23/01/2026
“نیٹ میٹرنگ پالیسیز میں غیر اعلانیہ اور غیر قانونی تبدیلیاں”۔
تحریر انجینئر منصور علوی
آپ نے وہ مثال تو سنی ہوگی کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار۔
گزشتہ کچھ عرصے سے واپڈہ ہائر اتھارٹیز کسی نا کسی طرح ایسی نیٹ میٹرنگ پالیسیز بنانے کی کوشش میں لگے تھے جس سے سولر صارفین کا معاشی استحصال کیا جا سکے اور حکومت کو لوٹ مار کر کے زیادہ ریونیو کا تحفہ دیا جا سکے۔
گورنمنٹ تو ابھی تک کوئی ایسی پالیسی فائنل نہیں کر پائی مگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار میپکو حکام جن میں میپکو چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ایس ایز شامل ہیں انہوں نے غیر قانونی طور پر بغیر کسی نوٹی فیکیشن کے نا صرف نئے نیٹ میٹرنگ کیسز کو پراسس کرنا بند کر دیا بلکہ جو کیسسز ان پراسس تھے انہیں بھی کھڈے لائن لگا دیا۔ جو سراسر نا صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بدمعاشی اور احتیارات کا شدید غلط استعمال بھی ہے۔
علاوہ ازیں واپڈہ سرکل رحیم یار خان نے جو سولر صارفین نیٹ میٹرنگ پر جا چکے ہیں ان میں سے اکثر صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس بھی اس ماہ کے بل میں یہ کہہ کر نہیں ڈالے کہ انکی ایکسپورٹ ایم ڈی آئی منظور شدہ سولر لوڈ سے زیادہ ہے۔ جو کہ نا صرف عوام کا معاشی استحصال ہے بلکہ بددیانتی اور بدمعاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ اوپر سے سونے پر سہاگہ کے جب صارفین لوڈ بڑھانے کی درخواست کے لیے واپڈہ آفس جاتے ہیں تو حکام درخواست وصول کرنے اور لوڈ بڑھانے سے بھی انکاری ہیں۔
حالانکہ کزشتہ کچھ ماہ سے واپڈہ بِلوں پر ایک نوٹس بھی لکھا آ رہا ہے کہ اگر آپ سولر لوڈ نہیں بڑھوائیں گے تو آٹو میٹکلی آپکا لوڈ بڑھا کر اسکے چارجز آپکے بلز میں ڈال دیا جائے گا جو کہ قسطوں میں آپ سے وصول کر لیا جائے گا۔
اب بجائے لوڈ بڑھانے کے بغیر کسی نوٹس کے سولر صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس پر ڈاکہ ڈال لیا گیا۔ اور یہ کروڑوں کے یونٹس گرڈ میں شامل کر کے شاہ کے سامنے وفاداری کا اظہار کیا گیا۔
مظلوم عوام کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا گیا کہ انکے ساتھ کیا گیم کی گئی۔
اپنی آواز اٹھائیں اور اس غیر قانونی اور ظالمانہ اور غیر اعلانیہ عمل کو رکوائیں۔
وفاقی محتسب کے آن لائین پورٹل پر جاکر اپنی شکایت درج کرائیں۔ جسکا لنک نیچے دیا گیا ہے۔
Wafaqi Mohtasib (Ombudsman)'s Secretariat وفاقی محتسب سیکر ٹیر یٹ