فطرت پسند لوگ

فطرت پسند لوگ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from فطرت پسند لوگ, Talagang.

With Sun Players Solar – I'm on a streak! I've been a top fan for 7 months in a row. 🎉
06/11/2025

With Sun Players Solar – I'm on a streak! I've been a top fan for 7 months in a row. 🎉

With Sun Players Solar – I'm on a streak! I've been a top fan for 6 months in a row. 🎉
22/10/2025

With Sun Players Solar – I'm on a streak! I've been a top fan for 6 months in a row. 🎉

29/09/2025

Solar system

آج ان بیروں کو چننے والا کوئی نہیں بیریاں اداس کھڑی آج کے بچوں کو پکار رہی ہیں پر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں آج کے ب...
23/04/2025

آج ان بیروں کو چننے والا کوئی نہیں بیریاں اداس کھڑی آج کے بچوں کو پکار رہی ہیں پر ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں آج کے بچے انٹرنیٹ پہ اتنے مگن ہیں کہ ان کے پاس سماجی سرگرمیوں اور روائیتی تفریح کے لیے وقت ہی نہیں ایک ہمارا دور تھا کہ سرکاری سکول میں پڑھ کے واپس آنے کے بعد گھر کے کام کاج بھی کرتے سکول کا کام بھی کرتے ٹیوشن اور انٹرنیٹ کا نام و نشان نہیں تھا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے پڑھائی میں کس حد تک مشکلات تھیں پھر بھی جاننے اور پرکھنے کا جنون تھا کھیل کے لیے اتنا ٹائم ہوتا تھا کہ کھیل کھیل کے تھک جاتے پھر بھی گپ شپ کے لیے ٹائم بچ جاتا بیریوں پہ بیر جب پک جاتے تو اکٹھے ہو کر بیر چننے جایا کرتے ایک بار ہم دس بارہ لڑکے بیر چننے گئے بیری پہ شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا کسی کو پتہ نہیں تھا جاتے ہی بیری پہ لکڑی کا ایک ٹکڑا دے مارا وہ جاتے ہی چھتے کو لگا اور مکھیوں نے حملہ کر دیا ہم بھاگ رہے تھے جتنا بھاگ سکتے تھے مکھیوں نے ہمارے کان اور سر کے پچھلے حصے میں خوب ڈنگ مارے بھاگتے گرتے پڑتے مکھیوں سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو گئے اس کے بعد بھی بیر چننے کا جنون کم نہ ہوا البتہ ایک تبدیلی ضرور آئی کہ بیری کو ہلانے سے پہلے دیکھ بھال کرتے تھے یہ دیسی بیر گندم کی کٹائی کے بعد جب خشک ہو جایا کرتے تھے تو اور بھی مزے کے ہوتے تھے آج کی نسل کو کیا پتہ کہ بیر چننے میں کتنا مزا تھا آج کل اکثر زمینداروں نے تو اپنے رقبے سے بیریاں ختم کر دی ہیں جو بچ گئی ہیں وہاں جاتا کوئی نہیں مجھے تو آج بھی بیر کھانے کا شوق ہے اپنے ہاتھوں سے بیر چننے میں بڑا لطف آتا ہے بیریاں فصل کو خراب کرتی ہیں پھر بھی بیر کھانے کے لیے اپنے رقبے پہ رکھی ہوئی ہیں گھر میں بھی اپنے ہاتھ سے بیریاں قلم کر رکھی ہیں
بیر کی طبی افادیت تو میں بیان نہیں کروں گا خود تلاش کر لیں اور سال بعد اس قدرتی تحفے سے ضرور لطف اندوز ہوں
سعید فاروقی

🌹برصغیر میں عروج و زوال کی داستان🌹ہندوستان(برصغیر) ایک وسیع ملک تھا۔ اتنا بڑا کہ اسے چھوٹا براعظم کہا جاتا ۔ اس کا ساحل ...
21/04/2025

🌹برصغیر میں عروج و زوال کی داستان🌹
ہندوستان(برصغیر) ایک وسیع ملک تھا۔ اتنا بڑا کہ اسے چھوٹا براعظم کہا جاتا ۔ اس کا ساحل پانچ ہزارمیل تھا ۔ خشکی کی سر حد کو ئی چھ ہزار میل ہوں گی۔ شمال میں ہمالیہ پندرہ سو میل تک پھیلا ہوا تھا۔بند ھیاچل نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہندوستان اپنی زرخیزی کی وجہ سے غیر قوموں کو اپنی طرف مائل کرتا رہا۔ صدیوں تک جنوبی قوموں کا تمدن شمالی ہندوستان کو متاثر کرتا رہا ۔ حملہ آور قوموں کی نسلیں آج بھی بندھیا چل کے اس پار شمالی ہندوستان کی نسبت بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف قوموں کے
یہاں آنے سے ہندوستان میں مختلف تمدنوں کا ایک مجموعہ تیار ہو گیا۔ ہر تمدن ہندوستان کو متاثر کرنے کے بعد خودکسی دوسرے تمدن سے متاثر ہوتا رہا۔ نوحجری عہد میں ہندوستان میں دو قومیں بستی تھیں جس کی یاد گار آج تک نیل گری کی پہاڑیوں میں باقی ہے۔ اس کے بعد کول اور بھیل اقوام نے ہندوستان کو اپنا گھر بنایا۔ صدیوں بعددراوڑوں نے ان قوموں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ کول دراوڑ کے قد چھوٹے رنگ کالے پیلے اور ناک چپٹی تھی ۔دراوڑ ابتدا میں شمالی ہندوستان میں آباد ہوئے لیکن آریاؤں نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو دراوڑ کولوں اور بھیلوں سے کر چکے تھے۔ آریاؤں نے دراوڑوں کو شمالی ہندوستان سے نکال دیا۔ وہ جنوبی ہندوستان میں چلے گئے۔ آج جنوبی ہندوستان میں دراوڑوں کی اکثریت ہے ۔ان کی زبانیں ہندی آریائی زبانوں سے مختلف ہیں۔ شمالی ہندوستان میں دراوڑ شہری تمدن کے مدارج تک پہنچ چکے تھے۔ ان کا تمدن سومیری تمدن سے ملتا جلتا تھا۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی کھدائیوں نے ان کے تمدن کی عظمت کو ہمارے سامنے دکھا دیا ہے۔ ان شہروں کا تمدن صدیوں کی آغوش میں پلاہو گا۔ مصر ، عراق اور ایران کی تہذیبوں کے پہلو بہ پہلو دراوڑی تہذیب بھی اپنی قدامت اور عظمت کی داستان کھنڈرات کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ موہنجوداڑواور ہڑپہ آریاؤں کے آنے سے صدیوں پہلے شہرت حاصل کر چکے تھے ۔ سندھ اور پنجاب کا تمدن مصر اور عراق کے ہم عصر تمدن سے کسی طرح پیچھے نہیں تھا۔ ان شہروں کے لوگ سوتی کپڑا بننا جانتے تھے۔ گھروں میں غسل خانے تھے۔ شہریوں کے مکان بہت بلند اور صاف ہوتے تھے۔ ان کا مذہب مصریوں اور سومیریوں سے ملتا جلتا تھا۔
آریا تقریبا 1500 قبل از مسیح یعنی حضرت عیس علیہ السلام سے 1500 سال پہلے شمالی ہند کی راہ سے ہندوستان میں داخل ہوے۔ سوم رس پینے والے جو ایک قسم کی شراب تھی جس کے پینے سے آنکھیں چمکدار ہو جاتی تھیں۔ آریا وسط اایشیا سے ہندوستان میں پیدل ننگے پاوں چل کر آئے ۔ گورا رنگ ساتواں ناک دراز قد جو وسط ایشیا سے ہندوستان کی زرخیزی دیکھ کر وارد ہوے۔ گھوڑے کا گوشت کھانے والے اور گھوڑی کا دودھ پینے والے آریا جفا کش دلیر اور بہادر تھے۔
قدیم ہند( بر صغیر)کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریا اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔
اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔
آریاؤں کی آمد کے ساتھ ساتھ یا ان سے پہلے شمالی مشرقی ہندوستان برما بنگال آسام کے درّوں سے منگولی قومیں بھی ہندوستان میں دا۔خل ہوتی رہیں۔ آریا شمال مغربی ہندوستان کی راہ سے داخل ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں وہ صدیوں تک دراوڑوں سے لڑنے کے بعد پنجاب پر قابض ہوئے۔ پنجاب سے وہ گنگا کی وادی میں پہنچے۔ جہاں آریاؤں کی سیاست اور تہذیب اپنے عروج پر پہنچی۔ مگدھ میں ایک عظیم الشان آریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ مگدھ کی سلطنت کے زمانہ میں گوتم بدھ کا ظہور ہوا۔ گوتم بدھ ہمالیائی ریاست کپل وستو میں پیدا ہوے ۔بدھ نے اپنے زمانہ کی تمام مجلسی برائیوں کے خلاف بغاوت کی۔ اس کا مذہب عوام کی زبان میں عوام کے لئے تھا۔
گوتم بدھ کی تعلیمات میں سے ایک بات میٹرک 1965 کی تاریخ میں لکھی ایک بات یاد ہے۔
🌹دنیا دکھوں کا گھر ہے ۔ دکھ خواہشات سے پیدا ہوتے ہیں🌹
ایران کے بادشاہ سارا نے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سکندر نے بھی 336 قبل از مسیح میں ہندوستان کا رخ کیا۔ پورس نے اس کا مقابلہ کیا۔ سکندر دل چھوڑ کر یونانی فوجیں جہلم اور بیاس کے کناروں سے واپس ہوئیں۔ پاٹلی پترافتح کرنے کی ہوس لے کر سکندر کو واپس جانا پڑا۔ یونانی تہذیب نے شمالی ہندوستان کو متاثر کیا۔ سکندر کے جانے کے بعد پنجاب سے چند رگپت موریا اُٹھا۔ اس کے وزیر چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ نظم ونسق حکومت پر غالباً پہلی کتاب ہے۔ موریا خاندان کے شہنشاہ اشوک کا عہد حکومت رفاہ عامہ کے کاموں سے بھرا پڑا ہے۔ موریا سلطنت کی تباہی کے بعد پانچ سوسال تک ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت دکھائی نہیں دیتی۔ اس زمانہ میں ساکا او یوچی قوموں نے ہندوستان پردھاوا بولا۔ساکا قوم کا سب سے مشہور بادشاہ کنشک تھا۔ اسی زمانہ میں بدھ مت اور برہمن مت میں کشمکش ہوئی۔ پُران بھی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔چوتھی صدی عیسوی میں گپت سلطنت قائم ہوئی۔ اب پاٹلی پترا کی جگہ اجین کو ہندوستان کی مرکزیت حاصل ہوئی۔ یہ زمانہ برہمن مت کے انتہائی عروج کا زمانہ ہے۔ بکر ما جیت اسی خاندان کا ایک حکمران تھا۔ گپت خاندان کے عہد حکومت میں ہندوستانی علوم وفنون اور صنعت وحرفت نے خوب ترقی کی ۔ ہندوستان اور روم میں تجارتی تعلقات قائم ہوئے۔ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے جاوا اور سماٹرا میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں۔ گپت خاندان کے زوال کے بعد ہندوستان پھر بیرونی حملہ آوروں کا شکار ہوا۔ اب کےسفید ہن قوم نے شمالی ہندوستان کو تخت وتاراج کیا ٹیکسلا کو تبای برباد کیا آج بھی کھنڈرات موجود ہیں ۔ جاٹ اور گوجر اسی قوم کے مشہور قبائل تھے۔ مہر گل ہن قوم کا مشہور بادشاہ تھا۔ وہ ہاتھیوں کوپہاڑوں سے گرا کر ان کے مرنے کا تماشا کرتا اور خوش ہوتا۔ ساتویں صدی میں ہرش وردھن نے ہندوستان کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نظم ونسق کو ہیون سانگ ہم تک پہنچاتا ہے۔ ہرش وردھن اگر چہ بدھ مت کا پیرو کار تھا لیکن اس کے عہد میں شمالی ہندوستان میں برہمن مت نے زور پکڑ لیا تھا۔ لگ بھگ 600 عیسوی ہرش وردھن کی موت کے بعد ہندوستان کی مرکزیت ختم ہو گئی۔۔ اسلام اس وقت عرب کے صحراؤں میں پھل پھول رہا تھا۔
712 عیسوی میں محمد بن قاسم دیبل کے راستے غالبا کراچی کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ۔ راجہ داہر کو شکست دی اور ملتان تک پہنچا ۔ لیکن کوئی اسلامی ریاست نہیں بنائی لیکن سندھ کے لوگوں پر کافی اثر چھوڑا۔ سندھ کے لوگوں نے محمد بن قاسم کی مورتیاں بنا لیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔
اسکے بعد افغان اور غزنی سے محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔
اسکے بعد محمد غوری نے لاہور کے راجہ جے پال کو شکست دے کر نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک کو اس کا سربراہ بنایا۔ یہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو خاندان غلاماں کے نام سے مشہور ہوئی ۔ التمش۔ رضیہ سلطانہ اور غیاث الدین بلبن ۔مشہور باد شاہ تھے۔
التمش اور رضیہ سلطانہ کو خلجیوں نے فتح کیا۔ علاؤالدین خلیجی مشہور بادشاہ تھا۔ خلجیوں کو خاندان تغلق نے فتح کیا جونا خان محمد بن تغلق اور فیروز شاہ تغلق مشہور بادشاہ تھے۔
۔ جونا خان محمد بن تغلق کے زمانے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ ہندوستان آیا۔ اور بہت معلومات اپنے سفر نامے میں لکھیں۔ فیروز تغلق اور غیاث الدین تغلو مشہور بادشاہ تھے
محمود شاہ تغلق کمزور بادشاہ تھا۔ امیر تیمور کے حملے نے تغلق خاندان کے وقت کو خاک میں ملا دیا دہلی کو تیمور لنگ نے تہس نہس کیا۔ اور دہلی میں خون کی ندیاں بہادیں۔ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ امیر تیمور نے کوئی مستقل حکومت نہیں بنائی لوٹ مار کر کے چلا گیا۔ اور خضر خان نے خاندان سادات کی بنیاد ڈالی۔ سید خاندان کی کمزوری دیکھ کر بہلول لودھی نے دلی پر قبضہ کیا اور لودھی خاندان کی بنیاد ڈالی۔ سکندر لودھی اس خاندان کا مشہور بادشاہ تھا۔ سکندر لودھی نے آگرہ شہر آباد کیا اور آگرہ کو دارلحکومت بنایا ۔ سکندر لودھی کے بعد ایک کمزور حکمران ابراہیم لودھی بادشاہ بنا۔ جس کو بابر نے پانی پت کے میدان میں شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی۔
بابر وسط ایشیا کی ریاست فرغانہ کے امیر عمر شیخ میرزا کا بیٹا تھا۔ والد کی وفات کے وقت بابر کی عمر بارہ سال تھی۔ بھائیوں اور چچا کی مخالفت کی وجہ سے فرغانہ کو چھوڑ کر در بدر پھرتا رہا۔ پتھریلے پہاڑوں پر ننگے پاوں چلتے ہوے اس کے پاوں اتنے سخت ہو گئے کہ کانٹا چبھتے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بارہ ہزار فوج اکٹھی کی اور کابل پر قبضہ کیا ۔ ہندوستان کی زرخیزی اور دولت دیکھ کر اس نے بارہ ہزار فوج سے ہندوستان پر حملہ کر دیا ۔1526 عیسوی میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو شکست دی اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ رانا سانگا کو شکست دی اور اپنی سلطنت کو مظبوط کیا۔ بابر اتنا جفاکش تھا کہ دو آدمیوں کو اٹھا کر قلعے کی دیوار پر دوڑ لگاتا تھا۔

بابر بڑا مردم شناس تھا۔ ایک دفعہ بابر نے تمام حکومتی امرا؞ کو دعوت دی ۔ دعوت میں شیرشاہ سوری بھی امرا؞ میں شامل تھا ۔ شیرشاہ سوری نے بابر کے سامنے پڑا گوشت کا ٹکڑا اپنا خنجر نکال کر کاٹ کر کھانے لگا۔ دعوت ختم ہونے پر بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کو تنبیہ کی کہ اس شخص شیرشاہ سوری سے بچ کر رہنا۔
پھر ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا۔ جب شیر شاہ کے جانشین کمزور ہوے تو ایرانی بادشاہ کی مدد سے دوبارہ سوری حکمران پر حملہ کیا اور اسکو شکست دے کر بادشاہ بنا۔ لیکن پانچ سال کے بعد فوت ہوا۔
ہمایوں کے بیٹے اکبر کی عمر بارہ سال تھی۔ اس کے استاد بیرم خان نے جلال الدین اکبر کے نام سے اکبر کو تخت پر بٹھایا اور خود اس کا سرپرست بن گیا۔
اکبر نے پچاس سال حکومت کی دیں الہی کے نام سے ایک نیا دین جاری کیا۔ ہندو عورتوں سے شادی کی جہانگیر ایک ہندو عورت کے بطن سے پیدا ہوا۔
اکبر کے بعد جہانگیر تخت پر بیٹھا ۔ تزک جہانگیری میں زنجیر عدل کا ذکر ملتا ہے۔ اسکے بعد شاہ جہاں بادشاہ بنا ۔ شاہ جہاں کو عمارتیں بنانے کا شوق تھا اس کو انجینیر بادشاہ بھی کہتے ہیں ۔ تاج محل۔ شالیمار باغ اور ٹھٹھہ کی مسجد شاہ جہاں قابل ذکر ہیں۔ شاہ جہان بیمار ہوا تو اس نے بڑے بیٹے داعا شکوہ کو ولی عہد بنایا۔ اورنگزیب عالمگیر دکن میں مرہٹوں سے لڑ رہا ٹھا ۔ اس کو پتہ چلا تو تخت نشیمی کی جنگ چھڑی۔ جس میں اورنگ زیب فتح یاب ہوا۔ شاہجہاں کو قید کرکے بھائیوں کو شکست دی اور تخت پر بیٹھ گیا ۔ اس نے بھی پچاس سال حکومت کی ۔ لاہور کی بادشاہی مسجد اورنگزیب عالمگیر نے بنائی۔ اس کی وفات کے بیڈ جانشین کمزور ہوتے گئے تیمور اور مغل خون میں ملاوٹ کی وجہ سے سست ہو گئے۔ جس نی محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہ پیدا کیے۔ نادر شاہ نے بھی دلی پر حملہ کیا خوب دولت لوٹی ۔ مشہور کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس بھی ساتھ لے گیا۔

ہنوستان جس کی دولت کے افسانے سکندر کے زمانے سے یورپ جا رہے تھے۔
واسکوڈے گاما ایک عرب ملاح کی مدد سے راس امید جنوبی افریقہ کا چکر کاٹتا ہوا ہندوستان (برصغیر)کے ساحلی مقام کالی کٹ پر پہنچا۔ ہندوستان کے لوگوںنے اپنی روایتی مہمان نوازی کے پیش نظر اس نوو ار د کا استقبال کیا۔کالی کٹ کے راجہ زیمورن کو کیا خبر تھی کہ بدو کے افسانوی اُشتر کی طرح پرتگیز بھی اسے خیمہ سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں۔ پرتگیزوں نے کالی کٹ میں ایک فیکٹری قائم کی۔ تین سال بعد کالی کٹ کے سینہ پر ایک پرتگیزی قلعہ نظر آیا۔ تھوڑی مدت بعد پرتگیزی عَلم گواکی دیواروں پر لہرایا۔ کالی کٹ کے لزبنی مہمانوں نے زیمورن کے شاہی محلات کو نذر آتش کرنے سے گریز نہ کیا۔ میز بان کی خدمت میں مہمان کا ہدیہ تشکر! پرتگیزی آخر اس ملک کے ساحل پر پہنچ گئے۔
1492 عیسوی میں کولنبس ہندوستان ڈھونڈتا ہوا امریکہ جا نکلا اور نیا بر اعظم امریکہ دریافت ہوا۔
اسٹریلیا بھی ایک جہاز ڈان جیمز کک نے دنیا کے گرد چکر پورا کرتے ہوے ڈھونڈ نکالا۔
انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے ۔ مغل بادشاہ جہانگیر کو کچھ تحفے تحائف دیے اور تجارت کی اجازت مانگی۔ اجازت ملنے کے کچھ عرصے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ میں قائم کی ۔ اور بڑھتے بڑھتے اسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغلیہ سلطنت کو کھوکھلی کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر 1858 کی جنگ آزادی میں مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو جلا وطن کر کے رنگوں بھیج دیا۔ اور وہاں ہی وہ فوت ہو گیا۔ اور انگریز پورے ہندوستان کے مالک بن گئے۔ 14اگست 1947 کو آزادی ملی۔ 🌹
🌹تاریخ میں بہت سے حملہ آور آتے رہے اور کچھ لاتے رہے۔ اور کچھ لے کر جاتے رہے ۔
آج سے تین ہزار سال پہلے جو لوگ موجود تھے اب ان کی نسلوں میں بہت ملاوٹ ہو گئی ہے۔ جو بھی آیا اپنا نشان چھوڑ گیا۔ خالص کوئی نہیں ۔ اسی طرح راجپوت بھی خالص نہیں رہے ۔ سارے حملہ آور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔
مغل بھی خالص نہیں رہے۔ بابر چنگیز اور تیمور کا مکسچر تھا۔ اسکے بعد اکبر اعظم نے ہندووں سے شادی کی تو جہانگیر تو مکسچر تھا۔ آگے والے اسے بھی زیادہ مکسچر تھے۔ انگریزوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اور اینگلو انڈین کے نام سے نئی قوم وجود میں آئی۔
آج کے بر صغیر میں دیکھیں تو شمال مغرب کے لوگ گورے چٹے اور ساتواں ناک والے ہیں۔ شائد ہی کوئی پٹھان کالے رنگ کا ہو جو کراس نسل ہے۔ جوں جوں آپ جنوب کی طرف جائیں تو لوگ سانولی رنگت کے نظر آئیں گے ۔ گورے چٹے بھی ہیں۔ اور جنوبی ہندوستان میں کالے اور چپٹی ناک والے زیادہ ںظر آئیں گے۔ شائد ہی کوئی گوڑا اور گندمی ہو ۔ جو کراس نسل سے ہو گا۔ بنگال میں زیادہ تر لوگ کالے چپٹی ناک والے ہونگے۔ لیکن کچھ خوبصورت اور گندمی رنگت والے بھی نظر آئیں گے۔ فلمسٹار شبنم اس کی ایک مثال ہے۔
کراچی میں بھی کچھ لوگ حبشی نسل کے گھنگریالے بالوں والے ملیں گے جن کو مکرانی کہتے ہیں۔ یوں بر صغیر میں تمام حملہ آوروں اور باہر سے آنے والوں نے اپنا اثر ڈالا۔
حملہ آور دورہ خیبر کے ذریعے آتے رہے۔ آریا آئے۔ سکندر آیا منگول آئے۔ افغان۔ لودھی سوری۔ مغل جس راستے سے گزرتے گئے اپنا بیج بوتے گئے۔ کون خالص ہے؟۔ جو آدمی جرمنی سے شادی کرے اور بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہے ؟
اگر کوئی ناروے یا انگلینڈ سے شادی کرے ۔ بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہیں۔؟۔ نہیں مکس ہیں۔ بچے یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو سکتے ۔ہم سب کراس ہو کر نئی نئی نسلیں نکل رہی ہیں۔ اصلی کوئی نہیں

صدیاں گزر گئیں ۔ اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا تھا۔
لیکن 3000 سال پہلے آریا آئے اور سکندر بھی اسلام سے پہلے آیا بلکہ حضرت عیس علیہ السلام سے پہلے بھی کافی حملہ آور آئے۔ اس وقت نکاح کا کوئی concept نہیں تھا۔ سب رل مل گئے۔ گڈ مڈ ہو گیا۔ کیا خیال ہے۔ 😪
😪ہمارے آباؤ اجداد کوئی سعودی عرب سے نہیں آئیے تھے۔ اسلام تو آیا 610 عیسوی میں۔ اور ہمارے پاس دو تین سو سال بعد آیا اسے پہلے لوگ یا بدھ ازم یا ہندو ازم مانتے تھے۔ ابھی بھی ٹیکسلا ۔سوات۔ افغانستان میں مہاتما بدھ کی مورتیاں اور کھنڈرات موجود ہیں۔ ہم ہندوں سے مسلمان ہوے ہیں 🤔
مغل بادشاہ تاج محل قلعے بنواتے۔ اور دال رو ٹی پکتی ۔ اسی روٹی پر گزارا ہوتا۔ فوج میں جو سپاہی لڑتے وہ بھی روٹی دال کی خاطر۔ تنخواہ کا کوئی concept نہیں تھا۔ اور نہ ہی اتوار کی چھٹی۔
یہ انگریز دور میں ملزمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی اور ہفتے میں ملازمین کو ایک اتوار کی چھٹی ہوتی۔
یہ سب میرے والد صاحب بتاتے تھے۔ کہ پہلے انگریزوں کے دور میں بھی کما کر کھاتے ہیں اور آزادی کے بعد بھی کما کر کھاتے ہیں ۔ اور بزرگوں سے بھی یہی سنا۔🌹
🌹تحریر و تحقیق راجہ قدیر🌹

17/04/2025
ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دی...
17/04/2025

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
-
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
-
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
-
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
-
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
-
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
-
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
-
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
-
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
-
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
-
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
-
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
-
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
-
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔

جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
-
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
-
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نہیں آئی۔________________copy

دیکھو میں پہلے بھی بتا چُکا ہوں کہ یہ پرندہ یعنی چڑیا  ، اس کا درختوں سے بس اتنا ہی تعلق ھے کہ اُس کے شاخوں پر بیٹھتی ھے...
13/04/2025

دیکھو میں پہلے بھی بتا چُکا ہوں کہ یہ پرندہ یعنی چڑیا ، اس کا درختوں سے بس اتنا ہی تعلق ھے کہ اُس کے شاخوں پر بیٹھتی ھے ، کھیلتی ھے ، چہچاتی ھے اور بس

لیکن یہ رہنا سہنا یعنی گھونسلہ صرف اور صرف اونچی دیوار کے سراخ میں بناتی ھے وہی انڈے دیتی ھے اور بچے پیدا کرتی ھے یعنی افزائش ِ نسل وہی سے ہوتی ھے

لہذا اب پکے گھر پکی دیواریں اور سُراخوں کا نام نشان تک نہیں۔ اور مویشیوں کے جو کمرے ہوتے تھے اس کے چھت لکڑی بالے کے ہوتے تھے اور ہر وقت دروازے کھلے رہتے تھے، تو یہ لکڑی بالے کے گیپ میں بھی گھونسلے بنا کر افزائش نسل کر لیتیں تھیں
اب یہ اسباب نہ ہونے کی وجہ سے یہ نسل اور قدرت کا یہ تحفہ ناپید ہوتا جا رہا ھے ۔ یارو !! 65 % تک ختم ہو چکا ھے
ہمیں فطرت سے محبت کرنے والے صاحبِ دل زمہ داروں کی ضروت ھے ۔ او خو !! ہمیں نہیں بلکہ چڑیا کو اور چڑیا کی نسل کو
لہذا چند ایک اقدامات میں بتا دیتا ہوں ۔۔
نمبر ایک ۔۔ جیسا کہ تصویر میں سُراخ دکھا گیا ھے اس طرح کے اپنے گھروں میں ایک دو کم از کم ضرور رکھیں اور چڑیا کو مہمان رکھیں تا کہ نسل چلتی رہے
نمبر دو۔۔ دیواری پر لکڑی کا ڈبہ یا بہت سارے ڈبے وہ بھی سراخ والا یا والے لگا دیں
نمبر تین ۔۔ دیوار کی آخری پالی یا قطار اس طرح کے پھوکے بلاک کی لگائیں یا اس طرح کے پھوکے بلاک گھر کی چھت کی صفیل یا فصیل پر یا پانی والی ٹینکی پر یا سیڑھیوں کے اوپر والی گُمٹی پر لگا دیں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ۔
نمبر چار۔۔ جن قبر ستانوں کی چار دیواری ھے ان دیواروں پر بھی کچھ اس طرح کے انتظامات کریں
نمبر پانچ ۔۔ جس انگریز کے نام پر ہمار ا شہر جیکب آباد ھے اُس ( سر جیکب ) نے پرندوں کے لیے جو ٹاور بنایا تھا وہ آج بھی موجود ھے ۔ لہذا وہ ماڈل بھی چڑیا کے لیے بہت مفید ھے قبرستان کے کسی کونے میں چھوٹا یا بڑا پرندہ مینار بنا یا جا سکتا ھے
نمبر پانچ۔۔ پڑوسی ملک بھارت میں بہت سارے فطرت پسند لوگوں نے مصنوعی گھونسلے پلاسٹک کے اور لکڑی کے جگہ جگہ لگا کر اس نسل کو کچھ سہارا دے رکھا ھے
اور آخری نمبر چھ۔۔۔ کہ پھر کہنہ پڑ رہا ھے کہ رحم دل ، فطرت پسند ۔ اور سنجیدہ بندے کی ضرورت ھے وہ پورے گاوں محلے میں ایک بھی ہو تو کافی ھے بس یہ پوسٹ اُسی کے لیے ھے باقی زحمت نہ فرمائیں

اگر آپ کو یہ معلومات اچھی لگیں، تو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ سب کو فائدہ ہو!

Shoaib Ahmed Chouhan

06/04/2025
ضلع اٹک جہاں برصغیر میں سب سے پہلے تیل دریافت ہوابرصغیر میں سب سے پہلے تیل اٹک میں 1866 میں دریافت ہوا جو صرف 15 فٹ کھدا...
06/04/2025

ضلع اٹک جہاں برصغیر میں سب سے پہلے تیل دریافت ہوا
برصغیر میں سب سے پہلے تیل اٹک میں 1866 میں دریافت ہوا جو صرف 15 فٹ کھدائی کے بعد نکل آیا تھا۔
1922 میں مورگاہ راولپنڈی میں لگنے والی آئل ریفائنری جس کی صلاحیت 2500 بیرل یومیہ تھی، یہ پورے خطے بشمول مشرق وسطیٰ میں بننے والی واحد ریفائنری تھی اسے اب اٹک ریفائنری کے ورثہ میوزیم میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔

دنیا میں ٹیکنالوجی کی چکا چوند جس توانائی کے بل بوتے پر ہے آج بھی اس کا 80 فیصد تیل و گیس کا مرہونِ منت ہے۔

انسان تقریباً 5000 سال سے مٹی کا تیل استعمال کرتا آ رہا ہے۔ بابل کی تہذیب کے لوگ اپنی کشتیوں کو پانی سے محفوظ بنانے کے لیے مٹی کے تیل کا استعمال کرتے تھے۔ قدیم مصری ممیوں کی تیاری میں جو مواد استعمال کرتے تھے ان میں مٹی کا تیل بھی شامل تھا۔
چینی چھٹی صدی قبل مسیح میں بانس کے بنے پائپوں میں مٹی کا تیل فلپائن برآمد کرتے تھے۔ مارکو پولو نے 13ویں صدی عیسوی میں باکو آذربائیجان میں مٹی کے تیل کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔
تاہم یہ 19ویں صدی کے وسط کی بات ہے جب تیل کا پہلا تجارتی کنواں پنسلوینیا امریکہ میں کھودا گیا تھا۔
1885 میں ایک جرمن انجینیئر کارل بینز نے دنیا کی پہلی موٹر کار بنائی تو اس کو چلانے کے لیے بھی مٹی کا تیل استعمال کیا گیا۔ آج دنیا کا 60 فیصد تیل خلیجی ممالک سے نکلتا ہے جس کی اوّلین دریافت 1908 میں ایران میں ہوئی تھی۔
تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ خلیجی ممالک سے بہت پہلے 1866 میں ضلع اٹک میں کھوڑ کے مقام پر تیل کی دریافت ہو چکی تھی اور پھر برطانوی عہد میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب کھوڑ اور اس کے نواحی علاقوں میں تیل کے 400 سے زائد کنویں کام کر رہے تھے جن سے تیل کی سالانہ پیداوار چار لاکھ 80 ہزار بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
ہندوستان میں تیل کی اوّلین دریافت اٹک میں ہوئی
قدیم دور میں زمین کے نیچے معدنیات تلاش کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔
عموماً تیل کے ابتدائی کنویں اس وقت دریافت ہوتے تھے جب مقامی لوگ پانی کے لیے کنویں کھودتے تھے تو ان میں پانی کی جگہ تیل نکل آتا تھا یا پھر بعض جگہوں پر تیل چشموں کی صورت بہتا تھا۔
کھوڑ میں تیل کی دریافت بھی پانی کا کنواں کھودتے ہوئے ہوئی تھی۔ مقامی لوگ اس کو کالا پانی کہتے تھے جسے وہ آگ جلانے یا پھر لالٹینوں میں استعمال کرتے تھے۔

ضلع اٹک کی عوامی تاریخ کے ماہر ہادی صاحب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تکنیکی اعتبار سے برطانوی ہند میں تیل کا پہلا کنواں 1887 میں آسام میں کھودا گیا تھا لیکن اس سے بہت پہلے کی بات ہے جب پبلک ورکس کے ایک برطانوی انجینیئر مسٹر فینر نے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں تیل کی تلا ش کے لیے 1866 میں سات آزمائشی کنویں کھودے تھے جن میں سے تین میں صرف 15 فٹ کی گہرائی میں تیل نکل آیا تھا۔
1869 میں ان کی گہرائی میں 35 فٹ تک اضافہ کیا گیا تو تیل کی یومیہ پیداوار 25 اور پھر 50 گیلن تک چلی گئی۔
مسٹر فینر کی دیکھا دیکھی ایک اور انگریز مسٹر لے مین نے بھی راولپنڈی اور اٹک کے علاقوں میں تیل کی تلا ش کا کام شروع کر دیا تھا۔

ٹراؤٹ مچھلی کا تاجر جو اٹک آئل کمپنی کے بانی بنے۔
سکاٹش تاجر فرینک مچل جنوبی افریقہ میں سونے کی کانوں میں سرمایہ کاری کرتے تھے کہ ایک روز ان کی تمام دولت ڈوب گئی اور وہ پائی پائی کے محتاج ہو گئے۔ ان کے بھائی کشمیر میں قالینوں کی تجارت کرتے تھے فرینک مچل نے سوچا کہ کیوں نہ ہندوستان جا کر قسمت آزمائی کی جائے۔
ہادی صاحب بتاتے ہیں کہ فرینک مچل کشمیر آیا تو اسے خیال آیا کہ کشمیر کے پانی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش کے لیے بہت موزوں ہیں کیوں ناں یہاں ٹراؤٹ مچھلی کی فارمنگ کی جائے۔
وہ واپس برطانیہ گیا اور ٹراؤٹ مچھلی کا بیضہ لے کر کشمیر آ گیا۔ جلد ہی مچل کی کوششوں سے کشمیر کے پانیوں میں ٹراؤٹ کی فراوانی ہو گئی۔ کشمیر کا مہاراجہ مچل کے کام سے اتنا خوش ہوا کہ اسے کشمیر میں فشنگ کا اعزازی ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔
کشمیر کے ساتھ ساتھ اس نے پوٹھوہار میں زیتون کی کاشت کا بھی تجربہ کیا۔ اس مقصد کے لیے جب وہ پنڈی گھیب آیا تو مقامی افراد نے اسے تیل کی کنوؤں کے بارے میں بتایا۔
فرینک مچل نے تیل کی تصدیق کے لیے ایک ماہر جیالوجسٹ کی خدمات حاصل کیں جس کی جانب سے یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد وہ واپس برطانیہ گیا اور اپنے دوستوں سے درخواست کی کہ اسے تیل کی کمپنی بنانے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
25 ہزار پاؤنڈ کی ابتدائی رقم سے اس نے یکم دسمبر 1913 میں مانچسٹر میں اٹک آئل کمپنی کی بنیاد رکھی۔
1904 میں اٹک ضلع بنایا گیا تھا جس کا نام 1908 میں اٹک سے کیمبل پور کر دیا گیا مگر فرینک مچل نے اپنی کمپنی کا نام اٹک ہی رکھا۔
ابتدائی طور پر اس کمپنی نے پنڈی گھیب میں سات مربع میل کے علاقے کا لائسنس حاصل کیا تو کھوڑ کے مقام پر اسے کامیابی مل گئی۔
صرف دو سالوں کے اندر1915 تک اٹک آئل کمپنی کھوڑ میں تیل کے وسیع ذخائر دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
1918 میں کھوڑ کے قریب ڈھلیاں میں بھی تیل نکل آیا۔ یہ وہی فرینک مچلز ہیں جنہوں نے 1920 میں پنجاب میں مچلز فروٹ فارمز کمپنی کی بنیاد رکھی جس کے لیے پنجاب حکومت نے انہیں رینالہ خورد میں 720 ایکڑ زمین الاٹ کی تھی۔
فرینک مچل 1933 میں80 سال کی عمر میں بارہمولا میں انتقال کر گئے جن کی تدفین وہیں کی گئی۔

کھوڑ تیل کی تلاش کا مرکز کیسے بنا؟
اٹک آئل کمپنی کا نیوز لیٹر جو 1963 میں کمپنی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر نکالا گیا تھا اس میں کمپنی کی مفصل تاریخ بیان کی گئی ہے۔
1887 سے 1890 کے درمیان ٹاونسینڈ نامی بھائیوں نے بولان کی سب تحصیل ختن، میانوالی کے علاقوں کنڈل اور جبہ اور ضلع اٹک کے علاقے چراٹ میں تیل کی کنویں کھودے تھے جن میں سے ایک کی گہرائی 750 فٹ تک تھی۔
ختن کے کنویں سے نکلنے والا تیل کوئٹہ ریلوے سٹیشن میں کام آتا رہا جبہ اور چراٹ سے راولپنڈی گیس کمپنی کا تیل بھی 25 سال تک استعمال میں رہا لیکن پھر ٹاؤنسینڈ نامی بھائی اور ان کی کمپنی منظر سے غائب ہو گئے لیکن انہوں نے خطے میں تیل کی موجودگی ثابت کر دی تھی۔
ان ہی ایام میں جب آسام میں تیل نکلا تو پنجاب کے گورنر سر لوئس ڈبلیو ڈینی نے پنجاب میں بھی تیل کی تلاش پر توجہ مرکوز کی تو ان کی نظر برما میں تیل کھوجنے والی کمپنی سٹیل برادرز اینڈ کمپنی پر پڑی مگر بات آگے نہ بڑھ سکی جس کے بعد یہ کام مسٹر فرینک مچل کو سونپا گیا جنہوں نے کرنل میسی کے ساتھ مل کر اٹک آئل کمپنی کی بنیاد رکھی جس کو سٹیلز برادرز نے معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
ایک جیالوجسٹ مسٹر ای ایس پنفولڈ جو کمپنی کے ابتدائی بورڈ کے رکن تھے اور پھر 1930 سے 1943 تک کمپنی کے چیئرمین بھی رہے انہوں نے اٹک میں تیل کی تلاش کا کام کیا۔
اس دور میں یہاں کوئی سڑک نہیں تھی گھوڑوں اور اونٹوں پر ہی کمپنی کے اہلکار سفر کرتے تھے۔ کمپنی نے تیل کی تلاش کی تمام تر توجہ کھوڑ میں مرکوز کر دی۔ انڈو برما پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے پاس کنویں کھودنے کے صرف دو ڈرلزر تھے جو امریکہ میں مصروف تھے مگر کمپنی نے ان دونوں کو منگوا کر انہیں کھوڑ منتقل کر دیا کیونکہ یہاں کامیابی کے زیادہ امکانات تھے۔

22 جنوری 1915 کو کھدائی شروع کی گئی اور 223 فٹ کی گہرائی میں تیل نکل آیا جس میں سے یومیہ 5000 بیرل تیل کی پیداوار شروع ہو گئی۔
کھوڑ میں تیل کا یہ کنواں کامیابی اور ناکامی کی ایک ملی جلی داستان تھی۔ گو کہ یہ تھوڑے عرصے ہی چل کر بند ہو گیا مگر اس سے مزید کنویں کھودنے کی راہ ہموار ہو گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہاں پر کنووں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی اور بڑی بڑی کمپنیوں نے کھوڑ کا رخ کر لیا۔
برما آئل کمپنی اور وائٹ ہال پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی کھوڑ سے 30 میل دور تیل کی تلاش اور کھدائی کا کام شروع کر دیا۔

اٹک آئل کمپنی نے ڈھلیاں کے مقام پر تیل کا ایک اور کنواں کھودنا شروع کیا۔ 1929 میں کھوڑ میں موجود کنووں کی سالانہ پیداوار چار لاکھ 80 ہزار بیرل تک پہنچ گئی جو 1934 میں کم ہو کر 85 ہزار بیرل رہ گئی کمپنی نے مزید علاقوں میں تیل کی تلا ش کا کام کیا مگر خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔
کمپنی کو ڈھلیاں میں آئل کے کنویں میں 1937 میں عین اس روز کامیابی ملی جب بادشاہ جارج ششم کی تاج پوشی کی گئی تھی اس لیے اسے خوش قسمت تصور کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد پنجاب حکومت نے کمپنی کو تیل کی تلاش و کھدائی کے کام میں مالی مد دکی جس کی وجہ سے اٹک میں میال اور اچھڑی میں تیل کی کنویں کھودے گئے جو ناکام رہے حالانکہ میال میں کنویں نمبر دو میں قومی سطح پر گہرائی کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے 10ساڑھے ہزار فٹ تک کھدائی کی گئی۔

1944 میں بلکسر کے نزدیک جویا میر میں چھ ہزار 900 فٹ کی گہرائی پر تیل دریافت ہوا، جو معیار کے لحاظ سے پوٹھوہار میں پہلے دریافت شدہ تیل سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ یہ سیاہ اور انتہائی گاڑھا تھا جس میں آگ پکڑنے کا مادہ زیادہ تھا۔
زیادہ سردی میں یہ تیل جم جاتا تھاجس کی وجہ سے پمپنگ، نقل و حمل اور ریفائننگ کے نئے مسائل پیدا ہوگئے۔
اس کنویں سے تیل کی ابتدائی پیداواری شرح 10 ہزار بیرل یومیہ تھی اور یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ جب اس کی دریافت کی اطلاع برطانوی ڈرلر نے فیلڈ ایجنٹ کو دی جو برمی زبان جانتا تھا تو اس نے یہ کہہ کر رد کر دی کہ کہیں اس کی بھنک دشمن ملکوں کو نہ ہو جائے اور کہا کہ ڈرلر گنتی کرنا بھول گیا ہے!
اسی کنویں کےگاڑھے تیل کی وجہ سے وہ تار کول بنائی گئی سے جس سے قیام پاکستان کے بعد ہزاروں میل سڑکیں تعمیر ہوئیں۔
1960 میں بلکسر سے ڈھلیاں اور پھر راولپنڈی ریفائنری تک ایک دوسری پائپ لائن بچھائی گئی جو بھاری تیل کی ترسیل کر سکتی تھی۔

اٹک آئل ریفائنری ریجن میں قائم ہونے والی پہلی ریفائنری
اٹک آئل ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک، جو اٹک گروپ کے ساتھ گذشتہ 47 سال سے وابستہ ہیں انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ 1922 میں جب یہ ریفائنری قائم ہوئی تو اس وقت یہ اس پورے ریجن میں واحد ریفائنری تھی تب خلیجی ممالک میں کوئی ریفائنری قائم نہیں ہوئی تھی۔
پہلی جنگ عظیم جنگ کے خاتمے کے بعد اٹک آئل کمپنی نے راولپنڈی میں مورگاہ کے مقام پر 25 ہزار پاؤنڈ کے ابتدائی سرمائے سے ریفائنری لگانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی جلد ہی ا س نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی مزید رقم اکٹھی کی اور مارچ 1922 میں یہ ریفائنری قائم ہو گئی۔
اٹک آئل ریفائنری کو اس مقام تک پہنچانے میں میک کریتھ کا نام بھی نمایاں ہے جنہوں نے انڈو برما پیٹرولیم کے جانے کے بعد 1926 میں بطور جنرل منیجر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔
وہ 1961 میں اپنی وفات تک کمپنی کے ڈائریکٹر اور پھر چیئرمین بھی رہے۔ سول لائنز میں جہاں آج انکم ٹیکس کے دفاتر ہیں وہاں میک کریتھ کا بنگلہ تھا اوروہ روزانہ اپنے گھوڑے پر مورگاہ آتے تھے۔
میک کریتھ ہی راولپنڈی کلب کے پہلے غیر فوجی صدر تھے۔ مورگاہ ریفائنری جب بنی تھی تو ا س کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت 2500 بیرل یومیہ تھی ۔ جب تیل یہاں دریافت ہوا تو ا س وقت اس علاقے میں ڈیزل پیٹرول کی کوئی کھپت نہیں تھی صرف کیروسین آئل کی ڈیمانڈ تھی۔
اس زمانے میں جو اکا دکا ٹرک یا بس تھی وہ بھی کیرو سین پر چلتے تھے یہاں تک کہ پنکھے بھی کیرو سین پر چلتے تھے۔ جب کھوڑ سے تیل نکلا تو اس کو کیرو سین میں بدلنے کا طریقہ کار سادہ سا ہوتا ہے۔

1922 میں جب یہ ریفائنری بنی تو یہ پورے ریجن میں واحد ریفائنری تھی۔ ریفائنری کا پہلا یونٹ ہم نے میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔ بعد میں کئی بار ریفائنری کی توسیع ہوئی۔ کچھ یونٹ 1938 میں لگے، 1980 میں بڑی توسیع ہوئی پھر 2000 میں ہوئی اب یہ اپنی نوعیت کی جدید ترین ریفائنری ہے جو پاکستان کے پورے شمالی علاقے کے تیل کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

1979 میں اٹک آئل کمپنی کے اکثریتی شیئرز ایک عربی کاروباری خاندان نے خرید لیے۔ اٹک آئل کمپنی کے نیچے پھر کئی ذیلی کمپنیاں ہیں جن میں سے اٹک ریفائنری، پاکستان آئل فیلڈز، نیشنل ریفائنری، اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ، اٹک سیمنٹ، اٹک جنریشن لمیٹڈ وغیرہ شامل ہیں۔
کمپنی کا ہیڈ آفس انگلینڈ میں ہے مگر اس کی تمام تر انتظامیہ پاکستانی ہے۔ 1970 میں انگریز انتظامیہ کے جانے کے بعد ٹی اے ٹی لودھی ا س کے پہلے سربراہ بنائے گئے جو ملیحہ لودھی کے والد تھے۔
اس کمپنی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ملازمین کی چوتھی نسل کام کر رہی ہے اس لیے اس کمپنی کے ساتھ ملازمین کی خاص لگن ہے جو اسے باقی کمپنیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
اٹک آئل کمپنی میں کام کے تجربے کی وجہ سے یہاں کے ملازمین کو بڑے پیمانے پر مشرق وسطیٰ میں ملازمتیں ملیں جس سے نہ صرف ان لوگوں کا اپنا معیار زندگی بلند ہوا بلکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی ملا۔

ورثہ میوزیم جو پاکستان میں تیل کی تلاش کا گواہ ہے
عادل خٹک نے بتایا کہ کھوڑ میں 1915 میں کمپنی نے تیل کا جو پہلا کنواں کھودا تھا اس سے اب تیل نہیں نکلتا لیکن اسے قومی ورثے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
کھوڑ میں بھی کمپنی کا میوزیم قائم ہے جبکہ مورگاہ میں بھی ریفائنری سے منسلک بہت سے آلات کو ورثہ قرار دے کر انہیں محفوظ کر دیا گیا ہے جس میں کھوڑ میں 10 کلوواٹ کا لگایا گیا پاور جنریشن سسٹم بھی ہے جسے برطانیہ کے ایک گاؤں سے لا کر یہاں لگایا گیا تھا جسے جب کھوڑ شفٹ کیا جا رہا تھا تو راستہ کچا تھا اس لیے جس ٹرک میں اسے لایا جا رہا تھا وہ راستے میں الٹ گیا تھا۔
تیل سے موم بتیاں بنانے کی مشین بھی میوزیم میں موجود ہے۔ ریلوے لائن کے ذریعے چونکہ تیل کی ترسیل ہوتی تھی اس لیے راولپنڈی ریلوے سٹیشن کو ریفائنری سے لائن بچھا کر منسلک کیا گیا تھا۔
اُس مال گاڑی کا ایک حصہ بھی میوزیم میں موجود ہے۔ میوزیم میں 1922 میں لگائی جانے والی ریفائنری کو بھی مکمل طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے جبکہ کمپنی کی سرگرمیوں کی تصاویر بھی میوزیم میں آویزاں کی گئی ہیں۔

تحریر و تحقیق__
سجاد اظہر صاحب(انڈیپنڈنٹ اردو)

Address

Talagang
48168

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when فطرت پسند لوگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to فطرت پسند لوگ:

Share