29/01/2026
اکثر ہمارے دانشور دوست لسانی بنیادوں پر بحث کرتے ہوئے لہجہ ایکسنٹ (Accent) اور ڈائیلیکٹ بولی (Dialect) کو الگ زبانیں سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں حالانکہ لسانیات کے اصولوں کے مطابق یہ ایک ہی زبان کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔
اصل میں ہمارے دوست ایکسنٹ کو ڈائیلیکٹ اور ڈائیلیکٹ کو الگ زبان سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔
ایکسنٹ کا تعلق صرف صوتیاتی نظام یعنی آواز کے تلفظ سے ہوتا ہے جیسے ایک ہی لفظ "پانی اور پاݨی" کو شہر اور گاؤں کا رہنے والا الگ لہجے سے بولتا ہے، لیکن ڈائیلیکٹ میں الفاظ کا ذخیرہ اور گرامر بھی تھوڑی بدل جاتی ہے، مگر اس کا مطلب ہرگز الگ زبان نہیں ہوتا۔
اگر ہم عالمی زبانوں کو دیکھیں تو انگریزی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں برٹش، امریکن اور سکاٹش ڈائیلیکٹس میں "Mobile" اور "Cell" جیسے لفظی فرق اور گرامر کے اختلاف کے باوجود وہ الگ زبانیں نہیں کہلاتی ہیں۔
اسی طرح عربی میں مراکشی اور حجازی عربی میں اتنا بڑا فرق ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ زیادہ دور کیوں جاتے ہیں، پشتو اور بلوچی کو ہی دیکھ لیں؛ پشتو کے قندھاری اور یوسف زئی لہجوں میں یا بلوچی کے مکرانی اور سلیمانی لہجوں میں اتنا فرق ہے کہ بعض علاقوں کے لہجے دوسرے علاقوں کے لوگوں کو بڑی مشکل سے سمجھ آتے ہیں یا کبھی بالکل بھی سمجھ نہیں آتے، مگر پھر بھی وہ الگ زبانیں نہیں بلکہ ایک ہی زبان کے ڈائیلیکٹس مانے جاتے ہیں۔
ہمارے مقامی تناظر میں ماجھی، لہندا (سرائیکی،جٹکی، ہندکو) اور پہاڑی (پوٹھوہاری،ڈوگری) اصل میں ایک "ڈائیلیکٹ کنٹینیوم" ہیں، جہاں گاؤں بہ گاؤں بولی آہستہ آہستہ اپنا چہرہ بدلتی ہے پر بنیاد نہیں چھوڑتی۔
لسانی سچائی یہ ہے کہ "میرا"، "میڈا" اور "مینڈا" کی جڑ ایک ہی ہے اور "کرساں" یا "کراں گا" جیسے افعال ایک ہی قدیم پنجابی ڈھانچے سے نکلے ہیں۔
اگر دو مختلف لہجے بولنے والے لوگ ایک دوسرے کی بات 90 فیصد تک سمجھ لیتے ہیں، تو لسانیات کی رو سے وہ "Mutual Intelligibility" کے اصول پر ایک ہی زبان مانے جاتے ہیں۔
انہیں الگ زبانیں کہنا سیاسی یا انتظامی تقسیم تو ہو سکتی ہے مگر علمی اور سائنسی نہیں، کیونکہ اگر ہم صرف لہجے یا چند الفاظ کے فرق کی بنا پر زبانیں بانٹنے لگ گئے تو دنیا کی کوئی بھی بڑی زبان اکائی نہیں رہ سکے گی۔
اصل بات تو یہ ہے کہ پنجابی ایک گلدستہ ہے، اور ہندکو، پوٹھوہاری، جٹکی، ماجھی اور سرائیکی اس گلدستے کے الگ الگ میٹھے اور خوبصورت پھول ہیں جو ایک ہی ٹہنی سے جڑے ہوئے ہیں۔