23/10/2026
باہر ملک سڈی یا نوکری کے لیے جانے سے پہلے آپ کو اپنے تمام ڈاکومنٹس کی متعلقہ اداروں سے اٹیسٹیشن کروانی ضروری ہوتی ہے۔ یونیورسٹیاں اور ایمبیسیز آپ کے پاکستانی ڈاکومنٹس تب ہی Accept کرتی ہیں جب وہ بورڈ، IBCC، HEC اور MOFA سے Verified ہوں۔ ورنہ آپ کا ایڈمیشن رک سکتا ہے اور ویزا اپلیکیشن ریجیکٹ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ سارا کام آپ کسی ایجنٹ کے بغیر خود کر سکتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں میں ہر مرحلہ اسی ترتیب سے سمجھاؤں گا جس سے اپ یہ پراسیس اسانی کے ساتھ کرسکے۔
ترتیب یہ ہے: میٹرک اور انٹر کے ڈاکومنٹس پہلے بورڈ، پھر IBCC، اور آخر میں MOFA۔ یونیورسٹی کی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ پہلے HEC اور پھر MOFA۔ کچھ ڈاکومنٹس جیسے کہ برتھ سرٹیفیکیٹ پہلے NADRA یا یونین کونسل، اور پھر MOFA۔ اور کچھ ملکوں کے لیے ایمبیسی سے legalisation یا اپکو MOFA سے Apposotile کرنا ہوگا۔
--------------------Mr. ☕ ----------------☕ مسٹر------------
سب سے پہلے آپ کو اپنے سارے اصل ڈاکومنٹس ایک فائل میں اکٹھے کرنے ہوں گے: میٹرک کی سرٹیفیکیٹ اور ٹرانسکرپٹ (DMC)، انٹرمیڈیٹ (FSC) کی سرٹیفیکیٹ اور ٹرانسکرپٹ، اور اپنا شناختی کارڈ۔ ہر ڈاکومنٹ کی کم از کم دو دو صاف فوٹو کاپیاں بنوا لیں۔
اس کے بعد ہر ڈاکومنٹ کو غور سے چیک کریں کہ آپ کا نام، والد کا نام اور تاریخ پیدائش بالکل شناختی کارڈ کے مطابق ہے یا نہیں۔ یہ قدم بہت اہم ہے، کیونکہ اگر کسی ڈاکومنٹ میں ایک حرف کا بھی فرق ہو، تو آگے IBCC اور HEC میں آپ کی درخواست رک جائے گی۔ اگر کوئی غلطی ہے، تو اٹیسٹیشن شروع کرنے سے پہلے بورڈ سے اسے درست کروائیں۔
پھر اپنے متعلقہ بورڈ کی ویب سائٹ کھولیں اور تین چیزیں چیک کریں: پہلی یہ کہ آپ کا بورڈ ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے یا نہیں، یعنی کیا وہ IBCC کے ساتھ آن لائن جڑا ہوا ہے۔ دوسری یہ کہ ویریفکیشن کی تازہ فیس کیا ہے۔ اور تیسری یہ کہ فیس کس بینک میں جمع ہوتی ہے (مثلاً ملاکنڈ بورڈ میں Allied Bank موجود ہے)۔ ہر بورڈ کی فیس الگ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر BISE لاہور کی فیس 1,100 روپے فی سرٹیفیکیٹ ہے، اور عام طور پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سرٹیفیکیٹ اور ٹرانسکرپٹ کے لیے 2,000 سے 4,500 روپے تک فیس لگتی ہے۔ کچھ بورڈز ارجنٹ ویریفکیشن کے لیے زیادہ فیس بھی لیتے ہیں۔
اب بینک جا کر فیس جمع کروائیں اور ڈپازٹ سلپ سنبھال کر رکھیں۔ کچھ بورڈز اب آن لائن پیمنٹ بھی لیتے ہیں، تو یہ بھی ویب سائٹ پر دیکھ لیں۔
-------
اگر آپ کا بورڈ ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے، تو فیس جمع کرنے کے بعد بورڈ آپ کی ویریفکیشن خود بخود IBCC کے پورٹل پر بھیج دے گا۔ اس صورت میں آپ کو بورڈ سے کوئی لفافہ لینے یا اسے IBCC لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن IBCC میں اپلیکیشن دینے سے پہلے یہ ضرور چیک کر لیں کہ آپ کی ویریفکیشن IBCC کے پورٹل پر نظر آ رہی ہے۔ اگر کچھ دن بعد بھی نظر نہیں آ رہی، تو IBCC میں درخواست نہ دیں، پہلے بورڈ سے رابطہ کریں۔
لیکن اگر آپ کا بورڈ ڈیجیٹلائز نہیں ہوا ہے، تو آپ کو روایتی طریقہ اپنانا ہوگا۔ روایتی طریقہ یہ ہیں کہ فیس جمع کرنے کے بعد آپ کو بورڈ کی متعلقہ ونڈو (مثلاً ملاکنڈ بورڈ میں یہ ونڈو 2 پر ہوتی ہے) پر اپنی ڈاکومنٹس جمع کرانی ہوں گی: میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سرٹیفیکیٹ اور ٹرانسکرپٹ کی فوٹو کاپیاں، بینک کی ڈپازٹ سلپ، شناختی کارڈ کی کاپی، اور فیس کی Slip۔ یاد رکھیں کہ اصل ڈاکومنٹس بورڈ میں جمع نہیں کرانی ہوتیں، صرف فوٹو کاپیاں جمع کروانی ہوتی ہیں۔ البتہ اصل ڈاکومنٹس ساتھ ضرور رکھیں، کیونکہ کبھی کبھی عملہ دیکھنے کے لیے مانگ لیتا ہے۔
بورڈ کا عملہ آپ سے کہے گا کہ آپ ایک گھنٹے بعد واپس آئیں۔ اس دوران آپ کی ویریفکیشن تیار ہو جائے گی، اور آپ کو بورڈ سے ایک سیل بند لفافہ ملے گا جس میں آپ کی ڈاکومنٹس کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ لفافہ آپ نے IBCC کو دینا ہے۔ آپ کو یہ لفافہ کھولنا نہیں ہے، بلکہ مکمل طور پر بند حالت میں IBCC لے جانا ہے، کیونکہ کھلا ہوا لفافہ IBCC قبول نہیں کرتا۔ یاد رکھیں لفافہ اپکو تب ملتا ہیں جب بورڈ Digitalize نہ ہوا ہو۔ اگر ہو تو اس میں اپکو کچھ نہیں دیا جاتا بس اپکو بتا دیا جاتا ہیں کہ اپکی معلومات ہم نے IBCC کو بھیج دی ہی۔۔
میرے علم کے مطابق تقریباً تمام بورڈ ڈیجٹلیز ہوچکے ہیں بس میں نے احتیاط کے طور پر روایتی طریقہ لکھا۔
جب آپ بورڈ کے دفتر جائیں تو کوشش کریں کہ صبح جلدی پہنچیں تاکہ آپ کا کام جلدی ہو سکے اور لائن میں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ جانے سے پہلے اپنی تمام فوٹو کاپیاں اچھی طرح چیک کر لیں تاکہ کوئی کمی نہ ہو اور دوبارہ چکر نہ لگانا پڑے۔
--------------------Mr. ☕ -----------------------
جب بورڈ سے آپ کی ویریفکیشن ہو جائے، تو اگلا مرحلہ IBCC (Inter Board Committee of Chairmen) ہے۔ اب IBCC کی اپلیکشن مکمل طور پر آن لائن ہوتی ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے۔
سب سے پہلے attest .ibcc .edu .pk پر جائیں اور اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ اپنی ای میل دیں اور اسے ویریفائی کریں، کیونکہ آگے کی ساری Updates اسی ای میل پر آئیں گی۔
اس کے بعد اپنی معلومات بالکل شناختی کارڈ کے مطابق بھریں، اور پھر اپنے سرٹیفیکیٹس کی تفصیل درج کریں: کون سا بورڈ، کون سا سال، رول نمبر، اور کون سے ڈاکومنٹس اٹیسٹ کروانے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ بھی منتخب کرنا ہوگا کہ اصل ڈاکومنٹس اٹیسٹ کروانے ہیں یا فوٹو کاپیاں بھی۔ میرا مشورہ ہے کہ اصل کے ساتھ ایک ایک فوٹو کاپی بھی اٹیسٹ کروا لیں، کیونکہ بہت سی یونیورسٹیاں اور ایمبیسیز اٹیسٹ شدہ کاپی اپنے پاس رکھ لیتی ہیں۔
پھر فیس ادا کریں۔ IBCC کی فیس اب اصل ڈاکومنٹ کے لیے 1,200 روپے اور فوٹو کاپی کے لیے 600 روپے فی ڈاکومنٹ ہے۔ یعنی میٹرک اور انٹر کی سرٹیفیکیٹ اور ٹرانسکرپٹ، چاروں اصل ڈاکومنٹس کے لیے 4,800 روپے، اور ساتھ ایک ایک کاپی کروائیں تو 2,400 روپے مزید۔ فیس آپ 1Bill، Easypaisa، JazzCash یا UBL چالان کے ذریعے آن لائن جمع کروا سکتے ہیں۔ ادائیگی کے بعد پورٹل پر اس کی تصدیق ضرور دیکھ لیں۔
فیس کی ادائیگی کے بعد آپ کو تین میں سے ایک طریقہ منتخب کرنا ہوگا۔
پہلا طریقہ Appointment ہے۔ پورٹل سے اپنے قریب کے IBCC دفتر کی تاریخ اور وقت منتخب کریں اور اپوائنٹمنٹ لیٹر پرنٹ کر لیں۔ اپوائنٹمنٹ والے دن صبح اپنا اپوائنٹمنٹ لیٹر، پیمنٹ کی رسید، شناختی کارڈ اور اصل ڈاکومنٹس (اور اگر بورڈ کا لفافہ ہے تو وہ بھی) لے کر IBCC دفتر جائیں۔ وہاں ڈاکومنٹس جمع کرائیں، اور IBCC آپ کو چند گھنٹے بعد واپس آنے کو کہے گا۔ عموماً آپ اسی دن تصدیق شدہ ڈاکومنٹس واپس لے آتے ہیں۔
دوسرا طریقہ Courier ہے۔ اگر آپ کا شہر IBCC دفتر سے دور ہے، تو یہ راستہ منتخب کریں اور اپنی ڈاکومنٹس IBCC کی بتائی گئی ہدایات کے مطابق کورئیر کر دیں۔ ڈاکومنٹس تقریباً 10 سے 15 ورکنگ دنوں میں واپس آتی ہیں، اور واپسی کی کورئیر فیس 300 روپے ہے۔ اس میں وقت زیادہ لگتا ہے، اس لیے اگر ڈیڈ لائن قریب ہو تو یہ طریقہ نہ چنیں۔
تیسرا طریقہ Express Service ہے، جو ان لوگوں کیلئے ہیں جن کو سب چیزیں شڑق پڑق میں چاہیے 😃۔ یہ IBCC اسلام آباد لاہور میں شام کے وقت دستیاب ہے (سردیوں میں 5 سے 9 بجے، گرمیوں میں 6 سے 11 بجے)، اور اس میں تقریباً ایک گھنٹے میں کام ہو جاتا ہے۔ اس کی فیس زیادہ ہے، یعنی اصل ڈاکومنٹ کے 3,000 اور فوٹو کاپی کے 1,500 روپے۔ یہ سہولت صرف اٹیسٹیشن کے لیے ہے، equivalence کے لیے نہیں، اور اسے بھی پورٹل پر اپلیکیشن کے دوران ہی منتخب کرنا ہوتا ہے۔
۔IBCC کی تصدیق شدہ ڈاکومنٹس پر اب QR کوڈ ہوتا ہے، جسے کوئی بھی یونیورسٹی یا ایمبیسی آن لائن مفت ویریفائی کر سکتی ہے۔ اور اگر آپ نے O-Level یا A-Level کیا ہے، تو آپ کو IBCC سے equivalence certificate الگ سے بنوانا ہوگا، جو اٹیسٹیشن سے پہلے یا ساتھ کروانا بہتر ہے۔
--------------------مسٹر ☕ --------------------
۔HEC میں ڈاکومنٹس کی تصدیق کا طریقہ اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ پہلے HEC میں appointment، “Urgent Walk-in Mode” اور Courier Service Mode ہوتے تھے، اور آپ کو ذاتی طور پر دفتر جانا پڑتا تھا یا اصل ڈاکومنٹس کورئیر کرنی پڑتی تھیں۔ اب 11 مئی 2026 سے HEC نے نیا e-Attestation سسٹم متعارف کرایا ہے، جو مکمل طور پر آن لائن اور paperless ہے۔ نہ HEC کے دفتر جانا ہے، نہ اصل ڈاکومنٹس بھیجنی ہیں، اور آپ دن رات کسی بھی وقت اپلیکیشن دے سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے۔
👈سب سے پہلے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ویب سائٹ https ://eservices .hec .gov .pk پر جا کر اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔ اپنا شناختی کارڈ نمبر، ای میل اور موبائل نمبر دیں، اور یاد رکھیں کہ اکاؤنٹ ہمیشہ اپنی ای میل اور اپنے نمبر سے بنائیں، کسی ایجنٹ یا دکان والے کے نمبر سے نہیں۔
👈اس کے بعد اپنی پروفائل مکمل کریں:۔ یہ سب بالکل اپنے شناختی کارڈ اور ڈاکومنٹس کے مطابق لکھیں، کیونکہ HEC یہ معلومات NADRA سے ملاتا ہے، اور ذرا سا فرق بھی اپلیکیشن واپس کروا سکتا ہے۔
👈پھر اپنا Educational Background درج کریں، میٹرک سے لے کر اپنی آخری ڈگری تک: ادارے کا نام، ڈگری کا نام، سال، اور رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر۔
👈اس کے بعد وہ ڈاکومنٹس select کریں جن کی attestation چاہیے: degree، transcript، provisional certificate یا HEC equivalence letter۔
اب اپنے شناختی کارڈ (آگے اور پیچھے) اور اپنی ڈگری اور ٹرانسکرپٹ کی صاف اور رنگین scanned copies upload کریں۔ اب اوریجنل ڈاکومنٹس اپکو HEC میں جمع کرانے کی ضرورت نہیں، لیکن scan کی کوالٹی بہت اہم ہے۔ دھندلی، ٹیڑھی یا کٹی ہوئی scan کی وجہ سے اپلیکیشن واپس آ سکتی ہے۔ موبائل سے تصویر کے بجائے scanner استعمال کریں یا کسی اچھی scanning ایپ سے صاف کاپی بنائیں۔
پھر fee ادا کریں۔ HEC کی فیس اب 3,000 روپے فی document ہے، اور یہ فی صفحہ نہیں بلکہ فی document ہے۔ یعنی ٹرانسکرپٹ کے جتنے بھی صفحے ہوں، فیس ایک ہی رہے گی، اور ڈگری اور ٹرانسکرپٹ ملا کر 6,000 روپے بنیں گے۔ portal خود آپ کے منتخب documents کے حساب سے ٹوٹل بنا دے گا اور آپ کو ایک consumer number دے گا، جس سے آپ 1-Link (1Bill) کے ذریعے کسی بھی بینک ایپ، JazzCash یا Easypaisa سے fee pay کر سکتے ہیں۔
ادائیگی کے بعد HEC آپ کی معلومات NADRA اور آپ کی یونیورسٹی سے verify کرے گا، اور پھر final review ہوگا۔ اس دوران اپنا HEC اکاؤنٹ، SMS اور email باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں، کیونکہ کبھی کبھی HEC کوئی Explanation یا اضافی document مانگ لیتا ہے، اور جلدی جواب نہ دینے سے کام رک جاتا ہے۔
منظوری کے بعد HEC آپ کو SMS اور email کے ذریعے آگاہ کرے گا، اور آپ اپنے اکاؤنٹ سے e-Attestation Certificate download کر سکیں گے۔ یہ سرٹیفکیٹ یونیورسٹیاں، کمپنیاں اور ایمبیسیز آن لائن verify کر سکتی ہیں۔ اسے محفوظ جگہ save کریں اور اس کے پرنٹ بھی نکال لیں۔
وقت کتنا لگے گا، یہ زیادہ تر آپ کی یونیورسٹی پر منحصر ہے، کیونکہ HEC آپ کی ڈگری کی تصدیق یونیورسٹی سے کرواتا ہے۔ کچھ یونیورسٹیاں جلدی جواب دیتی ہیں اور کچھ دیر لگاتی ہیں۔ HEC نے یونیورسٹیوں کے لیے جلدی ویریفکیشن پر incentives کا اعلان بھی کیا ہے۔ اگر درخواست بہت دیر سے رکی ہو، تو اپنی یونیورسٹی کے متعلقہ دفتر (عموماً examination یا registrar آفس) سے بھی رابطہ کریں۔
اگر آپ کی پرانے “By Courier” یا “Walk-in/Urgent” سسٹم والی کوئی درخواست بغیر فیس کے پڑی تھی، تو وہ خود بخود cancel ہو چکی ہے، اور آپ کو نئے سسٹم میں دوبارہ درخواست دینی ہوگی۔ ایجنٹوں کے ذریعے یہ کام کروانا HEC کی پالیسی کے خلاف ہے، اس لیے اپنا اکاؤنٹ اور پاسورڈ کسی کو نہ دیں۔
--------------------Mr. ☕ ----------------☕ مسٹر------------
اگر آپ کو ڈاکومنٹس بھی ہو ، جیسے birth certificate، Family Registration Certificate (FRC) یا marriage certificate، تو ان کی تیاری بھی MOFA جانے سے پہلے کر لیں۔ سب سے پہلے انہیں NADRA یا Union Council سے computerized بنوائیں، کیونکہ ہاتھ سے لکھے پرانے سرٹیفکیٹ اکثر قبول نہیں ہوتے۔ پھر چیک کریں کہ ان میں بھی نام اور تاریخیں آپ کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سے ملتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی تعلیمی ڈاکومنٹس کے ساتھ MOFA سے attest ہوں گی۔
--------------------مسٹر ☕ ----------------Mr. ☕------------
جب آپ کی تمام ڈاکومنٹس کی verification مکمل ہو جائے، تب آخری مرحلہ Ministry of Foreign Affairs (MOFA) کی attestation ہے۔ MOFA میں اب پہلے کی طرح سیدھا لائن میں لگ کر ٹوکن لینے والا طریقہ نہیں رہا۔ اب سب کچھ آن لائن اپلیکیشن اور appointment سے ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سی سروس چاہیے، کیونکہ MOFA اب دو طرح کی سروس دیتا ہے: Apostille اور General Attestation۔
۔Apostille اُن ملکوں کے لیے ہے جو Hague Apostille Convention کے رکن ہیں۔ اس میں MOFA آپ کے document پر ایک خاص سرٹیفکیٹ لگاتا ہے، جس کے بعد عموماً اس ملک کی ایمبیسی سے الگ تصدیق کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن ایک بات بہت کم لوگ جانتے ہیں: جرمنی، آسٹریا، نیدرلینڈز، فن لینڈ، یونان، پولینڈ اور چیک ریپبلک جیسے ملکوں نے پاکستان کے Apostille پر اعتراض کیا ہوا ہے، اور کئی خلیجی ممالک اس کنونشن کے رکن ہی نہیں۔ ان ملکوں کے لیے General Attestation کروانی ہوتی ہے، اور پھر اس ملک کی ایمبیسی سے legalisation۔ اس لیے MOFA جانے سے پہلے اپنی یونیورسٹی یا ایمبیسی کی ویب سائٹ پر ضرور دیکھ لیں کہ انہیں کیا چاہیے، ورنہ غلط سروس کا مطلب ہے دوبارہ چکر اور دوبارہ فیس۔
اگر آپ کو Apostille چاہیے، تو یاد رکھیں کہ 27 جولائی 2026 سے Apostille کے لیے پہلے online registration لازمی ہے، یعنی بغیر ریجسٹریشن کے سیدھا جا کر کام نہیں ہوگا۔ MOFA کے Apostille portal پر registration کریں، اپنے documents کی تفصیل دیں، اور پھر portal کی ہدایات کے مطابق اصل documents کے ساتھ دفتر جائیں۔ Apostille کی فیس تقریباً 3,000 روپے ہے۔
اگر آپ کو General Attestation چاہیے، تو اس کا طریقہ یہ ہے۔ سب سے پہلے MOFA کے portal پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں، email verify کریں اور پروفائل مکمل کریں۔
اس کے بعد General Attestation منتخب کریں اور اپنی معلومات (name، CNIC، document type) بھر کر اپنے documents submit کریں۔
پھر Foreign Affairs Liaison Office (FALO) کا افسر آپ کی درخواست اور documents review کرے گا۔ اس دوران اپنا اکاؤنٹ اور email چیک کرتے رہیں۔
منظوری کے بعد آپ portal سے اپنے قریب کے FALO دفتر میں appointment book کریں۔ MOFA کے دفاتر اسلام آباد کے علاوہ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی ہیں۔
۔Appointment book ہونے کے بعد ہی fee کا challan ظاہر ہوگا، جو آپ آن لائن ادا کریں گے۔ General Attestation کی فیس بہت کم ہے
اپنی appointment slip پرنٹ کر لیں۔ appointment والے دن appointment slip، شناختی کارڈ اور تمام اصل ڈاکومنٹس لے کر FALO آفس جائیں۔ ایڈمیشن پر slip دکھائیں، اپنے documents جمع کرائیں، اور ایک سے تین گھنٹے انتظار کریں۔
اس کے بعد آپ کو اپنی attested ڈاکومنٹس اسی دن delivery counter سے واپس مل جائیں گی، بشرطیکہ آپ نے تمام ڈاکومنٹس صحیح طریقے سے جمع کرائی ہوں۔ واپس لیتے وقت ہر document پر stamp اور دستخط وہیں چیک کر لیں۔
۔MOFA کے طریقے اس سال کئی بار بدلے ہیں، اس لیے جانے سے پہلے portal پر New Updates اور فیس ضرور دیکھ لیں۔
--------------------Mr. ☕ ----------------☕ مسٹر------------
(اگر ضرورت ہو)
اگر آپ کا ملک ایمبیسی legalisation مانگتا ہے، جیسے جرمنی یا آسٹریا، تو MOFA کے بعد ایک آخری قدم باقی ہے۔ سب سے پہلے اس ملک کی پاکستان میں ایمبیسی کی ویب سائٹ کھولیں اور legalisation کا طریقہ، فیس اور اپوائنٹمنٹ سسٹم دیکھیں، کیونکہ ہر ایمبیسی کا اپنا سسٹم ہوتا ہے۔ کچھ ایمبیسیز اس کام کے لیے اپنا تجویز کردہ وکیل یا verification process رکھتی ہیں، جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کام ویزا اپلیکیشن سے کافی پہلے شروع کریں۔
--------------------مسٹر ☕ ----------------Mr. ☕------------
ٹوٹل خرچ کتنا آتا ہے؟
جس کے پاس میٹرک، انٹر اور BS ہے:
بورڈ ویریفکیشن: تقریباً 2,000 سے 4,500 روپے
۔IBCC (چار اصل ڈاکومنٹس): 4,800 روپے، یا Express Service میں 12,000 روپے
۔HEC (ڈگری اور ٹرانسکرپٹ): 6,000 روپے
۔
۔MOFA General Attestation (چھ ڈاکومنٹس): تقریباً 60 روپے، یا Apostille میں تقریباً 18,000 روپے
یعنی سارا کام خود کریں تو عام طور پر 13 سے 35 ہزار روپے کے بیچ ہو جاتا ہے۔ آنے جانے کا خرچ اور ایمبیسی legalisation کی فیس الگ ہے۔
میرس مشورہ یہ ہیں کہ یہ کام یونیورسٹی میں اپلائی کرنے سے پہلے مکمل کر لیں، کیونکہ یہی ڈاکومنٹس بعد میں ویزا میں بھی لگتے ہیں۔ ہر payment کی رسید اور ہر اپلیکیشن کا screenshot سنبھال کر رکھیں۔ اور کسی بھی ایجنٹ کو اپنا HEC، IBCC یا MOFA اکاؤنٹ یا اصل ڈاکومنٹس نہ دیں۔
نوٹ: فیس اور طریقہ کار اکثر بدلتے رہتے ہیں۔ اپلائی سے پہلے HEC، IBCC اور MOFA کی آفیشل ویب سائٹس ضرور چیک کریں۔
Copied Post