17/01/2026
ملتان میں دریائے راوی کی تاریخ بہت دلچسپ ہے کیونکہ یہ دریا صدیوں پہلے اس شہر کی تہذیب اور دفاع کا ضامن تھا۔ آج دریائے چناب ملتان کے قریب سے گزرتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت میں راوی ملتان کے قلعے کی دیواروں کو
چھو کر گزرتا تھا۔
ملتان میں دریائے راوی کی تاریخ کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1. قدیم گزرگاہ (راوی ملتان کے قریب)
تاریخی شواہد اور قدیم نقشوں (جیسے 1885 کے برطانوی نقشے) سے معلوم ہوتا ہے کہ دریائے راوی کبھی ملتان کے قدیم قلعے اور شہر کی فصیل کے بالکل ساتھ بہتا تھا۔ 1398 میں جب امیر تیمور نے ملتان پر حملہ کیا، تو اس وقت بھی راوی کا رخ ملتان کی طرف تھا۔
2. راستہ بدلنے کی تاریخ (Meandering)
پنجاب کے دریا وقت کے ساتھ اپنا راستہ بدلنے کے لیے مشہور ہیں۔ راوی نے بھی کئی بار اپنا رخ بدلا:
• تلمبہ کے قریب: آج راوی ملتان سے تقریباً 35 سے 40 میل دور تلمبہ اور عبدالحکیم کے قریب سے گزرتا ہے۔
• چناب کے ساتھ سنگم: قدیم دور میں راوی اور چناب کا ملاپ ملتان کے قریب ہی ہوتا تھا، لیکن اب یہ سنگم ملتان سے کافی فاصلے پر ہیڈ سدھنائی (ضلع خانیوال) کے مقام پر ہوتا ہے جہاں سے راوی کا پانی ایک نہر کی صورت میں چناب کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
3. تاریخی اہمیت
• سکندرِ اعظم کا حملہ: کہا جاتا ہے کہ جب سکندرِ اعظم نے ملتان (قدیم ملوئی قوم) پر حملہ کیا، تو اس کی افواج نے راوی کے قدیم راستوں کو استعمال کیا تھا۔
• صوفیاء کی آمد: ملتان کے بڑے صوفیاء، جیسے حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ کے دور میں، یہ دریا شہر کی خوشحالی اور تجارت کا بڑا ذریعہ تھا کیونکہ کشتیاں اسی دریا کے ذریعے دوسرے شہروں تک جاتی تھیں۔
4. موجودہ صورتحال
آج کل ملتان شہر میں دریائے راوی کا پانی براہِ راست نہیں آتا، بلکہ:
• راوی کا پانی ہیڈ سدھنائی پر روک کر مختلف نہروں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
• ملتان کی زمینوں کو سیراب کرنے والی کئی اہم نہریں راوی اور چناب کے اشتراک سے نکلتی ہیں۔
• صرف غیر معمولی سیلاب کی صورت میں راوی کا ریلا ملتان کے قریبی علاقوں (جیسے تحصیل شجاع آباد یا کبیر والا کے سرحدی دیہات) کو متاثر کرتا ہے۔
ملتان کے قلعے اور شہر کے گرد دریائے راوی کی سابقہ گزرگاہ کی تاریخ بڑی سحر انگیز ہے۔ مورخین بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں ملتان ایک جزیرے کی طرح تھا جس کے گرد پانی بہتا تھا۔
قدیم گزرگاہ کے بارے میں اہم تاریخی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. قلعے کی فصیل اور دریا
قدیم دور میں دریائے راوی ملتان کے قلعہ (قاسم فورٹ) کے شمال اور مغرب سے گزرتا تھا۔ قلعے کی اونچائی اور اس کے نیچے بہتا دریا اسے دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ملتان کے قلعے کو تسخیر کرنا ہمیشہ ایک مشکل ترین کام رہا۔
2. راوی کا قدیم راستہ (Old Bed)
• شمالی سمت: راوی تلمبہ سے ہوتا ہوا ملتان کی طرف آتا تھا۔
• شہر کے قریب: یہ موجودہ شاہ شمس تبریز کے مزار کے قریبی علاقوں اور دولت گیٹ کے بیرونی حصوں سے گزرتا تھا۔
• راوی اور چناب کا سنگم: پرانے زمانے میں راوی اور چناب کا سنگم (ملاپ) ملتان شہر کے بالکل قریب، جنوبی سمت میں ہوتا تھا۔ آج یہ مقام ملتان سے بہت دور منتقل ہو چکا ہے۔
3. "دمدمہ" اور دریا کا نظارہ
قلعہ ملتان پر موجود "دمدمہ" (جو اب ایک اونچی یادگار ہے) دراصل ایک ایسا مقام تھا جہاں سے دریا کا میلوں دور تک نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ مغل دور اور اس سے پہلے، شاہی خاندان اور گورنر اسی مقام سے دریا کی سیر اور کشتیوں کی آمد و رفت دیکھتے تھے۔
4. دریا کا رخ بدلنے کی وجوہات
دریائے راوی نے ملتان سے اپنا رخ کیوں موڑا؟ اس کی چند بڑی وجوہات تھیں:
• قدرتی عمل (Siltation): دریا اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی (بھل) کی وجہ سے اپنی سطح بلند کر لیتا ہے، جس سے وہ اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
• زلزلے اور جغرافیائی تبدیلیاں: وسطی ایشیا اور پنجاب کے اس خطے میں آنے والی جغرافیائی تبدیلیوں نے دریاؤں کے راستے بدل دیے۔
• سدھنائی کا مقام: وقت گزرنے کے ساتھ راوی کا رخ شمال کی طرف (خانیوال اور تلمبہ کی جانب) زیادہ ہو گیا، اور اس کا ملتان شہر سے رابطہ ٹوٹ گیا۔
5. آثارِ قدیمہ کی شہادت
آج بھی اگر آپ ملتان کے قلعے کی پشت پر (جہاں اب لان اور پارک بنے ہیں) کھڑے ہو کر نیچے دیکھیں، تو آپ کو وہ گہرائی صاف نظر آئے گی جہاں کبھی دریا بہتا تھا۔ قلعے کے گرد موجود "خندق" دراصل اسی قدیم دریا کا حصہ تھی جسے دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
دلچسپ بات: ملتان کے پرانے لوگ اب بھی قصے سناتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے قلعے کی دیواروں کے ساتھ کشتیاں بندھی دیکھی تھیں۔
ملتان کے قدیم دروازوں اور دریائے راوی کے پرانے راستوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ملتان کے چھ تاریخی دروازے محض شہر میں داخلے کے راستے نہیں تھے، بلکہ ان کا رخ دریا کی لہروں، تجارت اور دفاعی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر متعین کیا گیا تھا۔
قدیم دریا اور ان دروازوں کے درمیان تعلق کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. بوہڑ گیٹ (Bohar Gate)
یہ دروازہ قدیم زمانے میں دریا کی طرف کھلنے والا سب سے اہم راستہ تھا۔
• تعلق: جب راوی شہر کے قریب سے گزرتا تھا، تو بوہڑ گیٹ کا رخ براہِ راست اس سمت تھا جہاں کشتیاں لنگر انداز ہوتی تھیں۔
• تجارت: بیرونی ممالک اور دیگر شہروں سے آنے والا تجارتی سامان اسی دروازے کے ذریعے شہر میں داخل ہوتا تھا۔ "بوہڑ" کا نام بھی غالباً وہاں موجود گھنے درختوں کی وجہ سے پڑا جہاں مسافر اور ملاح آرام کرتے تھے۔
2. لوہاری گیٹ (Lohari Gate)
یہ دروازہ بھی دریا کے ایک قدیم معاون راستے (Creek) کے قریب واقع تھا۔
• کاریگر: یہاں لوہاروں کی بستی تھی جو نہ صرف زراعت کے اوزار بناتے تھے بلکہ دریا میں چلنے والی کشتیوں کے لیے لوہے کا کام (جیسے لنگر اور کیل) بھی یہیں تیار ہوتا تھا۔
3. دولت گیٹ (Daulat Gate)
یہ دروازہ قلعہ ملتان اور دریا کی قدیم گزرگاہ کے سنگم پر واقع تھا۔
• شاہی راستہ: تاریخ دان بتاتے ہیں کہ جب حملہ آور یا شاہی مہمان دریا کے راستے ملتان آتے تھے، تو ان کا استقبال اسی علاقے میں کیا جاتا تھا۔ اس کے قریب دریا کی ایک شاخ بہتی تھی جو قلعے کو تحفظ فراہم کرتی تھی۔
4. دہلی گیٹ (Delhi Gate)
اس دروازے کا رخ دہلی کی طرف تھا، لیکن اس کے باہر بھی دریا کی چھوڑی ہوئی پرانی جھیلیں اور نیچی زمینیں موجود تھیں جو برسات کے دنوں میں پانی سے بھر جاتی تھیں۔ یہ دروازہ خشکی کے راستے تجارت کا مرکز تھا، لیکن اس کی بیرونی خندقیں دریا کے پانی سے ہی بھری جاتی تھیں۔
5. پاک گیٹ اور حرم گیٹ (Pak & Haram Gates)
یہ دروازے شہر کے جنوبی حصے میں واقع تھے۔
• حفاظت: یہ علاقے دریا کے سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے قدرے اونچی جگہ پر بنائے گئے تھے۔ حرم گیٹ کے باہر کی زمینیں دریا کی بدلی ہوئی گزرگاہوں کی وجہ سے بہت زرخیز تھیں، جہاں قدیم دور میں شاہی باغات لگائے گئے تھے۔
دریا کا "خندقوں" سے تعلق
ملتان کے تمام دروازوں کے گرد ایک بہت بڑی فصیل (Wall) اور اس کے باہر خندق ہوا کرتی تھی۔
• اس خندق میں دریائے راوی کا پانی موڑا جاتا تھا تاکہ دشمن شہر پر حملہ نہ کر سکے۔
• جب راوی نے اپنا رخ بدلا، تو یہ خندقیں خشک ہو گئیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شہر کی آبادی ان خندقوں اور فصیل سے باہر نکل کر پھیل گئی۔
دلچسپ حقیقت
آج بھی ملتان کے ان قدیم دروازوں کے باہر کا جغرافیہ دیکھیں تو آپ کو زمین میں نشیب و فراز (ڈھلوان) نظر آئیں گے۔ یہ ڈھلوانیں دراصل اسی قدیم دریا کے کناروں کی نشانیاں ہیں جو اب سڑکوں اور عمارتوں میں بدل چکے ہیں۔
حضرت شاہ رکنِ عالمؒ کا مقبرہ اور اس کا "نیلا گنبد" قدیم دور میں دریائے راوی کے کنارے ایک مینارِ نور (Lighthouse) کی مانند نظر آتا تھا۔ جب راوی قلعے کی دیواروں کے ساتھ بہتا تھا، تو یہ منظر دنیا کے خوبصورت ترین نظاروں میں سے ایک ہوتا تھا۔
اس دور کے منظر کشی درج ذیل نکات سے سمجھی جا سکتی ہے:
1. دریا سے بلندی اور ہیبت
شاہ رکنِ عالمؒ کا مقبرہ قلعہ ملتان کے سب سے اونچے حصے پر واقع ہے۔ اس زمانے میں:
• بلندی: یہ مقبرہ زمین سے تقریباً 150 فٹ بلند ہے (قلعے کی اونچائی + عمارت کی اپنی اونچائی)۔
• منظر: جب ملاح اور تاجر کشتیوں کے ذریعے راوی میں سفر کرتے ہوئے ملتان کے قریب پہنچتے تھے، تو انہیں میلوں دور سے قلعے کی دیواروں کے اوپر یہ عظیم الشان نیلا گنبد آسمان سے باتیں کرتا نظر آتا تھا۔ یہ ملتان کی عظمت اور پہچان کی علامت تھا۔
2. نیلے رنگ کا انتخاب اور پانی کا عکس
مقبرے پر لگی ہوئی نیلی ٹائلیں (Multani Blue Tiles) صرف خوبصورتی کے لیے نہیں تھیں:
• عکس: غروبِ آفتاب کے وقت جب سورج کی کرنیں نیلے گنبد پر پڑتی تھیں اور اس کا عکس نیچے بہتے ہوئے راوی کے پانی میں جھلکتا تھا، تو پورا دریا نیلاہٹ مائل نظر آتا تھا۔
• رہنمائی: رات کے وقت یا دھند میں، دریا کے مسافروں کے لیے یہ اونچی عمارت ایک نشانِ منزل کا کام دیتی تھی۔
3. "دمدمہ" اور دریا کی ٹھنڈی ہوائیں
مقبرے کے احاطے میں موجود "دمدمہ" (بلند چبوترہ) وہ جگہ تھی جہاں سے کھڑے ہو کر صوفیاء اور زائرین دریا کا نظارہ کرتے تھے۔
• دریا قریب ہونے کی وجہ سے قلعے پر ہر وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں، جو ملتان کی مشہور گرمی کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی تھیں۔
• کہا جاتا ہے کہ حضرت شاہ رکنِ عالمؒ کے دادا، حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے دور میں دریا کی موجیں قلعے کی بنیادوں سے ٹکراتی تھیں، جس کی آواز مقبرے کے احاطے میں سنی جا سکتی تھی۔
4. دفاعی اور روحانی مرکز
دریائے راوی ایک طرف سے قلعے کی حفاظت کرتا تھا اور دوسری طرف شاہ رکنِ عالمؒ کا مقبرہ شہر کے لیے ایک "روحانی ڈھال" تصور کیا جاتا تھا۔ مسافر جب دریا کے خطرناک موڑ عبور کر کے یہاں پہنچتے تو سکھ کا سانس لیتے کہ وہ "اولیاء کے شہر" میں داخل ہو گئے ہیں۔
ایک تاریخی حقیقت:
1848-49 کی جنگ (برطانوی حملہ) کے دوران، جب انگریزوں نے قلعہ ملتان پر بمباری کی، تو انہوں نے اسی نیلے گنبد کو بطور "نشانہ" (Landmark) استعمال کیا تھا کیونکہ یہ دریا کے پار سے بھی صاف نظر آتا تھا۔ خوش قسمتی سے، مقبرے کی مرکزی عمارت بڑی تباہی سے محفوظ رہی۔