03/04/2021
گھر کی تعمیر کیسے کی جائے ؟
محمد اسلم خان کھچی
آجکل پاکستان میں اکثریت طبقے کا مسئلہ گھر بنانا ھے. غریب ہو یا امیر سب اسی مسئلے کا شکار نظر آتے ہیں. جس کے پاس دولت ھے وہ بھی پریشان ھے اور جس کے پاس بہت کم پیسے ہیں وہ بھی پریشان ھے تو سوچا کیوں نہ اس موضوع پہ لکھ دیا جائے.,شاید کسی بھائی کے پڑھنے سے اس کا کوئی مسئلہ حل ہو جائے.
آج ہم چھوٹے گھر کیلیے پلاٹ کے حصول سے لیکر کنسٹرکشن تک کی بات کرتے ہیں .
آپ نے ان تھک محنت اور جدوجہد سے 25 سے 30 لاکھ جمع کر لیئے .مالک مکان کے نخروں اور بار بار گھر تبدیل کرنے کے جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ نے اپنا ذاتی گھر بنانے کی ٹھانتے ہیں اور اگر دیکھا جائے تو دنیاوی خواہشات میں شدید ترین خواہش ذاتی گھر کی ھے. انسان چاہتا ھے کہ اس کے بچے اپنے گھر میں اپنی ملکیت سمجھ کے سوئیں. انسانی جبلت ھے کہ اسے اپنے مسکن سے بہت پیار ہوتا ھے. میں اگر اپنی بات بتاؤں تو مجھے پرل کانٹینینٹل میں وہ نیند نہیں آتی جو مجھے اپنے گھر میں بچھی چارپائی پہ آتی ھے ( میری عادت ھے کہ میں چارپائی پہ سوتا ہوں)
آپ دوستوں سے ذکر کرتے ہیں کہ پلاٹ خرید رھا ہوں تو آپ کو ہزاروں مشورے ملنا شروع ہو جائیں گے . کوئی کہے گا کہ پلاٹ کا رخ شمال جنوب ہونا چاہئے. کسی کا فرمان ہوتا ھے کہ آپ مشرق مغرب ڈائریکشن کا پلاٹ خریدیں. اس سے وینٹیلشن اچھی ہوتی ھے. گرمی کا فرق پڑتا ھے... میرے ذاتی تجربے کے مطابق میں یہ سب من گھڑت باتیں ہیں. پاکستان کے موسمی حالات سے کوئی بھی ڈائریکشن ہو , گرمی سردی سے کوئی فرق نہیں پڑتا. ہاں ایک بنیادی اصول ھے کہ گھر چاھے جتنا بھی چھوٹا ہو. اس میں وینٹیلشن ضرور ہونی چاہئے
البتہ اگر پلاٹ کا فرنٹ آپکو مغرب کی طرف مل جائے یعنی شمالا جنوبا ڈائریکشن ہو تو میں آپ کو Utilities کی مد میں سالانہ ( ایک لاکھ روپے اخراجات کی گارنٹی دیتا ہوں)
آج کل چھوٹے گھروں کا ٹرینڈ چل رہا ھے کیونکہ لوگوں کی قوت خرید بہت کم ہو کے رہ گئی ھے...
اسی لیئے آج ہم ڈھائی سے ساڑھے تین مرلہ کے گھر پہ ڈسکس کرتے ہیں کیونکہ اتنی جگہ میں بھی آپکا ( 3 ) بیڈ کا شاندار سٹائلش گھر بن سکتا ھے. بس ذرا خیال یہ رکھنا ھے چھوٹے پلاٹ کیلئے فرنٹ مناسب ہو اور لمبائی تھوڑی زیادہ ہو تو اس میں نکھار آجائے گا اور انٹیریر بہت دلفریب ہو گا.
اب چونکہ ہم بہت Echnomical بھی رہنا چاہتے ہیں اور اچھا گھر بھی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں شروع سے لیکر آخر تک ایک ایک پائی کی بچت کرنی ہو گی.
گھر کی تعمیر میں پہلا دشوار ترین مسئلہ پلاٹ خریدنے کا ھے. دشوار اس لیئے کہ رہا ہوں کہ چھوٹے لیول پہ جو لوگ پراپرٹی کو ڈیل کر رھے ہیں ان میں بدیانتی کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ھے. آپ کسی پراپرٹی ڈیلر کے پاس جاتے ہیں اور اسے پلاٹ کی ڈیمانڈ بتاتے ہیں. پراپرٹی ڈیلر بہت چالاک اور شاطر ہوتے ہیں. وہ سب سے پہلے آپ کی پرچیزنگ کیپیسٹی پوچھتا ھے .
پوچھے گا کہ آپ کی رینج کیا ھے , مطلب آپ کتنے پیسوں کا پلاٹ خریدنا چاہ رھے ہیں ؟
دراصل وہ آپ کی جیب میں رکھے پیسوں کی ٹوہ لگانا چاہ رہا ہوتا ھے....
اس سوال پر آپ نے بہت کم رینج بتانی ھے کہ میری اتنی کیپیسٹی نہیں ھے اور ساتھ ہی یہ کہ دینا ھے کہ اگر پلاٹ پسند آگیا تو کچھ نہ کچھ مینیج کر لوں گا.
اس سے وہ مطمئن ہو جائے گا اور پلاٹ دکھانا شروع کر دے گا اور یہیں سے آپ کے اور پراپرٹی ڈیلر کے درمیان ان دیکھی انجانی اعصابی جنگ شروع ہو جائے گی کہ کون کس کو ہراتا ھے....
پراپرٹی ڈیلر آپ کو پلاٹ کا Maximum ریٹ بتائے گا. بالفرض مارکیٹ ریٹ اگر تین لاکھ روپے فی مرلہ چل رھا ھے تو وہ آپ کو چار سے پانچ لاکھ بتائے گا. آپ دوسرے ڈیلرز کے پاس جائیں گے تو وہ بھی ایسا ہی کچھ جواب دیں گے. دراصل پراپرٹی ڈیلر خود آپ کو دوسرے ڈیلرز کے پاس بھیجنا چاہ رہا ہوتا ھے کہ آپ کی تسلی ہو جائے کیونکہ سبھی اس گیم میں شامل ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں.
اگر آپ اسے یہ کہیں گے کہ بھائی فلاں تو اتنا کم بتا رھا تھا.... تو وہ کانوں کو ہاتھ لگائے گا اور آپ کو یہاں تک کہ دے گا
( بھائی آپ بہت شریف انسان ہو... مجھ سے پلاٹ لو نہ لو... لیکن وہاں سے مت لینا, ورنہ ساری عمر کی جمع پونجی لٹا بیٹھو گے) تقریباً سبھی ایسا کرتے ہیں.
آپ فائنل ڈیل سے پہلے مارکیٹ پرائس کا پتہ کریں.
پلاٹ کی مارکیٹ پرائس کا پتہ کرنا بہت آسان ھے. آپ وہاں کے دو تین رہائشوں سے بھی مل سکتے ہیں وہ آپ کو اس ایریا کی اوریجنل پلاٹ ویلیو بتا دیں گے. آپ کو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا .
آپ جس سوسائٹی میں بھی جاتے ہیں وہاں تقریباً تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک جیسا ریٹ ہی ہوتا ھے لیکن پراپرٹی ڈیلر آپ کی پرچیزنگ کیپیسٹی پوچھ کے آپ کو داؤ لگانے کے چکر میں ہوتا ھے... آ
بس آپ نے ایک بات ذہن میں رکھنی ھے
پراپرٹی ڈیلر چاھے آپ کا جتنا بھی قریبی ہو. بھلے آپ کا بھائی بھی ہو.... لیکن آپ نے سب سے پہلے سوسائٹی کا وزٹ کر کے مختلف لوگوں سے زمین کے کا ریٹ پتہ کرنا ھے. . اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس وقت فی مرلہ یا فی گز کیا پرائس چل رھی ھے...؟
دو چار پراپرٹی ڈیلرز کے ساتھ بھی رابطے میں رھنا ھے تاکہ آپ کے پہلے پراپرٹی ڈیلر کے سر پہ تلوار لٹکی رھے کیونکہ جیسے ہی کسی پلاٹ کی ڈیمانڈ آتی ھے تو اسے فورن وٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا جاتا ھے. ( چھری اور پنچھی ) کے کوڈ سے ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے جاتے ہیں. یہ پورا ایک گینگ, ایک مافیا ھے لیکن جب آپ کو مارکیٹ پرائس کا اندازہ ہو جائے گا تبھی آپ بہترین Negotiation کر سکیں گے. یہ آپکا اپنا ہوم ورک ھے جو آپ نے خود کرنا ھے.
پلاٹ کبھی بھی مالک کی غیر موجودگی میں مت خریدیں. پلاٹ مالک کے آمنے سامنے بیٹھ کے ڈیل کریں اور باقائدہ رجسٹری یا فرد ملکیت کے ساتھ مالک پلاٹ کی آئی ڈی بھی چیک کریں کہ وہ واقعی اصل مالک ھے.
بعض اوقات پراپرٹی ڈیلر پلاٹ اپنی ملکیت Show کرتے ہیں لیکن وہ دراصل پلاٹ کے مالک نہیں ہوتے. انکا طریقہ واردات یہ ہوتا ھے کہ پلاٹ مالک کو 5 سے دس ہزار بیعانہ دے کر ریٹ طے کر لیتے ہیں اور اس سے کمٹمنٹ لے لیتے ہیں کہ اب یہ پلاٹ میرا ہو گیا . اب اسے میں جس ریٹ پہ مرضی بیچوں, آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے .
پلاٹ Seller بیچارہ مجبور ہوتا ھے اور ویسے بھی اسے مناسب قیمت مل رہی ہو تو اسے ان باتوں سے کیا غرض. اس لیئے وہ خاموش رھتا ھے ..
پراپرٹی ڈیلر وہی پلاٹ آپ کو 25سے 50 ہزار روپے فی مرلہ یا فی گز مہنگا بیچنے کی کوشش کرتا ھے . آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا اور پراپرٹی ڈیلر آپ کو 2 سے ڈھائی لاکھ کا چونا لگا جاتا ھے
دوسری سب سے اہم بات کہ آپ نے پلاٹ خریدنے سے پہلے کمیشن طے کرنا ھے کہ میں صرف ایک پرسینٹ کمیشن دوں گا ورنہ ہوتا کیا ھے کہ پلاٹ آپکے نام ٹرانسفر ہو جانے کے بعد وہ آپ سے دو سے تین پرسنٹ کا مطالبہ کرتا ھے. نہ دینے کی صورت میں گرگٹ کی طرح آنکھیں بدلتا ھے اور پلاٹ پہ قبضہ کرا دینے کی دھمکی دیتا ھے اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی دیتا ھے کیونکہ ان کے رابطے جھگیوں والی عورتوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ انکی ایک کال پہ اپنا خیمہ اکھاڑ کے آپ کے پلاٹ پہ بیٹھ جاتے ہیں.جھگی اکھاڑنا بلڈنگ خالی کرانے سے کہیں زیادہ مشکل ھے. دھمکی سے آپ انتہائی سٹریس کا شکار ہوجاتے ہیں کہ میں بچوں کی روزی روٹی کماؤں یا پلاٹ کے قبضے کے مسئلے حل کروں. بالآخر آپ پراپرٹی ڈیلر کے سامنے ہتھیار ڈال کے اسکی مرضی کا کمیشن دے دیتے ہیں تاکہ آپ مزید ٹینشن سے بچ سکیں.
پراپرٹی ڈیلر کو آپکی پہلی ڈیمانڈ ہی یہی ہونی چاہیے کہ میں ڈائریکٹ اوونر کی موجودگی میں ڈیل کروں گا اور ڈیل فائنل ہونے کی صورت میں اتنے پرسنٹ کمیشن دوں گا اور یہ سب کچھ آپ نے پیپر ورک پہ لے آنا ھے. اس وقت پراپرٹی ڈیلر کمیشن کے لالچ میں ہر وہ بات ماننے پہ تیار ہوتا ھے جو آپکی ڈیمانڈ ہو. یہاں پہ ایک اہم بات یاد رکھنی ھے کہ گورنمنٹ کے تمام ٹیکس مثلاً گین ٹیکس ,ویلیو اینڈ ٹیکس, ایکسائز ٹیکس وغیرہ بذمہ سیلر ,( Seller ) ہیں. آپ نے Taxes کی مد میں کوئی پیمنٹ نہیں کرنی.اگر کوئی سابقہ بقایا جات ہوں گے تو وہ آپ کے ذمہ ہوں گے . ٹیکس آپ کا ہو یا انکا. سارا Seller نے pay کرنا ھے. البتہ وثیقہ نویس یا وکیل وغیرہ کے اخراجات آپ کے ذمہ ہوں گے .
پلاٹ خریدنے سے پہلے آپ فرد ملکیت لیں آئی ڈی کارڈ کی کاپی لیں اور رجسٹرار آفس سے چیک کرائیں. اس سارے پروسس کے دوران آپ کے پلاٹ سیلر کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہوتے جائیں گے اور آپ دونوں کے درمیان ایک کونفیڈینس کا رشتہ بن جائے گا.
ڈیل نیٹ اینڈ کلین صرف اسی صورت میں ہو سکتی ھے کہ جب سیلر اور پرچیزر آمنے سامنے بیٹھے ہوں. ڈیل فائنل ہونے کی صورت میں 5 سے 10 ہزار تک بیعانہ دیں.بیعانہ کی رسید لیں اور رجسٹری کا وقت طے کر لیں.
اب آپکا کام ختم اور انکا شروع ہو جاتا ھے .وہ پیپر تیار کریں گے اور آپ کو رجسٹرار آفس لے جائیں گے.
پیمنٹ آپ نے Pay Order کی صورت میں کرنی ھے. آپ Decided Amount کا pay order بنوائیں اور پلاٹ اوونر, پراپرٹی ڈیلر کو دکھا دیں لیکن یہ یاد رکھیئے گا کہ آپ نے پلاٹ ٹرانسفر سے پہلے اوریجنل تو دور کی بات ھے, فوٹو کاپی تک بھی نہیں دینی.
اب سارا کام مکمل ہو گیا اور آپ رجسٹرار آفس پہنچ گئے. رجسٹرار آپ سے ایک دو سوال ہی پوچھے گا کہ آپ نے Payment کر دی ؟
آپ Pay Order نکالیں اور رجسٹرار کی ٹیبل پہ رکھ دیں. رجسٹرار Seller سے بھی ایک آدھ سوال پوچھے گا اور پلاٹ آپ کے نام ٹرانسفر کر کے PayOrder یا Demand Draft سیلر ( Seller ) کے حوالے کر دے گا....
اب آپ پلاٹ کے مالک بن گئے... اگلا مرحلہ گھر بنانے کا ھے .
اب یہ آپ پہ منحصر ھے کہ آپ نے کب گھر بنانا ھے . اگر فوری بنانا ھے تو پراسیس شروع کردیں اور اگر Financially مینیج نہیں کر پا رھے تو آپ اس پلاٹ کی باؤنڈری وال اور گیٹ ضرور لگائیں تاکہ آپ کا پلاٹ محفوظ ہو جائے اور کوئی قبضہ کرنے کوشش نہ کرے دوسری وجہ یہ بھی ھے کہ لوگ خالی پلاٹ میں کچرہ وغیرہ پھینکنا شروع کر دیتے ہیں. کچرے سے بھی بچ جائیں گے.
باؤنڈری وال گھر کے فرنٹ Elevations کے مطابق ہونی چاہئے . خاص طور پہ گیٹ بھی وہی لگوائیں جو آپ پہلے کہیں پسند کر چکے ہوں یا گوگل سے مدد مانگ لیں .
باؤنڈری وال اس لیول کی بنانی ھے کہ کل کو جب آپ گھر کی تعمیر کریں تو باؤنڈری استعمال میں آ جائے. اسے ڈیمالش کرنے کی ضرورت نہ پڑے .
یہ سب کرنے کے بعد تین چار سو روپیہ خرچ کر کے فرنٹ وال پہ لکھوا دیں کہ
" یہ پلاٹ فلاں کی ملکیت ھے اور برائے فروخت نہیں ھے "
اس سے آپ کا پلاٹ زیادہ محفوظ ہو جائے گا. وقتا فوقتاً چکر لگاتے رہیں. محلہ والوں سے میل ملاپ رکھیں تاکہ کسی بھی ناگہانی کی صورت میں آپ کو فوری اطلاع مل سکے. ..........................................................
جاری ھے.