقی 42 کنال زمین فلاں فلاں اور فلاں کی تھی ۔۔۔۔"
اور قصہ خلاص ۔
Copy paste