KĥëţřäN AĩR Třãvël Aĝëŋcy

KĥëţřäN AĩR Třãvël Aĝëŋcy Khetran Travel Agency Apko Saudi Arabia & Dubai &All Arab Countries Ke TOURS & Confirm VISA's Offers karta hai. Hajj aur Umra services hasil karin......,

26/05/2021

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد!
ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں،
کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا...

انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے،

اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں....
سوچنے کی بات..!
ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟
یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے....
سبحان الله وَ بِحَمدہ
سبحان اللہ العظیم...

16/04/2021
26/03/2020

💞سرخ چوڑیاں👇
💞مکان کے اُوپر والی سٹوری بنوا رها هوں _مزدوری کا تمام کام ٹهیکے پر دیا _ ٹهیکیدار صاحب آگے ٹهیکہ دے کر چھ سو روپیہ فی هزار چهت پر اینٹیں چڑهوا رها تها _
مزدور آیا
💞فی پهیرا بیس اینٹیں اٹهاتا _ سیڑهی کے اُنیس سٹیپ چڑهتا اور اِس طرح اُس نے دو گهنٹے میں ایک هزار اینٹ چهت پر پہنچا دی _ تب تک بارش شروع هو گئ تو سلپ هونے کے خطرے سے مزدور نے کام روک دیا

💞 ٹهیکیدار سے چھ سو روپیہ لے کر جانے لگا تو میں نے کہا کہ کهانا کها کر جانا _ وه بولا کے سر جی , ساتھ هی چوک میں منگل بازار لگا هوا , گهر کے لیے سودا لے آؤں تو آ کر روٹی کهاتا هوں

واپس آیا تو اُس کے هاتھ میں بهرا هوا ایک شاپر تها _ میں نے پوچها کہ کیا میں دیکھ سکتا هوں کے تم نے کیا شاپنگ کی , تو تهوڑا هچکچا کر بولا کہ جی ضرور دیکھ لیں _ !
میں بہت پیار کے ساتھ شاپر میں سے ایک ایک آئٹم نکال کر دیکهنے لگ گیا ___ شاپر میں کیا تها _ ؟
پاؤ والا گهی کا پیکٹ , اتنی هی چینی _ چهوٹا پیک چائے کی پتی _ آدها کلو مٹر , چار پانچ آلو , تین عدد پیاز , چهوٹا پیکٹ نمک , تهوڑی سی سرخ مرچیں , ایک ٹکیا دیسی صابن , سگریٹ کی ڈبی _ پلاسٹک کا ایک چهوٹا سا گهوڑا , زیرو سائز کی چھ عدد سرخ چوڑیاں , دو گولیاں پینا ڈول اور ایک پیکٹ نسوار _
پوچها کہ گهر میں هانڈی روٹی کرنے کیلئے جلاؤ گے کیا _ ؟ تو بولا کہ جاتے هوئے پانچ کلو لکڑی اور دو کلو آٹا لے کر جاؤں گا _ همسائے میں هی لکڑی کا ٹال اور آٹا چکی هے _
پهر پوچها کہ اب بارش میں گهر کیسے جاؤ گے اور تمہارا گهر یہاں سے کتنا دور هے _ تو بولا کہ آٹھ کلو میٹر دور گهر هے میرا _ پیدل جاؤنگا اور یا کسی بائک والے سے لفٹ لے لوں گا
💞
آخری سوال کیا کہ پلاسٹک کا گهوڑا اور چوڑیاں کتنے کی ملیں اور اِنکا کیا کرو گے _ ؟ تو بولا کہ دونوں چیزیں پانچ پانچ روپے کی ملیں _ گهوڑا میرے ڈیڑھ سالہ شہزادے کے لئے اور چوڑیاں میری ایک ماه کی شہزادی کیلئے _ شہزادی کو سرخ چوڑیاں بہت سجیں گی _
شاپر میں اُس محنت کش کی پوری دنیا تهی..

24/03/2020

بلاؤں میں گھِرا انسان

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " ابن آدم اس حال میں پیدا کیا گیا ہے کہ اس کے پہلو میں (یعنی اس کے قریب) ننانوے مہلک بلائیں ہیں اگر وہ بلائیں اسے نہیں پہنچتیں تو بڑھاپے میں مبتلا ہوتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے" ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ (مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ جنازوں کا بیان ۔ حدیث 48) (سنن ترمذي،حدیث نمبر: 2150)

تشریح

مطلب یہ ہے کہ انسان جب عدم سے وجود میں آتا ہے تو اس کے چاروں طرف بلاؤں کا ایک جال سا پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ ایسی ایسی بلاؤں اور مصیبتوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے جن سے خلاصی نہیں ہوتی اور اگر اتفاقاً کوئی شخص ان بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات پائے رہتا ہے تو آخر میں بڑھاپے کے جال میں پھنس جاتا ہے اور بڑھاپا بھی ایسا جو " درد بے دوا " اور " بلائے بے انتہا " ہوتا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ دنیا مومن کے لئے ایک قید کانہ اور کافر کے لئے عیش کدہ ہے۔ لہٰذا مسلمان کو لازم آتا ہے کہ وہ دنیا کی ہر مصیبت و بلاء کے موقع پر صبر کے دامن کو ہاتھ سے پکڑے رہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے مقدر میں جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر راضی اور صابر رہیں کہ اخروی فلاح و سعادت کی یہی ضمانت ہے۔

ایک حدیث قدسی میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے" جو بندہ میری اتاری ہوئی مصیبت و بلاء پر صبر نہ کرے میری دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا نہ کرے اور میرے فیصلہ سے راضی نہ رہے تو وہ میرے علاوہ کوئی دوسرا رب ڈھونڈ لے"

سوچئے کہ ایسے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کتنی شدید ہے۔ جو صبر و شکر کی راہ پر گامزن نہ ہو اور اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ رہے۔

دعا (اللہم احفظنا منہ و وفقنا للصبر والشکر والرضاء۔)

پاکستان میں غیر معیاری تیل کے خلاف اقدامات کا فیصلہ,اسلام آباد: ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے ...
29/08/2019

پاکستان میں غیر معیاری تیل کے خلاف اقدامات کا فیصلہ

,
اسلام آباد: ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں غیر معیاری تیل کیخلاف اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر موسمیات زرتاج گل نے کہا کہ ائیر کوالٹی بہتر بنانے کے لیے بل وزارت میں پیش کریں تاکہ تمام متعلقہ حکام سے بات چیت کی جاسکے۔
اسد جونیجو کا کہنا تھا کہ ایک بل تیار کیا گیا ہے جس کے بعد درآمد کیے جانے والے پٹرول اور ڈیزل کی کوالٹی چیک کی جاسکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت پٹرولیم اس بات کی ذمہ دار ہوگی کہ ہر تین سال بعد معیار چیک کرے۔
انہوں نے کہا کہ یوروٹو(معیاری ڈیزل) آ رہا ہے یا نہیں لیکن ہم موجودہ تیل کی کوالٹی سے ہی کاربن کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ڈی جی ای پی اے فرزانہ الطاف کا کہنا تھا کہ پہلے بھی یہ کوشش کی گئی تھی لیکن وزارت پیٹرولیم نے تعاون نہیں کیا اور ہمیں بار بار میٹنگ کے لیے نیا وقت دے دیا جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرول میں سلفر کی مقدار بہت زیادہ آ رہی ہے جو انجن کے لیے نقصان دہ ہے اور جب ہم نے اقدامات کرنے کی کوشش کی تو فیول کمپنیز نے بہت شور کیا تھا اور زبان بھی بہت خراب استعمال کی۔
سینیٹر اسد جونیجو نے کہا کہ آپ ان سب کو بلائیں، ہم ان سے بات کریں، یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ جو باہر سے لا رہے ہیں وہی ہمیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیول کمپنیز ماحول کو کیا دے رہی ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلائیں ہم ان سے بات کریں گے۔

29/06/2019

ایک کوڑھی ، ایک نابینا اور ایک گنجے کا سچا واقعہ-

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ ایک کوڑھی، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لینے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ
تمہیں سب سے زیادہ کیا چیز پسند ہے؟
اس نے جواب دیا: اچھا رنگ اور اچھی چمڑی کیونکہ مجھ سے لوگ پرہیز کرتے ہیں۔
فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری دور ہو گئی اور اس کا رنگ بھی خوبصورت ہو گیا اور چمڑی بھی اچھی ہو گئی۔
فرشتے نے پوچھا: کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرو گے؟
اس نے کہا: اونٹ
چنانچہ اسے حاملہ اونٹنی دی گئی اور کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے گا۔
پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا
تمہیں کیا چیز پسند ہے؟
اس نے کہا: عمدہ بال اور موجودہ عیب میرا ختم ہو جائے کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے مجھ سے پرہیز کرتے ہیں۔
فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کا عیب جاتا رہا اور اس کے بجائے عمدہ بال آ گئے۔
فرشتے نے پوچھا: کس طرح کا مال پسند کرو گے؟
اس نے کہا: گائے
فرشتے نے اسے حاملہ گائے دے دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا۔
پھر اندھے کے پاس فرشتہ آیا اور کہا
تمہیں کیا چیز پسند ہے؟
اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آنکھوں کی روشنی دیدے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔
فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی اسے واپس دے دی۔
پھر پوچھا: کس طرح کا مال تم پسند کرو گے؟
اس نے کہا: بکریاں
فرشتے نے اسے حاملہ بکری دے دی۔
پھر تینوں جانوروں(اونٹنی،گائے اور بکری) کے بچے پیدا ہوئے ۔ یہاں تک کہ کوڑھی کے اونٹوں سے اس کی وادی بھر گئی ۔گنجے کی گائے بیل سے اس کی وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے اس کی وادی بھر گئی۔
پھر دوبارہ فرشتہ اپنی اسی پہلی شکل میں کوڑھی کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین و فقیر آدمی ہوں۔ سفر کا تمام سامان و اسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی سے حاجت پوری ہونے کی امید نہیں لیکن میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور مال عطا کیا ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں۔ جس سے سفر کو پورا کر سکوں۔
اس نے فرشتے سے کہا: میرے ذمہ حقوق اور بہت سے ہیں۔
فرشتہ نے کہا: غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں! کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے گھن کھاتے تھے۔ تم ایک فقیر اور قلاش تھے۔ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں عطا کیں؟
اس نے کہا: یہ ساری دولت تو میرے باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔
فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔
پھر فرشتہ گنجے کے پاس اپنی اسی پہلی صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی درخواست کی اور اس نے بھی وہی کوڑھی والا جواب دیا۔
فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔
اس کے بعد اپنی اسی پہلی صورت میں فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا
میں ایک مسکین آدمی ہوں سفر کے تمام سامان ختم ہو چکے ہیں اور سوا اللہ تعالیٰ کے کسی سے حاجت پوری ہونے کی توقع نہیں۔ میں تم سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں تمہاری بینائی واپس دی ہے ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔
اندھے نے جواب دیا
واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے بینائی عطا فرمائی اور واقعی میں فقیر و محتاج تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مالدار بنایا۔ تم جتنی بکریاں چاہو لے سکتے ہو اللہ کی قسم جب تم نے اللہ کا واسطہ دیا ہے تو جتنا بھی تمہارا جی چاہے لے جاؤ۔ میں تمہیں ہرگز نہیں روک سکتا۔
فرشتے نے کہا
تم اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ تو صرف امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔“
(صحیح البخاری:3464)

بے مثال  نبی ﷺ کے بے مثال موئے مبارک کا دلنشین تذکرہ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭حضور نبی اکرم صل...
22/02/2018

بے مثال نبی ﷺ کے بے مثال موئے مبارک کا دلنشین تذکرہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ انور پر مبارک بال نہایت حسین اور جاذب نظر تھے، جیسے ریشم کے سیاہ گچھے، نہ بالکل سیدھے اور نہ پوری طرح گھنگھریالے بلکہ نیم خمدار جیسے ہلالِ عید، اور ان میں بھی اِعتدال، توازُن اور تناسب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاہ زلفوں کی قسم کھاتے ہوئے اِرشاد فرمایا :

وَ اللَّيْلِ اِذَا سَجٰیO القرآن، الضحٰی، 93 : 2

’’ (اے حبیبِ مکرم!) قسم ہے سیاہ رات کی (طرح آپ کی زلفِ عنبریں کی) جب وہ (آپ کے رُخِ زیبا یا شانوں پر) چھا جائے۔‘‘

یہاں تشبیہ کے پیرائے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسوئے عنبریں کا ذکر قسم کھا کر کیا گیا جو دراصل محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کی قسم ہے۔ روایات میں مذکور ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کو حضور علیہ السلام سے اس قدر والہانہ محبت تھی کہ ان کی نگاہیں ہمہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کا طواف کرتی رہتیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خمدار زلفوں کے اسیر تھے اور اکثر اپنی محفلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفِ عنبریں کا تذکرہ والہانہ انداز سے کیا کرتے تھے۔
--------------------------------------------------------------------------
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے

کان شعرالنبي صلي الله عليه وآله وسلم رجلا، لا جعْدَ و لا سبط.

’’رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں نہ تو مکمل طور پر خمدار تھیں اور نہ بالکل سیدھی اکڑی ہوئی بلکہ درمیانی نوعیت کی تھیں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 5 : 2212، کتاب اللباس، رقم : 5566
2. مسلم، الصحيح، 4 : 1819، کتاب الفضائل، رقم : 2338
3. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 412
4. بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 220
--------------------------------------------------------------------------
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیسوئے عنبریں کی مختلف کیفیتوں کو اُن کی لمبائی کے پیمائش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بڑے اچھوتے اور دل نشیں انداز سے بیان کیا ہے۔ اگر زلفانِ مقدس چھوٹی ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں کی لوؤں کو چھونے لگتیں تو وہ پیار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’ذی لمۃ (چھوٹی زلفوں والا)‘‘ کہہ کر پکارتے، جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

ما رأيت من ذي لمة آحسن في حلة حمراء من رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم ، شعره يضرب منکبه.

’’میں نے کانوں کی لو سے نیچے لٹکتی زلفوں والا سرخ جبہ پہنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں دیکھا۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1818، کتاب الفضائل، رقم : 2337
2. بخاري، الصحيح، 5 : 2211، کتاب اللباس، رقم : 5561
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 219، ابواب اللباس، رقم : 1724
4. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 598، ابواب الفضائل، رقم : 3635
5. ابوداؤد، السنن، 4 : 81، کتاب الترجل، رقم : 4183
6. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 31، رقم : 4
7. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 300
8. بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 223
9. ابن حبان اصبهاني، اخلاق النبيا، 4 : 277، رقم : 4
--------------------------------------------------------------------------
ابو رمثہ تمیمی رضی اللہ عنہ اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، بعد میں اُنہوں نے اپنے ہم نشینوں سے ان حسین لمحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفِ عنبرین کا تذکرہ یوں کیا :

وله لمة بهما ردع من حناء.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زلفیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں کی لو سے نیچے تھیں جن کو مہندی سے رنگا گیا تھا۔‘‘

1. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 163
2. ابن حبان، الصحيح، 13 : 337، رقم : 5995
3. بيهقي، السنن الکبريٰ، 5 : 412، رقم : 9328
4. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 279، رقم : 716
5. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 438
--------------------------------------------------------------------------
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفِ سیاہ کے حسن و جمال کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں

له شعر يبلغ شحمة اليسري، رأيته في حلة حمرآء لم آر شيئًا قط أحسن منه.

’’آپ صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں کانوں کی لو تک نیچے لٹکتی رہتیں، میں نے سرخ جبہ میں حضور اسے بڑھ کر کوئی حسین نہیں دیکھا۔‘‘

بخاري، الصحيح، 3 : 1303، کتاب المناقب، رقم : 3358
--------------------------------------------------------------------------
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے :

و کان له شعر فوق الجُمّة و دون الوفرة.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں کانوں اور شانوں کے درمیان ہوا کرتی تھیں۔

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 233، ابواب اللباس، رقم : 1755
2. ابوداؤد، السنن، 4 : 82، کتاب الترجل، رقم : 4187

ابوداؤد کی عبارت میں فوق الوفرۃ و دون الجمۃ کے الفاظ ہیں۔
--------------------------------------------------------------------------
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معنبر زلفیں قدرے بڑھ جاتیں اور کانوں کی لوؤں سے تجاوز کرنے لگتیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’ذی وفرۃ (لٹکتی ہوئی زلفوں والا)‘‘ کہنے لگتے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلیہ مبارک کا حسین تذکرہ کرتے ہوئے آپ کی زلفِ مشکبار کا تذکرہ یوں کیا :

کان نبي اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ذو وفرة.

’’حضور نبي اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لٹکتی ہوئی زلفوں والے تھے۔‘‘

ابن عساکر، السيرة النبويه، 3 : 149
--------------------------------------------------------------------------
اگر شبانہ روز مصروفیات کے باعث بال مبارک نہ ترشوانے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں بڑھ کر مبارک شانوں کو چھونے لگتیں تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم فرطِ محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’ذی جمۃ (کاندھوں سے چھوتی ہوئی زلفوں والا)‘‘ کہہ کر پکارتے۔

حضرت براء بن عاذب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم مربوعاً بعيد ما بين المنکبين، وکانت جمته تضرب شحمة آذنيه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میانہ قد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کانوں کی لو کو چھوتی تھیں۔‘‘

1. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 48، رقم : 26
2. ابن قيم، زاد المعاد، 1 : 177
3. عسقلاني، فتح الباري، 6 : 572
--------------------------------------------------------------------------
حضرت براء رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے

ان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کان يضرب شعره منکبيه.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زلفیں کاندھوں کو چوم رہی ہوتی تھیں۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، 4 : 1819، کتاب الفضائل، رقم : 2338
2. بخاري، الصحيح، 3 : 1304، کتاب المناقب، رقم : 3358
3. ابو داؤد، السنن، 4 : 19، کتاب اللباس، رقم : 4072
4. نسائي، السنن، 8 : 134، کتاب الزينه، رقم : 5233
--------------------------------------------------------------------------
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سراپائے مبارک کا ذکر محبت بھرے انداز میں کمالِ وارفتگی کے ساتھ کرتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عنبر بار زلفوں کا ذکر کرتے ہوئے مولائے کائنات سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حسن الشعر.

’’رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موئے مبارک نہایت حسین و جمیل تھے۔‘‘

1. ابن عساکر، تهذيب تاريخ دمشق الکبير، 1 : 317
2. بيهقي، دلائل النبوه، 1 : 217
--------------------------------------------------------------------------
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

رجل الشعر إن انفرقت عقيقته‘ فرقها و إلا فلا يجاوز شعرة شحمة آذنيه إذا هو و فره.

’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مبارک خمیدہ تھے، اگر سر اقدس کے بالوں کی مانگ بسہولت نکل آتی تو نکال لیتے تھے ورنہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ اقدس کے بال مبارک جب لمبے ہوتے تھے تو کانوں کی لو سے ذرا نیچے ہوتے تھے۔‘‘

1. ترمذي، الشمائل المحمديه، 1 : 36، رقم : 8
2. جلي، السيرة الحلبيه، 3 : 435
3. ابن حبان بستي، الثقات، 2 : 145
4. طبراني، المعجم الکبير، 22 : 15، رقم : 414
--------------------------------------------------------------------------
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم شديد سواد الرأس واللحية.

’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک اور سرِ انور کے بال گہرے سیاہ رنگ کے تھے۔‘‘

1. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد، 2 : 17
2. ابن سعد، الطبقات الکبريٰ، 1 : 418
--------------------------------------------------------------------------
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرائشِ گیسو کے مبارک معمول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يسدل ناصيته سدل آهل الکتاب، ثم فرق بعد ذلک فرق العرب.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیشانی آقدس کے اوپر سامنے والے بال بغیر مانگ نکالے پیچھے ہٹا دیتے تھے جیسا کہ اہلِ کتاب کرتے ہیں، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح مانگ نکالتے جیسے اہلِ عرب نکالا کرتے۔‘‘

1. ابن حبان بستي، الثقات، 7 : 34، رقم : 8879
2. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 8 : 437، رقم : 4545

انہاں دے کن پکڑنڑ دی وجہ کیا ھے ؟؟؟؟
10/01/2018

انہاں دے کن پکڑنڑ دی وجہ کیا ھے ؟؟؟؟

24/11/2017

مکہ کا شہزادہ

جنگ ختم ہو چکی تھی مسلمان فتح سے ہمکنار ہو چکے تھے قیدیوں کو گرفتار کر کے ان کی مشکیں کسی جارہی تھیں کہ ان کا گزراپنےبھائی کے پاس سے ہوا جو قیدی بنا لیا گیا تھا۔ایک مسلمان انہیں باندھ رہا تھا اسےمخاطب کرکے فرمایادیکھواسےاچھی طرح باندھنا اس کی ماں بڑی مالدارعورت ہے اس کی رہائی کے بدلے میں اچھی خاصی دولت ملے گی۔ جب بھائی نے سنا تو کہنے لگا تم کیسے بھائی ہو جو ایسی باتیں کر رہے ہو فرمایا میرے بھائی تم نہیں بلکہ وہ ہے جو تمہیں باندھ رہا ہے۔

اپنے بھائی سےاس انداز میں بات کرنے والی یہ عظیم شخصیت کون ہیں آئیے ان سے ملاقات کرتے ہیں۔

مکے میں کوئی شخص ان سے زیادہ حسین و خوش پوشاک اور نازو سے نعمت سے نہیں پلا تھا۔ ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے اپنے مال ودولت کے بل بوتے پر اپنے جگر گوشے کو بہت ناز و نعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے امراء کے زیر استعمال حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امراء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا۔ وہ جس گلی سے گزرتے وہاں سے اٹھنے والی خوشبو اس بات کی گواہی دیتی کہ مصعب یہاں سے گزر گیا ہے، جو کپڑا ایک بار پہن لیتے دوبارہ پہننے کی نوبت نہ آتی کہ ان کے ہاں نت نئے کپڑوں کی کوئی کمی نہ تھی۔

اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں اتنی نعمتوں سے نوازا تھا وہاں ان کے دل کو بھی نہایت صاف و شفاف بنایا تھا جس پر توحید کا ایک عکس پڑنے کی دیر تھی اور پھر توحید کا جھنڈا اس انداز میں تھاما کہ اس نے انہیں ہر چیز سے بے نیاز کر دیا اور وہ زندگی کے حقیقی مقصد کو جان کر اس کے حصول میں لگ گئے اور اب حال یہ تھا کہ نرم و نازک لباس میں ان کے لئے کوئی جاذبیت نہ رہی۔ انواع و اقسام کے کھانے ان کی نظروں میں ہیچ ہو گئے، نشاط افزا عطریات کا شوق ختم ہو گیا اور دنیاوی عیش وعشرت سے بے نیاز ہو گئے۔ اب ان کے سامنےصرف ایک ہی مقصد تھا۔ یہ وہ مقصد تھا جسے جلوۂ توحید نے ان کے دل میں روشن کیا اور تمام فانی ساز و سامان سے بے پرواکر دیا تھا۔

جب ان کے مشرف بہ اسلام ہونے کی خبر ان کی والدہ اور ان کے اہلِ خاندان کو ہوئی۔ توپھر کیا تھا ماں اور خاندان والوں کی ساری محبت نفرت میں بدل گئی، سارے ناز و نعم ختم ہو گئے اور ’’مجرم توحید‘‘ کو مصائب و آلام کے حوالے کر دیا گیا۔ اہل خاندان کے ظلم وستم سے تنگ آکر جناب رسالت مآب ﷺ کےحکم پر حبشہ کی طرف ہجرت کی، ہجرت کے مصائب نے ان کی ظاہری حالت میں نمایاں فرق پیدا کر دیا تھا۔ اب نہ وہ رنگ باقی رہا تھا اور نہ وہ روپ چہرے پر دکھائی دیتا تھا، حبشہ میں کچھ ہی دنوں بعد اہلِ مکہ کی اسلام قبول کرنے کی افواہ سن کر وطن کو واپس لوٹ آئے۔

اسی اثنا میں آفتابِ اسلام کی شعاعیں مکہ سے نکل کریثرب کی وادی میں پہنچ چکی تھیں اور وہاں کا ایک معزز طبقہ دائرہِ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے دربارِ نبوت میں درخواست بھیجی کہ ہماری تعلیم و تلقین پر کسی کو مامور فرمایا جائے۔ سرکارِ دوعالم ﷺ نے اس درخواست کے جواب میں آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتخاب فرمایا اور ضروری ہدایات دے کر انہیں یثرب کی طرف روانہ کر دیا،جہاں انہوں نےتعلیمِ قرآن اور اشاعتِ اسلام کے سلسلے میں جو بیش بہا خدمت انجام دیں اور جس حسن و خوبی کے ساتھ وہاں کی فضاء کو اسلام کے لئے ہموار کیا وہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اسی دعوت وتحریک اور محنت کے نتیجےمیں نبی کریمﷺ نےمکہ سے ہجرت کر کے یثرب کو اپنا مسکن بنایا جس کی بناء پریثرب کو مدینۃ النبی ﷺ کا بلند مقام عطا ہوا۔

2 ہجری کو بدر کا میدان کارزارگرم ہوا تو میدانِ فصاحت کی طرح یہاں بھی آپ اس شان سے نکلے کہ مہاجرین کی جماعت کا سب سے بڑا پرچم ان کے ہاتھ میں تھا، ان کے بھائی کی گرفتاری کا معاملہ اسی غزوۂ بدر میں پیش آیا تھا۔

بدر کے بعد احد کے میدان میں جب داد شجاعت دینے کی باری آئی تو ایک بار پھرعلم جہاد آپ ہی کے ہاتھ میں تھا۔اور اس علم کو اس انداز میں سربلند رکھا کہ جب مشرکین کے ایک شہسوار ابن قمیۂ نےتلوار کے وار سےآپ کا داہنا ہاتھ شہید کر دیا تو فوراً بائیں ہاتھ میں علم کو پکڑ لیا۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی۔
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ۔۔۔ (آل عمران) ۔

اور پھر جب بایاں ہاتھ کٹ گیا تو دونوں بازوؤں کا حلقہ بنا کر پرچم کو تھام لیا اور اسے سرنگوں نہ ہونے دیا اور جب دشمن کے نیزے کے وار سے آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جامِ شہادت نوش کیا تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھائی ابو الدومؓ بن عمیر آگے بڑھے اور علم کو سنبھالا دے کر پہلے کی طرح بلند رکھا اور آخر وقت تک شجاعانہ مدافعت کرتے رہے۔

مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ قبولِ اسلام سے قبل جس گلی سے گزرتے وہاں سے اٹھنے والی خوشبو اس بات کی گواہی دیتی کہ مصعب یہاں سے گزر گیا ہے، جو کپڑا ایک بار پہن لیتے دوبارہ پہننے کی نوبت نہ آتی کہ ان کے ہاں نت نئے کپڑوں کی کوئی کمی نہ تھی،وہی مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالٰی عنہ آج اس حال میں اپنے رب کے حضور حاضر ہو رہے تھے کہ ان کے کفن کیلئے صرف ایک چادر میسر تھی۔ سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے، پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر ننگا ہو جاتا بالآخر اس حال میں دفن ہوئے کہ سر ڈھانپ دیا گیا اور پاؤں پر گھاس پھونس ڈال دی گئی۔

آنحضرت ﷺ حضرت مصعبؓ کی لاش کے قریب تشریف لائےاور یہ آیت تلاوت فرمائی:۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ
(اہل ایمان میں سے چند آدمی ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے جو عہد کیا تھا اس کو سچا کر دکھایا)

پھر لاش سے مخاطب ہو کر فرمایا ’’میں نے تم کو مکہ میں دیکھا تھا جہاں تمہارے جیسا حسین و خوش پوشاک کوئی نہ تھا۔ لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے۔ بے شک اللہ کا رسولﷺگواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں حاضر رہو گے۔‘‘

رضی اللہ عنھم ورضو عنہ

اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔۔۔​

My son
10/09/2015

My son

Address

Vehoa Town, Punjab
Vehoa Town

Telephone

03456031389

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KĥëţřäN AĩR Třãvël Aĝëŋcy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to KĥëţřäN AĩR Třãvël Aĝëŋcy:

Share