GumnamSipahi

GumnamSipahi جہاں جینے کی خاطر مر رہے ہوں لوگ،
اُس بستی میں مر جانا ب? (Ameen)

گمنام سپاہی کی قبر پر"
سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیا
نہ کسی نے پھول ہی بھیجے
نہ بستی کے گھروں سے آشنا گیتوں کی آوازیں سنائی دیں
نہ پرچم کوئی لہرایا
سپاہی! شام ہونے آئی اور کوئی نہیں آیا
فنا کی خندقوں کو جان دے کر پار کر جانا بڑی بات
جہاں جینے کی خاطر مر رہے ہوں لوگ، اس بستی میں مر جانا بڑی بات
مگر پل بھر کو یہ سوچا تو ہوتا
تمہارے بعد گھر کی منتظر دہلیز کو جاگے ہوۓ دل کی نشانی کون دے گا
ہواؤں سے الجھت

ی، روشنی کو اعتبار کامرانی کون دے گا
در و دیوار سے لپٹی ہوئی بیلوں کو پانی کون دے گا


Islam Ki Raah M Larta Hy Ye Gumnaam Mujahid
Sr Pr Kafn Baandh K Phirta Hy Ye Gumnam Mujahid

Is K Paya-A-Istaqlal My Laghzish Ati Ni Kbhi
Tufano K Samne B Ddatta Rehta Hy Ye Gumnam Mujahid

Ilm Hasil Krne Ki Justuju My Rehta Hy Hr Waqt
Qalm S Larai Krna B Janta Hy Ye Gumnam Mujahid

Ise Na Doult Ka Lalach Hy Or Na Shohrat Ki Hawas
Bs Khuda Or Rasool(S.A.W)Ko Razi Krta Hy Ye Gumnam Mujahid

Haq O Batil K Maarkey My Sb S Agey Rehta Hy
Zalim Pr Khuda Ka Qahar Bn K Girta Hy Ye Gumnam Mujahid

Africa K Registaano My Pohnchata Hy Touheed Ki Sada
Europe Ko Shirk K Khwab S Jagata Hy Ye Gumnam Mujahid

Hindustan K Butkadon Ko Torhta Hy Kbhi
Iran K Aatishkadon Ko Thandda Krta Hy Ye Gumnam Mujahid

Krta Hy Islam Ki Tabligh Apne Husn-E-Ikhlaq Se
Seeney Me Ik Narm Sa Dil B Rkhta Hy Ye Gumnam Mujahid

Dua Hy K Khuda Kre Qabul Meri Dua Ko
Is Umat Ka Hr Bcha Ho Ik Gumnam Mujahid.

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﻟﻮﮔﻮ …ﺧﺎﮐﯽ ﻭﺭﺩﯾﺎﮞ ﭘﮩﻨﮯ …ﯾﮩﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ …ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ …ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ …ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻟﯿﺎ...
23/05/2022

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﻟﻮﮔﻮ …
ﺧﺎﮐﯽ ﻭﺭﺩﯾﺎﮞ ﭘﮩﻨﮯ …
ﯾﮩﺎﮞ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ …
ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ …
ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ …
ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻟﯿﺎﮞ ﺳﮩﮧ ﮐﺮ …
ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺸﺎﺭﺕ یہ کہ وہ زندہ و دائم ﮨﯿﮟ …
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﻨﺖ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮨﯿﮟ …
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ …
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻓﺨﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ …
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺎﻥ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ …
ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻻﻟﯽ …
ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺬﺭﺍﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ …
ﯾﮧ ﺍﺱ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺫﺭﮮ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺮﺽ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ …
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﻟﻮﮔﻮ …
ﯾﮧ ﺧﺎﮐﯽ ﻭﺭﺩﯾﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ
بہت “ﺍﻧﻤﻮل” ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

14/06/2021

ہاں فوجی جان دینے کا معاوضہ لیتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ﭘﮩﻼ ﻣﻨﻈﺮ۔۔۔
ﻣﮩﻨﺪﯼ ﻟﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﭘﮍﻭﺱ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ 8 ﺳﺎﻝ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺩﺍﻉ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮﻭﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﻟﮍﮮ ﮔﯽ۔۔۔
ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﻨﻈﺮ۔۔
ﭨﮭﮏ ﭨﮭﮏ۔۔۔۔
ﺩﺳﺘﮏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺫﻭﮨﯿﺐ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﻗﻄﺎﺭ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﻧﮧ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ۔۔۔ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯﭘﺎﺭ ﺍﯾﻤﻦ ﭘﯿﻠﮯ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺳﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺧﯿﺰ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺳﮑﮯ۔۔۔
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻃﻔﯿﻞ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮏ ﺩﻡ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺒﺰ ﮨﻼﻟﯽ ﭘﺮﭼﻢ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺴﺪ ﻻ ﮐﺮ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔
ﺍﯾﻤﻦ ﺳﺎﺭﯼ ﺷﺮﻡ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﻭﮌﺗﯽ ﮨﻮﺉ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺘﮭﺮﺍئی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺯﺍﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔
ﮐﻮﺉ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
” ﺍﯾﻤﻦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﮯ “

18/11/2020

"گمنام سپاہی کی قبر پر"
سپاہی آج بھی کوئی نہیں آیا
نہ کسی نے پھول ہی بھیجے
نہ بستی کے گھروں سے آشنا گیتوں کی آوازیں سنائی دیں
نہ پرچم کوئی لہرایا
سپاہی! شام ہونے آئی اور کوئی نہیں آیا
فنا کی خندقوں کو جان دے کر پار کر جانا بڑی بات
جہاں جینے کی خاطر مر رہے ہوں لوگ، اس بستی میں مر جانا بڑی بات
مگر پل بھر کو یہ سوچا تو ہوتا
تمہارے بعد گھر کی منتظر دہلیز کو جاگے ہوۓ دل کی نشانی کون دے گا
ہواؤں سے الجھتی، روشنی کو اعتبار کامرانی کون دے گا
در و دیوار سے لپٹی ہوئی بیلوں کو پانی کون دے گا
(شاعر: افتخار عارف)

13/08/2020
29/07/2020

ہاں فوجی جان دینے کا معاوضہ لیتے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ﭘﮩﻼ ﻣﻨﻈﺮ۔۔۔
ﻣﮩﻨﺪﯼ ﻟﮕﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺍﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﭘﮍﻭﺱ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ 8 ﺳﺎﻝ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺩﺍﻉ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺳﻤﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮﻭﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﻟﮍﮮ ﮔﯽ۔۔۔

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﻨﻈﺮ۔۔
ﭨﮭﮏ ﭨﮭﮏ۔۔۔۔
ﺩﺳﺘﮏ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﺎﺭﺍ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﭙﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺫﻭﮨﯿﺐ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻠﯿﭩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﻗﻄﺎﺭ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺷﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﻧﮧ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ۔۔۔ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯﭘﺎﺭ ﺍﯾﻤﻦ ﭘﯿﻠﮯ ﺩﻭﭘﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺳﮩﯿﻠﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﻨﯽ ﺧﯿﺰ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺳﮑﮯ۔۔۔
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﻃﻔﯿﻞ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻟﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮏ ﺩﻡ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭼﮭﺎ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
ﻓﻮﺝ ﮐﮯ ﭼﺎﺭ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺒﺰ ﮨﻼﻟﯽ ﭘﺮﭼﻢ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺴﺪ ﻻ ﮐﺮ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔
ﺍﯾﻤﻦ ﺳﺎﺭﯼ ﺷﺮﻡ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺩﻭﮌﺗﯽ ﮨﻮﺉ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺘﮭﺮﺍئی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺯﺍﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔۔
ﮐﻮﺉ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔۔۔
” ﺍﯾﻤﻦ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﮯ “

شیرو! تم  نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا. تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
30/06/2020

شیرو! تم نے قوم کا سر فخر سے بلند کردیا. تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

One Sentence for SSG Commandos
10/06/2020

One Sentence for SSG Commandos

کیپٹـن محمد اقبال شہید ہلالِ جرآت 1998ءکا وصیت نامہ1)سامان جو میں نــے بٹالین کو واپس لوٹانا ھــے سبز پیک ،ہائی نیک جرسی...
07/06/2020

کیپٹـن محمد اقبال شہید ہلالِ جرآت 1998ءکا وصیت نامہ
1)سامان جو میں نــے بٹالین کو واپس لوٹانا ھــے سبز پیک ،ہائی نیک جرسی
2) لنگر کا جتنا بل بنا هـے وہ ہرحال میں ادا کیا جائــے
3) میس کا بل جتنا بهی بنتا هــے وہ ہر حالت میں ادا کرو
4) دهوبی کا بل ادا کیا جائــے
5) موچی کــے پانچ روپـے دینـے ہیں
میری شہادت کـے بعد ان باتوں پر عمل کریں
☆__روزے جو میرے ذمہ ہیں 16روزے
☆__24مئی 1980ء کو میں نــے بنک سـے قرض لیا تها.میرے خیال میں 900روپــے ،یہ پیسـے یعنی قرضہ بی ایس سی سائنس سٹوڈنٹس کو ملا تها،پشاور یونیورسٹی ایڈمنسڑیشن بلاک سـے اس کــے بارے میں معلوم کیا جا سکتا هــے جو میں نــے بنک کو دینا هــے یہ رقم میرے ذمـے هــے جو میں نـے بنک کو دینی هـے
☆__میری قبر کو پختہ نہ کیا جائــے اور اسلامی شریعت کــے مطابق اس کی اونچائی رکهی جائــے اور نہ میری قبر پر پهولوں کی چادر یا سہرے یا کوئی اور دوپٹہ وغیرہ بچهایا جائــے کیونکہ یہ سب کچھ رسومات هیں قرآن اور حدیث میں ان چیزوں کا کوئی حکم نهیں اصل چیز دعا هـے.
☆__بجائــے چاول وغیرہ پکا کر لوگوں کو بلایا جائـے اس رقم ســے کسی نالی یا راستـے وغیرہ کو تعمیر کیا جائـے یا پهر مسجد میں دے دیا جائــے یہ صدقہ جاریہ رهـے گا نمود و نمائش کی ضرورت نهیں.
☆__میری شہادت کــے بعد اگر حکومت کی طرف سـے کوئی پیسہ وغیرہ مل جائــے اور یہ اگر پچاس ہزار هیں یا اس ســے زیادہ هوں تو چالیس ہزار میری قضا نمازوں اور روزوں کـے فدیـے کــے طور پر غربا اور مساکین میں تقسیم کئــے جائیں.
☆__اور میری شہادت کــے بعد کوئی میرے ساتھ احسان کرنا چاهـے تو جتنا زیادہ هو سکــے درود شریف پڑهــے اور ثواب میرے لئـے بخش دے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گهر کی نگہبانی کرے
کیپٹـن اقبال شہید جو جذبہِ ایمانی و جرآت کی مثالِ عظیم
هیں ســـلام اے شہید جو شہید هو کر امر هوئــے.

قوم کے سپوت کی شخصیت ، کس طرح اس نے اپنے ملک کی خدمات انجام دیں پاکستان ملٹری انٹیلیجنس میں ایک گمنام سپاہی کے روپ میں ۔...
02/06/2020

قوم کے سپوت کی شخصیت ، کس طرح اس نے اپنے ملک کی خدمات انجام دیں پاکستان ملٹری انٹیلیجنس میں ایک گمنام سپاہی کے روپ میں ۔۔۔

کیپٹن قدیر بلوچ خضدار کے قریب حادثے میں شہید ہوئے تھے
کیپٹن قدیر کی خدمات پاک وطن کے لیے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی😢
اللہ شہید کے درجات بلند کرے اور ان کے گھر والوں کو صبر و جمیل عطاء فرمائے۔۔۔ آمین

‏میں تمہیں ہر روپ میں نظر آؤں گا کیونکہ میں اپنے ملک کے دفاع کی آخری لکیر ہوں۔۔۔

پاکستان پائندہ باد

Copied  آئی ایس آئی کی ڈیوٹی5_6 مہینوں سے گھر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا ۔نا کال ۔۔نہ۔کوئی میسج ۔۔ نہ مجھے پتا گھر ...
01/06/2020

Copied

آئی ایس آئی کی ڈیوٹی

5_6 مہینوں سے گھر کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا ۔
نا کال ۔۔نہ۔کوئی میسج ۔۔ نہ مجھے پتا گھر والے کیسے ہیں نہ انکو پتا میں کس۔حال۔میں کہاں ہوں ۔۔
لیکن معاملہ چلتا رہا ۔۔ میں پہنچا تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ وہ۔حال لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔۔ ایک بڑے اڈے میں گیا جہاں سارے بڑے بڑے ٹرک کھڑے تھے ۔۔ کچھ دیر گھومنے کے بعد میں ایک ٹرک میں پیچھے سو گیا ۔۔
رات کیسی۔گزری پتا ہی۔نہ چلا ۔۔ بلکل بے خبر سوتا رہا ۔۔
صبح جب ٹرک کا کنڈیکٹر کسی کام کے لئے ٹرک میں۔پیچھے چڑھا اور مجھے دیکھا ۔ تو اکر جگا دیا ۔۔ میں اٹھ گیا تھوڑی بات ہوئی پہلے تو وہ میری۔حالت دیکھ کر مجھے چور سمجھا لیکن جب۔میں نے کہاں ۔۔نہیں بھائی ڈر مت میں کوئی چور نہیں۔وہ۔فلاں بندے کے۔ساتھ شاگرد ہوں ۔ تب وہ بھی تھوڑا نارمل۔ہو۔گیا ۔۔۔ ورنہ میں ٹوٹل جھوٹ بول۔رہا تھا ۔ بس میں۔نے اپنی طرف سے نام۔لیا ۔ وہ۔فلاں استاد کے ساتھ کام۔کرتا ہوں ۔ لیکن رات کو۔لڑائی ہوئی تھی اس لئے یہاں سو گیا ۔۔ خیر وہاں سے۔نکل کر۔میں سیدھا اپنے دفتر پہنچا ۔۔ جب یونٹ کے بندوں نے مجھے صحیح سلامت دیکھا تو بڑے خوش ہوئے ۔۔ اور پھر ہم اندر بیٹھ گیے ۔ کافی گپ شپ بھی ہوئی ۔۔ کچھ دیر کے لئے میں بھول گیا ۔۔ کہ اتنا عرصہ میں کہا تھا ۔ کیا کرتا رہا ۔ کتنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور کن کن مراحل کو عبور کرکے میں واپس اپنی منزل تک پہنچا ۔۔۔۔ جب میں اپنی ساری تفصیل اپنے سینیرز کو دے دی ۔۔ اور مجھے وہاں سے شاباش بیٹے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت پیار ملا ۔ ۔ تب میں نے کہا ۔۔ سر میں گھر جانا چاہ رہا ہوں ۔۔ گھر والے پریشان ہونگے ۔ مل۔بھی لونگا ۔ چھٹی گزار کے اجاونگا واپس ۔۔۔ اور چھٹی اسانی سے مل۔گئی ۔ ۔ اپنا سامان باندھ کے بس کی ٹکٹ لی ۔ اور سوچا ۔ چلو گھر والوں کو سرپرائز دونگا ۔۔ بڑا کچھ سوچتا رہا ۔ والدہ اور والد اور بہن کے لئے کچھ چیزیں بھی خرید لیں ۔ ۔ تقریبا ادھا سفر طے ہو چکا تھا ۔۔ مجھے اپنے ایک سینیر کی کال ائی ۔۔ اور بس اتنا سا کہا گیا ۔۔۔۔۔ میرے شیر تم۔جہاں بھی ہوں ۔ واپس اجاو مجھ سے ملنے ۔ بڑا ضروری مشن سٹارٹ کرنا ہے ۔نہ ہماری پاس وقت ہے نہ بندہ ۔۔۔ یہ تمہیں ہی کرنا ہے ۔۔۔۔ اور واپس میں نے اتنا سا کہا ۔۔۔۔ او کے سر ۔
بس اگے جاکر رک گئی لوگ کھانے میں مصروف ہوگئے ۔ میں نے ایک بسکٹ لی اور چائے کا ایک کپ لے کر بیٹھ گیا ۔۔
جیب سے موبائل نکالا ۔۔ والدہ کا نمبر ڈایل کیا ۔۔ جب والدہ۔نے کال ریسیو کی ۔ ہیلو کے ساتھ ہی رونا شروع ۔۔
بیِٹا کدھر ہے تو ۔ کیسا ہے تو ۔ کہاں غائب رہا ۔۔
میں تسلیاں دیتا رہا ۔۔ باتیں کافی ہوگئی ۔۔ تب والدہ نے کہا ۔ بیٹا تیری بہن کی شادی کی تاریخ پکی ہو چکی ہے ۔ تم ضرور انا ۔ کیوں کہ ابا اکیلے ہیں ۔ چھوٹا اپنی موج مستیوں میں رہتا ہے کام۔کاج نہیں کرتا ۔ تم اجانا تا کہ ابو کا ہاتھ بٹھا سکو ۔۔ اور ایک ہی تو۔بہن ہے اسے خود رخصت کرو ۔۔ میں چھپ چاپ۔سنتا رہا ۔۔ والدہ۔کہتی ہے ۔۔ بیٹا اتنی خاموشی کیوں ۔۔ یا پھر کچھ جھوٹ بولنے کی تیاری کررہے ہوں ۔۔
میں۔نے کہا ۔۔ ماں جی ۔ میں دور ہوں ۔ لیکن سارے کزن کو کال کر لونگا وہ اجائینگے ابو کے ساتھ رہینگے اور سارے کام بھی کردینگے لیکن میں ۔۔۔۔ یہاں والدہ۔نے کہا ۔۔ لیکن میں نہیں اسکتا ۔ کیوں کہ بہت سارے فوجیوں کی بہنیں ایسے ہی رخصت ہوجاتی ہے اور انکے بھائی گھر پر۔نہیں ہوتے کیوں کہ انہوں نے اس بہن کے علاوہ اور بھی بہنوں کا۔خیال جو رکھنا ہے ۔۔۔ ہے نہ فوجی صاحب ۔۔۔۔۔ یہاں میں کچھ نہ۔بول۔سکا ۔ ۔بس یہ خواہش ظاہر کردیں ۔۔ کیا میں اپنی بہن سے بات کرسکتا ہوں ۔ پیچھے سے بہن کی اواز اتی ہے ۔۔۔ بات کرنی ہے تو گھر اکر کرو ۔ موبائل۔پر۔جھوٹی تسلیاں۔نہیں چاہیے ۔۔ میں پھر بھی چھپ ۔ ۔ اس وقت اگر میں یہی کہتا ۔ کہ۔میں گھر ارہا تھا لیکن۔کسی کام۔کی۔وجہ سے پھر واپس۔ہونا پڑا ۔ تب بھی سب یہی کہتے جھوٹ بول رہا۔ہے تو ۔۔
اسلئے۔ایسا۔کوئی ذکر ہی نہیں۔کیا ۔۔۔۔۔۔ اور واپس کا۔ٹکٹ لے کر آفس اگیا ۔۔ اور وہاں سے اپنے دوسری۔مشن۔کی تیاری شروع کی ۔۔ اور نکل۔پڑا ۔۔۔۔۔۔ یہاں مین مقصد کیا ہے ۔۔
گھر والوں سے دوری ۔۔ مشکلات کا سامنا ۔۔
وطن سے محبت ۔ اور وطن کی رکھوالی ۔۔
جوش و جذبہ ۔ کہ نہ تھکا ۔ نہ افسوس ۔
بس ایک۔مشن کے مکمل۔ہونے پر دو رکعت نفل ۔
اور دوسری مشن کے شروعات پر دو رکعت نفل تا کہ یہ۔بھی کامیابی اور خاموشی سے تکمیل۔تک۔پہنچے ۔۔۔
دوستوں اپ صرف پڑھ۔لینگے ۔۔ کچھ لائکس۔اور کمنٹس بھی۔کرلینگے ۔۔۔۔ لیکن جن پر گزرتی ہے درد کا پتا انکو ہے ۔
لیکن دوستوں ۔۔ یہاں معاملہ۔میرے پاک سرزمین کا ہے اور اس پر رہنے والے نادان قوم۔کا ۔۔۔۔۔۔۔ جہاں۔تک ہو سکے ہم جان۔کی بازی لگا کر خدمت کرینگے ۔ لیکن۔اپ۔بھی اپنا حق ادا کرو اس سرزمین کا جس پر اپ کھلے عام کھلی ہوا میں۔سانس لیتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔۔۔۔ہم۔ازاد ہیں ۔۔۔۔۔۔
دوستوں اج دوسرے۔ممالک۔کا۔حال۔دیکھ۔لے ۔ عراق ۔ یمن ۔ شام ۔ افغانستان ۔۔۔ کیوں۔کہ انکے پاس حب وطن لوگ کم۔تھے اور غدار زیادہ ۔۔۔۔۔۔ تو اسلیے اج انکے حال۔پر نظر ڈالیں ۔ اور دوسری طرف اپنے حال ۔۔ کہ۔پرسکون نیند سو جاتے ہو اور صبح اٹھ کر ارام سے ۔ سکول ۔ کالج ۔ دفتر ۔ کاروبار ۔ کے لئے نکل۔جاتے ہوں ۔۔۔ تو اس بات کو بھی سمجھوں ۔۔۔۔ کوئ تو ہے گمنام ۔ جو اپکے سکون کی خاطر اپنا سکون لُٹا کے زندگی گزار رہے ہیں ۔۔ تاکہ اپ سکون سے رہوں ۔ اور پاک سرزمین پاک ہی رہے ۔۔


 ‏جب اللہ نے آپ کو ُچنا ہو تو یہی ہوتا ہے.🇵🇰نائیک نور محمد اپنی سروس مکمل کر چکے تھے.کمانڈنٹ نے کہا کہ آپ عید پر گھر چلے...
19/05/2020


‏جب اللہ نے آپ کو ُچنا ہو تو یہی ہوتا ہے.🇵🇰

نائیک نور محمد اپنی سروس مکمل کر چکے تھے.
کمانڈنٹ نے کہا کہ آپ عید پر گھر چلے جائیں.
نور محمد نے کہا کہ اب ایک ہی دفعہ گھر جاؤں گا.
31 مئی کو الوداعی کھانا رکھا گیا تھا.
کل رات بلوچستان میں کی جانب سے بچھائی گئ سرنگ کے دھماکے میں شہید ہو گئے.🇵🇰

انا للہ وانا الیہ راجعون

Address

Peshawar
24420

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GumnamSipahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to GumnamSipahi:

Share